تازہ ترین
جنرل بپن راوت بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف نامزد
خبراردو:
جنرل بپن راوت کوعہدہ سے سبکدوش ہونے سے ایک دن پہلے ملک کا پہلا چیف آف ڈیفنس اسٹاف(سی ڈی ایس) نامزد کردیاگیا۔ یہ عہدہ ’فور اسٹار‘ جنرل کے مساوی اور تینوں افواج کے سربراہوں سے اوپر ہوگا۔
شہریت ترمیمی قانون پر اپنے متنازع بیان کی وجہ سے جنرل راوت کو گزشتہ دنوں متعدد سیاسی جماعتوں کی تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا۔کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے ان کے بیان کو سیاسی امور میں فوج کی مداخلت سے تعبیر کیا تھا۔
سی ڈی ایس بری، بحری اور فضائی افواج کی مشترکہ کمان کا مشیر ہوگا۔ کارگل جنگ کے بعد 2001میں اس وقت کے نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی کی صدارت میں قائم وزارتی گروپ نے جائزہ کے دوران پایا کہ تینوں افواج کے درمیان تال میل کی کمی تھی اور اگر تینوں کے درمیان ٹھیک سے تال میل ہوتا تو نقصان کافی کم کیا جاسکتا تھا۔ اسی وقت سی ڈی ایس کا عہدہ قائم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ اس کے بیس برس بعد رواں برس پندرہ اگست کویوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے اپنی روایتی تقریر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے سی ڈی ایس کا عہدہ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ سی ڈی ایس فوج کے تینوں شعبوں (بری، بحری اور فضائیہ) کے درمیان تال میل کو یقینی بنائے گا اور انہیں موثر قیادت فراہم کرے گا۔
وزیر اعظم کے اعلان کے بعد قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال کی صدارت والی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے سی ڈی ایس کی تقرری کے طریقہ کار اور اس کی ذمہ داریوں کے تعین کا خاکہ تیار کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت والی وفاقی کابینہ نے 24 دسمبر کو سی ڈی ایس عہدہ اور اس کے چارٹر اور ذمہ داریوں کو منظوری دی تھی۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ سی ڈی ایس کا عہدہ چھوڑنے کے بعد وہ کسی بھی سرکاری عہدہ قبول کرنے کا اہل نہیں ہوگا۔
چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی تقرری کا مقصد بھارت کے سامنے آنے والے سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تینوں افواج کے درمیان تال میل میں اضافہ کرنا ہے۔
خیال رہے کہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹوکے بیشتر ممالک اس نظام کے تحت اپنی افواج کے اعلیٰ ترین عہدہ کے لیے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی تقرری کرتے ہیں۔ اس وقت برطانیہ، سری لنکا، اٹلی اور فرانس سمیت تقریباً دس ملکوں میں اس طرح کا نظام ہے۔ اب بھارت کانام بھی ان ملکوں کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔
سی ڈی ایس تمام فوجی امور میں حکومت کے پرنسپل ایڈوائزر کے طور پر کام کرے گا اور تینوں افواج کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے پر توجہ مرکوز کرے گا۔ وزارت دفاع کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے، ”گوکہ سی ڈی ایس تینوں افواج سے متعلق کے حوالے سے وزیر دفاع کا پرنسپل ملٹری ایڈوائزر ہوگا تاہم تینوں افواج کے سربراہان بھی اپنی اپنی افواج سے متعلق خصوصی امور پر وزیر دفاع کو مشورہ دیتے رہیں گے۔ سی ڈی ایس تینوں افواج کے سربراہوں کو کسی طرح کا فوجی حکم نہیں دے گا۔‘‘
دریں اثناء پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے نائب صدر بجینت جے پانڈا نے جنرل راوت کو سی ڈی ایس کے لیے نامزد کیے جانے پر مبارک باد دی ہے۔ پانڈا نے اسے بھارتی مسلح افواج کے لیے ایک تاریخی موقع قرار دیا۔
خیال رہے کہ چند دنوں قبل جنرل راوت نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری ملک گیر مظاہروں پر یہ کہہ کر تنازعہ کھڑا کردیا تھا کہ ”لیڈر وہ ہوتے ہیں جو لوگوں کو صحیح سمت میں لے جاتے ہیں۔ یونیورسٹیوں اورکالجوں میں طلبہ احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ اس سے تشدد میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہ لیڈرشپ نہیں ہے۔”
کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے اس بیان کی سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا، ”آپ آرمی کے سربراہ ہیں۔ آپ کو اپنے کام سے مطلب رکھنا چاہیے۔ مسلح افواج کا یہ کام نہیں کہ وہ سیاسی لیڈروں کو یہ بتائیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے، جیسا کہ یہ ہمارا کام نہیں کہ ہم آپ کو بتائیں کہ جنگ کیسے لڑنی ہے۔”
ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے جنرل راوت پر طنز کرتے ہوئے کہا، ”وزیراعظم مودی نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ایک طالب علم کے طور پر انہوں نے ایمرجنسی کے دوران مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ آرمی چیف کے بیان کے مطابق وزیر اعظم مودی کا یہ اقدام غلط ہے۔”
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
