تازہ ترین
اسکالرشپ فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ میں پھر توسیع
جموں و کشمیر میں پری اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ میں پھر توسیع کی گئی ہے، اور اس کے لیے 31 جنوری آخری تاریخ مقرر کردی ہے۔
مرکزی حکومت نے مرکز کے زیر انتظام جموں وکشمیر اور لداخ کے طلبا کے لئے پری اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ اسکیموں کی آخری تاریخ میں ایک بار پھر توسیع کرکے 31 جنوری آخری تاریخ مقرر کردی ہے۔
یہ تیسری مرتبہ ہے جب جموں وکشمیر اور لداخ کے طلبا کے لئے اسکالر شپ فارم جمع کرنے کی تاریخ میں توسیع کی گئی۔ توسیع کا یہ فیصلہ ظاہری طور پر وادی کشمیر میں انٹرنیٹ خدمات پر عائد کلی اور جموں میں جزوی پابندی کے پیش نظر لیا گیا ہے۔
مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ جموں وکشمیر اور لداخ سے تعلق رکھنے والے طلبا سینٹرل سیکٹر اسکیموں کے لئے نیشنل اسکالرشپ پورٹل پر 31 جنوری تک آن لائن فارم جمع کرسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ انٹرنیٹ سہولیات کی معطلی کے پیش نظر پری اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ اسکیموں کی آخری تاریخ میں 17 جنوری تک توسیع کی گئی تھی۔ قبل ازیں فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ 16 دسمبر 2019 مقرر تھی۔
ذرائع کے مطابق انتظامیہ کی طرف سے وادی کے تمام ضلع صدر مقامات پر انٹرنیٹ مراکز کے قیام کے باوصف بھی سینکڑوں طلبا اسکالرشپ فارم جمع کرنے سے معذور ہیں تاہم مرکزی حکومت کی طرف سے اسکالر شپ فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ میں مزید توسیع سے طلبا نے راحت کی سانس لی ہے۔
ادھر والدین کا کہنا ہے کہ اسکالرشپ فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ میں مزید توسیع خوش آئند ہے لیکن اس کے باوجود بھی طلبا کی بڑی تعداد اس اسکیم سے محروم رہنے کے قوی امکانات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسکالر شپ فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ میں توسیع کے بجائے اگر انٹرنیٹ سہولیات بحال کی جاتیں تو طلبا حسب قدیم گھروں میں بیٹھے ہی فارم جمع کرتے۔
طلبا کے ایک گروپ نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اسکالرشپ فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ میں توسیع احسن قدم ہے لیکن اگر انٹرنیٹ بحال کیا جاتا تو وہ اس بھی بہتر قدم تھا۔
انہوں نے کہا: ‘حکومت نے پری اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ میں مزید توسیع کی ہے، یہ ایک اچھا قدم ہے لیکن اس سے بھی اچھا قدم یہ ہوتا کہ حکومت انٹرنیٹ سہولیات کو بحال کرتی تاکہ سینکڑوں طلبا جو اب تک فارم جمع نہیں کرسکے وہ فارم گھر بیٹھے ہی جمع کرسکتے’۔
ایک طالب علم نے اپنا نام مخفی رکھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جو طلبا اب تک اسکالرشپ فارم جمع نہیں کر پائے ہیں ان میں سے بیشتر طلبا یا تو غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں یا دور افتادہ علاقوں کے رہنے والے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر انٹرنیٹ بحال کیا جاتا تب ممکن تھا یہ طلبا بھی فارم جمع کرنے میں کامیاب ہوجاتے، آخری تاریخ کی توسیع سے ان کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچے گا۔
ادھر والدین نے مرکزی وزارت داخلہ سے وادی میں انٹرنیٹ خدمات کی بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔ طلبا کا کہنا ہے کہ ضلع مجسٹریٹ دفاتر میں بہم سہولیات کافی نہیں ہیں جس کے باعث بہت ہی کم طلبا اسکالر شپ فارم جمع کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ پوسٹ میٹرک اسکالر شپ فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ کے پیش نظر سری نگر میں قائم سرکاری انٹرنیٹ مراکز پر جمعہ کے روز طلبا کا سیلاب امڈ آیا تھا اور دیگر اضلاع میں قائم انٹرنیٹ مراکز کے باہر بھی صبح سے ہی طلبا کو ٹھٹھرتی سردی میں لمبی لمبی قطاروں میں کھڑا دیکھا گیا تھا۔
طلبا کا کہنا ہے کہ ضلع مجسٹریٹ دفاتر اور بعض ہوٹلوں میں سیاحوں کے لئے قائم انٹرنیٹ مراکز کے باہر ایجنٹوں کے گروہ سرگرم ہوئے ہیں جو طلبا سے منہ مانگی رقم وصول کرکے ان کے فارم جمع کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آسودہ حال گھرانوں سے تعلق رکھنے والے طلبا تو موٹی رقم کی ادائیگی کے عوض اپنا فارم جمع کرواتے ہیں لیکن مفلوک الحال گھرانوں کے طلبا لمبی قطاروں میں دن بھر کھڑا رہنے کے باوصف بھی خالی ہاتھ ہی گھر لوٹتے ہیں۔
والدین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سہولیات کی بحالی سے طلبا نہ صرف اسکالر شپ فارم اور دیگر فارم جمع کرسکتے بلکہ اس سے استفادہ کرکے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھ پاتے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے بچوں کو اس سے قبل بھی انٹرنیٹ مراکز پر کئی ایام ضائع ہوئے کیونکہ کبھی لمبی قطار میں دن بھر کھڑا رہنے کے بعد بھی شام کو گھر واپس لوٹنا پڑا تو کھبی تمام لوازمات کی ادائیگی کے بعد اندر داخل ہونے کے بعد او پی ٹی نمبر نہ آنے کی وجہ سے تمام محنت رائیگاں ہوئی۔
قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے جموں کشمیر کو دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کی تنسیخ اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلوں کے پیش نظر جموں، کشمیر اور لداخ میں 4 اور 5 اگست 2019 کی درمیانی رات کو تمام تر انٹرنیٹ سہولیات معطل کی گئی تھیں جو وادی کشمیر میں ہنوز معطل ہی ہیں۔(ای ٹی وی)
ہندوستان
الیکشن کمیشن نے فہرست سے رہ جانے والے ووٹروں کے اندراج کے لیے خصوصی مہم چلانے کی ہدایت دی
نئی دہلی، ہندوستان کے الیکشن کمیشن نے ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل افسران، ضلعی الیکشن افسران اور الیکٹورل رجسٹریشن افسران کو ہدایت دی ہے جہاں ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) مکمل ہو چکی ہے کہ وہ فہرست میں شامل ہونے سے رہ جانے والے اہل ووٹروں کی شناخت اور ان کے اندراج کے لیے خصوصی مہم شروع کریں۔ اس مہم میں نوجوان اور پہلی بار ووٹ دینے والے ووٹروں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
یکم اکتوبر کو جاری کیے گئے خط میں کمیشن نے کہا کہ یہ کارروائی ووٹر فہرستوں کی مسلسل تازہ کاری کے تحت کی جائے گی۔ اس دوران ایسے افراد کی شناخت کی جائے گی جن کے نام ایس آئی آر سے پہلے کی ووٹر فہرستوں میں موجود تھے، لیکن موجودہ فہرستوں میں نہیں مل رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نئے اہل ہونے والے ووٹروں کے اندراج میں بھی سہولت فراہم کی جائے گی۔
یہ ہدایت یکم اکتوبر کو تمام چیف الیکٹورل افسران کے ساتھ کمیشن کی میٹنگ کے بعد جاری کی گئی ہے اور 29 ستمبر کو جاری کیے گئے اس کے خط کے سلسلے کی کڑی ہے۔
الیکشن کمیشن نے اس سے پہلے کہا تھا کہ بہار اور مغربی بنگال سمیت 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر مکمل ہو چکی ہے اور نظرثانی کے دوران یا اس کے بعد فہرست سے رہ جانے والے افراد کے ساتھ ساتھ نوجوان اور پہلی بار ووٹ دینے والے افراد مسلسل تازہ کاری کے عمل کے ذریعے اپنا نام ووٹر فہرست میں شامل کرا سکتے ہیں۔
تازہ ہدایات کے تحت بوتھ لیول افسران موجودہ ووٹر فہرست کا ایس آئی آر سے پہلے کی فہرست سے موازنہ کریں گے اور بوتھ کے لحاظ سے ایسے ووٹروں کی فہرست تیار کریں گے جن کے نام سابقہ فہرستوں میں موجود تھے لیکن موجودہ فہرست میں نہیں ہیں۔
بی ایل اوز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے افراد کی موجودہ صورت حال معلوم کرنے کے لیے گھر گھر جائیں اور اہل پائے جانے پر فارم 6 کے ذریعے ان کے اندراج میں سہولت فراہم کریں۔
کمیشن نے بی ایل اوز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہر ہفتے کم از کم 20 سے 25 ایسے ووٹروں تک پہنچیں، تاکہ تقریباً ایک ماہ میں یہ کارروائی مکمل کی جا سکے۔ شناخت کیے گئے ہر ووٹر کی صورت حال درج کی جائے گی، جس میں یہ بھی شامل ہوگا کہ آیا فارم 6 جمع کیا گیا ہے یا نہیں۔
گھر گھر جانے کے دوران بی ایل اوز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی دوسرے ایسے اہل ووٹر کی بھی شناخت کریں اور اس کے اندراج میں سہولت فراہم کریں جو فہرست میں شامل ہونے سے رہ گیا ہو، جس میں پہلی بار ووٹ دینے والے اور نوجوان ووٹر بھی شامل ہیں۔ بی ایل اوز کی تیار کردہ فہرستیں تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹوں کے ساتھ شیئر کی جائیں گی، جبکہ الیکٹورل رجسٹریشن افسران کو یہ فہرستیں فارم 6 کی درخواستوں اور فیلڈ تصدیقی رپورٹوں کے ساتھ فراہم کی جائیں گی۔
اس کے بعد الیکٹورل رجسٹریشن افسران عوامی نمائندگی قانون، 1950 اور ووٹر رجسٹریشن ضوابط، 1960 کے مطابق مناسب فیصلے کریں گے۔ کارروائی مکمل ہونے پر الیکٹورل رجسٹریشن افسران بوتھ کے لحاظ سے فہرستیں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ بھی شیئر کریں گے، تاکہ انہیں فہرست سے رہ جانے والے اہل ووٹروں کی شناخت میں مدد کرنے کا ایک اور موقع مل سکے۔
کمیشن نے انتخابی حکام کو بوتھ لیول کیمپ منعقد کرنے کی بھی ہدایت دی ہے، تاکہ ووٹر فہرست میں نام شامل کرانے کی درخواستیں جمع کرنے میں سہولت ہو۔ رات میں قیام گاہوں اور مزدور بستیوں میں رہنے والے افراد کے ساتھ ساتھ بے گھر اور دیگر محروم افراد کے لیے بھی خصوصی کیمپ منعقد کیے جا سکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ووٹر کا اندراج ایک مسلسل عمل ہے، کہا کہ جس شخص کا ابھی تک اندراج نہیں ہوا ہے یا جس کا نام ووٹر فہرست سے حذف کر دیا گیا ہے، وہ کسی بھی وقت اندراج کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ کمیشن کے مطابق خصوصی مہم کا مقصد ایسے تمام اہل ووٹروں کی شناخت کرنا اور ان کے اندراج میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
کمیشن نے چیف الیکٹورل افسران، ضلعی الیکشن افسران اور الیکٹورل رجسٹریشن افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں، مقامی سطح پر عوامی رابطہ مہم، منظم ووٹر تعلیم و انتخابی شرکت (سویپ) کی سرگرمیوں، باقاعدہ پریس بریفنگ اور دیگر ذرائع کے ذریعے بیداری اور عوامی رابطہ پروگرام منعقد کریں، تاکہ اہل شہریوں کو ووٹر کے طور پر اپنا نام درج کرانے کے اس موقع سے آگاہ کیا جا سکے۔
تازہ ہدایت ایسے وقت میں آئی ہے جب ایس آئی آر کی کارروائی کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور ان ووٹروں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جن کے نام نظرثانی کے بعد ووٹر فہرستوں میں شامل نہیں ہو سکے ہیں۔ 26 ستمبر کو کمیشن نے کہا تھا کہ جن ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر مکمل ہو چکی ہے، وہاں فہرست سے رہ جانے والے، نوجوان اور پہلی بار ووٹ دینے کے اہل ووٹروں کے اندراج میں سہولت فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر خصوصی مہم شروع کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن نے انتخابی حکام کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ وہ چیف الیکٹورل افسر، ضلعی الیکشن افسر اور الیکٹورل رجسٹریشن افسر کی سطح پر اس مہم کی پیش رفت کی قریبی نگرانی اور باقاعدگی سے جائزہ لیں، تاکہ یہ مہم تمام اہل شہریوں تک پہنچ سکے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
ہندوستان
کھڑگے اور راہل گاندھی نے گاندھی جینتی پر باپو کو خراج عقیدت پیش کیا
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور سابق صدر راہل گاندھی نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کو ان کی 157 ویں یوم پیدائش پر جمعہ کو ان کی یادگار راج گھاٹ پر خراج عقیدت پیش کیا مسٹر کھڑگے نے سوشل میڈیا پر مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کا ایک اقتباس شیئر کیا: “پہلے وہ آپ کو نظر انداز کرتے ہیں، پھر آپ پر ہنستے ہیں، پھر آپ سے لڑتے ہیں اور پھر آپ جیت جائیں گے۔”
کانگریس صدر نے کہا کہ مہاتما گاندھی، جنہوں نے ناانصافی کے خلاف سچائی کو سب سے طاقتور ہتھیار، عدم تشدد کو ناانصافی کے خلاف سب سے طاقتور ہتھیار بنایا، نہ صرف ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کی رہنمائی کی بلکہ پوری دنیا کو انسانیت، ہمدردی اور امن کا راستہ بھی دکھایا۔
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ آج جب بابائے قوم کے نظریات اور اقدار کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے، انہیں حقیقی خراج عقیدت باپو کے سچائی، عدم تشدد، ہم آہنگی اور انصاف کے اصولوں پر ثابت قدم رہنا ہے۔ انہوں نے گاندھی جینتی پر باپو کو عاجزانہ خراج عقیدت پیش کیا اور ہم وطنوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
معاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
واشنگٹن، یکم اکتوبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اطمینان بخش معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ وسط مدتی انتخابات کے بعد تہران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے ایران کے ساتھ دیرپا امن کے امکان پر بھی سوال اٹھایا۔
ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز مسترد کردی کیونکہ اس کی شرائط ان کی توقعات کے مطابق نہیں تھیں۔ ان کے بقول ایران نے آبنائے کے صرف ’’کچھ حصوں‘‘ کو کھولنے کی پیشکش کی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقی نے کہا تھا کہ تہران نے آبنائے ہرمز سات روز میں دوبارہ کھولنے کا منصوبہ امریکہ کو پیش کیا ہے۔ بعد میں ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے بتایا کہ واشنگٹن نے جوابی تجویز دی ہے جس پر تہران غور کررہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی حالیہ ہفتوں میں بڑی حد تک رک گئی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔ وسط مدتی انتخابات کے بعد نئے حملوں کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا، ’’یہ ممکن ہے‘‘، اور امریکہ کے پاس ’’بہت سے ہتھیار‘‘ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں انہیں توقع تھی کہ جنگ چھ سے آٹھ ہفتے جاری رہے گی، لیکن ایران کی جوہری صلاحیتوں کی تباہی کے بعد انہوں نے کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ تہران اپنی صلاحیتیں کسی اور شکل میں دوبارہ بحال نہ کرسکے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، باوجود اس کے کہ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکہ نے ایران پر تین حملے کیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے کبھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا اور نہ کریں گے۔‘‘
پیزشکیان نے کہا کہ ایران اقتصادی مسائل حل کرنے اور پاکستان، عراق، ترکمانستان اور آذربائیجان کے راستے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں شامل ہے۔ 2025 میں روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات اس راستے سے گزرتی تھیں، جو عالمی تیل تجارت کا تقریباً 20 فیصد ہے۔ عالمی ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد تجارت بھی آبنائے سے ہوتی ہے، جس میں قطر کا نمایاں حصہ ہے۔
ایران کے شمال میں واقع آبنائے ہرمز کے جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات ہیں اور یہ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ یہ آبنائے توانائی کے علاوہ ایل این جی، کھاد، خوراک، ادویات اور دیگر اشیا کی عالمی ترسیل کے لیے بھی اہم ہے۔ عالمی کھاد تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ معمول کے حالات میں اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
ہندوستان1 week agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
-
ہندوستان7 days agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا7 days agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر نے کتابوں پر پابندی کے معاملے پر سوال اٹھائے، میر واعظ نے ان کے نام اور وجوہات عوام کے سامنے رکھنے کا مطالبہ کیا
-
دنیا7 days agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
جموں و کشمیر7 days agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
