تازہ ترین
کشمیر میں انٹر نیٹ کی مکمل بحالی پر ابہام برقرار
سیاہ فہرست والی ویب سائٹوں کی فہرست ت
سوشل میڈیا تک رسائی کو روکنے کیلئے’ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک‘ کو بند کرنے کا فیصلہ
سرینگر 29،جنوری:کے این ایس / وادی کشمیر میں طویل ترین عرصے سے جاری’انٹر نیٹ کرفیو‘کے باعث انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔اگرچہ انٹر نیٹ سروس کو محدود اور مشروط بنیادوں پر بحال کیا گیا ہے،تاہم عوام اس اقدام کو مذاق سے تعبیر کررہے ہیں۔شدید تنقید کے بعد حکام نے کشمیر میں انٹر نیٹ کی مکمل بحالی کا منصوبہ ترتیب دیا ہے،تاہم اس پر ابہام ابھی بھی برقرار ہے۔حکام نے انٹر نیٹ کی مکمل بحالی سے قبل (بلیک لسٹڈ) یعنی سیاہ فہرست والی ویب سائٹوں کی فہرست تیار کرلی ہے،جو عنقر یب مشتہر کی جائیگی،جن ویب سائٹوں تک عام صارفین کی رسائی ہوگی،اُنہیں (وائٹ لسٹڈ) یعنی سفید فہرست والی ویب سائٹس قرار دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں سوشل میڈیا تک صارفین کی رسائی کو روکنے کیلئے ’ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک‘(وی پی این) کو مکمل طور (بلاک)بند کرنے کا فیصلہ بھی لیا گیا ہے۔اس دوران سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک بحث بھی شروع ہوگئی ہے اور نوجوان پود سوشل میڈیا تک رسائی کیلئے متبادل ذرائع تلاش کرنے کی تگدو بھی کررہی ہے۔
کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) کے مطابق 5اگست 2019کو کشمیر میں انٹر نیٹ کرفیو نافذ ہوا،اگرچہ پابندیوں کو محدود حد تک ہٹایا گیا،تاہم مجموعی طور پر کشمیر میں انٹر نیٹ کرفیو تاحال جاری ہے۔حالیہ دنوں حکام نے ایک غیر معمولی فیصلے اور سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایت پر موبائیل انٹر نیٹ خدمات2۔جی رفتار کیساتھ بحال کردیں،تاہم صارفین کی جانب سے جموں وکشمیر کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔صارفین نے حکومتی فیصلے کو مذاق اور درد سر سے تعبیر کیا۔شدید تنقید کے بعد حکام نے وادی کشمیر میں انٹر نیٹ کی مکمل بحالی کا منصوبہ بنایا ہے۔اس سلسلے میں کئی سطحوں پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں:انٹر نیٹ کی مکمل بحالی کا منصوبہ: انٹرنیت کی جزوی اور مشروط بحالی سے قبل حکام نے ایک لسٹ جاری کی جس میں وہ ویب سائٹس شامل ہیں جن تک رسائی کی اجازت دی گئی ہے۔ اس فہرست کو وائٹ لسٹ کہا گیا ہے جبکہ اس سے باہر رہنے والی سبھی ویب سائٹس بلیک لسٹ میں رکھی گئی ہیں۔ حکام کیلئے یہ صورت حال مضحکہ خیز بن گئی ہے کیونکہ دنیا میں کروڑوں ویب سائٹس ہیں اور محض چند درجن ویب سائٹس کو وائٹ لسٹ میں شامل کرکے انٹرنیٹ کی بحالی کا دعوی ہدف تنقید بن رہا ہے۔ حکام اب سوچ رہے ہیں کہ وائٹ لسٹ کے بجائے بلیک لسٹ جاری کی جائے تاکہ پیدا شدہ ہزیمت کا کسی حد تک ازالہ کیا جاسکے۔ذرائع کے مطابق، حکومت ویب سائٹوں کی ایک فہرست تیار کررہی ہے جس پر خطے میں فل اسپیڈ انٹرنیٹ کے دوبارہ آغاز کے باوجود پابندی عائد رہے گی۔ذرائع نے بتایا کہ کچھ ایسی سائٹیں ہیں، جن پر پابندی عائد رہنے کا امکان ہے جن میں سوشل میڈیا سائٹس جیسے،وٹس ایپ، فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ شامل ہیں۔اس کی تصدیق کرتے ہوئے، ایک ٹیلی کام کمپنی کے ایک ملازم اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعوی کیا کہ اب براڈ بینڈ اور لیز لائنوں سمیت باقی سروسز کو کسی بھی وقت بحال کردیا جائے گا لیکن مکمل بحالی کے باوجود، کچھ سائٹیں ایسی ہوں گی جو ناقابل رسائی رہیں گی۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ کے ایک سینئر آفیسر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس صحافیوں، تاجر، طلبا اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کی جانب سے شکایتیں موصول ہو رہی ہیں کہ سست رفتار انٹرنیٹ اور وائٹ لسٹ میں ضروری ویب سائٹ شامل نہ ہونے کی وجہ سے صارفین کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ویب سائٹس کی تعداد تقریبا لامحدود ہے اور اطلاعات پر سب کا برابر حق ہے۔ اس لیے انتظامیہ وائٹ لسٹ کی جگہ اب ویب سائٹس کو بلیک لسٹ کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ویب سایٹ کو بلیک لسٹ کرنے سے انتظامیہ کے لیے بھی کافی آسانی رہے گی۔
پہلے مرحلے میں 400سے500ویب سائٹس بلیک لسٹ کی جائیں گی،ان میں سوشل میڈیا ویب سائٹس بھی شامل ہونگی۔ بعد میں اگر کسی ویب سایٹ کے خلاف غلط خبروں کی تشہیر کرنے یا قوانین کی خلاف ورزی کی شکایت موصول ہوئی تو اس کو بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔ موبائل صارفین کی دوبارہ سے جانچ پڑتال کی خبروں کے تعلق سے ان کا کہنا تھا کہ پری۔پیڈ موبائل صارفین کی فزیکل ویری فیکیشن یعنی جانچ نہیں ہوتی ہے، اس لیے موبائل کمپنیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ پوسٹ۔ پیڈ صارفین کی طرز پر ہی پری۔ پیڈ موبائل صارفین کی جانچ پڑتال کریں، اس سے کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔یاد رہے کہ حکومت نے تقریبا 6 ماہ مکمل بلیک آوٹ کے بعد25جنوری کو سبھی22اضلاع میں انٹرنیٹ سروسز محدود اور مشروط طور پر بحال کیں۔
تاہم صارفین کی رسائی صرف 300کے قریب ویب سائٹوں تک ہی محدود تھی، جسے انتظامیہ نے’وائٹ لسٹڈ‘سائٹس سے تعبیر کیا۔ وائٹ لسٹ یو آر ایل میں سرکاری سائٹیں، ای میل اور دیگر یوٹیلیٹی سائٹ شامل ہیں۔حکومت کی اپنی سائٹوں سمیت متعدد سائٹیں لوگوں کے لئے نہیں ہیں۔ چونکہ سروسز2۔جی تک محدود ہیں جس کی وجہ سے سرفنگ اور بھی دشوار ہوجاتی ہے۔سوشل میڈیا پر پابندی اوروی پی این: صارفین کی سوشل میڈ یا تک رسائی کیلئے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ کشمیر میں انٹرنیٹ سے چند روز قبل جزوی طور پر پابندیاں تو اٹھائیں لیکن سوشل میڈیا بدستور بند ہے، اور صرف محدود سست رفتار2جی موبائل انٹرنیٹ چل رہا ہے۔تاہم سوشل میڈیا پر سرگرم ہونے کیلئے نوجوان نسل نے ٹیکنالوجی کے ذریعے سوشل میڈیا تک رسائی کا ’فار مولہ‘ بھی تلاش کیا۔کئی نوجوان صارفین سوشل میڈیا پر نظر آئے اور ساتھ ہی وی پی این یعنی ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک کا ذکر بھی ہونے لگا۔وی پی این کے ذریعے صارفین سوشل میڈیا تک رسائی حاصل کر تے ہیں۔چنانچہ سوشل میڈ یا تک رسائی کو روکنے کیلئے حکام نے اس کا توڑ بھی تلاش کرنا شروع کردیا۔اب وی پی این کو بھی مکمل طور ’بلاک‘ یعنی بند کرنے کا فیصلہ لیا گیاہے۔
وی پی این ہوتا کیا ہے؟:وی پی این یعنی ورچوئل پرائیویٹ نیٹورک ایک ایسا ’سافٹ ویئر‘ہے جو کہ موبائیل ڈیوائس اور کسی دوسرے کمپیوٹر کے درمیان انٹرنیٹ کے ذریعے ایک محفوظ کنکشن قائم رکھتا ہے۔عام طور پر جب ہم انٹرنیٹ پر جاتے ہیں تو ہماری ڈیوائس ہمارے انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر یعنی آئی ایس پی کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ جب آپ وی پی این استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کے آئی ایس پی کو یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ آپ کون سی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔وی پی این سروسز عموماً دفاتر کے باہر سے آفس کے کمپیوٹر سسٹمز تک رسائی حاصل کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہیں لیکن انہیں حکومتی’سینسرشپ‘کی وجہ سے بعض ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔بعض ویب سائٹس کو مارکیٹ میں دستیاب جن وی پی اینز کا علم ہوتا ہے وہ انھیں بلاک کر دیتی ہیں لیکن نئے وی پی این نیٹ ورک اکثر بنتے رہتے ہیں۔یاد رہے کہ5اگست کو کشمیر میں دوسری مواصلاتی سروسز کے ساتھ انٹرنیٹ سروسز منقطع کردی گئی تھیں۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر10 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا14 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا14 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا10 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا14 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا13 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان12 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
