تازہ ترین
8ماہ بعد جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر،عمر عبداللہ کو 8ماہ بعد رہا کر دیا گیا۔موصوف5اگست سے نظر بندتھے۔ ان کی رہائی سے قبل ان کے والد و جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلی فاروق عبداللہ کو بھی رہا کیا جا چکا ہے۔ فی الوقت پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی اور دیگر متعدد سیاسی رہنما نظربند ہیں۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق 5اگست 2019کی تاریخ کو مرکزی حکومت نے آئینی دفعات370و35(اے)کی تنسیخ اور ریاست جموں وکشمیرکو دو مرکزی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلوں کے ساتھ ہی عمر عبداللہ کی سیاسی سرگرمیاں مفلوج ہوکر جیل کی سرگرمیوں میں تبدیل ہوگئی تھیں۔
عمر عبداللہ گزشتہ 8 ماہ سے جیل میں تھے اور ان پر بائیکاٹ کے باوجود لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر راغب کرنے اور سوشل میڈیا پر لوگوں کو مشتعل کرنے کے پاداش میں ماہ فروری کے پہلے ہفتے میں پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا۔ اس معاملے میں عمر عبداللہ کی بہن سارہ عبداللہ نے سپریم کورٹ میں عرضی بھی داخل کی تھی۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران عمر عبداللہ کی دوران حراست لی گئی لمبی اور سفید داڑھی والی تصویریں وائرل ہوگئیں جو سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں میں بالعموم اور سیاسی حلقوں میں بالخصوص گرم مباحثے کا باعث بن گئی تھیں۔اپنی والدہ کی خواہش کے برعکس لیکن اپنے خاندانی روایات کے عین مطابق عمر عبداللہ نے سال1998میں اپنی سیاسی زندگی کا باقاعدہ آغاز کیا اور این ڈی اے حکومت کے دوران23جولائی 2001 سے 23دسمبر2002تک مرکزی وزیر مملکت برائے امور خارجہ کے عہدے پر فائز رہے۔
سیاسی کیرئر کے روز اول سے ہی عمر عبداللہ کا اپنے بیانات اور تقاریر کے باعث پارٹی میں بھی اور باقی سیاسی حلقوں میں بھی طوطی بولنے لگا اور لوگ انہیں اپنے والد ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے نسبت سنجیدگی سے لینے لگے۔ سیاسی میدان میں کئی نشیب وفراز دیکھنے کے بعد عمر عبداللہ سال2009میں جموں کشمیر کے عمر کے لحاظ سے سب سے چھوٹے وزیر اعلیٰ کے طور پر اقتدار کی کرسی پر بیٹھے۔ اس دوران انہیں جموں کشمیر بالخصوص وادی کشمیر میں خاصی عوامی مقبولیت حاصل ہوئی۔عمر عبداللہ نے سیاسی زندگی کے آغاز سے قبل سال1994میں ایک فوجی افسر کی صاحبزادی پائل عبداللہ سے نکاح کرکے اپنی ازدواجی زندگی بھی شروع کی تھی لیکن وہ شادی بعد ازاں طلاق پر منتج ہوئی۔
تختہ اقتدار سے محرومی کے بعد عمر عبداللہ اپوزیشن میں رہ کر سوشل میڈیا پر بھی کافی سر گرم رہے۔ حزب اقتدار جس میں بی جے پی بھی ایک شرکت دار تھی، کے خلاف تیکھے وار کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اور سوشل میڈیا پر بھی کسی بھی مسئلے پر اظہار خیال کرنے کے کسی بھی موقعے کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا جس بنا پر وہ ٹویٹر ٹائیگر کے نام سے بھی مشہور ہوگئے۔
8ماہ بعد جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس لیڈر عمر عبداللہ کی نظربندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر انتظامیہ نے منگل کے روز یہ حکم نامہ جاری کیا۔ اس سے قبل عمر عبداللہ کے والد اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی نظربندی کو بھی گزشتہ دنوں ختم کیا گیا تھا جس کے بعد میڈیا کے سامنے انہوں نے بیان دیا تھا کہ جب تک سبھی نظر بند لوگوں کو آزاد نہیں کیا جاتا، ان کی آزادی بے معنی ہے۔بہر حال، عمر عبداللہ کی نظربندی ختم کیے جانے کے بعد پی ڈی پی (پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی) کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ پی ڈی پی نے حکومت کے ذریعہ عمر عبداللہ کی نظر بندی ختم کرنے کا استقبال کیا ہے اور ساتھ ہی یہ مطالبہ کیا ہے کہ حکومت جلد از جلد محبوبہ مفتی اور ان کے دیگر سبھی سیاسی قیدیوں کو آزاد کرے۔ فی الوقت پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی اور دیگر متعدد سیاسی رہنما نظربند ہیں،جن میں علی محمد ساگر شامل ہیں۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان3 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
