تازہ ترین
اضطرابی صورت حال سماج کے تمام طبقات کی4Gانٹرنیٹ سروس کا مطالبہ صدا بہ صحرا ثابت
پورے ملک کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں کے لوگ مہلک کوروناوائرس کے پھیلاو کے نتیجے میں شدید اضطراب کے دل دل میں پھنس گئے ہیں۔اس دوران جموں کشمیر میں 5اگست2019سے تیز رفتارانٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی،جس کو موجودہ صورت حال کے پیش نظر عام لوگوں سے لے کرتمام سیاسی جماعتوں کے لیڈان کے علاوہ جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے بھی سروس کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔تاہم تمام لوگوں کے مطالبے کو مرکزی سرکار نے بنا کسی عذر کے ردی کی ٹوکیری کے نظر کر دیا ہے۔
تیز رفتار انٹرنیٹ سروس بحال کرنے مطالبہ کرنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ عالمگیر وبا’کورونا‘وائرس جموں کشمیر میں ظاہر ہونے کے بعد اسے مزیدپھیلنے روکنے کے لئے نہ صرف وادی کشمیر بلک پورے ملک میں فلحال 21 روز کا سخت ترین کرفیوں نافذ کیا گیا ہے۔ کرفیوں کے نتیجے میں تمام لوگ جن میں کار باری افراد،نجی سیکٹر میں کام کرنے والے نوجوانوں کا روز گار حال ہی میں بحال ہونے کے بعد پھر ایک بار متاثر ہوا،جبکہ ہزاروں کی تعداد میں طلبا ء کی تعلیم متاثر ہوئے۔سرینگر کے ایک نجی ادارے میں کام کر رہے ریاض احمد شاہ کا کہنا ہے کہ وادی میں سخت لاکڈون کے نتیجے میں وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتے ہیں۔انہوں نے کہا جس ادارے سے وہ منسلک ہیں، انہوں نے مجھے کہا کہ آپ گھر سے بھی آن لائن کام کر سکتے ہیں تاہم انٹرنیٹ سروس کی رفتاع بہت ہی کم ہے،جسکے باعث وہ کام نہیں کر سکیں گے،اور اس طرح سے انکا روز گار چھوٹ جانے کا خطرہ لاحق ہوا ہے۔یہ صرف ریاض کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ وادی کشمیر ایک ایسای جگہ ہے جہاں براڈ بینڈ یا دیگر قسم کی انٹرنیٹ سروس عام لوگوں کے پاس نہیں ہے۔عبد الحمید نامی ایک شہری نے بتایا اس وقت سائنس اور ٹنک نالوجی کا دور ہے،اگر پابندیاں عائد کی گئیں ہیں تو ہمارے بچے جو زیر تعلیم ہیں انٹرنیٹ سروس کی مدد سے کسی حد تک تعلیمی میدان میں ہوئے نقصان کی بر پائی کر سکتے ہیں۔
اس دوران تمام لوگوں کی جانب سے گزشتہ کئی ماہ خاص کر جموں و کشمیر میں نافذ کیا گیاکرفیواور کورونا وائرس کے دستک کے بعدمرکزی سے موجودہ صورت حال کے پیش نظر سروس کو بحال کرنے کا مطالبہ دہرا گیا ہے۔اس دوران مرکز نے مطالبے پر کوئی بھی بات نہ کرتے ہوئے خاموشی اختیار کی ہے۔مرکزی کی طرف سے تیز رفتار والی انٹرنیٹ سروس کو بحال نہ کرنے پر نہ صرف سیاسی لیڈران بلکہ عام لوگوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔اس دوران لوگوں نے اپنی ناراض گی کا اظہار ااخبارت اور مختلف سماجی رابطہ وئب سائٹوں پر کیا ہے۔لوگوں کا خیال ہے کہ اس وقت لوگ موت او حیات کے درمیان کھڑے ہیں، اگر اس وقت بھی سروس کو بحال نہ کی گئی پھر مستقبل میں ایسے حکمرانوں سے کسی طرح کی امید کی جا سکتی ہے۔
لوگوں نے حال ہی میں رہا کئے گئے سابق وزیر اعلیٰ کے اس معمولی مطالبے پر ڈاکٹر فاروق جیسے لیڈر پر غور و خوص نہیں کیا گیا ہے جو واقعی قابل افسوس ہے۔ادھر محمد یوسف تاریگامی نے بتایاکشمیری لوگ لاکڈون میں پلے بڑے ہیں لیکن دوسری ریاستوں میں بہتر سہولیات کے باعث ہر ایک شعبے کے لوگ زیادہ نقصان سے بچ سکتے ہیں،تاہم جموں کشمیر خاص کر وادی میں ہر سہولیات کا فقدان ہے انہوں نے بتایا اب اگرتمام لوگ چاہے وہ سیاسی ہیں یا غیر سیاسی سرکار کو4جی انٹرنیٹ سروس کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں کیا مسئلہ ہے۔انہوں نے بتایاسروس بحال ہونے سے سرکا ر کو لوگوں کو گھروں میں رہنے میں مدد ملے گئی اور لوگ بھی پریشانیوں سے بچ جائیں گے۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
