تازہ ترین
کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار سے متجاوز
دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے باوجود اب تک کورونا کے کیسز میں کمی نہیں دیکھی جا رہی اور اب تک دنیا کے 185 ممالک میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 19 لاکھ 30 ہزار 780 ہو چکی ہے۔
چین سے پھیلنے والی اس وبا سے اب دنیا میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک امریکا ہے جہاں کسی بھی ملک سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
اب تک دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار 450 ہوگئی ہے۔
امریکا
دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک امریکا میں اس کی وجہ سے ہلاکتوں اور کیسز کی تعداد دونوں ہی سب سے زیادہ ہیں۔
امریکا میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد اب تک 23 ہزار 649 ہوچکی ہے جبکہ 5 لاکھ 82 ہزار 594 تصدیق شدہ کیسز سامنے آچکے ہیں۔
امریکی ریاست نیو یارک اس وائرس کا اب نیا مرکز بن چکا ہے جہاں سب سے زیادہ 10 ہزار سے زائد ہلاکتیں سامنے آئی ہیں۔
نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم عقل کا استعمال کریں تو برے حالات ختم ہوجائیں‘۔
یورپ
یورپی یونین کووڈ 19 نامی اسمارٹ فون کی ایپلی کیشن بنانے پر غور کر رہی ہے۔
اس کا اصل مقصد نئے کورونا وائرس کے مراکز سے گریز کرنا ہے تاہم بحران کے درمیان میں اس طرح کا انفرا اسٹرکچر بنانا مشکل ثابت ہورہا ہے۔
اٹلی
یورپی ریاست اٹلی میں روزانہ سامنے آنے والے نئے کیسز کی تعداد میں کمی آئی ہے اور اب یہ رجحان تبدیل ہورہا ہے۔
اٹلی میں کتابوں کی دکانیں، اسٹیشنری کی دکانیں اور بچوں کی اشیا فراہم کرنے والی دکانوں کو کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے تاہم انہیں سماجی فاصلے برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے،
خیال رہے کہ اٹلی جو کبھی کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں پہلے نمبر پر تھا وہاں حالات کچھ بحالی کی جانب جارہے ہیں۔
اٹلی میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 20 ہزار 465 ہے جب کہ ایک لاکھ 59 ہزار سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں۔
اسپین
اسپین کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 18 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
ملک کے وبا پر کنٹرول کرنے والے ادارے نے بتایا کہ اسپین میں 17 مارچ سے 11 اپریل تک 1500 ‘غیر متوقع‘ اضافی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
تاہم اسپین میں چند فیکٹریاں اور تعمیرات بحال ہوگئی ہیں جبکہ ریٹیل اسٹورز اور سروسز اب بھی بند ہیں اور حکومت نے دفتر سے کام کرنے والوں کو گھر سے ہی کام کرنے کا کہا ہے۔
برطانیہ
یورپ کے دیگر حصوں کے مقابلے میں دیر سے لاک ڈاؤن کرنے والے ملک برطانیہ میں نئے کیسز اور ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 11 ہزار 347 ہوچکی ہیں جبکہ کیسز کی تعداد 89 ہزار سے تجاوز کرگئی ہیں۔
دوسری جانب برطانیہ کے سب سے بڑے نرسنگ ہوم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بزرگ شہریوں میں کورونا وائرس کے کیسز اور ہلاکتوں کی تعداد سرکاری رپورٹس سے کہیں زیادہ ہیں۔
چین
چین میں جہاں نئے کیسز سامنے آئے ہیں وہیں زندگی اسمارٹ فون پر دکھنے والے گرین سگنل کے سہارے ہوگئی ہے جو بتاتا ہے کہ صارف میں کوئی علامات نہیں اور وہ سب وے پر سفر کرسکتا ہے، ہوٹل میں ٹھہر سکتا ہے یا وبا کے ابتدائی مرکز ووہان جاسکتا ہے۔
چینی حکام نے 13 اپریل کو تصدیق کی کہ ملک میں 6 ہفتوں بعد پہلی بار 108 نئے کیسز سامنے آئے تاہم سامنے آنے والے تمام نئے کیسز بیرون ممالک سے آنے والے افراد میں پائے گئے۔
خیال رہے کہ دنیا بھر میں سامنے آنے والے کیسز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اصل تعداد نہیں جس کی وجہ محدود ٹیسٹنگ اور چند حکومتوں کی جانب سے ناقابل اعتبار اعداد و شمار کا بتایا جانا ہے۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان3 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
ہندوستان3 days agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
