تازہ ترین
کورونا وائرس :وزیر اعظم کی وزرائے اعلیٰ کیساتھ اہم مشاورت
کورونا وائرس سے نجات حاصل کرنے کیلئے ملک میں جاری لاک ڈاؤ ن میں توسیع کرنے یا نہ کرنے پر وزیر اعظم ہند نریندر مودی کی ملک کی سبھی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کیساتھ اہم مشاورت ہوئی۔3گھنٹوں تک جاری والے اس غیر معمولی میٹنگ میں لاک ڈاؤن اور عالمگیر وبا کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،جس دوران لاک ڈاؤن میں توسیع یا نہیں کرنے پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔تاہم ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق میگھالیہ، ہماچل کو چھوڑ کر باقی سبھی ریاستوں نے لاک ڈاون ہٹانے پر زوردیا۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کا قہر جاری ہے۔ ملک میں نافذ لاک ڈاون کی مدت بھی3 مئی کو ختم ہو رہی ہے۔
ایسے میں آگے کی کیا حکمت عملی ہو گی۔ اس پر وزیر اعظم نریندر مودی نے سوموار کے روز سبھی ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ میٹنگ کی۔ میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ لاک ڈاون سے کافی فائدہ ملا ہے۔ ریاستوں کی اجتماعی کوششوں کا اثر نظر آیا ہے۔وزیر اعظم نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ قریب 3 گھنٹے چلنے والی میٹنگ میں وزرائے اعلیٰ،سینئر مرکزی وزراء اوراعلی بیوروکریٹس کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لیا۔ میٹنگ میں لاک ڈاون کے بعد کی صورتحال کے تمام پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا وبا سے نمٹنے کے لئے پورے ملک نے ایک ٹیم کی طرح کام کیا ہے اور مرکز وریاستوں کی کوششوں کا اثر صاف طور پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مکمل بندی کی وجہ سے ملک اس آفت سے اچھی طرح نمٹ رہا ہے اور ہندستان دیگر ممالک کے مقابلے اچھی حالت میں ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں۔کچھ وزرائے اعلیٰ نے کورونا کے بڑھتے قہر کے پیش نظر لاک ڈاؤن کی مدت 3 مئی سے آگے بڑھانے کی تجویز پیش کی توکچھ نے اپنی ریاستوں کے لئے خصوصی پیکیج کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعظم نے وزرائے اعلیٰ سے کہا کہ مکمل پابندی کو ختم کرنے سے قبل سبھی ریاستوں کو اپنی ضرورت کے مطابق خصوصی حکمت عملی اور منصوبہ بنانا ہوگا اور اسی کے مطابق مرحلہ وار طریقہ سے اقدامات کرنے ہوں گے۔
میٹنگ میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ معیشت کو پٹری پر لانے کے لئے غیر ہاٹسپاٹ علاقوں میں آہستہ آہستہ معاشی سرگرمیوں کو شروع کر کے انہیں آگے بڑھانا ہوگا۔میٹنگ میں مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے علاوہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ،وزیرصحت وخاندانہی بہبود ڈاکٹر ہرشوردھن،وزیرخارجہ ایس جے شنکر سمیت کچھ دیگر وزرائاور افسران نے حصہ لیا۔وزیر اعظم کورونا وبا شروع ہونے کے بعد سے تین مرتبہ وزرائے اعلیٰ سے بات کرچکے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ اس وبا کے سبب ملک بھر میں 25مارچ سے مکمل پابندی نافذ کی گئی تھی۔پہلے اس کی مدت 14اپریل تک تھی لیکن بعد میں صورت حال کے جائزہ کے بعد اس میں تین مئی تک توسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ادھر ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بات چیت میں تقریبا نو ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے اپنی بات رکھی اور کورونا بحران کو لے کر اپنی رپورٹ پیش کی۔
رپورٹ کے مطابق، میگھالیہ اور ہماچل پردیش کو چھوڑ کر بقیہ ریاستیں لاک ڈاون کو3 مئی کے بعد مرحلہ وار طریقے سے ہٹانے کے حق میں ہیں۔ صرف میگھالیہ اور ہماچل پردیش نے لاک ڈاون کو آگے بڑھانے کی اپیل کی ہے۔اس میٹنگ میں وزرائے اعلیٰ میں ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر، اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، راجستھان کے سی ایم اشوک گہلوت، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، تلنگانہ کے سی ایم کے چندر شیکھر راو، مہاراشٹر کے ادھو ٹھاکرے، ہماچل پردیش کے سی ایم جے رام ٹھاکر، گجرات کے سی ایم وجئے روپانی، اتراکھنڈ کے سی ایم ترویندر سنگھ راوت، دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور مدھیہ پردیش کے سی ایم شیوراج سنگھ چوہان سمیت کئی وزرائے اعلیٰ شامل ہوئے۔میٹنگ میں طئے ہوا کہ ہاٹ اسپاٹ علاقوں میں ہی لاک ڈاون کو آگے بڑھایا جائے گا۔ جن ریاستوں میں حالات قابو میں ہیں وہاں ضلع سطح پر کچھ رعایتیں دی جائیں گی۔ حالانکہ، حتمی فیصلہ تین مئی تک لیا جائے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ لاک ڈاون سے کافی فائدہ ملا ہے۔
ریاستوں کی اجتماعی کوششوں کا اثر نظر آیا ہے۔ وزیر اعظم نے اس میٹنگ میں ریاستوں سے بڑے پیمانہ پر اصلاحات کی مانگ کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات کا منصوبہ بنانے کا صحیح وقت ہے۔ ریاستیں سماجی اور معاشی بہبود کے لئے منصوبے بنائیں اور اس کی رپورٹ مرکز کو بھیجیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، کورونا ہاٹ اسپاٹ علاقوں میں ریڈ زون اور گرین زون کو زیادہ سے زیادہ نشاندہی کر کے اس سمت میں کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حالات کچھ حد تک معمول پر آ سکیں۔ ریڈ زون میں پوری پابندی کے ساتھ لاک ڈاون جاری رہ سکتا ہے۔
ایلو زون میں کچھ چھوٹ دی جا سکتی ہے۔ وہیں، گرین زون میں پوری طرح سے پابندی ہٹ جائے گی۔ لیکن سماجی دوری کے ضابطے فی الحال نافذ رہیں گے۔ مرکزی وزارت صحت نے الگ الگ ضلعوں کو زون کے حساب سے بانٹا ہے۔ ابھی تقریبا 170 سے زیادہ اضلاع ریڈ زون میں شامل ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ معیشت کو لے کر ٹینشن نہ لیں۔ ہماری معیشت اچھی ہے۔ لیکن ہمیں ایک پالیسی تیار کرنی ہو گی جس پر ریاستی حکومت کو تفصیل سے کام کرنا ہو گا۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
