تازہ ترین
ملک گیر لاک ڈاءون :14روزہ چوتھا مرحلے کا دوسرا دن
ملک گیر لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے کے دوسرے دن بھی وادی کشمیر کے شہر و دیہات میں معمولات زندگی بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اس دوران جگہ جگہ شہر و دیہات میں سناٹا چھاہا ہوا۔گزشتہ دو روز سے اموات اور مثبت کیسو میں اضافے کے باعث جموں و کشمیر کے لوگ سخت ذہنی اضطراب میں مبتلا ہوئے ہیں ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں سمنگل وار کو مسلسل 62ویں روز بھی کورونا لاک ڈاؤن سختی کیساتھ نافذ رہا۔گزشتہ دنوں کے مقابلے میں لاک ڈاؤن میں مزید سختی لائی گئی۔اور2روز کے دوران 3مریضوں کی موت اور مریضوں کی تعدادمیں مسلسل اضافہ ہونے کے بیچ منگلوار کو لاک ڈاؤن میں مزید سختی لائی گئی،تاکہ اس وبا کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔وادی کشمیر میں شمال وجنوب میں معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے۔شہر ودیہات میں ہر طرح کی دکانیں،بازار،تجارتی و کاروباری اداے مرکز بند ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہے۔
اس دوران لاک ڈاؤن کو سختی کیساتھ لاگو کرنے کیلئے سڑکوں،پلوں اور چوراہو ں پر پولیس وفورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے کیلئے جگہ جگہ ناکہ بندی اور تار بندی بھی کی گئی ہے۔گزشتہ دنوں کے دوران شہر کے سیول لائنز میں نجی گاڑیوں میں کافی اضافہ دیکھنے کو ملا جبکہ شہر خاص میں بھی نقل وحرکت میں اضافہ ہی دیکھنے کو ملا۔ادھر ضلع انتظامیہ بڈگام اور ترال میں نے منگل کے روز وسطی کشمیر کے ضلع میں دفعہ144کا نفاذ عمل میں لایا۔یہ اقدام کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے عمل میں لایا گیا ہے۔اس سلسلے میں ضلع کمشنر بڈگام کی طرف ایک حکمنامہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مہلک وائرس سے پورے ملک کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں بھی تشویشناک صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔آرڈر میں بتایا گیا ہے ضلع کے اندر کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے اضافی اقدامات کئے گئے ہیں۔آرڈر میں درج ہے کہ ضلع میں کورونا کے پھیلاؤکو روکنے کیلئے دفعہ144نافذ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی شام 7 بجے سے صبح 7 بجے تک لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حمل پر مکمل پابندی عاید کی گئی ہے۔
آرڈر کے مطابق لوگوں کو صرف شدید مجبوری کے تحت ہی کہیں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ آرڈر میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت قانون کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ادھرذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سرینگر سمیت وادی بھردفعہ 144کے تحت حکم امتناعی برقرار ہے۔ پورے ملک میں لاک ڈاؤن کا چوتھا مرحلے کا دوسرا دن جاری۔ مرکزی وزارت داخلہ نے کل ملک میں لاک ڈاؤن کی مدت اِس مہینے کی31 تاریخ تک بڑھانے کا اعلان کیا۔24مارچ سے نافذ لاک ڈاؤن سے ملک میں کووڈ۔19 کو پھیلنے سیروکنے میں کافی مدد ملی ہے۔ البتہ لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے میں قابل قدر نرمی کی جائیگی۔ مرکزی سرکار نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ریڈ، اورینج اور گرینزون کی حدبندی کی اجازت دے دی ہے۔
گھیرا بندی والے علاقے ریڈ اور اورینج زون کے دائرے میں آئیں گے، جبکہ علاقے کا ایک چھوٹا حصہ بفر زون ہوگا۔ گھیرا بندی والے علاقوں میں طبی اور ضروری سامان کی رسد کو چھوڑ کر کسی بھی طرح کی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔ وزارت داخلہ نے اْن سرگرمیوں کی ایک فہرست جاری کی ہے، جن پر اگلے14دن تک پورے ملک میں پابندی عائد رہے گی۔سبھی گھریلو اور بین الاقوامی ہوائی سفر، طبی اور دفاعی خدمات کو چھوڑ کر، باقی لوگوں کے لیے لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے میں بھی بند رہے گا۔ میٹروریل بھی ابھی بند رہے گی۔ اسکول، کالجز، تعلیمی، تربیتی اور کوچنگ ادارے پورے ملک میں بند رہیں گے۔ ہوٹل اور ریستوراں بھی بند رہیں گے، تاہم مسافروں کی آسانی کے لییہوائیاڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور بس ڈپو میں کینٹین اور کھانے کے اسٹالز کھولنے کی اجازت ہوگی۔ سنیما ہالز، جم، شاپنگ مال، تفریحی پارک یا ایسی ہی جگہیں جہاں لوگ اکٹھا ہوتے ہوں،پورے ملک میں بند رہیں گی۔ سیاسی،
سماجی اور ثقافتی عوامی جلسوں سمیت ہر طرح کے جلسے پر احتیاط کے طور پر پابندی رہے گی۔ عبادت گاہوں اور مذہبی اجتماعات پر سختی کے ساتھپابندی عائد رہے گی۔ شام سات بجے سے صبح سات بجے تک کا رات کا کرفیو31 مئی تک جاری رہے گا۔ریاستیں اور مرکزی انتظام والے علاقے بین ریاستی بس خدماتاور دیگر گاڑیوں کی آمد ورفت دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔بین ریاستی بس خدمات کے بارے میں فیصلہ متعلقہ ریاستوں کی باہمی رضامندی سے کیا جائے گا۔سرکار نے اسپورٹس کمپلیکس اور اسٹیڈیم کھولنے کی بھی اجازتدے دی ہے، لیکن اِن مقامات پر لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔سرکار نے مختلف اداروں اور آجروں پر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے زور دیا ہے کہ سبھی ملازمین اپنے موبائل فون پر آروگیہ سیتو ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔سرکار نے65 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں،حاملہ خواتین اور10 سال سے کم عمر کے بچوں کو صلاح دی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن نافذ رہنے تک اپنے گھروں میں ہی رہیں۔
ادھر ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی این ڈی ایم اے نے مرکزی حکومت اور ریاستوں کو لاک ڈاون جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ہندوستان میں دنیا کا سب سے بڑا لاک ڈاون مزید 14 دنوں کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ لاک ڈاون کا چوتھا مرحلہ ہے جو پیر کے روز یعنی18 مئی سے شروع ہو گیا اور31 مئی کو ختم ہو گا۔ اس پورے معاملے پر سی این بی سی ٹی وی۔18 کے ساتھ خاص بات چیت میں پی وی آر کے چیئرمین اور ایم ڈی اجئے بجلی نے بتایا کہ15 جون کے آس پاس شاپنگ مال کھل سکتے ہیں۔ اس کے ایک۔ دو ہفتے بعد سنیما ہال کو کھولنے کی منظوری بھی دی جا سکتی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ مارچ کے آخر سے ملک کی سبھی جگہوں پر شاپنگ ہال اور سنیما ہال بند ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی این ڈی ایم اے نے مرکزی حکومت اور ریاستوں کو لاک ڈاون جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد وزارت داخلہ نے نئے رہنما خطوط جاری کر دئیے۔ اس کے مطابق، سنیما ہال، شاپنگ مال، جم، سوئمنگ پول، انٹرٹینمنٹ پارک، تھئیٹر، آڈیٹوریم اور اسمبلی ہال بند رہیں گے۔اجے بجلی آگے کہتے ہیں کہ سنیما ہال میں بیٹھنے کے لئے کچھ تبدیلی کی جا سکتی ہے۔
جیسے فیملی اینڈ گروپ کو ایک ساتھ بٹھایا جائے گا۔ وہیں، دوسرے لوگوں کو بٹھانے کے لئے کچھ دوری رکھی جائے گی۔ لاک ڈاون کے بعد جلدی۔ جلدی فلمیں ریلیز ہو سکتی ہیں۔ وہیں، سبھی لوگوں کے لئے او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر فلمیں ریلیز کرنا آسان کام نہیں ہے۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
