تازہ ترین
کورونا لاک ڈاؤن ۔ دوم کا 11واں دن،کرفیو جیسی بندشوں کیساتھ 6روزہ سخت پابندیوں کا آغاز
شہر ودیہات میں زندگی کا پہیہ رُک گیا ،سڑکیں سنسان ،بازار ویران
خبراردو:-
سرینگر: وادی کشمیر میں گزشتہ11روز سے جاری لاک ڈاؤن دوم کے بیچ جمعرات کو ضلع بانڈی پورہ کو چھوڑ دیگر9اضلاع میں 6روزہ سخت ترین پابندیوں اور بندشوں کاسلسلہ شروع ہوا ۔
کرفیو جیسی بندشوں اور پابندیوں کے نتیجے میں شہر ودیہات میں زندگی کا پہیہ تھم گیا جبکہ چہار سو سڑکیں سنسان اور بازار ویران ہیں ۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے کورونا وائرس کے برق رفتار پھیلاءو کو روکنے کےلئے جمعرات کی صبح سے 6روزہ سخت ترین لاک ڈاؤن کا آغاز کرفیو جیسی بندشوں ،ناکہ بندی ،رکاوٹوں اور سنسانی سے ہوا ۔
دارالحکومت سرینگر میں پولیس کی جپسیوں پر نصب لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے جمعرات کی علی الصبح کرفیو جیسی پابندیوں اور بندشوں کا اعلان کیا گیا ،جس دوران پولیس نے لوگوں کو گھروں میں ہی رہنے کی تلقین کی ۔ لوگوں کی آزاد نقل وحرکت کو روکنے کےلئے شہر میں کم وبیش سبھی علاقوں کو خار دار تاروں سے سیل کیا گیا تھا جبکہ مرکزی رابطہ سڑکوں پر جگہ جگہ پولیس وفورسز نے مشترکہ طور ناکے لگائے تھے ،جہاں سے گزر نے والی نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کو روک کر پوچھ تاچھ کے بعد ہی آگے جانے کی اجازت دی جارہی تھی اور جو افراد غیر ضروری طور گھروں سے باہر آئے تھے ،اُنہیں واپس لوٹنے کےلئے کہا جاتا تھا ۔
سخت ترین لاک ڈاؤن کے نتیجے میں تجارتی مرکز لالچوک سمیت شہر کے سبھی چوٹھے بڑے بازار بند رہے ۔ شہر میں صبح کے وقت کھلنے والی دکانیں بھی جمعرات کو بند رہیں جبکہ سبزیوں ،دودھ اور دگر ضروری ایشاء کی دکانیں بھی مقفل تھیں جبکہ پیٹرول پمپ بھی بند رہے اور بنکوں میں بھی کام کاج نہیں ہوسکا ۔
وادی کشمیر میں 11روز قبل سخت ترین بندشیں اور پابندیاں دوبارہ عائد کی گئی تھیں ۔ یہ پابندیاں کورونا وائرس کے مثبت معاملات اور اموات میں مسلسل اضافے کے پیش نظر نافذ کی گئی تھیں ،تاہم بدھ کو جموں وکشمیر کی انتظامیہ نے ایک آرڈر جاری کرتے ہوئے بانڈی پورہ ضلعے کو چھوڑ دیگر 9اضلاع سرینگر ،بڈگام ،گاندر بل ،بارہمولہ ،کپوارہ ،پلوامہ ،اننت ناگ ،کولگام اور شوپیان میں مکمل لاک ڈاءون نافذ کرنے کا اعلان کیا ۔ اس اعلان کے تحت وادی کشمیر کے9اضلاع میں جمعرات کو سخت ترین بندشیں عائد رہیں ۔
بارہمولہ ،کپوارہ ،بڈگام ،گاندر بل ،پلوامہ ،کولگام ،شوپیان اور اننت ناگ میں بھی سرینگر کی طرح ہو کاعا لم رہا ۔ سبھی اضلاع میں پولیس اور فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ مرکزی قصبوں میں ناکہ بندی ،تالہ بندی اور تار بندی کو مزید سخت کردیا گیا اور لوگوں کی نقل وحرکت کو گھروں تک محدود رکھا گیا ۔ جمعرات کو اسپتالوں یا لازمی سروس محکموں سے جڑے ملازمین ہی نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر ڈیوٹی دینے کےلئے گھروں سے باہر آئے تھے ۔
مجموعی آبادی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی جبکہ لوگوں نے بھی گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی ۔ پوری وادی میں جمعرات کو پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا جسکی وجہ سے سڑکیں سنسان اور بازار ویران نظر آرہے تھے ۔
بانڈی پورہ میں کووڈ ۔ 19گائیڈ لائنز (قواعد وضوابط ) کے تحت معمول کی سرگرمیاں جاری رہیں ۔ حکومتی اعلان کے تحت 6روزہ سخت ترین لاک ڈاءون کے دوران زرعی اور باغبانی کی سرگرمیاں ہی جاری رہیں گی جبکہ لازمی سروس سے وابستہ مال بردار گاڑیوں کی بلا خلل آوا جاہی بھی جاری رہے ۔ صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے ،نے کہا تھا کہ وادی میں عیدقربان کے موقعے پر تین روز کےلئے بازار کھلے رہیں گی ۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر میں کووڈ ۔ 19کیسوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ اموات میں بھی کافی اضافہ دیکھنے کو ملا رہا ہے ۔ جموں وکشمیر میں 16کے قریب مثبت کیسز ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد300کے قریب پہنچ گئی ہے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں کورونا لاک ڈاءون کا آغاز مارچ کے وسط سے شروع ہوا ،جس میں ملک گیر لاک ڈاءون کے تحت دی گئی نرمی کے تحت یہاں پابندیاں اور بندشیں ختم کی گئی تھیں ،تاہم پابندیوں اور بندشوں میں نرمی کیساتھ ہی کورونا کیسز میں کافی زیادہ اچھال دیکھنے کو ملا جبکہ اموات کا نہ تھمنے والا سلسلہ بھی جاری ہے ۔
وادی کشمیر میں تازہ سخت ترین بندشیں اور پابندیاں بدھ کی شام 6بجے سے شروع ہوئیں اور یہ سلسلہ27جولائی تک جاری رہے گا ۔ یہ فیصلہ امرناتھ یاترا کی منسوخی کے ایک روز بعد اور عید قربان سے 10روز قبل لیا گیا ۔
دنیا
شمالی کوریا آئندہ امریکہ-جنوبی کوریا فوجی مشقوں پر برہم
پیانگ یانگ، شمالی کوریا نے اگلے ہفتے شروع ہونے والی امریکہ اور جنوبی کوریا کی بڑی فوجی مشقوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ایک اشتعال انگیز اقدام قرار دیا ہے جس سے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعہ کو سرکاری خبر رساں ایجنسی کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) کے مطابق کہا کہ امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان فوجی تعاون ایک جوہری اتحاد میں تبدیل ہو رہا ہے، اور شمالی کوریا ’’خطرے کی نئی سطح کا جواب دفاعی صلاحیت کی نئی سطح سے دے گا‘‘۔
پیانگ یانگ معمول کے مطابق جنوبی کوریا میں ہونے والی فوجی مشقوں کو اشتعال انگیزی قرار دے کر ان کی مذمت کرتا ہے۔
’’الچی فریڈم شیلڈ‘‘ (Ulchi Freedom Shield) کے نام سے ہونے والی یہ فوجی مشقیں 17 اگست سے شروع ہو کر 27 اگست تک جاری رہیں گی۔ ان میں ڈرون حملوں، جی پی ایس میں خلل اور سائبر حملوں سے نمٹنے کی مشقیں بھی شامل ہوں گی، کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادی شمالی کوریا کی بدلتی ہوئی فوجی صلاحیتوں کے مطابق اپنی تیاریوں کو ڈھال رہے ہیں۔
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ مشقیں گزشتہ پانچ برس کی مشقوں سے کافی مختلف ہوں گی اور جدید جنگ کے نئے پہلوؤں کی بنیاد پر جنگ لڑنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے منعقد کی جائیں گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’سلامتی یقینی بنانے کا ہمارا مستقل اصول یہ ہے کہ خطرے کی نئی سطح کا جواب دفاعی صلاحیت کی نئی سطح سے دیا جائے۔‘‘
شمالی کوریا نے روس کی یوکرین کے خلاف جنگ میں لڑنے کے لیے اندازاً 12,000 سے 15,000 فوجی بھیجے تھے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اب وہ مزید 10,000 فوجی تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہزاروں شمالی کوریائی فوجی ہلاک ہوئے، تاہم اس معاہدے کے نتیجے میں شمالی کوریا کو جنگ کے میدان میں قیمتی تجربہ حاصل ہوا، جبکہ اسے ہتھیاروں، توانائی اور براہِ راست مالی امداد کی صورت میں بھی فائدہ ملا۔
امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ افواج کے کمانڈ کے ترجمان کرنل ریان ڈونلڈ نے اس ہفتے کہا کہ یورپ میں جاری جنگ میں شمالی کوریا کی فوجی تعیناتی نے جزیرہ نما کوریا میں امریکی اور جنوبی کوریائی فوجیوں کو درپیش خطرے کو تبدیل کردیا ہے۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’انہوں نے وہاں حاصل کیے گئے اسباق کو شمالی کوریا واپس پہنچایا ہے۔ ہماری فوجی تربیت میں اس خطرے کو مدنظر رکھا گیا ہے۔‘‘
شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقیں ایسے وقت میں کی جارہی ہیں جب یورپ، مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دیگر حصوں میں فوجی اور سیاسی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید سنگین ہوتی جارہی ہے۔
شمالی کوریا نے جمعہ کو یہ بھی کہا کہ وہ اپنی جوہری دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط کرے گا۔ پیانگ یانگ نے امریکہ پر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی حد کم کرنے اور دنیا کو ’’جوہری جنگ کے دہانے‘‘ پر پہنچانے کا الزام عائد کیا۔
بدھ کو شمالی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی جانب ایک بیلسٹک میزائل فائر کیا تھا۔ یہ چھ روز کے اندر شمالی کوریا کی جانب سے کیا جانے والا دوسرا میزائل تجربہ تھا۔
’’الچی فریڈم شیلڈ‘‘ مشقوں میں جنوبی کوریا کے 18,000 فوجی اور ملک میں موجود 28,500 امریکی فوجیوں کے دستوں کے اہلکار حصہ لیں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
میر واعظ کا الزام: ایک بار پھر نظر بند کیا گیا، ’معمول کی صورتِ حال‘ کے دعووں پر سوال اٹھائے
سری نگر، کشمیر کے میر واعظ اور حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے جمعہ کو کہا کہ انہیں ایک بار پھر نظر بند کر دیا گیا ہے اور سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے جانے سے روک دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں میر واعظ نے بتایا کہ یہ نئی پابندی مقدس ماہ ربیع الاول کے آغاز کی شب عائد کی گئی ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر میں حکام کی جانب سے ’معمول کی صورتِ حال‘ کے کیے جانے والے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں بار بار سری نگر کی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے سے روکنا انتظامیہ کے ان سرکاری دعووں کی ساکھ کو ختم کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر حکام خود اپنے معمول کی صورتِ حال کے دعووں پر اتنا اعتماد نہیں کرتے کہ مجھے بار بار جامع مسجد جانے سے روکتے ہیں، تو اس دعوے کی کیا ساکھ رہ جاتی ہے؟‘‘
انتظامیہ کی جانب سے میر واعظ پر عائد پابندیوں کی فوری طور پر کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی۔ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر، خاص طور پر جمعہ کے دن، ان پر اسی طرح کی پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں، جس کے باعث وہ تاریخی جامع مسجد میں نماز ادا کرنے اور لوگوں سے خطاب کرنے سے محروم رہے ہیں۔
اس دوران میر واعظ نے ایک بیان جاری کرکے جموں و کشمیر اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ربیع الاول کے بابرکت ماہ کی مبارکباد دی۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
غزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
غزہ، تازہ اسرائیلی حملوں میں غزہ سٹی کے پولیس عہدیدار جمال ابو کامل اور خان یونس میں ایک اور شخص ہلاک ہوگیا۔
غزہ کی وزارت داخلہ کے مطابق 43 سالہ کرنل جمال ابو کامل جمعرات کو اس وقت ہلاک ہوئے جب اسرائیلی ڈرون نے غزہ سٹی کے جنوب مغرب میں الرشید اسٹریٹ پر ان کی گاڑی کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ حملے میں دو دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔
یہ ہلاکت اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی فضائی حملوں کی عارضی معطلی ختم کرنے کے ایک روز بعد ہوئی ہے۔ اس وقفے کے دوران بھی اسرائیلی زمینی حملے جاری رہے، جبکہ اسرائیل اکتوبر میں طے پانے والی نام نہاد ’جنگ بندی‘ کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ابو کامل کو ’’خطرے کو ختم کرنے‘‘ کے لیے نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ وہ حماس کے کمانڈر تھے، تاہم اس دعوے کے ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔
غزہ کی پولیس فورس نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ابو کامل ’’اپنی پولیس کی ذمہ داریاں انجام دینے کے پابند تھے اور ان کا کسی دوسری سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا‘‘۔
غزہ کی وزارت داخلہ نے کہا کہ ابو کامل کو اسرائیلی حملے میں ’’شہید‘‘ کیا گیا۔
حماس نے بھی اس ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’قابض افواج کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف کیے جانے والے وحشیانہ جرائم کا تسلسل‘‘ قرار دیا۔ حماس نے کہا کہ یہ غزہ کی پٹی میں افراتفری اور بدامنی پھیلانے کی اسرائیل کی ’’ناکام اور قابلِ افسوس کوششوں‘‘ کا حصہ ہے۔
جمعرات کو اس سے قبل جنوبی غزہ کے خان یونس میں دو افراد کو لے جانے والی ایک موٹر سائیکل کو بھی اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ اسرائیل نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ حملے کا ہدف حماس کا ایک کمانڈر تھا، تاہم اس دعوے کے لیے بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔
بدھ کو اسرائیل نے غزہ میں 3 اگست کے بعد پہلا فضائی حملہ کیا۔ بیت لاہیا میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے حملے میں بلدیاتی ادارے کا ایک ملازم ہلاک اور پانچ دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
امریکی دباؤ کے تحت اسرائیل نے ایک ہفتے سے زائد عرصے تک غزہ میں فضائی حملے روک رکھے تھے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے منصوبے میں ’’اہم پیش رفت‘‘ کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس نے ان کے 15 نکاتی منصوبے پر اتفاق کیا ہے، جس پر غزہ بورڈ آف پیس کے ذریعے عمل درآمد کیا جانا تھا۔ منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج کو غزہ سے انخلا کرنا تھا جبکہ حماس کو غیر مسلح ہونا تھا۔
حماس نے کہا تھا کہ وہ مکمل جنگ کی واپسی سے بچنے کے لیے معاہدے کو قبول کرتی ہے، تاہم اس کا اصرار تھا کہ منصوبے پر عمل درآمد اسرائیل کی جانب سے پہلے اپنی فوجیں واپس بلانے اور حملے روکنے سے مشروط ہوگا۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کو معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ سے اس وقت تک واپس نہیں جائے گی جب تک حماس کو ’’حقیقی طور پر غیر مسلح‘‘ نہیں کردیا جاتا۔ اس اعلان کے تین روز بعد اسرائیلی فضائی حملے دوبارہ شروع ہوگئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو ’’جنگ بندی‘‘ نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیل کے تقریباً روزانہ ہونے والے حملوں میں 1,250 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔
جمعرات کو فلسطینی وزارت خارجہ و تارکین وطن نے امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
وزارت نے غزہ واپس آنے والے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فورسز کے حملوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے مسلسل حملوں کی بھی مذمت کی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
