تازہ ترین
ایل اے سی پر کشیدگی،تناؤ اور تعطل برقرار
سرحد پر جنگ کے بادل،چین نے بھاری ہتھیاروں سے لیس فوج بڑھادی
خبراردو:-
سرینگر:میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا جبکہ چین بھاری ہتھیاروں سے لیس لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر فوج بڑھا دی ہے۔
کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق ہند۔چین سرحدی کشیدگی کو لیکر ذرائع ابلاغ میں متعدد خبریں شائع ہوئی ہیں اور مسلسل شائع ہورہی ہیں،جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دولت بیگ اولڈی میں بھارتی فضائیہ کی ایک بیس سے صرف تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ڈیپسنگ میں چین نے بڑی تعداد میں فوجیں تعینات کر دی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ ڈیپسنگ کے علاقے میں بڑی تعداد میں چینی فوجیوں کے جمع ہونے کی اطلاعات ہیں۔میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین نے اس مقام پر بھاری فوجی گاڑیاں اور فوجی ساز و سامان بھی جمع کر رکھا ہے۔دوسری جانب بھارت کی جانب سے بھی سرحد پر فوجیں بھیجے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے مابین ابھی لداخ اور سکم میں بھی کشیدگی جاری ہے۔
ادھر ایک میڈیا خبر کے مطابق چینی افواج کی جانب سے پچھلے ہفتے ایک سرحدی ریاست سے مبینہ طور پر انڈیا کے پانچ شہریوں کو اغوا کرنے کی خبروں پر دلی اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔یہ الزام سب سے پہلے انڈین ریاست اروناچل پردیش کی قانون ساز اسمبلی کے ایک رکن نے ٹوئٹر پر لگایا تھا۔ انڈین کابینہ کے ایک وزیر نے اس کے بعد کہا کہ چینی فوج کو ’ہاٹ لائن پیغام‘بھیجا جا چکا ہے۔
چین نے اب تک اس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے لیکن اس الزام کی وجہ سے دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے۔ریاستی قانون ساز اسمبلی کے رکن تاپڑ گاؤ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ مبینہ اغوا3 ستمبر کو سرحد کے پاس ہوا۔ انہوں نے مزید تفصیلات نہیں دیں۔جب ایک صحافی نے کابینہ کے وزیر کرن ریجیجو سے ٹوئٹر پر آنے والی خبروں کے بارے میں پوچھا تو اْن کا کہنا تھا کہ وہ اپنے چینی ہم منصب کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔
اغوا کا الزام ایسے دنوں میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہورہا تھا۔انڈیا نے اگست میں دو بار چین پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ سرحد پر اشتعال انگیز فوجی کارروائیوں سے کشیدگی بڑھا رہا ہے۔ بیجنگ نے اِن دونوں الزامات کی تردید کی ہے۔
انڈیا کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ5 ستمبر کو اپنے چینی ہم منصب سے ماسکو میں ملے تھے مگر جہاں اس ملاقات سے حالات بہتر ہونے کی امید کی جا رہی تھی وہاں اس سے دونوں میں تلخی بڑھتی نظر آئی ہے۔چین کا کہنا تھا کہ سرحدی کشیدگی مکمل طور پر انڈیا کی غلطی ہے اور وہ اپنے علاقہ کا ایک انچ بھی نہیں جانے دے گا۔انڈیا نے الزام لگایا کہ چینی’بڑی تعداد میں فوجی جمع کر رہے ہیں، جارحانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں اور یکطرفہ طور پر موجودہ صورتحال بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘گو کہ تشدد کے کوئی نئے واقعات سامنے نہیں آئے مگر معمولی جھڑپوں کی خبریں آتی رہی ہیں اور تجزیہ کاروں کے مطابق جون سے سرحد پر صورتحال تغیر پذیر ہے۔
جون میں دونوں ممالک کے فوجیوں میں جھڑپوں کے نتیجے میں 20 انڈین فوجی ہلاک ہوئے۔ چینی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی بھی غیر مصدقہ خبریں سامنے آئیں۔دونوں ممالک ایک دوسرے پر ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں لداخ کے علاقے میں سرحد پار کر کے لڑائی شروع کرنے کا الزام لگاتے رہتے ہیں ایک ایسے دشورا گزار علاقے کی سرحد پر جس کی حد بندی مناسب طریقے سے نہیں ہوئی۔
فوجی اور سفارتی سطح پر مذاکرات کے کئی ادوار کے باوجود جوہری ہتھیار رکھنے والے دونوں ہمسائے سرحد کے بارے میں اپنے اختلافات حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔چینی افواج کی جانب سے پچھلے ہفتے ایک سرحدی ریاست سے انڈیا کے 5 شہریوں کو اغوا کرنے کی خبروں پردلی اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔جون میں کیا ہوا تھا؟:ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس کے مطابق فوجیوں کے درمیان چھڑپیں پہاڑی علاقے میں چودہ ہزار فٹ کی بلندی پر ڈھلوان پر ہوئیں جن میں کچھ انڈین فوجی نیچے بہنے والے دریائے گلوان کے یخ بستہ پانی میں جا گرے۔کم از کم76 انڈین فوجیوں کے زخمی ہونے جبکہ 20 کے ہلاک ہونے کی رپورٹس آئیں۔
چین کی جانب سے اپنی طرف ہونے والے جانی نقصان کے بارے میں کوئی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔یہ جھڑپیں ہتھیاروں کے بغیر ہوئیں جس کی وجہ1996 کا ایک معاہدہ ہے جس کے مطابق اس علاقے میں بندوقوں اور دھماکہ غیز مواد پر پابندی ہے۔فوجیوں میں جھڑپوں کی وجہ کیا تھی؟:لائن آف ایکچیول کنٹرول (ایل اے سی) دونوں ممالک کے درمیان متنازع سرحد ہے جس کی حد بندی مناسب طریقے سے نہیں ہوئی۔
دریاؤں، جھیلوں اور برف سے ڈھکی پہاڑیوں کی وجہ سے لائین بدلتی رہتی ہے۔دنیا کی دو بڑی افواج رکھنے والے ممالک میں دونوں اطراف سے فوجی وقتاً فوقتاً ایک دوسرے کے برسرپیکار ہوتے ہیں۔ انڈیا نے چین پر الزام لگایا ہے کہ اْس نے ہزاروں فوجی لداخ کی وادی گلوان بھیجے ہیں اور38 ہزار سکوئیر کلومیٹر کے علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ پچھلی تین دہائیوں میں مذاکرات کے کئی ادوار سرحد کے جھگڑے کا حل تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان اب تک صرف ایک جنگ ہوئی ہے جو 1962 میں لڑی گئی۔
انڈیا چین کے ساتھ لگنے واالی سرحد پر سڑکیں بنانے کے کام میں تیزی لایا ہے۔حالیہ کشیدگی کے پیچھے بہت سی وجوحات ہیں مگر سٹریٹیجک مقاصد اور برتری اس کی بنیادی وجہ ہے اور دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر الزامات لگائے جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق لداخ سے متصل سرحد کے دور دراز اور دشوار گزار علاقے میں انڈیا کی جانب سے بنائی گئی نئی سڑک دفاعی نکتہ نظر سے اس کمزور علاقے میں تصادم کی صورت میں دلی کے لیے وہاں افرادی قوت اور ساز و سامان بھجوانے کے لیے مددگار ہوگی۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
