اہم خبریں
حد متارکہ دہل اٹھی ،کرناہ سے پونچھ تک قہر انگیز گولہ باری
جموں و کشمیر میں اوڑی سے پونچھ تک کنٹرول لائن پر ہند و پاک افواج نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر شدیدگولہ باری کی جس کے نتیجے میں سرحدی علاقوں میں جنگ جیسی صورت حال پیدا ہوئی ہے ۔ آر پارگولہ باری کے نتیجے میں اُس پار کے ایک شہری اور کشمیر میں ایک خاتون سمیت4عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ بی ایس ایف کے ایک افسر سمیت 4اہلکار ہلاک ہوئے ۔ گولہ باری کے ان خوفناک واقعات میں 5بچوں ، کئی خواتین سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جن کو ہسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے چند ایک کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے جبکہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے ۔ کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق شمالی کشمیر کے اوڑی میں شمالی ضلع بارہمولہ کے اْوڑی علاقے میں کنٹرول لائن پر بھارت اور پاکستان کی افواج کے درمیان جمعہ کے صبح حاجی پیر اور کمل کوٹ سیکٹروں ایک دوسرے کے ٹھکانوں پرشدید گولہ باری کی ، جس میں کچھ گولے اور موٹار شل انسانی آبادی والے علاقوں میں جا گرے ہیں جو زور دار دھماکوں کے ساتھ پھٹ گئے ہیں جس کے نتیجے میں 5افرار شدید زخمی ہوئے جن کو فوری طور ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جہاں نمائندے کے مطابق بعد میں 3زخمی شہری جن میں طالب احمد ولدعبد ل جلیل ساکن سلطان ڈھکی ۔ فاروقہ بیگم زوجہ بشیر احمد ڈار ساکن بالا کوٹ ،ارشاد حسین ولد کرامت حسین ساکن بنڈی کمل کوٹ شامل ہیں جبکہ پولیس نے دیگر زخمی افراد کی شناخت ،50سالہ ناصادر حسین ولد پیر حسین،ساکن کمل کوٹ کے طور کی ہے ۔ اس دوران علاقے میں دن بھر جنگ کا ساما رہا ہے جہاں لوگ محفوظ مقامات کی طرف فرار ہو رہے تھے ۔ اس دوران سوشل میڈیا پر ایک کچھ سینکڈوں کا ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے جس میں سکولی بچے اپنے بستے لے کر کہیں فرار ہو رہے تھے جبکہ ویڈیوں میں گولہ باری قریب سے سنائی دے رہی تھی ۔ نمائندے نے سرکاری ذراءع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس گولہ باری میں باڈر سیکورٹی فورس ( بی ایس ایف ) کے ایک سب انسپکٹر سمیت 3ا اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنہیں علاج معالجے کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں بعد میں سب انسپکٹر زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا ہے ۔ پولیس نے مہلوک افسر کی شناخت راکیش دوول کے طور کی ہے جس کے سر میں گولی لگنے کی وجہ سے وہ ہسپتال میں داخل ہونے سے قبل ہی دم توڑ بیٹھا ہے ۔ ادھر بین الاقومی میڈیا نے نے بتایا ہند و پاک افواج کے گولہ باری کے دوران نے ایل اوسی کے رکھ چکری اورخنجرسیکٹرز میں فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک شہری شہید جب کہ 2 خواتین سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے جن میں ایک بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا ہے ۔ میڈیا رپوٹس میں پاکستان نے ہندوستان پرالزام لگا یا ہے کہ انہوں نے سماہنی، تری بند دیہات کوراکٹوں اورمارٹرگولوں سے نشانہ بھی بنایا ۔ ادھرسرکاری ذراءع کے مطابق دونوں طرف کی افواج نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تاہم حکام نے کہا کہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا آغاز پاکستانی افواج نے کیا ۔ حکام نے کہا کہ پاکستانی فائرنگ کا’’بھرپور اور موثر جواب‘‘ دیا جارہا ہے ۔ ساری صورت حال کی وجہ سے کنٹرول لائن کے نزدیک رہائش پذیر لوگوں میں خوف و دہشت کا ماحول قائم ہوا ہے جس کے نتیجے میں لوگ گھروں میں سہل ہو کر رہ گئے تھے ۔ علاقے میں آخری اطلاعات تک آر پار فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری تھا ۔ گریز:ادھر جمعہ کے روز جہاں متعدد سرحدی علاقوں میں جنگ جیسی صورت حال بنی تھی وہیں شمالی کشمیر کے گریز میں بھی ہند و پاک افواج نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر شدید گولہ بھاری کی ہے جس کے نتیجے میں 2کمسن بچیو 2فوجی اہلکار سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے جن کو فوری طور ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔ جس دوران بعد میں دونوں زخمی اہلکار زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھے ہیں تاہم سرکاری طور پر اس خبر کی تصدیق کرنا باقی ہے ۔ نمائندے نے سرکاری ذراءع کا حوالہ دیتے ہوئے شلنگ میں زخمی افراد کی شناخت 14سالہ ریحانہ خورشید دختر خورشید احمد گنائی ،12سالہ منزہ جمشددخترجمشد احمد،72سالہ محمد جبار گنائی ولد لسی گنائی کے علاوہ 62سالہ سعدہ بیگم ساکنان بگترو گریز کے طور کی ہے پولیس نے بتایا سبھی زخمی افراد کو علاج معالجہ کے لئے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔ کیرن:ادھر فوج نے بھی شمالی کشمیر کے کیرن سیکٹر میں در اندازی کی کوشش ناکام بنانے کا دعو ی کیا ہے ۔ فوجی ذراءع نے جمعہ کو بتایا کہ اْنہوں نے ضلع کپوارہ کے کیرن سیکٹر میں کنٹرول لائن پر دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بنایا ۔ فوج کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق کیرن سیکٹر میں اگلی چوکی پر 13نومبرکے صبح مشکوک نقل و حمل دیکھی گئی جو جنگجوءوں کی طرف سے درا ندازی کی ایک کوشش تھی جس کو فوجی اہلکاروں نے ناکا م بنادیا ۔ موصولہ بیان میں کہا کہ اسی اثنا میں پاکستانی فوج کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی بھی کی گئی اور بھارتی چوکیوں کی طرف مارٹر گولے داغے گئے ۔ جس دوران پاکستان کی اس گولہ باری کا بھر پور جواب دیا جارہا ہے‘‘ ۔ مقامی لوگوں نے بتایان گولہ باری اور فائرنگ کے بعد علاقے میں آبادی سہم کر رہ گئی ہے تاہم واقعے میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہو ئی ہے ۔ کرناہ:ادھر شمالی ضلع کپوارہ کے کرناہ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر جمعہ کوبھارت اور پاکستان کی افواج کی گوج ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہو کر پندوستان اور پاکستان کے ٹھاکوں پرایک مرتبہ پھر گولہ باری کا کی ہے جس کے نتیجے لوگوں میں خوف و دہشت پیدا ہوئی ہے ۔ کرناہ سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ قریب ساڑھے بارہ بجے کرناہ علاقہ گن گرج سے دہل اٹھا اور علاقے میں جنگ کا سما دیکھنے کو مل رہا تھا ۔ دفاعی ذراءع کے مطابق پاکستانی افواج نے سعدپورہ، دھنی، ہجترہ کے علاوہ سریاں کے اوپری علاقوں میں فوجی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جس کا بھارتی افواج’’ بھرپور ‘‘جواب دے رہی ہے اورپورے علاقے میں چاروں اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے ۔ مقامی لوگوں نے بتایا گولہ بھاری شروع ہونے کے ساتھ ہی لوگ گھروں میں سہم کر رہ گئے ہیں ۔ ذراءع نے بتایا گولہ باری کے نتیجے میں ابھی تک کسی جانی یا مالی نقضان کی کوئی اطلاع نہیں ہے البتہ آخری اطلاعات ملنے تک آر پارگولہ باری کا سلسلہ جاری تھا ۔ پونچھ:جموں کے پونچھ ضلع میں کنٹرول لائن پر جمعہ کے رووز چوتھے آر پار گولہ باری جاری رہی ہے ۔ جس کے نتیجے میں تازہ واقعے میں 2کمسن بچوں سمیت5افراد زخمی ہوئے ہیں جن کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔ کشمیر نیوز سروس کے نامہ نگار نے بتایا ہند و پاک افواج کے درمیان شدید گولہ باری جمعرات اور سنیچر کی درمیانی رات ایک بج کر چالیس منٹ پرمنڈی تحصیل کے ساوجیاں سیکٹر میں ہوئی ہے جس دوران پاکستانی فوج نے ہندوستانی جوجی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی غرض سے موٹار شلنگ کی ہے ۔ جس کا بگھارتی فوج نے بھر پور جواب دیا ہے ۔ جس کے نتیجے میں 2بچوں سمیت5افراد زخمی ہوئے ہیں جن کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔ میڈیکل افسر وجیاں ڈاکٹر علی محمد نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا دو کمسن بچو ایک خاتون کو ہسپتال میں علاج کی غرض داخل کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا دونوں زخمی بچوں کی حالت مستحکم ہے تاہم خاتون کی حالت نازک بنی ہوئی ہے جس کو مزید علاج کے لئے سب ضلع ہسپتال منڈی روانہ کیا گیا ہے۔زخمی افراد کی شناخت5سالہ محمد راشد،8سالہ توصیف احمداور55سالہ حاجرہ کے طور کی ہے۔اس دوران اس واقعے میں بی ایس ایف کے ساتھ بطور پوٹر کام کر رہے دو افراد بھی زخمی ہوئے ہیں جن کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ایل اوسی پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہری جاں بحق:پاکستان:پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز نے ایک بار پھر ایل او سی پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک شہری کو جاں بحق جب کہ 3 افراد کو زخمی کردیا۔پاکستانی فوج کے رابطہ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے ایک بار پھرلائن آف کنٹرول پرجنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے ایل اوسی کے رکھ چکری اورخنجرسیکٹرزپربلا اشتعال فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک جب کہ 2 خواتین سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے۔ان کا کہناتھا کہ بھارتی فوج نے سماہنی، تری بند دیہات کوراکٹوں اورمارٹرگولوں سے نشانہ بھی بنایا۔دوسری جانب دفترخارجہ میں سینئربھارتی سفارتکارکو طلب کیا گیا اورجنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے احتجاجی مراسلہ بھی حوالے کیا گیا۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
ہندوستان3 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
