دنیا
چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ، جس نے مشرقِ وسطیٰ کو بدل کر رکھ دیا
بعض تاریخ دان اور ماہرین کہتے ہیں کہ اسرائیل کو 1967 کی جنگ میں جو کامیابی حاصل ہوئی تھی وہ عرب اسرائیل تنازع کے حل کے لیے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی بلکہ اس نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
پانچ جون 1967 کو اسرائیل اور عرب ممالک کے مابین شروع ہونے والی جنگ یوں تو صرف چھ دن جاری رہی تھی لیکن اس نے مشرقِ وسطیٰ اور عرب اسرائیل تنازع کے مستقبل کا رخ متعین کر دیا تھا۔
اس جنگ کو ختم ہوئے 54 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
تاریخ پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اس جنگ نے اسرائیل کے اپنے پڑوسی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی راہ بھی متعین کی اور ساتھ ہی امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات بھی ایک نئے دور میں داخل ہوئے۔ اس لیے مبصرین تاریخ کے اس اہم واقعے کے سیاق و سباق اور اس میں حصہ دار بننے والی عالمی طاقتوں کے کردار پر نظر ڈالنے کی ضرورت ایک بار پھر محسوس کر رہے ہیں۔
تاریخی پس منظر
1967 کی عرب اسرائیل جنگ وہ تیسرا موقع تھا جب عرب ممالک اور اسرائیل آمنے سامنے آئے تھے۔اس سے قبل سن 1948 میں عرب اسرائیل جنگ اور 1956 میں مصر کے ساتھ سوئز کینال پر تنازعہ پیدا ہو چکا تھا۔
تاریخ دانوں کے مطابق، پہلی عالمی جنگ تک فلسطین کا علاقہ سلطنتِ عثمانیہ میں شامل تھا۔ جنگ کے بعد 1922 میں اس وقت کے عالمی تنازعات حل کرنے کے لیے قائم کی گئی عالمی تنظیم ‘لیگ آف نیشنز’ نے فلسطین کو برطانیہ کے حوالے کردیا تھا۔ اس انتظام کو ’فلسطین مینڈیٹ‘ کہا جاتا ہے۔ غزہ کا علاقہ بھی اس میں شامل تھا۔
بعدازاں 1947 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس مینڈیٹ کے اختتام سے قبل ہی فلسطین کو عربوں اور یہودیوں کے لیے الگ الگ ریاستوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے کی منظوری دی۔
برطانوی مینڈیٹ 15 مئی 1948 کو ختم ہوا اور اسی دن جنگ کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔ اس جنگ کی ابتدا ہی میں پڑوسی عرب ملک مصر کی افواج غزہ میں داخل ہوگئیں۔ البتہ جنگ کے زور پکڑ جانے کے بعد عربوں کے ہاتھ سے بہت سے علاقے نکل گئے۔
اقوامِ متحدہ نے عربوں اور یہودیوں کے لیے الگ الگ ریاست کا جو فارمولاپیش کیا تھا اس میں یروشلم کو متحد رکھنے کے لیے شہر کو اپنی نگرانی میں ایک بین الاقوامی انتظام کے تحت لانے کی تجویز دی تھی۔ لیکن اس فارمولے پر عمل نہیں ہوسکا۔ بلکہ یروشلم کا حصول اس تنازع کا محور بن گیا۔
بعد ازاں 1949 میں اردن اور اسرائیل نے شہر کی تقسیم کا ایک بندوبست تسلیم کرلیا جس میں مشرقی یروشلم اور قدیم شہر کا علاقہ اردن کے زیرِ کنٹرول آگیا۔ اس کے علاوہ مغربی کنارہ بھی اردن کے پاس ہی تھا۔
مغربی یروشلم اور انیسویں صدی میں تعمیر ہونے والے شہر کے علاقے ریاستِ اسرائیل کے زیرِ انتظام آگئے۔ اس تقسیم کے باعث مغربی یروشلم میں آباد بہت سے مسلمانوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی۔
مشرقِ وسطیٰ میں اس کے بعد ایک اور بین الاقوامی بحران نے اس وقت جنم لیا جب 26 جولائی 1956 کو مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے نہرِ سوئز کو قومیانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے سے قبل اس اہم آبی گزر گاہ کا انتظام فرانس اور برطانیہ کی مشترکہ ‘سوئز کینال کمپنی’ کے پاس تھا۔
مصر کی سوویت یونین سے بڑھتی قربت
دوسری جانب جمال عبدالناصر کی سوویت یونین سے قربت بڑھ رہی تھی۔ سن 1955 میں ناصر نے کمیونسٹ ملک چیکو سلوواکیہ سے اسلحے کی خریداری کا معاہدہ طے پانے کا اعلان کیا۔ یہ معاہدہ دراصل سوویت یونین کے ساتھ ہی تھا۔
اس کے ساتھ ہی سوویت یونین سے تعلقات مزید بہتر کرنے کے لیے ناصر نے معاہدۂ بغداد میں شامل ہونے سے بھی انکار کر دیا۔ یہ معاہدہ بعد میں سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن یا ’سینٹو‘ کہلایا۔ امریکہ کی مدد سے قائم ہونے والا یہ اتحاد مشرقِ وسطیٰ میں سوویت یونین کے بڑھتے قدم روکنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا اور اس میں ترکی، عراق، ایران، پاکستان اور برطانیہ بھی شامل تھے۔
مصر کے ساتھ 1955 میں ہونے والے معاہدے کے بعد سوویت یونین کو مشرقِ وسطیٰ میں قدم جمانے کا موقع مل گیا۔
جمال عبدالناصر کے سوویت یونین کے ساتھ بڑھتے ہوئے مراسم کے باعث امریکہ اور برطانیہ نے دریائے نیل پر اسوان ڈیم تعمیر کے منصوبے کے لیے مصر کو وعدے کے مطابق مالی معاونت فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ جمال عبدالناصرکے لیے یہ منصوبہ انتہائی اہم تھا اور اس میں ناکامی کی صورت میں ان کی عوامی مقبولیت متاثر ہوسکتی تھی۔
اس لیے ردِ عمل میں جمال عبدالناصر نے نہر سوئز پر مارشل لا نافذ کر کے سوئز کینال کمپنی کا انتظام حکومت کی تحویل میں لے لیا۔ اس کمپنی میں فرانس اور برطانیہ کی بڑی سرمایہ کاری تھی۔ جمال نے اس اقدام کے ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دیا کہ نہرِ سوئز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے اسوان ڈیم کی تعمیر کے لیے رقم بھی وصول کی جائے گی۔
اب فرانس اور برطانیہ کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ کہیں جمال عبدالناصر نہرِ سوئز کو بند ہی نہ کر دیں۔ اس صورت میں خلیجِ فارس سے مغربی یورپ کو تیل کی فراہمی رک سکتی تھی۔
اس بحران کو حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں تو تاریخ دانوں کے مطابق برطانیہ اور فرانس نے نہرِ سوئز سے ملحقہ علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے اور جمال عبدالناصر کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے ایک خفیہ منصوبہ بنایا۔
جمال عبدالناصر کے خلاف اس منصوبے میں ساتھ دینے کے لیے انہیں اسرائیل کی صورت میں ایک علاقائی اتحادی پہلے ہی میسر تھا کیوں کہ نہرِ سوئز سے متعلق اقدام سے قبل ہی ناصر نے اسرائیل کے لیے آبنائے تیران کو بند کردیا تھا۔
آبنائے تیران خلیجِ عقبہ کے ذریعے اسرائیل کو بحیرۂ احمر سے ملاتی ہے اور اسرائیل کے لیے تزویراتی اور تجارتی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل بحری راستہ ہے۔
اس کے علاوہ 1955 سے 1956 کے دوران مصر کے حمایت یافتہ کمانڈو اسرائیلی علاقوں میں کارروائیاں بھی کر رہے تھے۔
اسرائیل کی نہرِ سوئز کی جانب پیش قدمی
اسرائیل نے 10 اکتوبر 1956 کو مصر پر حملہ کرکے نہرِ سوئز کی جانب پیش قدمی شروع کر دی تھی۔ منصوبے کے مطابق برطانیہ اور فرانس نے اسرائیل اور مصری افواج سے نہرِ سوئز کا علاقہ خالی کرنے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے اپنی فوجیں میدان میں اتار دیں۔
امریکہ کو خدشہ تھا کہ فرانس اور برطانیہ کے براہِ راست اس تنازع کا حصہ بننے سے سوویت یونین کو بھی خطے میں مداخلت کا موقع مل سکتا ہے۔ اس لیے امریکہ نے اقوامِ متحدہ میں ایک قرارداد پیش کی جس کے بعد 22 دسمبر کو برطانیہ اور فرانس نے اپنی افواج کو واپس بلالیا اور مارچ 1957 میں اسرائیلی فوج بھی واپس چلی گئی۔
اس تنازع کے بعد جمال عبدالناصر عرب اور مصری قوم پرستوں کے ہیرو کے طور پر سامنے آئے۔ اسرائیل کو نہرِ سوئز کے استعمال کا حق تو نہ مل سکا لیکن اس کے لیے آبنائے تیران کا بحری راستہ کھل گیا جب کہ برطانیہ اور فرانس کا مشرقِ وسطیٰ پر اثر و رسوخ بہت محدود ہوگیا۔
چھ روزہ جنگ کیسے شروع ہوئی؟
نہرِ سوئز کے بحران کے بعد اسرائیل اور مصر کی سرحد پر واقع جزیرہ نما سینا میں اقوامِ متحدہ کی ایمرجنسی فورس تعینات کر دی گئی تھی۔
سوئز بحران کے بعد عرب دنیا میں مصر ایک قائد کے طور پر سامنے آیا اور 1958 میں اس نے شام کے ساتھ مل کر ‘یونائیٹڈ عرب ری پبلک’ قائم کرلیا۔ لیکن فیصلہ سازی میں مصر کو حاصل برتری نے شامیوں میں شکایات پیدا کیں اور یہ اتحاد ستمبر 1961 میں ختم ہوگیا۔ البتہ مصر نے 1971 تک یہ نام برقرار رکھا۔
دوسری جانب شام، لبنان اور اُردن میں موجود فلسطینی گوریلا گروپوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا تھا اور انہوں نے اسرائیلی مفادات کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا تھا۔ شام کی جانب سے بھی فلسطینی مزاحمت کی حمایت میں اضافہ ہو رہا تھا۔
نومبر 1966 کو اسرائیل نے مغربی کنارے کے ایک گاؤں السموع پر فضائی حملہ کیا۔ اس وقت مغربی کنارہ اردن کے زیرِ انتظام تھا۔ اس حملے میں 18 ہلاکتیں ہوئیں اور 54 افراد زخمی ہوئے۔
اسی دوران اسرائیلی سرحد پر فلسطینی مزاحمت کاروں کی گوریلا کارروائیاں بڑھتی جارہی تھیں جنہیں شام کی حمایت حاصل تھی۔ ان جھڑپوں کی شدت میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا اور اپریل 1967 میں اسرائیل اور شام کی فوجوں میں لڑائی شروع ہو گئی جس میں اسرائیلی فضائیہ نے شام کے چھ ’مِگ‘ جنگی طیارے گرا دیے۔
اسی دوران مئی میں سوویت یونین کی بعض خفیہ رپورٹس میں نشان دہی کی گئی کہ اسرائیل شام کے خلاف بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
انسائیکلوپیڈیا آف برٹینیکا کے مطابق اگرچہ یہ رپورٹس درست نہیں تھیں لیکن ان کی وجہ سے اسرائیل اور اس کے عرب پڑوسیوں میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
عرب دنیا میں خود کو نمایاں رکھنے کے لیے جمال عبدالناصر اسرائیل سے متعلق جارحانہ پالیسی اپنائے ہوئے تھے۔ اس لیے مصر اور دیگر عرب ممالک میں ان سے بہت سی توقعات وابستہ کی جاتی تھیں۔
لیکن اسرائیل کے مغربی کنارے پر حملے اور شام کے جنگی طیارے گرانے کے بعد وہ اُردن اور شام کی مدد کے لیے میدان میں نہیں اترے جس کی وجہ سے انہیں عرب دنیا میں تنقید کا سامنا تھا۔
ان پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا تھا کہ وہ مصر اور اسرائیل کی سرحد پر سینا کے علاقے میں تعینات اقوامِ متحدہ کی ایمرجنسی فورس کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔
اس صورتِ حال میں ناصر نے شام کی مدد کے لیے واضح اقدام کا فیصلہ کیا اور 14 مئی 1967 کو مصری افواج نے جزیرہ نما سینا میں پیش قدمی شروع کر دی۔
اس کے بعد 18 مئی کو ناصر نے اقوامِ متحدہ کی اسپیشل فورس کو سینا سے ہٹانے کے لیے باقاعدہ درخواست بھی دے دی اور 22 مئی سے اسرائیلی بحری جہازوں کے لیے خلیجِ عقبہ کو بند کر دیا۔ جنوبی اسرائیل کے شہر ایلات کی بندرگاہ پر اس بندش کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔
اسرائیل نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ اگر خلیجِ عقبہ کو بند کیا گیا تو اس کے نتیجے میں جنگ شروع ہو سکتی ہے۔
اس تنازع کی بڑھتی ہوئی شدت کے پیشِ نظر امریکہ کے صدر لنڈن بی جونسن نے مصر اور اسرائیل کو جنگ میں پہل سے باز رہنے کا پیغام دیا اور ساتھ ہی خلیجِ عقبہ سے متصل آبنائے تیران کو کھولنے کے لیے ایک بین الاقوامی بندوبست کرنے میں تعاون کی بھی پیشکش کی۔ لیکن ان کی اس تجویز پر عمل نہیں ہوسکا۔
اسی اثنا میں اردن کے شاہ حسین نے 30 مئی 1967 کو مصر کے ساتھ مشترکہ دفاع کے معاہدے پر دستخط کر دیے اور اردن کی فوج کو مصر کی قیادت میں دے دیا۔ بعد میں عراق نے بھی اس اتحاد میں شمولیت اختیار کرلی۔
آپریشن فوکس
عرب ممالک کی تیاریوں کو دیکھتے ہوئے اسرائیل نے جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ پانچ جون کو اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے ‘آپریشن فوکس’ کے نام سے فضائی حملہ شروع کیا۔ اس آپریشن میں اسرائیل کے 200 طیاروں نے حصہ لیا۔
اس آپریشن میں اسرائیل نے مصر کی ایئر فورس کے 90 فی صد طیارے زمین ہی پر تباہ کردیے۔ ایسا ہی ایک بڑا حملہ شام کی فضائیہ پر بھی کیا گیا۔ اسرائیل نے اپنی ان کارروائیوں کو ‘پری ایمپٹِو‘ یا پیشگی حملے قرار دیا۔
اس حملے کے بعد مصری فوج کے پاس فضائیہ کی مدد نہیں رہی اور وہ میدان میں حریف کے حملوں کا آسان ہدف بن گئی۔
جنگ شروع ہونے کے تین دن کے اندر اسرائیل نے غزہ کی پٹی اور نہرِ سوئز کے مشرقی کنارے تک جزیرہ نما سینا کا سارا علاقہ حاصل کرلیا۔
اسرائیل نے اُردن کو جنگ کی صورت میں لاتعلق رہنے کا انتباہ کیا تھا۔ لیکن پانچ جون کو جنگ شروع ہوئی تو اردن نے مغربی یروشلم پر شیلنگ شروع کر دی۔
جوابی کارروائی میں اسرائیلی فورسز نے 7 جون تک اردن کی فوج کو مشرقی یروشلم سے پیچھے دھکیل دیا اور 1949 میں طے ہونے والے بندوبست کے تحت اردن کے زیر انتظام مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کا اکثر علاقہ بھی حاصل کرلیا۔ اس طرح یروشلم کا قدیم شہر پوری طرح اسرائیل کے کنٹرول میں آگیا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے 7 جون کو جنگ بندی کی پیش کش کی گئی۔ اسرائیل اور اردن نے اسے فوراً قبول کرلیا اور مصر نے اگلے روز تک آمادگی ظاہر کردی لیکن شمالی اسرائیل پر بمباری جاری رکھی۔
اسرائیل نے 9 جون کو گولان کی پہاڑیوں پر حملہ کیا اور ایک دن کی گھمسان کی لڑائی کے بعد یہ پہاڑیاں بھی حاصل کرلیں۔ اس کے بعد شام نے بھی 10 جون کو جنگ بندی تسلیم کرلی۔
جنگ کے بعد کیا ہوا؟
چھ روز تک جاری رہنے والی اس جنگ میں عرب ممالک کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ اس جنگ میں مصر میں تقریباً 11 ہزار، اردن میں چھ ہزار اور شام میں ایک ہزار اموات ہوئیں اور اسرائیل میں 700 لوگ مارے گئے۔
عرب افواج کے جنگی ساز و سامان اور ہتھیاروں کا بھی بھاری نقصان ہوا۔ اس شکست کی وجہ سے عرب عوام اور سیاسی قیادت کے حوصلے پست ہوگئے۔
جنگ میں شکست کے بعد مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے نو جون کو استعفٰی دے دیا۔ لیکن ان کے اس فیصلے کے خلاف مظاہرے ہوئے اور انہوں نے استعفی واپس لے لیا۔ جنگ میں ہونے والی کامیابی کے بعد اسرائیل خطے کی بڑی فوجی قوت بن کر سامنے آیا۔
چھ دن تک جاری رہنے والی اس جنگ کے بعد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع نے ایک نیا موڑ لیا۔
اس جنگ کی وجہ سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور تقریباً 10 لاکھ سے زائد پناہ گزین اسرائیل کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں آگئے۔ اس کے نتیجے میں 1948 میں شروع ہونے والا پناہ گزینوں کا بحران مزید شدید ہوگیا۔ پناہ گزینوں کے اسی بحران نے بعد میں سیاسی بے چینی اور تشدد کی صورتِ حال کو بھی جنم دیا۔
جنگ کے بعد نومبر میں اقوامِ متحدہ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں اسرائیلی سے پائیدار امن کے لیے جنگ کے دوران حاصل کیے گئے علاقوں سے دست بردار ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔
بعد میں یہی قرارداد اسرائیل اور اس کے پڑوسی ممالک کے مابین تعلقات کی بنیاد بنی۔ اس قرارداد کو اسرائیل اور مصر کے درمیان ہونے والے کیمپ ڈیوڈ معاہدے اور فلسطینیوں کے ساتھ دو ریاستی حل کی کاوشوں کا نقطۂ آغاز بھی قرار دیا جاتا ہے۔
جنگ میں اگرچہ اسرائیل کے زیرِ کنٹرول علاقے میں تین گنا اضافہ ہوا لیکن یہ علاقے آج تک وجہِ نزاع بنے ہوئے ہیں۔
اسرائیل نے 1982 میں امن معاہدے کے تحت جزیرہ نما سینا کا علاقہ مصر کو واپس کر دیا تھا۔ اسرائیل 2005 میں غزہ کی پٹی سے بھی دست بردار ہوگیا تھا۔ تاہم چھ روزہ جنگ کے دوران ہونے والا گولان ہائٹس اور مغربی کنارے پر اس کا قبضہ 54 سال بعد آج بھی برقرار ہے۔
اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں اُردن سے مشرقی یروشلم اور قدیم شہر کا علاقہ حاصل کرنے کے بعد اسے متحدہ یروشلم قرار دے کر اپنا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ البتہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔اسرائیل کے اس اقدام کو تاحال بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ تاہم اسرائیل نے 1967 میں جو علاقے حاصل کیے تھے ان میں یہودی بستیوں کا قیام بھی ہر کچھ عرصے بعد تصادم کو جنم دیتا ہے.
چھ روزہ جنگ اور پاکستانی پائلٹ
پاکستان کی فضائیہ نے نومبر 1966 میں اردن کی رائل ایئر فورس کو تربیت اور مشاورت فراہم کرنے کے لیے اپنے کچھ پائلٹ وہاں بھیجے تھے۔
ترک خبر رساں ادارے ‘انادولو’ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق فضائیہ کی تاریخ پر تین کتابوں کے مصنف ایئر کموڈور قیصر طفیل کا کہنا ہے کہ جب 5 جون 1967 کو جنگ کا آغاز ہوا تو پاکستانی پائلٹ سیف الاعظم اور ان کے ساتھیوں کو وہاں جنگی خدمات کی اجازت دی گئی۔
سیف الاعظم نے جنگ کے دوران تین اسرائیلی طیارے مار گرائے تھے جن میں سے ایک اُردن میں گرایا۔ اس کے بعد انہیں عراق منتقل کردیا گیا اور انہوں نے وہاں اسرائیل کے دو طیاروں کو نشانہ بنایا۔
بعض مبصرین کہتے ہیں کہ سیف الاعظم نے اسرائیل کے طیارے گرا کر عراق اور اُردن کی ایئر بیس بچا لیں ورنہ ان کا انجام بھی مصری فضائیہ جیسا ہوتا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مصری فضائیہ کی مکمل تباہی کے بعد سیف الاعظم کی یہ کارکردگی تاریخ میں محض ایک علامتی حیثیت ہی رکھتی ہے کیوں کہ اس سے جنگ کے نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔
بعد ازاں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سیف الاعظم بنگلہ دیش کی فضائیہ میں شامل ہوگئے۔ سن 1980 میں ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں وہ بنگلہ دیش پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔
سیف الاعظم شاید تاریخ کے وہ واحد پائلٹ ہیں جنھوں نے چار ممالک اردن، عراق، پاکستان اور بنگلہ دیش کے جنگی طیارے اڑائے اور دو مختلف ممالک بھارت اور اسرائیل کے طیارے گرائے۔
ان کی جنگی مہارت کے اعتراف میں عراق، اردن، پاکستان اور امریکہ کی جانب سے انہیں مختلف فوجی اعزازات سے نوازا گیا۔ سیف الاعظم کا انتقال 79 برس کی عمر میں گزشتہ برس 14 جون کو ڈھاکہ میں ہوا تھا۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عالمی سطح پر تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں: ای آئی اے
ویانا، بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں، اس لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔امریکی حکام نے بھی پیش گوئی کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کم رہنے کی صورت میں تیل اور گیس کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
ایران اور عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز سعودی عرب، عراق اور کویت سمیت بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے خام تیل کی برآمدات کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق، معمول کے حالات میں روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل، یعنی دنیا کی روزانہ مجموعی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ، اس آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔ ادارہ اسے “تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ” قرار دیتا ہے۔
ای آئی اے کے مطابق اگر آبنائے ہرمز بند ہوجائے تو “اس راستے سے تیل باہر منتقل کرنے کے متبادل راستے بہت محدود ہیں۔”
یہ آبی گزرگاہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تجارت کا بھی تقریباً پانچواں حصہ منتقل کرتی ہے۔
توانائی کے تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت قابل اعتماد نہیں ہوجاتی، تیل اور گیس کی قیمتیں بلند رہیں گی۔ تاہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنے خام تیل کی برآمدات کے لیے متبادل راستوں کو وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران نے خلیج فارس اور اس کے اطراف کے پانیوں میں آلودگی پر معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہرمز سے تجارتی آمدورفت سے فائدہ اٹھانے والے ممالک پر ماحولیاتی نقصان سے نمٹنے کی “قانونی اور اخلاقی دونوں ذمہ داری” عائد ہوتی ہے۔
ایران کے قشم جزیرے کے قریب ایک ساحل پر تیل کی تہہ دیکھی گئی ہے، جبکہ عمان نے کہا ہے کہ پابندیوں کا شکار ٹینکر کیرولین بیزینگی سے خارج ہونے والا تیل راس مدرکہ کے ساحلوں تک پہنچ گیا ہے۔ اس ٹینکر میں ایک اندازے کے مطابق 8 لاکھ بیرل روسی خام تیل موجود تھا۔
عمان کے مطابق ساحلی پٹی کا 40 کلومیٹر تک کا علاقہ متاثر ہوا ہے اور خدشہ ہے کہ تیل کا اخراج مصیرہ جزیرے تک پہنچ سکتا ہے، جہاں حساس ساحلی ماحولیاتی نظام اور سمندری کچھوؤں کے انڈے دینے کے مقامات موجود ہیں۔
دریں اثنا، نیم فوجی بسیج آرگنائزیشن کے کمانڈر اور پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) سے وابستہ حسین طائب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز “ایران کے کنٹرول اور انتظام میں ہے۔”
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق طائب نے کہا، “آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز اسلامی جمہوریہ کے انتظام اور کنٹرول میں ہے اور ہمارا ملک مکمل تحفظ کے ساتھ اپنے راستے پر آگے بڑھ رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “امریکیوں نے اسلامی انقلاب کی طاقت دیکھ لی ہے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
