تازہ ترین
سیلاب میں تباہی کے بعد پاکستان ہندوستان سے سبزیاں برآمد کرسکتا ہے
اسلام آباد، 30 اگست (یو این آئی) پاکستان میں بارشوں اور سیلاب کے بعد فصلوں کی تباہی بالخصوص سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں پیاز اور ٹماٹر کی فصلوں کو نقصان پہنچنے کے بعد حکومت نے سبزیوں کی درآمد کے لیے واہگہ کے راستے ہندوستان کے ساتھ تجارت بحال کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔پاکستان نے 9 اگست 2019 کو ہندوستان سے درآمدات اور برآمدات پر پابندی عائد کر دی تھی۔
ڈان میں میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق سیلابی صورتحال کے بعد مارکیٹ میں سبزیوں کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، بالخصوص خیبر پختونخوا میں ٹماٹر جبکہ سندھ اور بلوچستان میں پیاز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔وزارت غذائی تحفظ کے ایک سرکاری عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ بارشوں سے پہلے سندھ اور بلوچستان میں ٹماٹر اور پیاز کی دوسری فصل کی بویائی شروع ہونے والی تھی تاہم تاخیر کے باعث پہلی کھڑی فصل کو کافی نقصان پہنچا ہے۔یاد رہے کہ اپریل اور جون کے درمیان ٹماٹر اور پیاز کی سپلائی پنجاب سے آتی ہے۔
باوثوق ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے مقامی مارکیٹ میں کمی کو پورا کرنے کے لیے افغانستان اور ایران سے ٹماٹر اور پیاز کی درآمد کی اجازت دے دی تھی۔ذرائع کے مطابق ہندوستان سے براہ راست تجارت کی اجازت نہ دینے کی صورت میں مقامی مارکیٹ میں سپلائی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ہندوستانی سبزیاں دبئی کے راستے درآمد کی جا سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان نے 9 اگست 2019 کو ہندوستان سے درآمدات اور برآمدات پر پابندی عائد کر دی تھی تاہم 2 ستمبر 2019 کو بھارت سے دواساز مصنوعات کی درآمد اور برآمد کی اجازت مل گئی تھی۔
اس کے برعکس ہندوستان پاکستان کو ادویات براہ راست برآمد کرتا ہے، دوسری جانب ہندوستان پاکستان سے ہر قسم کی مصنوعات درآمد کررہا ہے۔
پاکستان کے ادارہ شماریات کے مطابق پچھلے سال کے 66ہزار ڈالر کے مقابلے میں اس سال جولائی اور مارچ 22-2021 کے درمیان ہندوستانی برآمدات 2ہزار 100 ڈالر رہیں جن میں خام معدنیات، طبی اور سرجیکل آلات شامل تھے۔جولائی سے مارچ 22-2021 کے دوران پاکستان سے ہندوستان درآمدات کی گئی اشیا کی مالیت 28کروڑ 1لاکھ 33 ہزار ڈالر تھی جو پچھلے سال 23 کروڑ 7لاکھ 26 ہزار ڈالر تھیں، ان درآمدات میں طبی، فارمیسی اور کمیکل مصنوعات شامل تھیں۔
پاکستان کی ہندوستان کے ساتھ تجارت کے منفی اثرات تب سامنے آئے جب 20-2019 میں پاکستان کی برآمدات 8 کروڑ 40لاکھ ڈالر سے کم ہوکر 78 لاکھ ڈالرر رہ گئی تھیں، تاہم 22-2021 میں پاکستان سے ہندوستان کی گئی برآمدات 31کروڑ 7لاکھ 35 ہزار ڈالر رہیں جو پچھلے سال 38 کروڑ 9لاکھ ڈالر تھیں، جبکہ پاکستانی درآمد کنندگان نے ہندوستانی مصنوعات کی درآمد کے لیے دبئی اور دیگر ممالک کا راستہ اختیار کیا۔
متحدہ عرب امارات پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک مانا جاتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت 22-2021 کے دوران 10 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی جبکہ متحدہ عرب امارات کو پاکستان کی برآمدات 1 ارب 36 کروڑ ڈالر ہے اور یو اے ای سے درآمدات 8ارب 66 کروڑ ڈالر رہیں، ان اعدادوشمار سے پاکستان کی دبئی اور ہندوستان کے ساتھ تجارت میں واضح فرق نظر آتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کسی تیسرے ملک کے ذریعے اشیا منگوانے کے بجائے براہ راست درآمد کرکے زرمبادلہ بچانے کے ساتھ ساتھ لاگت میں کمی بھی لا سکتا ہے کیونکہ کسی تیسرے ملک سے خریداری سے لاگت میں اضافہ ہو گا، انہوں نے کہا کہ مقامی مارکیٹ میں سپلائی کو بہتر بنانے کے لیے واہگہ کے ذریعے سبزیوں کی براہ راست درآمد مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے نجی شعبے کو ہندوستان سے 5لاکھ ٹن سفید چینی اور واہگہ بارڈر کے راستے روئی درآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم اُس وقت کی اپوزیشن جماعتوں (مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی) کی جانب سے شدید تنقید کے بعد چند دنوں بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا تھا۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
