تازہ ترین
سدھرا تصادم کے بعد جموں میں سیکورٹی الرٹ
جموں کے سدھرا علاقے میں چار ملی ٹینٹوں کی ہلاکت کے بعد صوبے بھر میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ جموں وکشمیر میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر فوج اور بی ایس ایف کو مستعد رہنے کے احکامات صادر کئے گئے۔
اطلاعات کے مطابق سدھرا جموں میں بدھ کی صبح چار ملی ٹینٹوں کی ہلاکت کے بعد صوبے میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ۔
ذرائع نے بتایا کہ جموں میں جگہ جگہ سیکورٹی فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی جہاں پر ہر آنے جانے والے کی باریک بینی سے تلاشی لی جارہی ہیں۔
ذرائع نے مزید کہاکہ جموں کے دوسرے اضلاع میں راہگیروں کی جامہ تلاشیوں اور گاڑیوں کی چیکنگ کا عمل تیز کیا گیا ۔
کسی بھی ناگہانی واقعہ سے نمٹنے کے لئے ضلع جموں اور اس کے گردونواح میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ تمام اونچی عمارتوں پر ماہر نشانہ بازوں کو تعینات کیا گیا ہے۔
جموں صوبے کے اطراف واکناف بالخصوص مختلف اضلاع کو سرمائی دارالحکومت کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں پر سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے خصوصی ناکے بٹھائے گئے ہیں جہاں چھوٹی بڑی گاڑیوں کو روک کر ان کی تلاشی لی جاتی ہے اور ان میں سوار مسافروں کی جامہ تلاشی لینے کے علاوہ شناختی کارڈ چیک کئے جاتے ہیں۔
جہاں دراندازی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد پر تعینات فوجیوں کو الرٹ حالت میں رکھا گیا ہے، وہیں میدانی علاقوں میں جنگجووں کی سرگرمیوں پر بریک لگانے کے لئے تلاشیوں اور گشت کا سلسلہ تیز کیا گیا ہے۔
دریںا ثنا سدھرا جمو ں تصادم کے دوران راہ فرار اختیار کرنے والے ڈرائیور کی بڑے پیمانے پر تلاش جاری ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ جموں کے سبھی پولیس اسٹیشنوں میں تعینات عملے کو ہائی الرٹ پر رہنے کے احکامات جاری کئے گئے۔
ذرائع کے مطابق سری نگر کی طرف جانے والی سبھی شاہراﺅں پر خصوصی ناکے بٹھائے گئے ہیں اور کسی بھی گاڑی کو بغیر تلاشی آگے جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ ٹنل کے دونوں جانب سیکورٹی فورسز نے جگہ جگہ پر ناکے بٹھائے ہیں اور جوبھی گاڑی جموں سے سری نگر آرہی ہیں اُس میں بیٹھے مسافروں سے پوچھ تاچھ کے بعد ہی اُنہیں آگے جانے کی اجازت دی جارہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مفرور ڈرائیور کو تلاش کرنے اور اُس کی شناخت کے لئے سی سی ٹی وی فوٹیج کو بھی کھنگالا جارہا ہے۔
دنیا
حوثیوں کے باب المندب میں بحری جہاز پر حملے میں 6 افراد ہلاک، یمنی حکومت کا دعویٰ
صنعا، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثی باغیوں نے باب المندب آبنائے میں ایک مال بردار جہاز پر دو مرحلوں میں حملہ کرکے کم از کم 6 افراد کو ہلاک اور 10 کو زخمی کردیا۔
مصر کی ملکیت والے بحری جہاز تہامہ پر منگل کو ہونے والا یہ حملہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد حوثیوں سے منسوب بحری جہازوں پر ایسا پہلا حملہ ہے جس میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
یمن کی وزارتِ نقل و حمل کے مطابق حوثیوں نے تجارتی جہاز پر تین بیلسٹک میزائل داغے، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور اسے ’’شدید نقصان‘‘ پہنچا۔
وزارت کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری شامل ہیں۔
یمن کی کوسٹ گارڈ نے ایک الگ بیان میں کہا کہ امدادی اہلکار جب ہلاک اور زخمی افراد کو جہاز سے نکال رہے تھے تو حوثیوں نے ایک اور میزائل داغ دیا۔
کوسٹ گارڈ کے مطابق، ’’حملہ امدادی کارروائی کے مقام پر ہوا، جس کے نتیجے میں امدادی کارروائی میں حصہ لینے والی فورسز کے اہلکار بھی ہلاک اور زخمی ہوئے۔‘‘
دوسرے حملے میں کم از کم دو فوجی ہلاک ہوئے۔
حکام کے مطابق مجموعی طور پر 10 افراد زخمی ہوئے، جن میں جہاز کے سات عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔
یمن کی وزارت خارجہ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کے خلاف محض مذمت تک محدود نہ رہے بلکہ ’’مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی‘‘ کرے۔
حوثیوں کی جانب سے اس حملے پر فوری طور پر کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کیا گیا۔تاہم حوثیوں کے زیر انتظام خبر رساں ادارے صبا نے رپورٹ کیا کہ گروپ نے باب المندب میں فوجی سازوسامان لے جانے والے ایک سعودی بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ میں جہاز کا نام نہیں بتایا گیا اور سعودی عرب کی جانب سے بھی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایک الگ واقعے میں امریکی فوج نے منگل کو کہا کہ اس نے خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک بحری جہاز پر فائرنگ کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے پاناما کے پرچم والے مال بردار جہاز ویلا نووا پر دو ہیل فائر میزائل داغے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ عملے کا کوئی رکن زخمی ہوا یا نہیں۔
یمن میں تازہ کشیدگی حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان کئی سال سے جاری جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے۔
اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ 2022 کی جنگ بندی اس وقت ختم ہوئی جب 13 جولائی کو سعودی عرب نے صنعا ہوائی اڈے کے رن وے پر فضائی حملہ کیا، جس کے باعث ایک ایرانی پرواز کو اترنے سے روک دیا گیا۔ اس پرواز میں حوثیوں کا ایک اعلیٰ سطحی وفد سوار تھا۔اس کے بعد حوثیوں نے جنوب مغربی سعودی عرب میں ابہا ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا اور بحیرۂ احمر میں سعودی بحری جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا۔
حوثیوں نے سعودی بحری جہازوں اور مملکت کی تیل تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا، جس سے عالمی معیشت میں مزید خلل پیدا ہوا۔
جواباً سعودی قیادت میں اتحاد نے حوثیوں کے زیر قبضہ حدیدہ اور بحیرۂ احمر کے سب سے بڑے جزیرے کمران کو نشانہ بنایا۔
حوثیوں نے یمن میں حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں پر بھی حملے کیے، جن میں بحیرۂ احمر کا ساحلی شہر المخا (موکا) اور وسطی شہر مارب شامل ہیں۔ ان حملوں میں درجنوں فوجی اور شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے منگل کو کہا کہ حوثیوں نے ملک کے مغربی ساحل پر مختلف مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے مزید حملوں کے دوران 10 میزائل اور چار ڈرون داغے۔
دوسری جانب حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے المخا اور وسطی صوبہ مارب میں سعودی فوجی اجتماع، ہتھیاروں کے ذخائر اور کمانڈ پوسٹوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
اقوام متحدہ نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ دوبارہ شروع ہونے والی دشمنی یمن کو ایک وسیع تر علاقائی تنازع میں گھسیٹ سکتی ہے، جس کے یمنی عوام کے لیے ’’تباہ کن نتائج‘‘ ہوں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا20 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا20 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر20 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان22 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا24 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا24 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
