تازہ ترین
جموں وکشمیر میں بیساکھی کا تہوار جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا
سری نگر، 14اپریل(یو این آئی)جموں وکشمیر میں جمعے کو سکھ برادری نے خالصہ پنتھ کے قیام اور فصلوں کی کٹائی کی خوشی میں منایا جانے والا بیساکھی کا تہوار انتہائی جوش و خروش اور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا۔
سری نگر میں اس تہوار کے موقع پر شہر ہ آفاق ڈل جھیل کے کناروں پر واقع مغل باغات کو سیاحوں اور مقامی لوگوں کے لئے کھول دیا جاتاہے ۔
جمعے کی صح سے ہی سکھ برادری سے وابستہ افراد کا گردواروں اور دوسرے مذہبی مقامات پر تانتا بندھا رہا۔
وادی میں بیساکھی کے تہوار کے سلسلے میں سب سے بڑی تقریب گرمائی راجدھانی سری نگر میں کوہ ماراں کے دامن میں واقع سکھوں کے مشہور چھٹی پادشاہی گردوارہ میں منعقد ہوئی جہاں حضرت محبوب العالم شیخ حمزہ مخدومی (رح ) کی زیارت گاہ اور شاریکا دیوی کا مندر نزدیک میں ہی واقع ہیں۔
سکھ عقیدت مندوں کی بڑی تعددا، جس میں خواتین، بوڑھے اور بچوں کی خاصی تعدداد شامل تھی، نے صبح سویرے سے ہی اس گردوارے پر حاضری دینا شروع کی تھی۔ اس موقعے پر سکھ عقیدت مندوں کے لئے خصوصی لنگر کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔
یو این آئی اردو کے ایک نامہ نگار جس نے جمعے کی صبح اس گردوارے کا دورہ کیا، نے بتایا کہ گردوارے کے باب الداخلے پر رضا کار تعینات کئے گئے تھے جو عقیدت مندوں اور میڈیا اہلکاروں کو ایک ایک کرکے اندر جانے کی اجازت دے رہے تھے۔
چھٹی پادشاہی گردوارہ تقریب کی طرز پر بارہ مولہ، ترال، جواہر نگر، صنعت نگر، برزلہ اور وادی کےد وسرے مقامات پر بھی تقاریب کا انعقاد عمل میں آیا۔
حسب روایت جمعے کو ایک بار پھر کشمیری مسلمان اور کشمیری پنڈت سکھوں کو بیساکھی کے تہوار کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے نظر آئے۔
دریں اثنا سری نگر میں واقع مغل باغات بشمول نشاط، شالیمار اور چشمہ شاہی کو جمعے کے روز سیاحوں اور مقامی لوگوں کے لئے کھول دیا گیا ہے۔
تاہم یہ باغات غیر سرکاری طور پر گذشتہ ایک ماہ سے سیاحوں کے کے لئے کھلے تھے۔
صوبہ جموں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وہاں بھی بیسکاھی کا تہوار انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا ہے۔
اس موقع پر شہر کے تمام گردواروں میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔ صوبے کے دوسرے اضلاع بشمول ادھم پور، کٹھوعہ اور سانبہ میں بھی خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
