تازہ ترین
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری ظفر یاف جیلانی کا انتقال
لکھنؤ:17مئی(یواین آئی)سینئر ایڈوکیٹ،آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری و بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفر یاب جیلانی کا آج لمبی علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ مرحوم 74برس کے تھے۔
خاندانی ذرائع نے بتایا کہ لمبے عرصے سے علیل چل رہے سابق اڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ظفر یاب جیلانی کو لال گنج واقع نشاط اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں آج د ن ساڑھے گیارہ بجے انہوں نے آخری سانس لی۔مرحوم کے لواحقین میں بیوہ کے ساتھ دو بیٹے نظم و انس اور ایک چھوٹی بیٹی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مرحوم کی نماز جنازہ رات ساڑھے آٹھ بجے ندوۃ العلماء میں ادا کی جائے گی جبکہ تدفین عیش باغ قبرستان میں ہوگی۔قابل ذکر ہے کہ سال 2021 میں مرحوم کو بیرین ہیمبرج ہوا تھا۔میدانتا میں اس کی کامیاب سرجری تو ہوگئی تھی لیکن تبھی سے مرحوم کو افاقہ نہ ہوا اور طیعیت مائل بہ زوال رہی۔
مرحوم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری حاصل کی تھی اور اس کے بعد پیشہ وکالت سے وابستہ ہوگئے۔ ان کا ملک و ملت کے تمام سرگردہ تنظیموں و اداروں سے کسی نا کسی طور وابستگی تھی۔ بابری مسجد کے مقدمے سے وابستگی کی وجہ سے سماج میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔علی گڑھ میں دوران طالب علمی سے ہی مختلف تحریکوں میں فعال کردار ادا کیا اور علی گڑھ یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بحال کے لئے چلنے والی تحریک سے بھی وابستہ رہے۔
مرحوم کے انتقال کے بعد بابری مسجد کی بازیابی اور اس کے لئے مرحوم کی کوششیں زبان زد خاص و عام ہیں۔مرحوم نے بابری مسجد کا مقدمہ نچلی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک لڑا۔اور اسی کوشش کے تحت سال 2002 میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی کی بنیاد پڑی اور اس کے کنوینر ہوگئے۔مرحوم کافی سادہ اور منکسرالمزاج تھے۔مزاج میں نرمی ان کا خاصہ تھا۔اور یہی وجہ ہے کہ وہ بلا تفریق مذہب و ملت ہر طبقے میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ بابری مسجد معاملے میں مسلم فریق کی نمائندگی کرنے کے باجود ہندوفریق بھی ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا اور ان کی باتوں پر کان رکھتاتھا۔
ان کے انتقال کی خبر ملتے ہی ملک و ملت کے سرگردہ شخصیات میں غم کی لہر دوڑ گئی۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مرحوم کی رحلت پر اپنے تعزیتی پیغام میں لکھامعروف قانون داں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سیکرٹری جناب ظفر یاب جیلانی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ مرحوم منجھے ہوئے وکیل اور ملی درد رکھنے والے انسان تھے، اُنہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے بینر تلے مفید خدمات انجام دیں۔اُن کی رحلت سے بورڈ ایک اچھے کارکن اور ماہر قانون داں سے محروم ہوگیا۔ مرحوم کے لیے مغفرت اور درجات کی بلندی کی دُعا فرمائیں۔
جماعت اسلامی حلقہ اترپردیش مشرق کے امیر حلقہ ملک فیصل فلاحی نے انتقال پر ملال پر اپنے رنج و غم کا ااظہار کرتے ہوئے مغموم اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔اپنے تعزیت پیغام میں ملک فیصل نے کہا کہ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر کے طور پر جیلانی صاحب کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم نے بابری مسجد کا کیس پورے عزم واستقلال کے ساتھ لڑا ا سکے علاوہ وہ مختلف سماجی و ملی مسائل میں ہمیشہ صف اول میں نظر آتے تھے۔جماعت اسلامی کی جانب سے شروع کی گئی مختلف سماجی تحریکات میں بھی جیلانی صاحب برابر کے شریک رہے۔مولانا خالد رشیدہ فرنگی محلی نے مرحوم کے انتقال پر اظہار رنج و غم کرتے ہوئے ان کے انتقال کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔
وہیں سابق وزیر اعلی و سماج ودادی پارٹی(ایس پی) کے صدر اکھلیش یاد نے بھی مرحوم کو جذباتی خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ ایک دانش مند انسان کی شکل میں ان کی یاد ہمیشہ برقرار رہے گی۔
دنیا
غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
غزہ، گوگل میپس کی تازہ سیٹلائٹ تصاویر نے محصور غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ کے تقریباً تین سال بعد ہونے والی بڑے پیمانے کی تباہی کی واضح تصویر پیش کی ہے۔
ایک کے بعد ایک پورے محلے ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں اور بیشتر مقامات پر صرف اہم سڑکوں کے مدھم نقوش باقی رہ گئے ہیں، جس کے باعث اب غزہ کے ایک علاقے کو دوسرے سے الگ کرنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ زرعی زمینیں جھلس چکی ہیں، جبکہ صدیوں پرانی عبادت گاہیں بھی نقصان کا شکار ہوئی ہیں یا منظرنامے سے مکمل طور پر مٹ چکی ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر (یو این او ایس اے ٹی) کی حالیہ جائزہ رپورٹ کے مطابق غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کی تعداد میں تقریباً ایک سال قبل جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ایجنسی (انروا) کے مطابق غزہ کی تقریباً 82 فیصد عمارتیں، یعنی لگ بھگ دو لاکھ عمارتیں، نقصان کا شکار ہوئی ہیں، جن میں سے تقریباً دو تہائی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔
الجزیرہ نے گوگل میپس پر حال ہی میں جاری کی گئی سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے جنگ سے پہلے کے غزہ اور موجودہ صورتحال کا تقابلی جائزہ لیا ہے، جس میں جنوبی علاقے رفح سے شمالی غزہ تک کے علاقے شامل ہیں۔ رفح کی تصاویر رواں سال کی ہیں، جبکہ شمالی غزہ کی تصاویر 2025 اور 2024 کی ہیں۔
غزہ کا سب سے جنوبی شہر رفح غزہ کے مختلف علاقوں سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے لیے ایک بڑا پناہ گاہ بن گیا تھا، تاہم مئی 2024 میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں شروع ہونے کے بعد تقریباً 10 لاکھ افراد کو یہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ان میں سے بیشتر پہلے ہی متعدد بار بے گھر ہو چکے تھے۔ انہیں رفح کے شمال میں واقع خان یونس اور وسطی غزہ کے دیر البلح کی جانب منتقل ہونا پڑا، جبکہ رفح میں انروا کے پناہ گزین مراکز بھی خالی کرا لیے گئے۔
مغربی رفح کا کبھی گنجان آباد رہنے والا تل السلطان محلہ تقریباً مکمل طور پر صفحۂ ہستی سے مٹ چکا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں ان مقامات پر جہاں کبھی مکانات موجود تھے، اب بیشتر جگہ صرف ریت دکھائی دیتی ہے۔
المواصی کبھی رفح اور خان یونس گورنریٹس کے ساحلی علاقے میں پھیلی ہوئی نسبتاً کم آبادی والی ریتلی اور زرعی پٹی تھی۔ اسرائیل نے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں اسے ’’انسانی بنیادوں پر محفوظ علاقہ‘‘ قرار دیا تھا اور بے گھر فلسطینیوں سے وہاں پناہ لینے کو کہا تھا۔
مئی 2024 میں جب اسرائیل رفح میں فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا تھا، اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن نے خبردار کیا تھا، ’’اگر وہ رفح میں داخل ہوئے تو… میں انہیں ہتھیار فراہم نہیں کر رہا ہوں۔‘‘
اس کے باوجود اسرائیل نے کارروائی جاری رکھی، جس کے نتیجے میں مزید لاکھوں افراد المواصی منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔ اس کے بعد سے اسرائیل نے اس علاقے پر متعدد بار بمباری کی ہے۔
تازہ سیٹلائٹ تصاویر میں کبھی تقریباً خالی نظر آنے والا یہ علاقہ اب خیموں سے بھرا ہوا ہے، جہاں ایسے خاندان بڑی تعداد میں مقیم ہیں جن کے پاس جانے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں۔
یو این او ایس اے ٹی کے اکتوبر 2025 کے جائزے کے مطابق خان یونس گورنریٹ میں غزہ کے کسی بھی گورنریٹ کے مقابلے میں سب سے زیادہ عمارتیں، یعنی 51,885، نقصان کا شکار ہوئی تھیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں زبردست ہنگامہ آرائی
سری نگر، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں منگل کے روز اس وقت زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی جب قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے ریاست کے درجے کی بحالی پر قرارداد منظور کرنے میں ایوان کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھاتے ہوئے اسپیکر عبد الرحیم راٹھور کو عہدے سے ہٹانے کا دوبارہ مطالبہ کیا۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کے روز بی جے پی قانون سازوں کے شور شرابے اور واک آؤٹ کے درمیان ریاست کے درجے کی بحالی کی قرارداد منظور کی تھی۔ جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، شرما اور بی جے پی کے دیگر اراکین نے قرارداد کے کچھ حصوں بالخصوص 2000ء کی خودمختاری کی قرارداد سے جڑے حوالوں پر اعتراض کیا۔ بی جے پی کا موقف ہے کہ وہ ریاست کا درجہ بحال کرنے کی حامی ہے لیکن خودمختاری کے حوالوں کی مخالفت کرتی ہے۔
شور شرابے کے دوران شرما نے قرارداد پر کارروائی کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا جس پر اسپیکر کو مداخلت کرنی پڑی۔ مسٹر راٹھور نے کہا کہ قواعد کے مطابق انہیں عہدے سے ہٹانے کی تحریک کو 14 دنوں کے بعد فہرست میں شامل کر کے اس پر غور کیا جائے گا۔ ہنگامہ جاری رہنے پر اسپیکر نے ایوان میں اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے احتجاجی اراکین کو کارروائی میں خلل ڈالنے کے خلاف خبردار کیا۔ مسٹر راٹھور نے حزب اختلاف کو یاد دلاتے ہوئے کہ وہ پہلے ہی طریقہ کار کی وضاحت کر چکے ہیں اور ضروری نوٹس جاری کر چکے ہیں، کہا کہ میں غنڈہ گردی کی اجازت نہیں دوں گا۔
مسٹر راٹھور نے احتجاجی اراکین سے کہا کہ آپ نے میری ساکھ پر سوالات اٹھائے ہیں، وہ ٹھیک ہے۔ لیکن مجھے سکھانے کی کوشش نہ کریں۔ میں اپنا کردار اور فرض جانتا ہوں۔ نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے حزب اختلاف پر پلٹوار کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندوں کو جموں و کشمیر کے عوام نے ان کے مفادات سے جڑے مسائل اٹھانے کے لیے اسمبلی میں بھیجا ہے۔
چودھری نے بی جے پی اراکین پر بحث میں حصہ لینے کے بجائے کارروائی میں خلل ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب آپ یہاں بحث کے لیے آئے تو آپ نے ایوان کو معطل کیا اور بیٹھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا استعمال نعرے بازی کے بجائے عوام سے جڑے مسائل بشمول ترقی، روزگار، تعلیم، کھیل اور انتخابات پر بحث کے لیے ہونا چاہیے۔ اس تلخ کلامی نے اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان تصادم کو مزید تیز کر دیا اور بار بار کی رکاوٹوں نے کارروائی میں خلل ڈالا۔ بی جے پی کے قانون ساز بعد میں ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ وہ کچھ دیر بعد ایوان میں واپس آ گئے۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
دنیا
ایران کے وزیر خارجہ عراقی کی قطری ثالثوں سے ملاقات، امریکہ کا جوہری معاملہ حل کیے بغیر معاہدے سے انکار
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقی نے نیویارک میں قطری ثالثوں سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز پر بات چیت کی ہے، جبکہ ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملہ حل کیے بغیر جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
عراقی نے پیر کو ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ قطری ثالث ملاقات میں زیر بحث آنے والی تجاویز امریکہ کے سامنے پیش کریں گے اور انہیں امید ہے کہ واشنگٹن کا حتمی جواب منگل تک موصول ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا، ”ہم نے خیالات اور ایران کی شرائط پوری کرنے کے لیے حل تلاش کرنے اور ان شرائط پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات کی۔ ان کے پاس کچھ تجاویز تھیں اور ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ وہ انہیں امریکی فریق کے سامنے بھی پیش کریں گے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ جواب کا انتظار کرنے کے لیے نیویارک میں قیام کریں گے، عراقی نے کہا کہ وہ چند گھنٹوں میں تہران روانہ ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا، ”جب بھی قطریوں کے پاس کوئی جواب ہوگا، وہ جانتے ہیں کہ اسے ہم تک کیسے پہنچانا ہے۔”
عراقی نے ان ملاقاتوں کو قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے جاری پیغامات کے تبادلے کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ ایران کی جانب سے اپنی تجویز پیش کیے جانے کے بعد یہ رابطے ”زیادہ سنجیدہ شکل” اختیار کر گئے ہیں۔
ایران نے جمعہ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنی تجویز پیش کی تھی، جس میں امریکہ سے ایرانی منجمد اثاثے جاری کرنے، پابندیاں اٹھانے اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
عراقی کے مطابق ان اقدامات کو چار یا پانچ دن کے اندر مکمل کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکتی ہے اور ساتویں روز ایران کے جوہری پروگرام سمیت حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے ”ناقابل قبول” قرار دیا تھا۔
الجزیرہ سے بات کرنے والے امریکی عہدیدار نے کہا کہ بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔
عہدیدار نے مذاکرات کو ”مثبت اور تعمیری” قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملہ حل کیے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ٹرمپ جوہری معاملے میں پیش رفت کے بدلے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور ایرانی منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہیں۔
عہدیدار نے کہا، ”ایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جوہری معاملات پر لچک دکھانے کے لیے تیار ہے، تاہم فریقین اب بھی وعدوں پر عمل درآمد کے وقت اور اس معاملے پر اختلاف رکھتے ہیں کہ پہلے کون سا فریق کون سا قدم اٹھائے گا۔”
امریکی عہدیدار نے ایران کے بارے میں شکوک کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ تہران نے جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کی اور تجارتی بحری جہازوں پر حملے کیے۔ تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے لبنان پر اسرائیلی حملے روکنے کی اپنی ذمہ داری پوری نہ کرکے اور آبنائے ہرمز کے متبادل بحری راستے قائم کرنے کی کوشش کرکے خود اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی۔
جاری۔ یو این آئی۔ع ا۔
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا7 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
