ہندوستان
آن لائن بچوں کا جنسی استحصال منظم جرم، ملوث افراد کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک ہونا چاہئے
بچوں کی آن لائن جنسی ہراسانی روکنے کے لیے مباحثہ کا اہتمام
بھوپال،ریاست میں بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے واقعات کے مد نظر انڈیا چائلڈ پروٹیکشن فنڈ (آئی سی پی ایف) نے آج یہاں مدھیہ پردیش کے خواتین اور بچوں کی بہبود کے محکمے کے ساتھ اس سے نمٹنے کے طریقوں پر ایک مباحثہ کا اہتمام کیا بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کی سمت میں ملک میں اس نوعیت کے مشترکہ اقدامات اور پیش قدمی کو انتہائی اہم اور ضروری قرار دیتے ہوئے آئی سی پی ایف کے سی ای او اور سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، اتر پردیش او پی سنگھ نے کہاکہ آن لائن بچوں کا جنسی استحصال بڑھ رہا ہے اور یہ ایک منظم جرم ہے۔ اس کے ساتھ دہشت گردی جیسا سلوک ہونا چاہیے۔ ہماری لڑکیوں کا بین الاقوامی میدان سمیت مختلف مقامات پر جنسی استحصال کیا جاتا ہے اور اس میں بھاری رقم کا لین دین ہوتا ہے۔ اس کے پیش نظر معیاری اور وقتی تفتیش اور استغاثہ کا ہونا ضروری ہے۔
محکمہ تعلیم کی ایڈیشنل ڈائریکٹر منیشا سینتھیا نے کہاکہ حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل ایپلی کیشنز کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ تقریباً دو ملین بچے خطرے میں ہیں۔ اس کے پیش نظر سائبر حفظان صحت اور حفاظت سے متعلق آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسے اسکول کے نصاب میں بھی شامل کیا جائے اور محکمہ اس پر بھی کام کرے گا۔
مدھیہ پردیش میں بچوں کے خلاف آن لائن جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر یہ میٹنگ اہمیت کی حامل ہے۔ کورنا وبا کے دوران آن لائن کلاسز کی وجہ سے بچوں کو موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی سہولت میسر ہے لیکن ساتھ ہی نئے خطرات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، بچوں کے ساتھ آن لائن جنسی زیادتی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اپریل 2020 میں آئی سی پی ایف کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے 100 شہروں میں ہر ماہ اوسطاً 50 لاکھ بچوں سے متعلق فحش مواد یا چائلڈ ابیوز سیکسول میٹریل کو تلاش کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار صرف پبلک ویب کے لیے ہیں جب کہ ڈارک ویب میں یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کے بڑھتے ہوئے خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مدھیہ پردیش کے خواتین اور بچوں کی ترقی کے محکمے کے ڈائریکٹر وشال ناڈکرنی نے کہا کہ ہمارے پاس ایسے معاملات میں بچوں کی مدد کے لیے سخت قوانین، ایجنسیاں اور ماہرین موجود ہیں۔ لیکن ان سب کے درمیان اہم محافظ ہمیشہ خاندان ہے۔اس کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ ہم نچلی سطح پر خاندانوں میں آگاہی پیدا کریں تاکہ وہ اس بات کی نشاندہی کرسکیں کہ کیا ان کے بچوں کو کسی قسم کی آن لائن جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے؟
مدھیہ پردیش کے سابق ڈی جی پی رشی کمار شکلا نے کہاکہ انٹرنیٹ گاؤں تک پہنچنے کے ساتھ جنسی ہراسانی کے معاملات میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ آن لائن بچوں کے جنسی استحصال کا حل آسان نہیں ہے۔ اس میں پورے معاشرے کا تعاون درکار ہے۔ یہ بہت اچھا ہے کہ انڈیا چائلڈ پروٹیکشن فنڈ اس مسئلے کو ریاستوں تک لے جا رہا ہے۔
بات چیت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے جنسی مواد (SISAM) کے معاملات کی تہہ تک پہنچنے میں سب سے بڑا چیلنج سی ڈی فارمیٹ میں پائے جانے والے سورس ڈیٹا کو ڈی کوڈ کرنا ہے۔
بھوپال کے ڈی سی پی ونیت کپور نے کہاکہ عام طور پر ایک ای سی ڈی میں سیسم کے 600 سے 800 کیسز ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس اس سی ڈی سے ڈیٹا نکالنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اسے دستی طور پر کرنا پڑتا ہے جس سے تفتیش میں تاخیر ہوتی ہے اور دماغی صحت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ بچہ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے کیسز کی تیز رفتار تفتیش کے لیے ہمیں خاص قسم کے سافٹ وئیر کی ضرورت ہے تاکہ ماخذ ڈیٹا کی تہہ تک جا کر مجرم کی نشاندہی کی جا سکے۔
آئی سی پی ایف بچوں کے آن لائن تحفظ اور خاص طور پر آن لائن بچوں کے جنسی استحصال کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک طویل عرصے سے کام کر رہا ہے۔ وہ خاص طور پر بچوں، والدین اور اساتذہ کے درمیان اس مسئلے پر بیداری پیدا کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ وہ بچوں کو آن لائن جنسی استحصال کے خطرے سے بچانے کے لیے ملک کے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
اس پروگرام میں خواتین اور بچوں کی بہبود کے محکمے کے ڈائریکٹر وشال ناڈکرنی، مدھیہ پردیش کے سابق ڈی جی پی رشی کمار شکلا، آئی سی پی ایف کے سی ای او اور اتر پردیش کے پولیس کے سابق ڈائریکٹر جنرل او۔ پی سنگھ اور محکمہ تعلیم کی ایڈیشنل ڈائرکٹر منیشا سینتھیا موجود تھیں۔اس کے علاوہ پروگرام میں آئی سی پی ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمپورنا بہرا، ڈبلیو سی ڈی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر یگیہ میدا، بھوپال کے ڈی سی پی ونیت کپور، محکمہ پولیس ویبھو سریواستو اور ایس کے سوماونشی اور آئی سی پی ایف، حکومت اور محکمہ پولیس کے دیگر معززین موجود تھے۔ اس دوران ریاست میں بچوں کے جنسی استحصال کے مواد (سی ایس اے اے ایم) کے بڑھتے ہوئے خطرے اور اس کی روک تھام کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو این آئی۔ ایف اے۔م الف
ہندوستان
مودی-شاہ کو چین سے سونے نہیں دیں گے، بغیر نفرت کے لڑتے رہیں گے: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ تبدیلی کے لیے سیاسی طاقت کے ساتھ ہندستان کے تنوع اور ہر فرد کی اظہارِ رائے کی آزادی کی حفاظت ضروری ہے، اس لیے کانگریس بغیر نفرت اور تشدد کے اپنی اس لڑائی کو جاری رکھے گی مسٹر گاندھی نے ‘رچناتمک کانگریس’ کے قومی اجلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کے روز یہاں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور وزیر اعظم نریندر مودی لوگوں کی آزادی چھیننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کو کسی ایک طے شدہ نظام میں ڈھالنے کے بجائے ملک کے لوگوں کو اپنی بات کہنے اور اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے کی آزادی ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی پرانی طاقت چھوٹے تاجر اور چھوٹے کاروباری تھے لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے انہی طبقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ملک کے چھوٹے تاجروں اور روایتی پیشوں کو نوٹ بندی اوراشیا اورخدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے موجودہ نظام سے نقصان ہوا ہے۔ چھوٹے تاجروں کو ایک طرف کر دیا گیا اور تنظیم نیز بی جے پی کی سیاست میں بڑے سرمایہ دارانہ گروہوں کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھتا گیا۔
مسٹر گاندھی نے میڈیا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میڈیا کے ایک بڑے حصے پر بھی قبضہ ہو چکا ہے، لیکن صحافیوں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سچائی عوام تک پہنچانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو اوپر سے فون آتے ہیں اور خبریں طے کرائی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی جذبہ ہوتا ہے اور اس قومی جذبے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہندستان کے لوگوں کو کسی طاقت کے دباؤ میں اپنی آواز نہیں دبانی چاہیے۔ کسی شخص کو اپنے مذہب، ثقافت یا خیالات کی بات کے اظہار سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ آپ سکھ ہیں تو گرو نانک کی بات کر سکتے ہیں، مسلمان ہیں تو اللہ کی بات کر سکتے ہیں، جین ہیں تو مہاویر کی اور ہندو ہیں تو شیو کی بات کر سکتے ہیں۔ جس کو جو بات کرنی ہے، اسے بولنا چاہیے۔
خارجہ پالیسی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو گھیرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہندستان کو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے ایران، امریکہ اور روس کے تناظر میں کہا کہ ہندستان کے سامنے عالمی سطح پر اپنا کردار مضبوط کرنے کا موقع تھا، کیونکہ ایران، روس اور امریکہ ہندستان کے دوست ممالک تھے لیکن ہندستان کی حکومت اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ترجیح ملک کے سیاسی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور اپنے حمایتی کاروباری گروہوں سے معاشی تعاون لینے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا، “مسٹر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کے خلاف کانگریس کی لڑائی جاری رہے گی۔ یہ لڑائی نفرت اور تشدد کے راستے پر نہیں، بلکہ ملک کی ثقافت، بھائی چارے، محبت اور عدم تشدد کے راستے پر لڑی جائے گی۔ جس دن تک نریندر مودی اپنا استعفیٰ نہیں دیں گے اور امت شاہ نہیں ہٹیں گے، اس دن تک ہم انہیں سونے نہیں دیں گے۔ ہم انہیں جگائے رکھیں گے—لیکن بغیر نفرت اور بغیر تشدد کے۔”
کانگریس رہنما نے رچناتمک کانگریس کے مقصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی طاقت اس کے تنوع اور لوگوں کے اظہارِ رائے میں ہے اور کانگریس کا کام ہر آواز کو جگہ دینا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے اپنی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کا معاملہ راجیہ سبھا میں اٹھایا، نڈا نے افسوس کا اظہار کیا
نئی دہلی، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے جمعرات کو ہلدوانی میں ان کی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کیے جانے کا معاملہ ایوان میں اٹھایا اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ایوان کے لیڈر جگت پرکاش نڈا نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی مسٹر کھڑگے نے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں ریلی کرنے گئے تھے۔ ریلی میں لاکھوں لوگ موجود تھے اور انہوں نے لوگوں کے مسائل پر بات کی، لیکن یہ جان کر انہیں بہت افسوس ہوا کہ بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگوں نے ہون کرکے اس اسٹیج کی ’تطہیر‘ کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں، لیکن ایک آئینی عہدے پر فائز رہتے ہوئے اس ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں۔
اس پر مسٹر نڈا نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک معاملہ ہے اور یہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا گیا ہے کہ اس میں بی جے پی کے لوگ شامل تھے۔ بی جے پی اس طرح کی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی اور اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ’’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بی جے پی اس کی مذمت کرتی ہے اور ہمارے قومی صدر بھی یہاں موجود ہیں، وہ بھی اس معاملے کو دیکھیں گے۔ آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، اس پر ہمیں افسوس ہے۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ اس معاملے کو سیاسی مسئلہ نہیں بناناچاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں لیکن کبھی کسی کے سامنے گڑگڑائے نہیں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی توہین کی گئی ہے۔
اس پر ایوان کے لیڈر نے کہا کہ وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ بی جے پی اس کی حمایت نہیں کرتی۔ یہ ملک کے لیے افسوس کا موضوع ہے اور اس معاملے کو سنسنی خیز نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ’’مجھے بھی اتنا ہی دکھ ہے۔ ہم اس کی تحقیقات کریں گے۔ قصوروار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ہم ان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ کام کرنے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔
اس پر چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی چھوا چھوت کی حمایت نہیں کرتا۔ سب اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ اس معاملے کی تحقیقات کرکے قصورواروں کو سزا دی جائے۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر23 hours agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
