تازہ ترین
کچھ تو غور وفکر کر ائے ابن آدم !!
تحریر:جاوید اختر بھارتی
یہ دنیا ہے کل مذاہب ، کل برادری کا سنگم ہے ، کوئی ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے تو کوئی بہت ساری چیزوں کی عبادت کرتا ہے کوئی حکمراں بن کر زندگی گزارتا ہے تو کوئی رعایا بن کر زندگی گزارتا ہے کوئی دولت کے نشے اور سکوں کی جھنکار میں مست مگن ہے تو کوئی ایک ایک پائی کے لئے دردر کی ٹھوکر کھاتا ہے کوئی مخمل کے بستر پر سوتا ہے تو کوئی آج بھی رکشہ چلاتے چلاتے جب تھک کر چور ہوجاتا ہے تو اپنے رکشے پر ہی سوجاتا ہے کوئی اخبار بچھاکر سوجاتا ہے کوئی نیند کی گولی کھاکر سوتا ہے تو کوئی بغیر گولی کھائے سوجاتا ہے کوئی اپنے گھر کے بھرے کنبے کے ساتھ رہتا ہے تو کوئی اپنا بھرا کنبہ چھوڑ کر ہزاروں کلو میٹر کی دوری کا سفر کرتاہے تاکہ گھر کے لوگ سکون سے رہیں اس دنیا کے اندر کسی کے ہاتھوں میں قلم ہے تو کسی کے ہاتھوں میں ہتھوڑا ہے قلم چلانے والا بھی پیسہ کماتا ہے اور ہتھوڑے سے پتھر توڑنے والا بھی پیسہ کماتا ہے مگر ایک کو آفیسر کہا جاتا ہے اور دوسرے کو مزدور کہا جاتا ہے ایک شخص کو پیسہ ملتا ہے تو تنخواہ کہا جاتا ہے اور دوسرے کو پیسہ ملتا ہے تو مزدوری کہا جاتا ہے ایک شخص کی پیشانی کا پسینہ بہہ کر ٹخنوں تک آتا ہے تو دوسرا شخص ایر کنڈیشن روم میں بیٹھتا ہے آگے یہ بھی کہاجاتا ہے کہ محنت کرنے سے ہی انسان ترقی کرتاہے اگر اس بات میں صد فیصد سچائی ہے تو اینٹ بھٹوں پر بوجھ اٹھانے والا کیوں نہیں ترقی کرتا صبح سے شام تک زمین کی کھدائی کرنے والا اور پتھر توڑنے والا کیوں نہیں ترقی کرتا معلوم ہوا کہ یہ بات صرف ایک مزدور کی تسلی کے لئے کہا جاتا ہے بہر حال یہ دنیا ہے ہزاروں رنگ بدلتی ہے کبھی کسی جگہ کوڑے کا انبار بھی لگایا جاتاہے تو کبھی اسی جگہ پر بنگلہ اور محل بھی تعمیر کیا جاتا ہے یہ دنیا ہے کوئی کھا کھا کر مرتا ہے تو کوئی کھائے بغیر مرتا ہے کسی کو کھانے کا ذائقہ نہیں ملتا اور وہ کبھی اس ڈھابے تو کبھی اس ڈھابے پر پہنچ کر پیسہ پھینکتا ہے اور بڑے باپ کی اولاد ہونے کا اظہار کرتاہے تو اسی دنیا میں کوئی اتنا نڈھال ہوتا ہے کہ صبح سویرے ہی بول پڑتا ہے کہ میرا حال دیکھو کپڑا بوسیدہ ہے، چہرہ اداس ہے ہونٹوں پر جھریاں پڑی ہوئی ہیں پاوں میں جوتے اور چپل بھی نہیں ہے آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں اور صدا دیتا ہے کہ میرا حال دیکھو اور بتاؤ کہ مجھے تختی کی ضرورت ہے یا گندم کی ضرورت ہے؟ جواب ملتا ہے کہ تجھے گندم کی بھی ضرورت ہے، تختی کی بھی ضرورت ہے اور تعلیم کی بھی ضرورت ہے،، لیکن گندم بھی مہنگا اور تعلیم بھی مہنگی اب ایسی صورت میں غم جہاں سے نڈھال انسان کیسے ان چیزوں کا انتظام کرے تعلیم کا نعرہ ہر شخص بلند کرتا ہے مگر تعلیم کی راہ کو آسان بنانے کا نعرہ کوئی بلند نہیں کرتا کسی کو پتھر توڑتے دیکھا تو کہا کہ کاش اس کے پاس تعلیم ہوتی ، ہوٹلوں پر کام کرنے والوں کو دیکھا تو کہا کہ کاش اس کے پاس تعلیم ہوتی سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا تعلیم کا مشورہ ہی دینا کافی ہے اور تشویش و افسوس کا اظہار ہی کافی ہے یا مسائل کے حل کی ضرورت ہے،، کہیں ایک ماہ میں پانچ کروڑ روپئے کے سموسے کھانے کی ویڈیو وائرل کی جاتی ہے اور اس پر تبصرہ کیا جاتا ہے تو کہیں نذرانوں کا انبار لگاہوا ہے کہیں جلسوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے تو کہیں مرغ و ماہی کا بازار گرم ہے اور ان اندھا دھند حاصل ہونے والے نذرانے کی رقم سے نہ یونیورسٹی بنوائی جاتی ہے اور نہ اسپتال تعمیر کرایا جاتاہے ملک میں ایسے ایسے پیر ہیں جن کے پاس لگژری گاڑیاں ہیں اور بنگلہ ہے ایک طریقے سے وہ حکومت چلاتے ہیں مگر مریدین کی شکل میں اپنی رعایا کے لئے حالت بیماری میں علاج کا بھی انتظام نہیں کراتے تعلیم کے لئے اسکول و کالج اور یونیورسٹیاں بھی نہیں بنواتے شائد انہیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ مریدین کہیں تعلیم یافتہ ہوکر ہمیں تنہا نہ چھوڑ دیں حالانکہ انہیں ایسا نہیں سوچنا چاہئے کیونکہ آج کے ترقی یافتہ دور میں تعلیم یافتہ بھی اندھ بھکتوں کی فہرست میں اپنا نام درج کراتے ہیں ،، بہر حال یہ تو حقیقت ہے کہ آج کے دور میں خانقاہوں سے اگر اسکول و کالج اور یونیورسٹیاں تعمیر کرانے اور مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی مہم چلائی جائے اور مکمل انتظام کیا جائے تو بہت آسانی ہوگی اور کامیابی بھی حاصل ہوگی،، ایک انسان کے لئے ضروری ہے کہ اپنی زندگی کو کارآمد بنائے اور دوسروں کے دکھ سکھ میں شریک ہوکر ہاتھ بٹائے کیونکہ صرف خود کا جینا کوئی جینا نہیں اگر کوئی یہ سوچ کر زندگی گزارے کہ بس اپنا کام چلے باقی جس کا جو حال ہے وہ سمجھے تو ایسی سوچ اور ایسی ذہنیت رکھنے والے انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں اس لئے کہ زندگی تو جانور بھی گزار لیتے ہیں پھر اشرف المخلوقات ہونے کا کیا مطلب ہے بہترین انسان وہی ہے جو خود کو انسانیت کے سانچے میں ڈھالے یعنی پہلے اچھا انسان بنے اور یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ جو اچھا انسان نہیں بن سکتا وہ اچھا مسلمان بھی نہیں بن سکتا کیونکہ ہاتھ اللہ نے بخشا ہے سخاوت کے لئے ، پاؤں بخشا ہے راہ صداقت کے لئے ، دل دیا ہے ایمان کی دولت کے لئے ، اپنے محبوب کی اور اپنی محبت کے لئے ، نظر بخشی ہے نظارہ قدرت کے لئے ، شعور بخشا ہے حق اور ناحق کی پہچان کے لئے جب سب کو جمع کیا جاتا ہے تو ایک پیغام جاری ہوتاہے ایک اعلان ہوتاہے کان عطا کیا ہے اسی سماعت کے لئے کہ درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں-
اب آئیے حالات پر غور کریں اور فیصلہ کریں کہ مرنے کے بعد ہم کاندھا دینے کے لئے بے چین رہتے ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کوشش کرتے ہیں تو آخر جیتے جی ہم ایک دوسرے کا کاندھا کیوں نہیں پکڑتے یعنی سہارا کیوں نہیں دیتے،، بستر پر ایک شخص موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے تو اس کے نزدیک بیٹھ کر قرآن مجید پڑھا جاتا ہے بالخصوص سورہ یٰس کی تلاوت کی جاتی ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ مرنے کے لئے سورہ یٰس پڑھی جاتی ہے حالانکہ اس لئے پڑھی جاتی ہے کہ حیات باقی ہوتو اللہ تبارک وتعالیٰ شفائے کاملہ عطا فرمائے یا پھر موت کا معاملہ آسان فرمائے یہاں بھی سبق ملتا ہے کہ آخر جینے کے لئے اور جینے کا سلیقہ سیکھنے کے لئے قرآن کیوں نہیں پڑھا جاتا ،، مردے کے نام پر خوب کھانا کھلانے کا اہتمام ہوتاہے تو پھر زندہ لوگوں کے لئے بھکمری اور فاقہ کشی سے بچانے کا اہتمام کیوں نہیں کیا جاتا ،، مزاروں پر چادروں پر چادر چڑھانے کے بجائے غریبوں کو کپڑا پہنانے کا انتظام و اہتمام کیوں نہیں کیا جاتا ،، ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ مذکورہ تقاریب کا راقم الحروف مخالف نہیں ہے مگر اس سے جو نتائج اخذ ہورہے ہیں جس سے انسانیت کو فروغ حاصل ہو سکتا ہے اس دنیا میں بہت سے لوگوں کی زندگیاں سنور سکتی ہیں اور حقوق العباد کی ادائیگی ہوسکتی ہے وہ بیان و تحریر کرنا اصل مقصد ہے ،، یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اسلام کے اندر نہ پاپائیت ہے اور نہ ہی برہمنیت ہے بلکہ اسلام کی تعلیمات تو یہ ہے کہ ہر شخص اس قابل بنے کہ اپنی بیٹی کا نکاح خود پڑھائے ، اپنے باپ کا جنازہ خود پڑھائے دین کا داعی بنے مبلغ بنے یہ ذمہ داری کسی ایک ذات برادری تک کے لئے محدود و مخصوص نہیں کی گئی ہے کہ فلاں ذات برادری کے لوگ یہ کام کریں گے یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگوں نے ایسا نظریہ پیش کیا ہے انہوں نے غلط کیا ہے بلکہ ایسا کرنے والوں نے اندھ بھگتی کا جال بچھانے کی کوشش کی ہے تاکہ کوئی ہمارے مد مقابل نہ بیٹھ سکے اور نہ کھڑا ہوسکے ایسے لوگوں نے دعوت، خطابت، صحافت، نظامت ،تعلیم، اسکول و مدارس، تقریر و تحریر سب کو تجارت سمجھا ہے،، بعض بزرگان دین نے کہا ہے کہ اساتذہ اور سرپرست دونوں کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو تعلیم کے ساتھ کوئی ہنر بھی سکھائیں ورنہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ حصول تعلیم کے بعد ہنر سے محروم لوگ دین کو بیچیں گے آج نتیجہ ہمارے سامنے ہے بہت سے مقررین نے ریٹ مقرر کیا ہوا ہے ، نعت خوانی کے لئے شعرا چالیس چالیس ہزار روپیہ عام طریقے سے لیتے ہیں یہاں تک کہ پروگرام میں شریک ہونے سے پہلے رقم اپنے اکاؤنٹ میں منگواتے ہیں یہ حال ہے مسلمانوں کا اور ایڈیڈ مدارس کا تو حال یہ ہے کہ اللہ رحم کرے رشوت لینے دینے کا طریقہ اور برق رفتاری تو کوئی انہیں سے سیکھے،، حال ہی میں ایک بزرگ عالم دین کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ان کی باتوں میں دین اور معاشرے کے ساتھ گرانٹیڈ مدارس کے حالات پر درد چھلکا باتیں تلخ ضرور لگتی ہیں مگر انہوں نے سچائی بیان کردی ہے ایک طرف مدارس کو دین اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے اور دوسری طرف رشوت دینے کی قطاریں لگی رہتی ہیں یہ تو شرم سے ڈوب مرنے کی بات ہے –
javedbharti508@gmail.com
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
