ہندوستان
صوفیاء کرام نے بنا تفریق مذہب و ملت ہمیشہ محبت و اخوت، امن و آشتی اور خدمت خلق کو فروغ دیا:پروفیسر افشار عالم
نئی دہلی، جامعہ ہمدرد کے شیخ الجامعہ پروفیسر افشار عالم نے کہا کہ صوفیاء کرام نے بنا تفریق مذہب و ملت ہمیشہ محبت و اخوت ، امن و آشتی اور خدمت خلق کو فروغ دیا ہے۔ یہ بات انہوں نے صوفی سینٹر (مرکز مطالعات تصوف) جامعہ ہمدرد اورخانقاہ غوثیہ کے زیر اہتمام و اشتراک ” تصوف کی اصل و معنویت اور عالم گیریت کے دور میں اس کی ضرورت” کے عنوان سے یہاں منعقدہ ایک بین الاقوامی سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم ان کی تعلیمات کی عملی طور پر تبلیغ و ترویج کریں ۔
مہمان خصوصی سید ظفر اقبال اشرفی نے کہا آ ج عالمگیر سطح پر اس بات کی سخت ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ مشائخ اور صوفیا کو خانقاہوں اور آستانوں سے نکل کر عملی میدان میں آنا چاہیے اور ہندوستانی سماج واقوام میں بقائے باہمی، اخوت و ہمدردی اور امن و شانتی کی فضا ہموار کرنی چاہیے، کیونکہ آ ج بھی ہندوستان کی ایک بہت بڑی تعداد خانقاہوں و درگاہوں سے وابستہ ہے اور ان کا ایک روحانی اثر ہے۔
سید اسلم میاں وامقی نے کہا کہ جامعہ ہمدرد میں صوفی سینٹر کا قیام لائق مبارک باد عمل ہے جو یقیناً بہت باعث برکت ثابت ہوگا۔ کیونکہ صوفیاء کا اصل مشن گناہ و فساد اور بدی و شر کے خلاف جہاد کرنا ہے ۔
پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ تصوف یا صوفیاء کی تاریخ بہت قدیم ہے کوئی زمانہ ایسا نہیں کہ جو صوفیاء کی خدمات سے خالی ہو۔ الحاج حفیظ اللّہ شریف نے کہا کہ صوفیاء نے ہمیشہ لوگوں کا دکھ درد دور کرنے اور ان کی مشکلات کو حل کرنے کا درس دیا ہے ۔ ڈاکٹر مفتی مکرم احمد نے کہا کہ اللّہ کی ہر ایک مخلوق سے محبت کرنے ، قلب و ذہن کو پاک و صاف رکھنے ، غلطی معاف کرنے ، حرص و طمع دور کرنے ، توکل علی اللہ کرنے، غصہ و تکبر دور کرنے اور سب سے حسن سلوک سے پیش آنے کا نام تصوف ہے۔
اس موقع پر نمازِ ظہر سے قبل اورنماز ظہر کے بعد کنونشن سینٹر کے ہال نمبر ایک اور دو میں دو دو مساوی تعلیمی نشستیں منعقد ہوئیں ، جن میں تقریباً پچاس تحقیقی مقالات پڑھیے گئے اور سامعین و سامعات کثیر تعداد میں موجود رہیں۔
اختتامی اجلاس میں سید حماد نظامی نے کہا کہ اگر کوئی کانٹے بچھائے تو آپ اس کے بدلے میں پھول بچھاؤ ، اگر کانٹوں کے بدلے کانٹے بچھائے گئے تو ساری دنیا کانٹوں سے بھر جائے گی ۔
پروفیسر مسعود انور علوی نے کہا کہ تصوف اور صوفیا کی تعلیمات کو قرآن و حدیث میں احسان کے نام سے متعارف کرایا گیا ہے اور یہی حقیقی اسلام ہے ۔ پروفیسر خواجہ اکرام نے کہا کہ تصوف صرف اسلام کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اکثر عالمی مذاہب میں اس کے نقوش پائے جاتے ہیں ۔
رجسٹرار جامعہ ہمدرد ڈاکٹر ایم۔ اے سکندر نے کہا کہ صدیوں پرانی ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب صوفیاء کی مرہون منت ہے ، صوفیاء کا تعلق دل سے ہے ، یہ دلوں کی آ لودگی دور کرکے ایک اچھا انسان بناتے ہیں ۔شاہ عارف علی سبو میاں نے فرمایا کہ جامعہ ہمدرد میں صوفی سینٹر کا قیام ایک تاریخی کام ہے۔ میں اس پر جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ مولانا زاہد رضا نے کہا کہ اس طرح کے سیمینارس سے نہ صرف نئ نسل کی فکری، نظریاتی اور عملی آبیاری ہوگی بلکہ ان کے اندر مادی چیلینجیز سے مقابلہ کرنے کا ہنر پیدا ہوگا۔
ڈاکٹر افضل مصباحی نے اس موقع پر مختصر انداز میں خانقاہ غوثیہ چشتیہ کی دینی ،تعلیمی اور سماجی خدمات کا خاکہ پیش کیا اور ڈاکٹر محمد فضل الرحمن نے سیمینار کی رپورٹ پیش کی ۔آخر میں بڑے خوش گوار ماحول میں ڈاکٹر محمد احمد نعیمی نے ہدیہ تشکر پیش کیا ۔
اس تقریب میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی دہلی ، دہلی یونیورسٹی دہلی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، جامعہ ہمدرد دہلی ، عالیہ یونیورسٹی کولکاتہ، دارالہدی اسلامک یونیورسٹی کیرالا ، بنارس ہندو یونیورسٹی بنارس ، ذاکر حسین کالج دہلی ،جامعہ رضویہ حنفیہ مانک پور پرتاپ گڑھ اور جامعہ المصطفی ککرالہ بدایوں وغیرہ کے پروفیسرس ، ڈاکٹرس اور اسکالرس نے بڑی تعداد میں حصہ لے کر تصوف سے متعلق مختلف موضوعات پر مختلف مساوی مجالسِ میں تقریباً پچاس تحقیقی مقالات پیش فرمائے ۔ علاوہ ازیں علم انٹرنیشنل یوکے ، درگاہ اجمیر شریف ، درگاہ نظام الدین دہلی ، درگاہ قطب صاحب دہلی ،خانقاہ غوثیہ چشتیہ غازی پور ، خانقاہ وامقیہ بریلی ، خانقاہ اشرفیہ کچھو چھہ ، خانقاہ شیخ العالم ردولی بارابنکی ، خانقاہ قدیریہ پیلی بھیت ،خانقاہ رشیدیہ مین پوری وغیرہ کے مشائخ وسجادگان اور مدارس و مساجد کے علماء کرام نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی ۔سیمینار کے افتتاحی اجلاس کا آغاز صبح دس بجے تلاوت قرآن اور نعت پاک سےہوا۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت شیخ الجامعہ پروفیسر افشار عالم صاحب نے کی اور سید ظفر اقبال اشرفی، بانی و صدر علم انٹرنیشنل،یوکے،مہمان خصوصی ، سید اسلم میاں وامقی بریلی ، الحاج حفیظ اللّہ شریف بنگلور ،ڈاکٹر مفتی مکرم احمد دہلی اورپروفیسر اختر الواسع دہلی بطور مہمان اعزازی سیمینار کی زینت رہے۔ڈاکٹر محمد فضل الرحمن اور ڈاکٹر محمد احمد نعیمی نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔
اس موقع پر پروفیسر لطیف کاظمی ، پروفیسر عبید اللہ فہد ، پروفیسر عبدالسلام جیلانی ، ڈاکٹر ندیم اشرف ، ڈاکٹر ریحان اختر اے۔ایم۔یو۔ علی گڑھ ، ڈاکٹر واحد نظیر، ڈاکٹر شاہد تسلیم ،ڈاکٹر مشتاق تجاروی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ ، پروفیسر مشتاق قادری ، ڈاکٹر علی احمد ادریسی ، ڈی۔ یو۔ ڈاکٹر صفیہ عامر صاحبہ ، ڈاکٹر وارث متین مظہری ۔ ڈاکٹر آبرو امان اندرابی ، ڈاکٹر سمیہ احمد ، ڈاکٹر نجم السحر ، ڈاکٹر انور حسین خان ، ڈاکٹر منہاج احمد ، شاہ عبد الرحمن خاں چشتی ، مفتی فہیم ازہری ، مفتی رضوان ازہری ، مولانا کلیم رضوی ، مولانا منظر محسن ،مولا نا غلام رسول ، مولانا حشمت نعیمی ، مولانا حیدر نعیمی اور مختلف مدرسوں اور مسجدوں کے علماء ،اساتذہ اور یونیورسٹی کے بہت سے طلباء بطور خاص سیمینار میں موجود تھے ۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
بحران میں کام آئیں پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں: وزیراعظم
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ حکومت نے پچھلے 12-10 سال میں ’ناگرک دیوو بھو‘ کے منتر کے ساتھ جو اصلاحات کیں اور جو پالیسیاں اپنائیں، اسی کا نتیجہ ہے کہ کورونا وبا اور مغربی ایشیا کے بحران کے باوجود ملک تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔
لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلے 12-10 سال میں دنیا میں کئی بحران آئے۔ کورونا نے پوری دنیا کو تشویش میں ڈال دیا۔ اس کے بعد یوکرین اور مغربی ایشیا کی جنگیں آئیں۔ ہر جگہ تناؤ کا ماحول تھا۔ ’پیش گوئی کرنے والوں‘ نے تو کہا کہ ویکسین نہیں ملے گی، کووڈ میں لوگ بچیں گے نہیں، پیٹرول ڈیژل نہیں ملے گا، گیس نہیں ملے گی۔ انہوں نے ملک کو ڈرانے کا کام کیا، اسی میں انہیں خوشی ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک نے دیکھ لیا کہ پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں رنگ لا رہی ہیں۔ ’ناگرک دیوو بھو‘ کے منتر کو لے کر جیتے ہوئے ہندوستان نے پچھلے 12-10 سال میں جو تیاریاں کی تھیں، ایک کے بعد ایک جو قدم اٹھائے تھے، …وہ سبھی چیزیں کام آ گئیں۔ آج ملک میں پیٹرول بھی ہے، ڈیژل بھی ہے، گیس بھی ہے، یوریا بھی ہے۔ ہم اپنی طاقت کے بل بوتے پر چل رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے اس بحران کا اثر ہر کسی پر ہوا ہے اور ہندوستان بھی اس سے الگ نہیں ہے۔ ایک بوری یوریا کی قیمت دنیا میں تین ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، لیکن ملک میں کسانوں پر وہ بوجھ نہ ڈال کر آج بھی انہیں صرف 300 روپے میں یوریا کی بوری دی جا رہی ہے۔ ڈی اے پی کی قیمت دنیا میں پانچ ہزار روپے ہے جو ملک کے کسانوں کو 1350 روپے میں دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وسائل کی وجہ سے ملک رکتا نہیں ہے، کئی بار اس کی وجہ سوچ ہوتی ہے۔ ملک کو آج خام تیل پر منحصر رہنا پڑ رہا ہے۔ ایسی سوچ کی وجہ سے سمندری ساحل کا ہمارا 90 فیصد حصہ ’نو گو ایریا‘ (ممنوعہ علاقہ) قرار دے دیا گیا تھا، یہ سوچ کی مفلسی تھی۔ ان کی حکومت نے اسے ’گو اہید ایریا‘ کے طور پر کھول دیا ہے۔ ہم سمندر کے اندر بھی نئے نئے ذخائر تلاش کرنے کی سمت میں کوششیں کر رہے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ گزشتہ برس حکومت کا مقصد رہا ہے کہ ہمیں اب دوسرے ملکوں پر منحصر رہ کر نہیں جینا ہے، ہمیں خودکفیل ہونا چاہیے۔ دنیا میں بہت کچھ ملتا ہے، سستا ملتا ہے، لیکن اس سے ہماری صلاحیت نہیں بنتی ہے۔ ہمیں بھی اپنی صلاحیت بڑھانی ہے۔ “میک ان انڈیا”، “ووکل فار لوکل” جیسے شعبوں میں آج ہر ہندوستانی کا دل جڑ چکا ہے۔
سیمی کنڈکٹر کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے سیمی کنڈکٹر کی باتیں ہوتی تھیں، لیکن ہم اس میں آگے نہیں بڑھ سکے۔ آج کی دنیا میں ہر الیکٹرانک، میڈیکل اور ٹرانسپورٹ کے سامان میں چپ ضروری ہے۔ ملک میں تین سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہو گئے ہیں اور وہاں سے برآمدات بھی شروع ہو چکی ہیں۔ آنے والے سات آٹھ سال میں مزید پانچ چھ سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کریٹیکل منرلز پر مبنی ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کئی ملکوں کے ساتھ اس کے لیے معاہدے کیے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
نکسل انتہاپسندی ختم ہوئی لیکن ‘دماغی نکسلی’ ابھی ہے، پہچان تو کرنی پڑے گی: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک سے ہتھیاربند نکسل انتہاپسندی کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن ‘دماغی نکسلی’ اب بھی موجود ہیں اور ایسے لوگ موقع کی تلاش میں انارکی کی راہ تلاش کر رہے ہیں اس لیے ان کی پہچان کرنا اور انہیں الگ تھلگ کر کے نئی نسل کو ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کے اہم دھارے سے جوڑنا ہوگا۔
مسٹر مودی نے یوم آزادی پر لال قلعہ کی فصیل سے ہفتہ کو ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “برسوں تک ملک کی اقتدار کے راہداریوں میں ماؤ نواز سوچ کے لوگ اپنی جگہ بنا کر بیٹھے تھے۔ حکومت کی کمیٹیوں میں مشیر کے طور پر ماؤ نوازوں نے ملک کو متاثر کیا اور ان کے نظریات نے پالیسیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ جنگلوں میں ہتھیاربند نکسلیوں کے خاتمے اور اس بحران سے ملک کو نجات دلانے میں ملک کو کامیابی ملی ہے۔ اس کامیابی سے ہتھیاربند نکسلی تو چلے گئے، لیکن ‘دماغی نکسلی’ اور ‘قاتل نکسلی’ ابھی موجود ہیں۔ ایسے لوگ موقع کی تلاش میں انارکی کی راہ تلاش کر رہے ہیں اور معاشرے کو غلط راہ پر گھسیٹنے کے لیے طرح طرح کے داؤ چل رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ ملک کی خوشحالی کے لیے ان ‘نکسلی دماغ’ والے لوگوں کی پہچان کرنا ضروری ہے۔ پہچان کے بعد ان کو الگ تھلگ کرنا ہی ہوگا اور ملک کی ترقی کے لیے ملک کی نئی نسل کو ترقی یافتہ ملک کے اہم دھارے سے جوڑنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ 21ویں صدی میں دہائیوں سے چلے آ رہے چیلنجوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔ نکسل انتہاپسندی اور ماؤ نوازی نے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل برباد کیا ہے۔ اس نکسلی سوچ نے ان نوجوانوں کو ان کی زندگی کے سب سے اچھے وقت میں ان کی ماؤں سے چھینا، انہیں برباد کیا اور ان کے ماں باپ کے خوابوں کو چکنا چور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکسل انہاپسندی نے آئین کا مذاق بنایا اور عام شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے 3500 سے زیادہ پولیس اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ 2014 میں ملک کے عوام نے ان کی حکومت کو موقع دیا تو انہوں نے ملک کو نکسل انتہاپسندی سے پاک کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ “آج مجھے خوشی ہے کہ نکسل انتہاپسندی-ماؤ نواز تشدد نے اپنی طاقت کھو دی ہے اور شاید اب وہ اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے۔ ہم اس کے مکمل خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں کبھی نکسلیوں کی گولیاں چلتی تھیں، گولیوں کی آواز سے جنگل گونجتے تھے اور سرزمین خون سے لال ہوتی تھی، آج انہی علاقوں میں ترقی، اعتماد اور اجتماعي کوششوں کا ترنگا بلند ہو کر لہرا رہا ہے۔ نکسل انتہاپسندی سے متاثرہ علاقے اب نکسل سے پاک ہو چکے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ نکسل انتہاپسندی اور ماؤ نوازی کے دہائیوں پرانے چیلنج کو 21ویں صدی میں ختم کرنا ضروری ہے اور ملک کی نئی نسل کو وکست بھارت کی تعمیر کی اہم دھارے سے جوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
آنے والے 10 سال میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کرنے کا ہدف: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ آنے والے 10 سال میں ملک میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کیے جائیں گے۔
تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلی حکومتوں کی سوچ کی وجہ سے ملک توانائی کے لیے بیرونی ملکوں پر منحصر ہے۔ پچھلے 12 سال میں توانائی کے شعبے میں خودکفالت حاصل کرنے کے لیے ان کی حکومت نے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے ایٹمی توانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے ‘شانتی بل’ منظور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “سال 2047 تک ہم نے 100 گیگاواٹ کا ہدف رکھا ہے۔ اسی دہائی میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ کا ہدف لے کر چل رہے ہیں۔” بریڈر ری ایکٹر سے ایٹمی ایندھن میں خودکفالت کی سمت میں بڑی کامیابی ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال 2014 سے پہلے ملک میں صرف 70 شہروں میں پائپ کے ذریعے گیس کا نظام تھا۔ بارہ سال میں ان کی حکومت نے اسے 700 شہروں تک پہنچا دیا ہے۔ یہ ہوتی ہے رفتار، یہ ہوتا ہے توسع۔ آج پونے دو کروڑ گھروں میں پائپ سے گیس کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ سال 2014 میں شمسی توانائی کی صلاحیت صرف دو گیگاواٹ تھی۔ آج 160 گیگاواٹ کا ہدف حاصل ہو چکا ہے۔ اس کا فائدہ غریبوں اور متوسط طبقے کو دینے کے لیے پی ایم سوریہ گھر یوجنا شروع کی گئی ہے، جس میں 50 لاکھ گھروں کا ہندسہ پار ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ سے ہزاروں گھروں کا بجلی کا بل صفر ہو گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں وہ اضافی بجلی بیچ کر کمائی بھی کر رہے ہیں۔ اس کام کے لیے ہر خاندان کو حکومت 80 ہزار روپے کی امداد دے رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کی برقی کاری کا کام 1925 میں شروع ہوا تھا۔ اگلے 90 سال میں صرف 30 فیصد ریل کی برقی کاری ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ “ہماری رفتار دیکھیے، ہم نے ایک دہائی کے اندر 100 فیصد کام مکمل کر دیا۔ یہ ہوتا ہے کام۔ اس کی وجہ سے ڈیژل جو ہمیں باہر سے لانا پڑتا ہے، اس کی بچت ہوئی، ماحولیات کو فائدہ ہوا۔” انہوں نے کہا کہ حکومت یہی نہیں رکی۔ ملک نے ہائیڈروجن سے چلنے والی پہلی ٹرین شروع کر دی ہے۔ یہ سب سے لمبی، سب سے طاقتور ٹرین ہے۔ ہندوستان نے ہائیڈروجن ٹرین کے شعبے میں بھی اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
جموں و کشمیر4 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر5 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا6 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا6 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
