ہندوستان
وزیراعظم مودی نے گروگرام، ہریانہ میں نیشنل ہائی وے پروجیکٹس کے افتتاح/ سنگ بنیاد رکھا
گروگرام، وزیراعظم نریندر مودی نے آج ہریانہ کے گروگرام نیشنل ہائی ویز کے کئی پروجکٹوں کے افتتاح کیا اور اس دوران عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف اپنے سامنے موجود اسکرین پر دیکھ رہے تھے کہ ملک کے کونے کونے میں لاکھوں لوگ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کے پروگرام سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک وقت تھا جب دہلی کے وگیان بھون سے پروگرام منعقد ہوتے تھے اور ملک جڑتا تھا۔ وقت بدل گیا، اب جب گروگرام میں پروگرام ہوتے ہیں، پورا ملک اس میں شامل ہوتا ہے۔ ہریانہ یہ صلاحیت دکھا رہا ہے۔ آج ملک نے جدید رابطے کی طرف ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے۔
انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ آج انہیں دوارکا ایکسپریس وے کو ملک کے نام وقف کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس ایکسپریس وے پر 9 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوئے ہیں۔ آج سے دہلی-ہریانہ کے درمیان ٹریفک کا تجربہ ہمیشہ کے لیے بدل جائے گا۔ یہ جدید ایکسپریس وے نہ صرف موٹر گاڑیوں میں بلکہ دہلی-این سی آر کے لوگوں کی زندگیوں میں بھی گیئرز شفٹ کرنے کا کام کرے گا۔ وہ دہلی-این سی آر اور ہریانہ کے لوگوں کو اس جدید ایکسپریس وے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پہلے کی حکومتیں کوئی نہ کوئی چھوٹا سا منصوبہ بناتی تھیں، کوئی چھوٹا سا پروگرام ترتیب دیتی تھیں اور پانچ سال تک اس کا ڈھنڈورا پیٹتی رہتی تھیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)حکومت جس رفتار سے کام کر رہی ہے، اسی رفتار سے سنگ بنیاد رکھنے اور افتتاح کا وقت ختم ہو رہا ہے، دن گزر رہے ہیں۔ یہاں کے لوگ زیادہ سمجھدار ہیں۔ آپ سن لیں، 2024 میں ہی، یعنی 2024 کے تین مہینے بھی ابھی پورے نہیں ہوئے۔ اتنے کم وقت میں 10 لاکھ کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کا یا تو بنیاد رکھا گیا ہے یا افتتاح کیا گیا ہے۔ اور وہ جو کچھ بھی کہہ رہا ہیں، وہ صرف ان منصوبوں پر بات کر رہےہیں جن میں میں خود شامل رہے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ان کے وزراء اور وزرائے اعلیٰ نے جو کچھ کیا وہ الگ ہے۔ اور آپ نے دیکھا، پچھلے 5 ۔ 5 برسوں میں آپ نے 2014 سے پہلے کا دور نہ کبھی سنا ہو گا اور نہ ہی دیکھا ہو گا، ذرا یاد رکھیں۔ آج بھی ایک ہی دن میں ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے 100 سے زیادہ پروجیکٹوں کا یا تو افتتاح کیا گیا ہے یا پورے ملک کے لیے سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ ان میں جنوب میں کرناٹک، کیرالہ، آندھرا پردیش کے ترقیاتی کام، شمال میں ہریانہ اور یوپی کے ترقیاتی کام، مشرق میں بہار اور بنگال کے منصوبے اور مہاراشٹر، پنجاب اور راجستھان کے لیے ہزاروں کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ مغرب میں آج افتتاح کے موقع پر راجستھان میں امرتسر-بھٹنڈا-جام نگر کوریڈور کی لمبائی 540 کلومیٹر تک بڑھائی جائے گی۔ بنگلورو رنگ روڈ کی ترقی سے وہاں ٹریفک کے مسائل کافی حد تک کم ہوں گے۔ مشرق سے مغرب، شمال سے جنوب تک، بہت ساری ترقیاتی اسکیموں کے لیے وہ تمام ریاستوں کے کروڑوں شہریوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں،۔
وزیراعظم مودی نے کہا کہ مسائل اور امکان میں صرف سوچ کا فرق ہے اور مسائل کو امکانات میں بدلنا، یہ مودی کی ضمانت ہے۔ دوارکا ایکسپریس وے خود اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ جہاں آج دوارکا ایکسپریس وے بنایا گیا ہے، ایک وقت تھا جب لوگ شام کے بعد یہاں آنے سے گریز کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ٹیکسی ڈرائیور بھی منع کرتے تھے کہ یہاں نہ آئیں۔ یہ پورا علاقہ غیر محفوظ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن آج کئی بڑی کمپنیاں یہاں آکر اپنے پروجیکٹس لگا رہی ہیں۔ یہ علاقہ این سی آر کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے علاقوں میں سے ایک بنتا جا رہا ہے۔ یہ ایکسپریس وے دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے رابطے کو بہتر بنائے گا۔ اس سے این سی آر کے انضمام میں بہتری آئے گی اور یہاں کی اقتصادی سرگرمیوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے کہا کہ جب دوارکا ایکسپریس وے دہلی-ممبئی ایکسپریس وے سے جڑے گا تو ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔ یہ راہداری پورے مغربی ہندوستان میں صنعت اور برآمدات کو ایک نئی توانائی فراہم کرے گی۔ آج وہ اس ایکسپریس وے کی تعمیر میں ہریانہ حکومت اور خاص طور پر وزیر اعلیٰ منوہر لال جی کی طرف سے کی گئی تیز رفتار ی کی بھی تعریف کریں گے ۔
انہوں نے کہا کہ منوہر لال جی جس طرح ہریانہ کی ترقی کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں، انھوں نے ریاست میں جدید انفراسٹرکچر کا ایک بڑا نیٹ ورک بنایا ہے اور منوہر لال جی اور وہ بہت پرانے دوست ہیں، ہم اس وقت بھی ساتھ کام کرتے تھے جب قالین پر سونے کا دور تھا۔ اور منوہر لال جی کے پاس موٹرسائیکل تھی، تو وہ موٹر سائیکل چلاتے تھے اور وہ ان کے پیچھے بیٹھا کرتے تھے۔ یہ روہتک سے نکل کر گروگرام پر رکتا تھا۔ ہمارا ہریانہ کا سفر اکثر موٹر سائیکل پر ہوتا تھا اور انہیں یاد ہے کہ اس وقت ہم موٹر سائیکلوں پر گروگرام آتے تھے، سڑکیں چھوٹی تھیں، بہت سارے مسائل تھے۔ آج وہ اس بات سے خوش ہیں کہ ہم ساتھ ہیں اور آپ کا مستقبل بھی ساتھ ہے۔ ہریانہ کی ریاستی حکومت منوہر جی کی قیادت میں ترقی یافتہ ہریانہ-ترقی یافتہ ہندوستان کے بنیادی منتر کو مسلسل مضبوط کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 21 ویں صدی کا ہندوستان بڑے وژن کا ہندوستان ہے۔ یہ بڑے مقاصد کا ہندوستان ہے۔ آج کا ہندوستان ترقی کی رفتار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا اور آپ لوگوں نے انہیں اچھی طرح جانا، پہچانا بھی اور سمجھا بھی ہے ۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ نہ وہ چھوٹا سوچ سکتے ہیں، نہ چھوٹے خواب دیکھتے ہیں اور نہ ہی چھوٹے چھوٹے عزم کرتے ہیں۔
ہریانہ کے گورنر بندارو دتاتریہ ، وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر ، مرکزی وزیر نتن گڈکری ، رکن پارلیمنٹ راؤ اندرجیت سنگھ، کرشن پال گرجر ، ہریانہ کے نائب وزیر اعلیٰ دشینت چوٹالہ ، بی جے پی کے ریاستی صدر رکن پارلیمنٹ نائب سنگھ سینی اور دیگر اہم شخصیات اس موقع پر موجود تھیں ۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
نئی دہلی، 13 اگست (یو این آئی) صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعرات کے روز یہاں ملک کے معزز فنکاروں کو سال 2024 اور 2025 کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی فیلوشپ اور سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈز تفویض کیے اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین یہ فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں محترمہ مرمو نے کہا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکار مل کر ملک کا ایک ایسا ثقافتی نقشہ پیش کرتے ہیں جس میں اس ملک کی مٹی کی کہانیاں اور گیت جڑے ہیں، ایک ایسا نقشہ جس میں تنوع سے بھری اس زمین کے رقص اور تہوار سمائے ہیں اور صدیوں سے پروان چڑھنے والی اس کی زبانوں اور بولیوں کی یادیں بسیں ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ’’ ہندستان کی ثقافت جڑوں سے جڑی ہوئی ہے۔ مختلف قسم کے کھانے پینے، ملبوسات ، رقص اور موسیقی، فطرت سے متاثر ہیں۔ چہچہاتے ہوئے پرندوں، کل کل بہتے آبشاروں، درختوں، پتوں، بادلوں اور ندیوں سے ترغیب لے کر فنکار اپنے رقص اور موسیقی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تنوع اور وحدت کا یہ سنگم ہماری فنونِ لطیفہ کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔‘‘
محترمہ مرمو نے کہا کہ تمام مختلف فنون کے اسالیب میں گرو-شِشیہ (استاد و شاگرد) کی روایت کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے فنونِ لطیفہ کی سب سے اہم کتاب استاد ہی ہوتے ہیں۔ آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں ہمارے بہت سے لوک فنون پر معدوم ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایسی فنکارانہ اقسام کا نہ صرف ثبوت اور ریکارڈ رکھنا ضروری ہے بلکہ انہیں زندہ رکھنے کے لیے خصوصی کوششیں بھی ضروری ہو جاتی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ سنگیت ناٹک اکادمی اسی مقصد سے ‘کلا-دیکشا’ پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔ انہوں نے سینئر فنکاروں سے کہا کہ وہ اگلی نسل کو تیار کرنے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے کوششیں کریں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ فن کی تربیت اور سمجھ سے زندگی کو مالا مال کرنے کے لیے فطرت کو سب سے قدرتی تربیتی ادارہ مانا جاتا ہے۔ لوک اور قبائلی فنون میں زندگی کی فطری خوشی اور قدرت کے ساتھ گہرا مکالمہ نظر آتا ہے۔ ان فنکارانہ شکلوں میں برادری کی یادداشت اور اجتماعی شعور کا اظہار باآسانی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوک فنون ہندستان کی ثقافتی شناخت کی انتہائی اہم بنیاد ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکاروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین ہمارے فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سنگیت ناٹک اکادمی کو ہندستان کی ‘سوفٹ پاور’ کا ایک اہم مرکز مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ اکادمی آنے والے وقت میں بھی ہندستان کی ثقافتی توانائی سے پوری دنیا کو مستفید کرتی رہے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی-شاہ کو چین سے سونے نہیں دیں گے، بغیر نفرت کے لڑتے رہیں گے: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ تبدیلی کے لیے سیاسی طاقت کے ساتھ ہندستان کے تنوع اور ہر فرد کی اظہارِ رائے کی آزادی کی حفاظت ضروری ہے، اس لیے کانگریس بغیر نفرت اور تشدد کے اپنی اس لڑائی کو جاری رکھے گی مسٹر گاندھی نے ‘رچناتمک کانگریس’ کے قومی اجلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کے روز یہاں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور وزیر اعظم نریندر مودی لوگوں کی آزادی چھیننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کو کسی ایک طے شدہ نظام میں ڈھالنے کے بجائے ملک کے لوگوں کو اپنی بات کہنے اور اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے کی آزادی ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی پرانی طاقت چھوٹے تاجر اور چھوٹے کاروباری تھے لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے انہی طبقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ملک کے چھوٹے تاجروں اور روایتی پیشوں کو نوٹ بندی اوراشیا اورخدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے موجودہ نظام سے نقصان ہوا ہے۔ چھوٹے تاجروں کو ایک طرف کر دیا گیا اور تنظیم نیز بی جے پی کی سیاست میں بڑے سرمایہ دارانہ گروہوں کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھتا گیا۔
مسٹر گاندھی نے میڈیا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میڈیا کے ایک بڑے حصے پر بھی قبضہ ہو چکا ہے، لیکن صحافیوں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سچائی عوام تک پہنچانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو اوپر سے فون آتے ہیں اور خبریں طے کرائی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی جذبہ ہوتا ہے اور اس قومی جذبے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہندستان کے لوگوں کو کسی طاقت کے دباؤ میں اپنی آواز نہیں دبانی چاہیے۔ کسی شخص کو اپنے مذہب، ثقافت یا خیالات کی بات کے اظہار سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ آپ سکھ ہیں تو گرو نانک کی بات کر سکتے ہیں، مسلمان ہیں تو اللہ کی بات کر سکتے ہیں، جین ہیں تو مہاویر کی اور ہندو ہیں تو شیو کی بات کر سکتے ہیں۔ جس کو جو بات کرنی ہے، اسے بولنا چاہیے۔
خارجہ پالیسی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو گھیرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہندستان کو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے ایران، امریکہ اور روس کے تناظر میں کہا کہ ہندستان کے سامنے عالمی سطح پر اپنا کردار مضبوط کرنے کا موقع تھا، کیونکہ ایران، روس اور امریکہ ہندستان کے دوست ممالک تھے لیکن ہندستان کی حکومت اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ترجیح ملک کے سیاسی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور اپنے حمایتی کاروباری گروہوں سے معاشی تعاون لینے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا، “مسٹر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کے خلاف کانگریس کی لڑائی جاری رہے گی۔ یہ لڑائی نفرت اور تشدد کے راستے پر نہیں، بلکہ ملک کی ثقافت، بھائی چارے، محبت اور عدم تشدد کے راستے پر لڑی جائے گی۔ جس دن تک نریندر مودی اپنا استعفیٰ نہیں دیں گے اور امت شاہ نہیں ہٹیں گے، اس دن تک ہم انہیں سونے نہیں دیں گے۔ ہم انہیں جگائے رکھیں گے—لیکن بغیر نفرت اور بغیر تشدد کے۔”
کانگریس رہنما نے رچناتمک کانگریس کے مقصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی طاقت اس کے تنوع اور لوگوں کے اظہارِ رائے میں ہے اور کانگریس کا کام ہر آواز کو جگہ دینا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
