ہندوستان
کچاٹیوو معاملے کے لیے کانگریس، ڈی ایم کے ذمہ دار : بی جے پی
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے خلیج پاکستان میں تمل ناڈو سے ملحقہ کچاٹیوو جزیرے کو سری لنکا کے حوالے کرنے کے معاملے پر غیر فعال رہنے پر دراوڑ منیترکزگم (ڈی ایم کے) کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سری لنکا کی فوج کے ذریعہ ہندوستانی ماہی گیروں کو پکڑنے کے الزامات پر جوابی حملہ کرتے ہوئے آج بی جے پی نے کہا کہ ڈی ایم کے لیڈر ایم کروناندھی اور کانگریس لیڈر اندرا گاندھی نے باہمی ملی بھگت سے کچاٹیوو جزیرے کے ارد گرد ماہی گیری کے حقوق سری لنکا کو سونپے تھے۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پیر کی صبح بی جے پی کے مرکزی دفتر میں ایک پریس کانفرنس میں کچاٹیوو جزیرے کے معاملے پر ملک کو تفصیل سے تمام معلومات پیش کیں۔ وزیر خارجہ نے کہا “آج سلسلے میں عوام کا جاننا اور فیصلہ کرنا بہت ضروری ہے۔ “یہ مسئلہ کافی عرصے سے عوام کی نظروں سے پوشیدہ ہے۔”
وزیرخارجہ نے کہا کہ 1974 میں ہندوستان اور سری لنکا نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں انہوں نے ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان سمندری حدود کا تعین کیا تھا اور یہ کچاٹیوو جزیرہ سری لنکا کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ دو سال بعد 1976 میں ایک اور معاہدے پر دستخط کیے گئے جس میں کچاٹیوو کے پانی میں ہندوستانی تمل ماہی گیروں کے ماہی گیری کے حقوق بھی سری لنکا کے حوالے کیے گئے۔
مسٹر جے شنکر نے کہا کہ اس پورے واقعہ پر تمل ناڈو کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ ایم کروناندھی کی حکومت سے اچھی طرح سے مشاورت کی گئی تھی اور مسٹر کروناندھی نے اس وقت کی مرکزی حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ سیاسی وجوہات کی بناء پر ان کی حمایت ظاہر نہ کریں اور اس کے بجائے مرکزی حکومت مل ناڈو میں پیدا ہونے والی صورتحال پر کسی قسم کی بے چینی پیدا نہیں ہونے دے گی۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے کچاٹیوو کو ایک چھوٹا اور غیر معمولی جزیرہ کہا تھا اور مسز اندرا گاندھی نے اسے ایک چھوٹا چٹانی جزیرہ قرار دیا تھا اور اسے ہندوستان کے لیے بیکار قرار دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 1958 اور 1960-61 میں ہی سری لنکا کے لیے اس جزیرے کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر جے شنکر نے دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ کی مشاورتی کمیٹیوں کی رپورٹوں میں حق اطلاعات قانون کے تحت کچاٹیوو سے متعلق تمام تفصیلات نکالی گئی ہیں اور ان میں یہ معلومات سامنے آئی ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم 1958 اور 1960 کی بات کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں اہم لوگ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ کم از کم ہمیں ماہی گیری کے حقوق مل جائیں۔
کچاٹیوو جزیرہ سری لنکا کو 1974 میں اور ماہی گیری کے حقوق 1976 میں دیئے گئے تھے ۔ سب سے بنیادی ایک پہلو اس وقت کی مرکزی حکومت اور وزرائے اعظم کی طرف سے ہندوستان کے خطے کے بارے میں دکھائی گئی بے حسی ہے… حقیقت یہ ہے کہ انہیں اس کی پروا نہیں تھی… اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نے مئی 1961 ایک تبصرہ میں لکھا تھا ‘میں اس چھوٹے سے جزیرے کی قدر نہیں کرتا اور اس پر اپنا دعویٰ ترک کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کروں گا۔ مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ ایسے معاملات غیر معینہ مدت کے لیے زیر التوا رہیں اور بار بار پارلیمنٹ میں اٹھائے جائیں۔‘‘ اس لیے پنڈت نہرو کے لیے یہ ایک چھوٹا سا جزیرہ تھا، اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ انھوں نے اسے ایک پریشانی کے طور پر دیکھا… ان کے لیے آپ جتنی جلدی چھوڑیں گے ، اتنا ہی بہتر ہوگا۔ … یہی طریقہ مسز اندرا گاندھی کے لیے بھی جاری رہا۔
مسٹر جے شنکر نے کہا “تمل ناڈو سے جی وشواناتھن نام کے ایک ممبر پارلیمنٹ تھے اور انہوں نے کہا ‘ہمیں ہندوستانی علاقے سے ہزاروں میل دور ڈیاگو گارشیا کے بارے میں فکر ہے، لیکن ہمیں اس چھوٹے سے جزیرے کی فکر نہیں ہے۔’ کہ وزیر اعظم محترمہ اندرا گاندھی نے آل انڈیا نیشنل کانگریس ( اے آئی سی سی ) کی میٹنگ میں کہا تھا کہ “یہ ایک چھوٹی سی بات ہے۔”
وزیر خارجہ نے کہا ’’یہ دیکھ کر مجھے وہ دن یاد آ گئے جب پنڈت نہرو ہماری شمالی سرحد کو ایک ایسی جگہ کے طور پر بیان کرتے تھے جہاں گھاس کا ایک تنکا بھی نہیں اگتا تھا۔ میں یاد دلانا چاہوں گا کہ وزیر اعظم پنڈت نہرو اپنے تاریخی بیان کے بعد کبھی بھی ملک کا اعتماد دوبارہ حاصل نہیں کر سکے۔ وزیر اعظم (اندرا گاندھی) کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، جب وہ کہتی ہیں کہ یہ ایک چھوٹی سی بات ہے اور ہمارے ملک کے علاقوں میں فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
بحران میں کام آئیں پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں: وزیراعظم
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ حکومت نے پچھلے 12-10 سال میں ’ناگرک دیوو بھو‘ کے منتر کے ساتھ جو اصلاحات کیں اور جو پالیسیاں اپنائیں، اسی کا نتیجہ ہے کہ کورونا وبا اور مغربی ایشیا کے بحران کے باوجود ملک تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔
لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلے 12-10 سال میں دنیا میں کئی بحران آئے۔ کورونا نے پوری دنیا کو تشویش میں ڈال دیا۔ اس کے بعد یوکرین اور مغربی ایشیا کی جنگیں آئیں۔ ہر جگہ تناؤ کا ماحول تھا۔ ’پیش گوئی کرنے والوں‘ نے تو کہا کہ ویکسین نہیں ملے گی، کووڈ میں لوگ بچیں گے نہیں، پیٹرول ڈیژل نہیں ملے گا، گیس نہیں ملے گی۔ انہوں نے ملک کو ڈرانے کا کام کیا، اسی میں انہیں خوشی ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک نے دیکھ لیا کہ پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں رنگ لا رہی ہیں۔ ’ناگرک دیوو بھو‘ کے منتر کو لے کر جیتے ہوئے ہندوستان نے پچھلے 12-10 سال میں جو تیاریاں کی تھیں، ایک کے بعد ایک جو قدم اٹھائے تھے، …وہ سبھی چیزیں کام آ گئیں۔ آج ملک میں پیٹرول بھی ہے، ڈیژل بھی ہے، گیس بھی ہے، یوریا بھی ہے۔ ہم اپنی طاقت کے بل بوتے پر چل رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے اس بحران کا اثر ہر کسی پر ہوا ہے اور ہندوستان بھی اس سے الگ نہیں ہے۔ ایک بوری یوریا کی قیمت دنیا میں تین ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، لیکن ملک میں کسانوں پر وہ بوجھ نہ ڈال کر آج بھی انہیں صرف 300 روپے میں یوریا کی بوری دی جا رہی ہے۔ ڈی اے پی کی قیمت دنیا میں پانچ ہزار روپے ہے جو ملک کے کسانوں کو 1350 روپے میں دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وسائل کی وجہ سے ملک رکتا نہیں ہے، کئی بار اس کی وجہ سوچ ہوتی ہے۔ ملک کو آج خام تیل پر منحصر رہنا پڑ رہا ہے۔ ایسی سوچ کی وجہ سے سمندری ساحل کا ہمارا 90 فیصد حصہ ’نو گو ایریا‘ (ممنوعہ علاقہ) قرار دے دیا گیا تھا، یہ سوچ کی مفلسی تھی۔ ان کی حکومت نے اسے ’گو اہید ایریا‘ کے طور پر کھول دیا ہے۔ ہم سمندر کے اندر بھی نئے نئے ذخائر تلاش کرنے کی سمت میں کوششیں کر رہے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ گزشتہ برس حکومت کا مقصد رہا ہے کہ ہمیں اب دوسرے ملکوں پر منحصر رہ کر نہیں جینا ہے، ہمیں خودکفیل ہونا چاہیے۔ دنیا میں بہت کچھ ملتا ہے، سستا ملتا ہے، لیکن اس سے ہماری صلاحیت نہیں بنتی ہے۔ ہمیں بھی اپنی صلاحیت بڑھانی ہے۔ “میک ان انڈیا”، “ووکل فار لوکل” جیسے شعبوں میں آج ہر ہندوستانی کا دل جڑ چکا ہے۔
سیمی کنڈکٹر کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے سیمی کنڈکٹر کی باتیں ہوتی تھیں، لیکن ہم اس میں آگے نہیں بڑھ سکے۔ آج کی دنیا میں ہر الیکٹرانک، میڈیکل اور ٹرانسپورٹ کے سامان میں چپ ضروری ہے۔ ملک میں تین سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہو گئے ہیں اور وہاں سے برآمدات بھی شروع ہو چکی ہیں۔ آنے والے سات آٹھ سال میں مزید پانچ چھ سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کریٹیکل منرلز پر مبنی ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کئی ملکوں کے ساتھ اس کے لیے معاہدے کیے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
نکسل انتہاپسندی ختم ہوئی لیکن ‘دماغی نکسلی’ ابھی ہے، پہچان تو کرنی پڑے گی: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک سے ہتھیاربند نکسل انتہاپسندی کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن ‘دماغی نکسلی’ اب بھی موجود ہیں اور ایسے لوگ موقع کی تلاش میں انارکی کی راہ تلاش کر رہے ہیں اس لیے ان کی پہچان کرنا اور انہیں الگ تھلگ کر کے نئی نسل کو ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کے اہم دھارے سے جوڑنا ہوگا۔
مسٹر مودی نے یوم آزادی پر لال قلعہ کی فصیل سے ہفتہ کو ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “برسوں تک ملک کی اقتدار کے راہداریوں میں ماؤ نواز سوچ کے لوگ اپنی جگہ بنا کر بیٹھے تھے۔ حکومت کی کمیٹیوں میں مشیر کے طور پر ماؤ نوازوں نے ملک کو متاثر کیا اور ان کے نظریات نے پالیسیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ جنگلوں میں ہتھیاربند نکسلیوں کے خاتمے اور اس بحران سے ملک کو نجات دلانے میں ملک کو کامیابی ملی ہے۔ اس کامیابی سے ہتھیاربند نکسلی تو چلے گئے، لیکن ‘دماغی نکسلی’ اور ‘قاتل نکسلی’ ابھی موجود ہیں۔ ایسے لوگ موقع کی تلاش میں انارکی کی راہ تلاش کر رہے ہیں اور معاشرے کو غلط راہ پر گھسیٹنے کے لیے طرح طرح کے داؤ چل رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ ملک کی خوشحالی کے لیے ان ‘نکسلی دماغ’ والے لوگوں کی پہچان کرنا ضروری ہے۔ پہچان کے بعد ان کو الگ تھلگ کرنا ہی ہوگا اور ملک کی ترقی کے لیے ملک کی نئی نسل کو ترقی یافتہ ملک کے اہم دھارے سے جوڑنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ 21ویں صدی میں دہائیوں سے چلے آ رہے چیلنجوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔ نکسل انتہاپسندی اور ماؤ نوازی نے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل برباد کیا ہے۔ اس نکسلی سوچ نے ان نوجوانوں کو ان کی زندگی کے سب سے اچھے وقت میں ان کی ماؤں سے چھینا، انہیں برباد کیا اور ان کے ماں باپ کے خوابوں کو چکنا چور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکسل انہاپسندی نے آئین کا مذاق بنایا اور عام شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے 3500 سے زیادہ پولیس اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ 2014 میں ملک کے عوام نے ان کی حکومت کو موقع دیا تو انہوں نے ملک کو نکسل انتہاپسندی سے پاک کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ “آج مجھے خوشی ہے کہ نکسل انتہاپسندی-ماؤ نواز تشدد نے اپنی طاقت کھو دی ہے اور شاید اب وہ اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے۔ ہم اس کے مکمل خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں کبھی نکسلیوں کی گولیاں چلتی تھیں، گولیوں کی آواز سے جنگل گونجتے تھے اور سرزمین خون سے لال ہوتی تھی، آج انہی علاقوں میں ترقی، اعتماد اور اجتماعي کوششوں کا ترنگا بلند ہو کر لہرا رہا ہے۔ نکسل انتہاپسندی سے متاثرہ علاقے اب نکسل سے پاک ہو چکے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ نکسل انتہاپسندی اور ماؤ نوازی کے دہائیوں پرانے چیلنج کو 21ویں صدی میں ختم کرنا ضروری ہے اور ملک کی نئی نسل کو وکست بھارت کی تعمیر کی اہم دھارے سے جوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
آنے والے 10 سال میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کرنے کا ہدف: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ آنے والے 10 سال میں ملک میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کیے جائیں گے۔
تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلی حکومتوں کی سوچ کی وجہ سے ملک توانائی کے لیے بیرونی ملکوں پر منحصر ہے۔ پچھلے 12 سال میں توانائی کے شعبے میں خودکفالت حاصل کرنے کے لیے ان کی حکومت نے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے ایٹمی توانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے ‘شانتی بل’ منظور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “سال 2047 تک ہم نے 100 گیگاواٹ کا ہدف رکھا ہے۔ اسی دہائی میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ کا ہدف لے کر چل رہے ہیں۔” بریڈر ری ایکٹر سے ایٹمی ایندھن میں خودکفالت کی سمت میں بڑی کامیابی ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال 2014 سے پہلے ملک میں صرف 70 شہروں میں پائپ کے ذریعے گیس کا نظام تھا۔ بارہ سال میں ان کی حکومت نے اسے 700 شہروں تک پہنچا دیا ہے۔ یہ ہوتی ہے رفتار، یہ ہوتا ہے توسع۔ آج پونے دو کروڑ گھروں میں پائپ سے گیس کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ سال 2014 میں شمسی توانائی کی صلاحیت صرف دو گیگاواٹ تھی۔ آج 160 گیگاواٹ کا ہدف حاصل ہو چکا ہے۔ اس کا فائدہ غریبوں اور متوسط طبقے کو دینے کے لیے پی ایم سوریہ گھر یوجنا شروع کی گئی ہے، جس میں 50 لاکھ گھروں کا ہندسہ پار ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ سے ہزاروں گھروں کا بجلی کا بل صفر ہو گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں وہ اضافی بجلی بیچ کر کمائی بھی کر رہے ہیں۔ اس کام کے لیے ہر خاندان کو حکومت 80 ہزار روپے کی امداد دے رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کی برقی کاری کا کام 1925 میں شروع ہوا تھا۔ اگلے 90 سال میں صرف 30 فیصد ریل کی برقی کاری ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ “ہماری رفتار دیکھیے، ہم نے ایک دہائی کے اندر 100 فیصد کام مکمل کر دیا۔ یہ ہوتا ہے کام۔ اس کی وجہ سے ڈیژل جو ہمیں باہر سے لانا پڑتا ہے، اس کی بچت ہوئی، ماحولیات کو فائدہ ہوا۔” انہوں نے کہا کہ حکومت یہی نہیں رکی۔ ملک نے ہائیڈروجن سے چلنے والی پہلی ٹرین شروع کر دی ہے۔ یہ سب سے لمبی، سب سے طاقتور ٹرین ہے۔ ہندوستان نے ہائیڈروجن ٹرین کے شعبے میں بھی اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا4 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
