دنیا
اسماعیل ھانیہ کے بیٹوں کو نشانہ بنانے کے لئے نیتن یاہوکو اعتماد میں لیا گیا تھا :اسرائیلی میڈیا
تل ابیب، اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی گروپ کے سربراہ اسماعیل ھانیہ کے تین بیٹوں اور پوتوں کو بمباری سے نشانہ بنانے کے لیے وزیراعظم نیتن یاہو یا سینیئر فوجی قیادت سے مشورہ نہیں کیا گیا تھا بلکہ مقامی فوجی کمان نے اپنے طور پر یہ فیصلہ کیا سینیئر اسرائیلی حکام کے حوالے سے اسرائیلی خبر رساں ادارے ‘والا نیوز ایجنسی’ نے رپورٹ کیا ہے کہ اس واقعہ سے پہلے وزیراعظم نیتن یاہو کو اعتماد میں لیا گیا تھا نہ وزیر دفاع یواو گیلنٹ سے پیشگی مشورے و رہنمائی کے لیے رابطہ کیا تھا۔
خیال رہے یہ حملہ اسرائیلی فوج کے حساس ادارے ‘شین بیٹ انٹیلیجنس سروسز’ کی وجہ سے ممکن ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسماعیل ھانیہ کے بیٹوں عامر ، محمد اور حازم کو جنگجوؤں کے طور پر ٹارگٹ کیا گیا نہ کہ ایک سیاسی رہنما کے بیٹوں کے طور پر۔
اسرائیلی فوج نے اس بارے میں بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے کہ اس نے اسماعیل ھنیہ کے چار پوتوں کو بھی ہلاک کر دیا ہے۔ وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے ‘والا نیوز ایجنسی’ کی اس رپورٹ کے بارے میں فوری طور پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔
حتیٰ کہ فوج نے بھی اس بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
واضح رہے اسماعیل ھنیہ کے انتہائی قریبی رشتہ داروں کی اس ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں مذاکراتی عمل اور جنگ بندی کی کوششوں کے لیے خطرہ اور پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ جن کوششوں کے نتیجے میں امکانی طور پر اسرائیل کے 133 یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے۔
دریں اثناء اسماعیل ھنیہ نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں جنگ بندی سے متعلق کہا ہے کہ حماس بہت واضح ہے کہ کسی جنگی وقفے کے لیے اس کے مطالبات کیا ہیں۔
حماس رہنما اسماعیل ھنیہ نے کہا ‘اگر ہمارا دشمن یہ سمجھتا ہے کہ میرے بیٹوں کو نشانہ بنا کر حماس کو اپنی پوزیشن تبدیل کرنے پر مجبور کر دے گا تو دشمن خود فریبی کا شکار ہے۔’
‘میں یہ صرف امید ہی کر سکتا ہوں کہ یہ واقعہ اسرائیل کے ساتھ جنگی بندی مذاکرات پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ میں یہ امید کرتا ہوں کہ حماس اس واقعہ کے بعد زیادہ سخت شرائط ڈیل کے لیے سامنے نہیں لائے گی۔’ یہ بات آفری لیوی بی باس نے کہی ہے جس کے بھائی، بیگم اور بچوں کو حماس نے 7 اکتوبر کو یرغمالی بنایا تھا۔
اسرائیل کے ایک دائیں بازو کے اخبار ‘ہیوم’ کی رپورٹ کے مطابق فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے لیے ضابطہ کار کی پیروی کی گئی۔ مگر ایک سوال بڑا اہم رہا کہ اس قدر حساس ٹارگٹ کو اڑانے کے لیے سینیئر حکام سے پیشگی مشورے اور اجازت کے بغیر کارروائی کی جانی چاہیے یا نہیں۔
اسرائیل کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اخبار ‘ہارٹز’ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اور اس کی حکومت نے ایک ہفتہ پہلے دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ کیا اور سنیئر کمانڈرز کو بھی ہلاک کیا۔ یہ واقعہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کسی جنگ بندی کی کوششوں کو روکنے کے لیے کافی تھا۔ یہ ایک اشتعال انگیز اور جارحانہ واقعہ تھا۔ اس سے پہلے ایک اور واقعہ پیش آیا تھا جس میں ‘ورلڈ سینٹرل کچن’ کی 7 رکنی ٹیم کو غلط اندازے کی وجہ سے ہلاک کر دیا گیا تھا۔
دوسری جانب عالمی سطح پر جنگ بندی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے خصوصاً ایسے حالات میں جب غزہ میں اسرائیلی جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔
حماس غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلاء اور غزہ سے بےگھر ہو کر نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں کی ان کے گھروں اور علاقوں میں واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
جبکہ اسرائیل یرغمالیوں کی گھروں کو واپسی چاہتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی وہ کہتا ہے کہ اس وقت تک جنگ ختم نہیں کی جائے گی جب تک حماس کو ختم نہیں کیا جاتا۔ نیز اسرائیل نے رفح پر زمینی جنگ مسلط کرنے کی بھی تیاری کر رکھی ہے۔ جہاں 15 لاکھ کے قریب فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ایران کو قطر کے ذریعے آبنائے ہرمز کی تجویز پر امریکی جواب موصول
تہران، — ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو قطر کی ثالثی کے ذریعے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ تجویز کا جواب موصول ہوگیا ہے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔
مہاجرانی نے واشنگٹن کے جواب کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور یہ بھی نہیں بتایا کہ تہران اب کیا اقدامات کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ عراقچی نے کابینہ کو یورپی ممالک، خلیجی ریاستوں اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور اقوام متحدہ میں ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی شرائط بھی شامل تھیں۔ یہ شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچائی گئی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے دوران عراقچی نے امریکی تجویز صدر مسعود پزشکیان کے سامنے پیش کی۔
دریں اثنا، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تہران اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر کامیاب عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے یہ بات کہی۔
پزشکیان نے کہا کہ مذاکرات کے فوائد اور حاصل ہونے والی پیش رفت کی وضاحت کو ایران کے مخالفین کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ شفافیت برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ایران نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی کسی بھی شق میں اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
پزشکیان نے معاہدے کو ’’باعثِ فخر‘‘ اور ایران سے متعلق پیش رفت کے دوران ’’فیصلہ کن اور انتہائی مؤثر دستاویز‘‘ قرار دیا۔
ایران نے کہا ہے کہ اس کی شرائط میں امریکی فوجی اور اقتصادی دباؤ کا خاتمہ، منجمد یا محدود ایرانی اثاثوں کی رہائی اور محفوظ بحری راستے پر اتفاق شامل ہے۔ تہران نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر قطر کے ذریعے دو گھنٹے جاری رہنے والی بات چیت کے دوران یہ شرائط واشنگٹن تک پہنچائی تھیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز سے آمدورفت پر پابندیاں برقرار رکھی ہیں اور واشنگٹن سے جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے تحت اپنے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جب تک اس کی شرائط پوری اور امریکی وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولا جائے گا۔
پزشکیان نے آبنائے ہرمز کو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے تزویراتی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمندری علاقوں میں ایران کی مضبوط موجودگی نے ملک کی اہم اقتصادی شاہراہوں کو متاثر ہونے سے بچایا۔
عالمی یومِ بحری جہازرانی کے موقع پر بدھ کو پزشکیان نے سمندر کو ایران کے لیے محض پانی کا ذخیرہ قرار دینے کے بجائے اسے ایک الٰہی نعمت اور ملک کی تاریخ، شناخت اور طرزِ زندگی کا لازمی حصہ قرار دیا۔ انہوں نے اسے ایران کے حال اور مستقبل کے لیے مواقع کا ایک بڑا ذریعہ بھی قرار دیا۔
صدر نے کہا، ’’آبنائے ہرمز، جو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، خطے اور دنیا کی سلامتی اور معیشت میں خصوصی مقام رکھتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس تزویراتی آبی گزرگاہ کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر ذمہ دارانہ ہے اور خطے کے ممالک کی سلامتی، استحکام اور مفادات کے تحفظ پر مبنی ہے۔‘‘
پزشکیان نے زور دیا کہ ’’خلیج فارس اور اس کی آبی گزرگاہوں میں پائیدار سلامتی کا انحصار سب سے بڑھ کر خطے کے ممالک کے تعاون، ذمہ داری اور فعال کردار پر ہے۔‘‘
انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کی اہم اقتصادی شاہراہوں کو برقرار رکھنے میں ملک کی بحری برادری کے کردار کو بھی سراہا۔
واشنگٹن اور تہران نے جون میں آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ بحری آمدورفت سے متعلق مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ تاہم بعد میں اس تزویراتی آبی گزرگاہ میں سکیورٹی انتظامات سے متعلق اختلافات کے باعث اس پر عمل درآمد رک گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
بغداد، عراق امریکی فوجیوں کے مکمل انخلا کے موقع پر چار روزہ قومی تعطیلات ’’یومِ خودمختاری‘‘ منانے کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم دو دہائیوں سے زائد عرصے کی غیر ملکی فوجی مداخلت کے خاتمے کے ساتھ بغداد کو ایک نئی اور پیچیدہ سکیورٹی صورتحال میں توازن قائم کرنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔
بدھ کو امریکی فوج کے انخلا کی آخری تاریخ مقرر ہے، جس کے تحت عراق میں موجود چند سو امریکی فوجی بھی ملک سے روانہ ہوں گے۔ یہ فوجی 2015 میں داعش کے خلاف شروع کیے گئے بین الاقوامی اتحاد کے آپریشن میں مشاورتی کردار ادا کر رہے تھے۔
وزیر اعظم علی الزیدی کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی امریکی انخلا کا منصوبہ طے ہو چکا تھا، تاہم یہ عراق کی ریاستی عمل داری دوبارہ مضبوط کرنے کے ان کے وسیع تر منصوبے سے ہم آہنگ ہے۔ اس منصوبے میں جون 2027 تک ملک کی تمام ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں تیز کرنا بھی شامل ہے، جن میں ایران نواز کئی طاقتور گروپ بھی شامل ہیں، جو ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ کے دوران خطے میں حملے کر چکے ہیں۔
گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے الزیدی نے کہا تھا کہ ان کی حکومت ’’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشش کر رہی ہے کہ امن اور جنگ کے معاملات میں ریاست ہی حتمی فیصلہ ساز ہو اور ہتھیار اور طاقت کے ذرائع آئینی اداروں کے ہاتھ میں رہیں‘‘۔
انہوں نے کہا، ’’عراق میں بین الاقوامی اتحاد کے مشن کے خاتمے کے ساتھ ہم اپنے تزویراتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں لے جا رہے ہیں، جہاں فوجی تعاون سے اقتصادی اور ترقیاتی تعاون کی طرف منتقلی ہوگی تاکہ ہمارے مشترکہ مفادات پورے ہوں۔‘‘
عراق میں سابق امریکی سفیر ڈگلس سلیمان کے مطابق امریکی انخلا ایران سے وابستہ بااثر ملیشیاؤں کو ’’سیاسی طور پر کمزور‘‘ کرنے کی الزیدی کی حکمت عملی کا حصہ بھی دکھائی دیتا ہے۔
ان ملیشیاؤں نے طویل عرصے سے عراق میں امریکی فوج اور ترکی جیسے دیگر غیر ملکی عناصر کی موجودگی کو اپنے ہتھیار اور الگ کمانڈ ڈھانچہ برقرار رکھنے کا جواز قرار دیا ہے۔ بعض گروپ پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ اپنے ہتھیار حکومت کے حوالے کرنے سے انکار کریں گے۔
سلیمان کے مطابق وزیر اعظم عراقی عوام کے سامنے یہ سیاسی جواز قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کے زیادہ زیر اثر وہ گروپ، جنہوں نے حکومت کی اجازت کے بغیر ہتھیار استعمال کیے، اب ان ہتھیاروں کو رکھنے کی سیاسی وجہ نہیں رکھتے۔
تاہم ان کے بقول یہ ایک خطرناک اور پیچیدہ حکمت عملی ہے، جس سے ایران کو عراق میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے اور مستقبل میں ملک کے اندر شدید محاذ آرائی کا راستہ بھی کھل سکتا ہے۔ اگر عراق میں موجود گروپ امریکی مفادات کو نشانہ بناتے رہے تو واشنگٹن کی جانب سے بغداد پر مزید دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔
امریکی قیادت میں ’’آپریشن انہیرنٹ ریزولو‘‘ کے خاتمے کے بعد عراقی حکومت جس انداز میں نئی صورتحال سے نمٹے گی، اس کے ملک کی آئندہ سکیورٹی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
2017 میں داعش کی علاقائی شکست کے بعد عراق گزشتہ چند برسوں میں نسبتاً مستحکم رہا ہے، اگرچہ اس کی سرحدیں مسلسل تنازعات اور عدم تحفظ سے گھری رہی ہیں۔ 2020 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکی فوجیوں کے انخلا کا عمل شروع ہونے کے بعد بھی یہ استحکام بڑی حد تک برقرار رہا۔ 2025 کے اختتام تک باقی امریکی فوجی شمالی عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے میں اربیل کے ایک فضائی اڈے پر محدود ہو گئے تھے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
قطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
نیویارک، امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کے لیے قطری ثالثوں کی کوششوں میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے، کیونکہ دونوں میں سے کوئی بھی فریق سمجھوتے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔ مذاکرات سے واقف تین افراد نے ’ایکسیوس‘ کو یہ اطلاع دی۔
مذاکرات میں تعطل نے اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ تنازع دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا خیال ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نومبر میں وسط مدتی انتخابات کے بعد دوبارہ فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں۔
قطری حکام کی ثالثی جاری رکھنے کی توقع ہے، تاہم دو ذرائع نے بتایا کہ دوحہ واشنگٹن اور تہران دونوں کے رویے سے بتدریج مایوس ہوتا جا رہا ہے۔
قطری ثالث علی الثوادی نے پیر کو نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد کے ساتھ کئی گھنٹے مذاکرات کیے۔
مذاکرات میں قطر کی جانب سے پیش کردہ دو صفحات پر مشتمل سمجھوتے کی تجویز بھی شامل تھی، جس کا مقصد ایران کے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبے اور واشنگٹن کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر رعایتوں کے اصرار کے درمیان راستہ نکالنا تھا۔
پیر ہی کو الثوادی نے واشنگٹن میں ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر اور دیگر امریکی حکام سے ملاقات کی۔ نائب صدر جے ڈی وینس بھی مذاکرات کے ایک حصے میں شریک ہوئے۔ وائٹ ہاؤس نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ہفتے کے آغاز میں امریکی حکام نے بالواسطہ مذاکرات کو ’’مثبت اور تعمیری‘‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ایران نے جوہری معاملات پر لچک دکھانے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
امریکی حکام نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کے بدلے تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے پر غور کرنے کو تیار ہیں۔ تاہم بعد میں ٹرمپ نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا کہ انہوں نے ایران کو کچھ بھی پیش نہیں کیا۔
ایک ذریعے کے مطابق پیر کے مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔
ذرائع نے کہا، ’’معاملہ تعطل کا شکار ہے۔ ایرانی ایسے مطالبات کر رہے ہیں جنہیں امریکہ قبول نہیں کرسکتا، جبکہ امریکہ سمجھتا ہے کہ وہ جیت رہا ہے، اس لیے سمجھوتے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
پاکستان اور مصر سمیت علاقائی ثالثوں نے بھی ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری معاملات پر رعایتیں قبول کرے۔ تاہم مذاکرات سے واقف ایک اور ذریعے کے مطابق تہران کا کہنا ہے کہ وہ ایسے اقدامات پر اسی وقت غور کرے گا جب واشنگٹن جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر واپس آنے پر رضامند ہو۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے منگل کو کہا کہ تہران پہلے ہی واشنگٹن کو اپنی شرائط سے آگاہ کرچکا ہے۔
ایرانی میڈیا نے ان کے حوالے سے کہا، ’’ٹرمپ فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ٹرمپ ایسی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں وہ نہ مذاکرات کرسکتے ہیں اور نہ جنگ لڑ سکتے ہیں۔‘‘
اسی روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم انہیں یقین نہیں کہ تہران ابھی رعایت دینے کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ’’وہ بہت بری حالت میں ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ ابھی دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ وہ دستبردار ہوجائیں گے۔ مقصد جوہری ہتھیار کو روکنا ہے۔ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔‘‘
قطر نے منگل کو کہا کہ وہ ’شٹل ڈپلومیسی‘ جاری رکھے گا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ دوحہ ’’فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ‘‘ کر رہا ہے اور کسی معاہدے کے لیے مشترکہ بنیاد قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تازہ ترین ثالثی کی کوشش ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران پیش کی گئی سات روزہ تجویز کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس تجویز کے تحت تہران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور سمندری آمدورفت معمول پر لانے کی پیشکش کی تھی، جس کے بدلے واشنگٹن سے بحری ناکہ بندی میں نرمی اور پابندیوں و منجمد ایرانی اثاثوں سے متعلق اقدامات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
یو این آئی ۔ع ا۔
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا6 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا6 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
