ہندوستان
لوک سبھا کے ساتویں اور آخری مرحلے کی انتخابی مہم ختم، ووٹنگ یکم جون کو ہوگی
نئی دہلی، 18 ویں لوک سبھا انتخابات کے لئے تقریباً دو ماہ تک جاری رہنے والی انتخابی مہم جمعرات کی شام 6 بجے ختم ہو گئی۔ شدید گرمی اور ایک دوسرے کے خلاف سیاسی جماعتوں کے تند و تیز بیانات اور شوروغل سے بھری ہوئی انتخابی مہم آج تھم گئی ۔
ان انتخابات کے ساتویں اور آخری مرحلے میں ہفتہ کو 57 پارلیمانی نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوگی جس میں آٹھ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام چنڈی گڑھ شامل ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اوڈیشہ اسمبلی کے چوتھے اور آخری مرحلے میں 42 سیٹوں کے لیے ایک ہی دن ووٹنگ ہوگی۔ ضابطے کے مطابق ان سیٹوں پر انتخابی مہم پولنگ سے 48 گھنٹے قبل آج شام 6 بجے ختم ہو گئی۔
انتخابی مہم میں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کی زیر قیادت حکمران اتحاد نے اقربا پروری، خوشامد پسندی اور بدعنوانی پر کانگریس اور دیگر جماعتوں پر مشتمل انڈیا اتحاد پر حملہ کیا۔ اپوزیشن نے بی جے پی کی زیرقیادت حکومت پر انتخابی بانڈز میں بدعنوانی، مذہبی تقسیم کی سیاست اور اپوزیشن لیڈروں کے خلاف تحقیقاتی ایجنسیوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ آئین کو تبدیل کرنے کے منصوبوں کا الزام لگایا۔
عام انتخابات کے ساتویں مرحلے کے لیے حکمراں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) اور اپوزیشن انڈیا اتحاد کے اسٹار پرچارکوں کے علاوہ ان کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے عوامی جلسوں اور روڈ شوز وغیرہ کے ذریعے اپنے امیدواروں کے لیے بھرپور مہم چلائی۔ منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کے انتظامات کے مطابق ووٹنگ کی مدت ختم ہونے سے 48 گھنٹے قبل عوامی مہم روک دی جاتی ہے۔ اس کے بعد امیدوار اور ان کے حامی ذاتی سطح پر رابطہ کر کے ووٹرز کی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔
آج آخری مرحلے میں انتخابی مہم ختم ہونے سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے پنجاب کے ہوشیا پور میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کیا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ آج کل ملک کے لوگ انڈیا اتحاد سے آئین، آئین کے نعرے سن رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمرجنسی کے دوران آئین کا گلا گھونٹا۔ 1984 کے فسادات میں جب سکھوں کو گلے میں ٹائر باندھ کر جلایا جا رہا تھا تو انہوں نے آئین کا خیال نہیں کیا۔
دریں اثنا، وزیر اعظم آج شام کنیا کماری کا دورہ کریں گے اور کنیا کماری میں مشہور وویکانند راک میموریل میں دو دن (48 گھنٹے) دھیان لگائیں گے۔ ان کے قیام کے لیے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
ساتویں مرحلے میں 57 لوک سبھا سیٹوں پر 904 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ اس مرحلے میں مرکز کے زیر انتظام علاقے چنڈی گڑھ کی ایک سیٹ کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ اس کے علاوہ اوڈیشہ اسمبلی کی کل 147 سیٹوں کے انتخابات کے آخری مرحلے میں 42 سیٹوں پر حکمران بیجو جنتا دل (بی جے ڈی)، بی جے پی اور کانگریس کے درمیان مقابلہ ہے۔ ریاستی اسمبلی انتخابات کے پہلے، دوسرے اور تیسرے مرحلے میں 13 مئی کو 28، 20 مئی کو 35 اور 25 مئی کو 42 سیٹوں پر ووٹنگ ہوئی۔
ساتویں اور آخری مرحلے میں اتر پردیش کی 13 سیٹوں پر 144، پنجاب کی 13 سیٹوں پر 328، مغربی بنگال کی 9 سیٹوں پر 124، بہار کی آٹھ سیٹوں پر 134، اڈیشہ کی چھ سیٹوں پر 66، ہماچل پردیش کی چار سیٹوں پر 37 ، جھارکھنڈ کی تین نشستوں پر 52 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں اور مرکز کے زیر انتظام چنڈی گڑھ کی ایک سیٹ پر 19 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ سات مرحلوں میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے آخری مرحلے کے لیے ووٹنگ یکم جون کو ہوگی۔ نتائج 4 جون کو آئیں گے۔
اتر پردیش کی 13 سیٹوں کے نام جن پر یکم جون کو ووٹنگ ہوگی مہاراج گنج، گورکھپور، کشی نگر، دیوریا، بانس گاؤں، گھوسی، سلیم پور، بلیا، غازی پور، چندولی، وارانسی، مرزا پور اور رابرٹس گنج ہیں ۔
بہار کی جن سیٹوں پر آخری مرحلے میں ووٹنگ ہوگی وہ ہیں نالندہ، پٹنہ صاحب، پاٹلی پتر، اررا، بکسر، سہسرام، کرکت اور جہان آباد۔ پہاڑی ریاست ہماچل پردیش میں ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔ ریاست کی جن چار سیٹوں پر ووٹنگ ہو گی ان میں کانگڑا، منڈی، ہمیر پور اور شملہ شامل ہیں۔ اڈیشہ کی چھ پارلیمانی سیٹوں کے نام میور بھنج، بالاسور جاج پور، کیندرپارا، جگت سنگھ پور، بھدرک ہیں، جن پر آخری مرحلے میں ووٹنگ ہوگی۔ پنجاب کی جن 13 پارلیمانی نشستوں پر ووٹنگ ہو گی ان میں گورداس پور، امرتسر، کھڈور صاحب، جالندھر (محفوظ)، ہوشیار پور (محفوظ)، آنند پور صاحب، لدھیانہ، فتح گڑھ صاحب (محفوظ)، فرید کوٹ (محفوظ)، فیروز پور، بھٹنڈہ، سنگرور اور پٹیالہ سیٹ شامل ہیں۔
مغربی بنگال کی نو پارلیمانی نشستوں میں دمدم، باراسات، بشیرہاٹ، جے نگر، متھرا پور، ڈائمنڈ ہاربر، جادھو پور، جنوبی کولکاتہ ، نارتھ کولکاتہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ راج محل، دمکا، جھارکھنڈ کے گوڈا اور مرکز کے زیر انتظام چنڈی گڑھ کی سیٹوں پر بھی یکم جون کو ووٹنگ ہوگی۔
لوک سبھا انتخابات کے آخری مرحلے میں یکم جون کو ووٹنگ ہونی ہے۔ اس مرحلے میں وزیر اعظم نریندر مودی، بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت، انوراگ ٹھاکر، روی کشن، روی شنکر پرساد، سنجے ٹنڈن، کانگریس کے اکھلیش پرتاپ سنگھ، اجے رائے، ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی، پنجاب کے سابق وزیر اعلی چرنجیت سنگھ چنی اور دیگر شامل ہیں۔ بھوجپوری فنکار پون سنگھ سمیت کئی مرکزی وزراء کی قسمت کا فیصلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں بند ہوگا۔
انتخابات کے اس مرحلے کے لیے 57 نشستوں کے لیے کل 2105 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کیے تھے۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد 954 امیدوار انتخابی میدان میں رہ گئے تھے اور کاغذات نامزدگی واپس لینے کے بعد 904 امیدوار رہ گئے ہیں۔
لوک سبھا کی کل 543 سیٹوں میں سے 486 سیٹوں پر ووٹنگ کا عمل ختم ہو گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 102 سیٹوں پر 66.14 فیصد، دوسرے مرحلے میں 88 سیٹوں پر 66.71 فیصد، تیسرے مرحلے میں 93 سیٹوں پر 65.68 فیصد، چوتھے میں 96 سیٹوں پر 67.71 فیصد، پانچویں میں 49 سیٹوں پر 62.20 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ اور چھٹے مرحلے میں 58 پارلیمانی نشستوں پر 63.37 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔
ساتویں اور آخری مرحلے میں یکم جون کو ووٹنگ ہوگی۔ انتخابی نتائج 4 جون کو آئیں گے۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں ساتویں مرحلے میں 57 سیٹوں پر کل 65.29 فیصد ووٹ ڈالے گئے تھے۔ مغربی بنگال میں سب سے زیادہ 78.80 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ سب سے کم ٹرن آؤٹ 51.37 فیصد بہار میں ریکارڈ کیا گیا۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
بحران میں کام آئیں پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں: وزیراعظم
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ حکومت نے پچھلے 12-10 سال میں ’ناگرک دیوو بھو‘ کے منتر کے ساتھ جو اصلاحات کیں اور جو پالیسیاں اپنائیں، اسی کا نتیجہ ہے کہ کورونا وبا اور مغربی ایشیا کے بحران کے باوجود ملک تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے۔
لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلے 12-10 سال میں دنیا میں کئی بحران آئے۔ کورونا نے پوری دنیا کو تشویش میں ڈال دیا۔ اس کے بعد یوکرین اور مغربی ایشیا کی جنگیں آئیں۔ ہر جگہ تناؤ کا ماحول تھا۔ ’پیش گوئی کرنے والوں‘ نے تو کہا کہ ویکسین نہیں ملے گی، کووڈ میں لوگ بچیں گے نہیں، پیٹرول ڈیژل نہیں ملے گا، گیس نہیں ملے گی۔ انہوں نے ملک کو ڈرانے کا کام کیا، اسی میں انہیں خوشی ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک نے دیکھ لیا کہ پچھلے 12-10 سال کی سوچ سمجھ کر بنائی گئیں اسکیمیں رنگ لا رہی ہیں۔ ’ناگرک دیوو بھو‘ کے منتر کو لے کر جیتے ہوئے ہندوستان نے پچھلے 12-10 سال میں جو تیاریاں کی تھیں، ایک کے بعد ایک جو قدم اٹھائے تھے، …وہ سبھی چیزیں کام آ گئیں۔ آج ملک میں پیٹرول بھی ہے، ڈیژل بھی ہے، گیس بھی ہے، یوریا بھی ہے۔ ہم اپنی طاقت کے بل بوتے پر چل رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے اس بحران کا اثر ہر کسی پر ہوا ہے اور ہندوستان بھی اس سے الگ نہیں ہے۔ ایک بوری یوریا کی قیمت دنیا میں تین ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، لیکن ملک میں کسانوں پر وہ بوجھ نہ ڈال کر آج بھی انہیں صرف 300 روپے میں یوریا کی بوری دی جا رہی ہے۔ ڈی اے پی کی قیمت دنیا میں پانچ ہزار روپے ہے جو ملک کے کسانوں کو 1350 روپے میں دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وسائل کی وجہ سے ملک رکتا نہیں ہے، کئی بار اس کی وجہ سوچ ہوتی ہے۔ ملک کو آج خام تیل پر منحصر رہنا پڑ رہا ہے۔ ایسی سوچ کی وجہ سے سمندری ساحل کا ہمارا 90 فیصد حصہ ’نو گو ایریا‘ (ممنوعہ علاقہ) قرار دے دیا گیا تھا، یہ سوچ کی مفلسی تھی۔ ان کی حکومت نے اسے ’گو اہید ایریا‘ کے طور پر کھول دیا ہے۔ ہم سمندر کے اندر بھی نئے نئے ذخائر تلاش کرنے کی سمت میں کوششیں کر رہے ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ گزشتہ برس حکومت کا مقصد رہا ہے کہ ہمیں اب دوسرے ملکوں پر منحصر رہ کر نہیں جینا ہے، ہمیں خودکفیل ہونا چاہیے۔ دنیا میں بہت کچھ ملتا ہے، سستا ملتا ہے، لیکن اس سے ہماری صلاحیت نہیں بنتی ہے۔ ہمیں بھی اپنی صلاحیت بڑھانی ہے۔ “میک ان انڈیا”، “ووکل فار لوکل” جیسے شعبوں میں آج ہر ہندوستانی کا دل جڑ چکا ہے۔
سیمی کنڈکٹر کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے سیمی کنڈکٹر کی باتیں ہوتی تھیں، لیکن ہم اس میں آگے نہیں بڑھ سکے۔ آج کی دنیا میں ہر الیکٹرانک، میڈیکل اور ٹرانسپورٹ کے سامان میں چپ ضروری ہے۔ ملک میں تین سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہو گئے ہیں اور وہاں سے برآمدات بھی شروع ہو چکی ہیں۔ آنے والے سات آٹھ سال میں مزید پانچ چھ سیمی کنڈکٹر پلانٹ شروع ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کریٹیکل منرلز پر مبنی ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کئی ملکوں کے ساتھ اس کے لیے معاہدے کیے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
نکسل انتہاپسندی ختم ہوئی لیکن ‘دماغی نکسلی’ ابھی ہے، پہچان تو کرنی پڑے گی: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ملک سے ہتھیاربند نکسل انتہاپسندی کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن ‘دماغی نکسلی’ اب بھی موجود ہیں اور ایسے لوگ موقع کی تلاش میں انارکی کی راہ تلاش کر رہے ہیں اس لیے ان کی پہچان کرنا اور انہیں الگ تھلگ کر کے نئی نسل کو ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کے اہم دھارے سے جوڑنا ہوگا۔
مسٹر مودی نے یوم آزادی پر لال قلعہ کی فصیل سے ہفتہ کو ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “برسوں تک ملک کی اقتدار کے راہداریوں میں ماؤ نواز سوچ کے لوگ اپنی جگہ بنا کر بیٹھے تھے۔ حکومت کی کمیٹیوں میں مشیر کے طور پر ماؤ نوازوں نے ملک کو متاثر کیا اور ان کے نظریات نے پالیسیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ جنگلوں میں ہتھیاربند نکسلیوں کے خاتمے اور اس بحران سے ملک کو نجات دلانے میں ملک کو کامیابی ملی ہے۔ اس کامیابی سے ہتھیاربند نکسلی تو چلے گئے، لیکن ‘دماغی نکسلی’ اور ‘قاتل نکسلی’ ابھی موجود ہیں۔ ایسے لوگ موقع کی تلاش میں انارکی کی راہ تلاش کر رہے ہیں اور معاشرے کو غلط راہ پر گھسیٹنے کے لیے طرح طرح کے داؤ چل رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ ملک کی خوشحالی کے لیے ان ‘نکسلی دماغ’ والے لوگوں کی پہچان کرنا ضروری ہے۔ پہچان کے بعد ان کو الگ تھلگ کرنا ہی ہوگا اور ملک کی ترقی کے لیے ملک کی نئی نسل کو ترقی یافتہ ملک کے اہم دھارے سے جوڑنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ 21ویں صدی میں دہائیوں سے چلے آ رہے چیلنجوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔ نکسل انتہاپسندی اور ماؤ نوازی نے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل برباد کیا ہے۔ اس نکسلی سوچ نے ان نوجوانوں کو ان کی زندگی کے سب سے اچھے وقت میں ان کی ماؤں سے چھینا، انہیں برباد کیا اور ان کے ماں باپ کے خوابوں کو چکنا چور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکسل انہاپسندی نے آئین کا مذاق بنایا اور عام شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے 3500 سے زیادہ پولیس اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ 2014 میں ملک کے عوام نے ان کی حکومت کو موقع دیا تو انہوں نے ملک کو نکسل انتہاپسندی سے پاک کرنے کا عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ “آج مجھے خوشی ہے کہ نکسل انتہاپسندی-ماؤ نواز تشدد نے اپنی طاقت کھو دی ہے اور شاید اب وہ اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے۔ ہم اس کے مکمل خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں کبھی نکسلیوں کی گولیاں چلتی تھیں، گولیوں کی آواز سے جنگل گونجتے تھے اور سرزمین خون سے لال ہوتی تھی، آج انہی علاقوں میں ترقی، اعتماد اور اجتماعي کوششوں کا ترنگا بلند ہو کر لہرا رہا ہے۔ نکسل انتہاپسندی سے متاثرہ علاقے اب نکسل سے پاک ہو چکے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ نکسل انتہاپسندی اور ماؤ نوازی کے دہائیوں پرانے چیلنج کو 21ویں صدی میں ختم کرنا ضروری ہے اور ملک کی نئی نسل کو وکست بھارت کی تعمیر کی اہم دھارے سے جوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
آنے والے 10 سال میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کرنے کا ہدف: مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ آنے والے 10 سال میں ملک میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کیے جائیں گے۔
تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے 80ویں یوم آزادی پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ پچھلی حکومتوں کی سوچ کی وجہ سے ملک توانائی کے لیے بیرونی ملکوں پر منحصر ہے۔ پچھلے 12 سال میں توانائی کے شعبے میں خودکفالت حاصل کرنے کے لیے ان کی حکومت نے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے ایٹمی توانائی کی پیداوار بڑھانے کے لیے ‘شانتی بل’ منظور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “سال 2047 تک ہم نے 100 گیگاواٹ کا ہدف رکھا ہے۔ اسی دہائی میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ کا ہدف لے کر چل رہے ہیں۔” بریڈر ری ایکٹر سے ایٹمی ایندھن میں خودکفالت کی سمت میں بڑی کامیابی ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال 2014 سے پہلے ملک میں صرف 70 شہروں میں پائپ کے ذریعے گیس کا نظام تھا۔ بارہ سال میں ان کی حکومت نے اسے 700 شہروں تک پہنچا دیا ہے۔ یہ ہوتی ہے رفتار، یہ ہوتا ہے توسع۔ آج پونے دو کروڑ گھروں میں پائپ سے گیس کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ سال 2014 میں شمسی توانائی کی صلاحیت صرف دو گیگاواٹ تھی۔ آج 160 گیگاواٹ کا ہدف حاصل ہو چکا ہے۔ اس کا فائدہ غریبوں اور متوسط طبقے کو دینے کے لیے پی ایم سوریہ گھر یوجنا شروع کی گئی ہے، جس میں 50 لاکھ گھروں کا ہندسہ پار ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ سے ہزاروں گھروں کا بجلی کا بل صفر ہو گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں وہ اضافی بجلی بیچ کر کمائی بھی کر رہے ہیں۔ اس کام کے لیے ہر خاندان کو حکومت 80 ہزار روپے کی امداد دے رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ریلوے کی برقی کاری کا کام 1925 میں شروع ہوا تھا۔ اگلے 90 سال میں صرف 30 فیصد ریل کی برقی کاری ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ “ہماری رفتار دیکھیے، ہم نے ایک دہائی کے اندر 100 فیصد کام مکمل کر دیا۔ یہ ہوتا ہے کام۔ اس کی وجہ سے ڈیژل جو ہمیں باہر سے لانا پڑتا ہے، اس کی بچت ہوئی، ماحولیات کو فائدہ ہوا۔” انہوں نے کہا کہ حکومت یہی نہیں رکی۔ ملک نے ہائیڈروجن سے چلنے والی پہلی ٹرین شروع کر دی ہے۔ یہ سب سے لمبی، سب سے طاقتور ٹرین ہے۔ ہندوستان نے ہائیڈروجن ٹرین کے شعبے میں بھی اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا4 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
