ہندوستان
ہند -بنگلہ دیش گنگا پانی کے معاہدے پر نظرثانی کریں گے، بنگلہ دیشی شہریوں کو علاج کے لیے ای ویزا ملے گا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش نے گنگا آبی معاہدے پر نظرثانی کرنے پر اتفاق کیا ہے اور بنگلہ دیش سے ہندوستان آنے والوں کو طبی علاج کے لئے ای ویزا کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
ترقیاتی کاموں میں بنگلہ دیش کو ہندوستان کا سب سے بڑا ساجھیدار بتاتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستان بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تعلقات کو سب سے زیادہ ترجیح دیتا ہے۔ مسٹر مودی بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ اور ان کے وفد کے ساتھ بات چیت کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، جو ہندوستان کے دو روزہ دورے پر نئی دہلی میں ہیں۔
رواں ماہ محترمہ حسینہ کا یہاں کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ وہ مسٹر مودی کی تقریب حلف برداری میں بھی ہندوستان آئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، بحری اور خلائی شعبے کے اقدامات اور دفاعی پیداوار اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
مسٹر مودی نے بنگلہ دیش کے بانی صدر بنگ بندھو شیخ مجیب الرحمن کے مستحکم، خوشحال اور ترقی پسند بنگلہ دیش کے خواب کو پورا کرنے میں بنگلہ دیش کی حمایت کرنے کے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ 2026 میں بنگلہ دیش ‘کم ترقی یافتہ’ ملک کے زمرے سے ‘ترقی پذیر ملک’ بننے جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی اس پیش رفت میں محترمہ حسینہ کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا ’’میں وزیر اعظم شیخ حسینہ جی کو ’سونار بنگلہ‘ کی قیادت دینے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
محترمہ حسینہ کے ساتھ وسیع تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا ’’ گزشتہ ایک یا اس سے زیادہ سال میں ہم دس بار ملے ہیں۔ لیکن آج کی ملاقات خاص ہے کیونکہ وزیر اعظم شیخ حسینہ جی ہماری حکومت کی تیسری میعاد میں ہماری پہلی سرکاری مہمان ہیں۔‘‘
مسٹر مودی نے کہا کہ ‘بنگلہ دیش ہمارا ‘پڑوسی سب سے پہلے’ ہندوستان کی پالیسی ہے، مشرق کے ممالک کے ساتھ کام کرنے کی ہماری پالیسی، ‘ساگر’ (خطے کے تمام ممالک کے لیے سلامتی اور خوشحالی) اور ایشیا پیسفک خطے کے بارے میں ہندوستان کے خواب ہیں۔ ”
وزیراعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش نے مل کر عوامی فلاح و بہبود کے کئی اہم پروجیکٹوں کو مکمل کیا ہے اس سلسلے میں انہوں نے ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اکھوڑہ سے اگرتلہ، کھلنا کے درمیان چھٹے سرحد پار ریل رابطے کا ذکر کیا۔ مونگلا بندرگاہ سے ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں تک، مونگلا بندرگاہ کو ریل کے ذریعے جوڑنے اور 1320 میگاواٹ صلاحیت کے میتری تھرمل پاور پلانٹ کے دونوں یونٹوں سے بجلی کی پیداوار شروع کرنے کا منصوبہ ہے ۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دریائے گنگا میں دنیا کی سب سے طویل ریور کروز سروس اب ہندوستانی روپے میں شروع ہو گئی ہے اور پہلی سرحد پار سے میتری گیس پائپ لائن بھی مکمل ہو گئی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستانی گرڈ کے ذریعے نیپال سے بنگلہ دیش کو بجلی کی برآمد، توانائی کے شعبے میں ذیلی علاقائی تعاون کی پہلی مثال ہے۔
مسٹر مودی نے کہا “ایک ہی سال میں زمینی سطح پر اتنے بڑے اقدامات کرنا ہمارے تعلقات کی رفتار اور پیمانے کو ظاہر کرتا ہے۔”
وزیر اعظم حسینہ کے دورے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ آج ہم نے نئے شعبوں میں تعاون کے لیے ایک بصیرت کا خاکہ تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی بات چیت میں دونوں اطراف نے گرین پارٹنرشپ، ڈیجیٹل پارٹنرشپ، بلیو اکانومی، اسپیس جیسے کئی شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا ہے اور دونوں ممالک کے نوجوان اس معاہدے سے مستفید ہوں گے۔
مسٹر مودی نے کہا ” ہند -بنگلہ دیش ‘فرینڈشپ سیٹلائٹ’ ہمارے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا، ہم نے اپنی سوچ کے مرکز میں رابطے، تجارت اور تعاون کو رکھا ہے۔ “گزشتہ دس برسوں میں، ہم نے کنیکٹیویٹی سہولیات کو دوبارہ قائم کیا ہے جو 1965 سے پہلے موجود تھیں۔”
انہوں نے کہا کہ اب ہم مزید ڈیجیٹل اور انرجی کنیکٹیویٹی پر زور دیں گے اس سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے دونوں فریقین ایس آئی پی اے پر بات چیت شروع کرنے پر متفق ہیں۔
وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ بنگلہ دیش کے سراج گنج میں زمینی کنٹینر ڈپو کی تعمیر کی ہندوستان حمایت کرے گا۔
دونوں ممالک کے درمیان دریائی پانی کے شعبے میں تعاون کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ54 دریا مشترک ہیں، یہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کو ملاتے ہیں۔ دونوں ممالک سیلاب سے نمٹنے، قبل از وقت وارننگ اور پینے کے پانی کے منصوبوں میں تعاون کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک نے 1996 کے گنگا آبی معاہدے کی تجدید کے لیے تکنیکی سطح پر بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کی ایک تکنیکی ٹیم جلد ہی بنگلہ دیش کا دورہ کرے گی تاکہ بنگلہ دیش میں دریائے تیستا کے تحفظ اور انتظام پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آج کی میٹنگ میں ہم نے دفاعی سازوسامان کی تیاری سے لے کر فوجی دستوں کو جدید بنانے تک ہر چیز پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
دونوں ممالک نے دہشت گردی اور بنیاد پرستی کے انسداد اور سرحدوں کے پرامن انتظام میں تعاون پر اپنی شراکت کو مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
نئی دہلی، 13 اگست (یو این آئی) صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعرات کے روز یہاں ملک کے معزز فنکاروں کو سال 2024 اور 2025 کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی فیلوشپ اور سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈز تفویض کیے اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین یہ فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں محترمہ مرمو نے کہا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکار مل کر ملک کا ایک ایسا ثقافتی نقشہ پیش کرتے ہیں جس میں اس ملک کی مٹی کی کہانیاں اور گیت جڑے ہیں، ایک ایسا نقشہ جس میں تنوع سے بھری اس زمین کے رقص اور تہوار سمائے ہیں اور صدیوں سے پروان چڑھنے والی اس کی زبانوں اور بولیوں کی یادیں بسیں ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ’’ ہندستان کی ثقافت جڑوں سے جڑی ہوئی ہے۔ مختلف قسم کے کھانے پینے، ملبوسات ، رقص اور موسیقی، فطرت سے متاثر ہیں۔ چہچہاتے ہوئے پرندوں، کل کل بہتے آبشاروں، درختوں، پتوں، بادلوں اور ندیوں سے ترغیب لے کر فنکار اپنے رقص اور موسیقی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تنوع اور وحدت کا یہ سنگم ہماری فنونِ لطیفہ کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔‘‘
محترمہ مرمو نے کہا کہ تمام مختلف فنون کے اسالیب میں گرو-شِشیہ (استاد و شاگرد) کی روایت کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے فنونِ لطیفہ کی سب سے اہم کتاب استاد ہی ہوتے ہیں۔ آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں ہمارے بہت سے لوک فنون پر معدوم ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایسی فنکارانہ اقسام کا نہ صرف ثبوت اور ریکارڈ رکھنا ضروری ہے بلکہ انہیں زندہ رکھنے کے لیے خصوصی کوششیں بھی ضروری ہو جاتی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ سنگیت ناٹک اکادمی اسی مقصد سے ‘کلا-دیکشا’ پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔ انہوں نے سینئر فنکاروں سے کہا کہ وہ اگلی نسل کو تیار کرنے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے کوششیں کریں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ فن کی تربیت اور سمجھ سے زندگی کو مالا مال کرنے کے لیے فطرت کو سب سے قدرتی تربیتی ادارہ مانا جاتا ہے۔ لوک اور قبائلی فنون میں زندگی کی فطری خوشی اور قدرت کے ساتھ گہرا مکالمہ نظر آتا ہے۔ ان فنکارانہ شکلوں میں برادری کی یادداشت اور اجتماعی شعور کا اظہار باآسانی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوک فنون ہندستان کی ثقافتی شناخت کی انتہائی اہم بنیاد ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکاروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین ہمارے فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سنگیت ناٹک اکادمی کو ہندستان کی ‘سوفٹ پاور’ کا ایک اہم مرکز مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ اکادمی آنے والے وقت میں بھی ہندستان کی ثقافتی توانائی سے پوری دنیا کو مستفید کرتی رہے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی-شاہ کو چین سے سونے نہیں دیں گے، بغیر نفرت کے لڑتے رہیں گے: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ تبدیلی کے لیے سیاسی طاقت کے ساتھ ہندستان کے تنوع اور ہر فرد کی اظہارِ رائے کی آزادی کی حفاظت ضروری ہے، اس لیے کانگریس بغیر نفرت اور تشدد کے اپنی اس لڑائی کو جاری رکھے گی مسٹر گاندھی نے ‘رچناتمک کانگریس’ کے قومی اجلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کے روز یہاں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور وزیر اعظم نریندر مودی لوگوں کی آزادی چھیننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کو کسی ایک طے شدہ نظام میں ڈھالنے کے بجائے ملک کے لوگوں کو اپنی بات کہنے اور اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے کی آزادی ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی پرانی طاقت چھوٹے تاجر اور چھوٹے کاروباری تھے لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے انہی طبقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ملک کے چھوٹے تاجروں اور روایتی پیشوں کو نوٹ بندی اوراشیا اورخدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے موجودہ نظام سے نقصان ہوا ہے۔ چھوٹے تاجروں کو ایک طرف کر دیا گیا اور تنظیم نیز بی جے پی کی سیاست میں بڑے سرمایہ دارانہ گروہوں کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھتا گیا۔
مسٹر گاندھی نے میڈیا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میڈیا کے ایک بڑے حصے پر بھی قبضہ ہو چکا ہے، لیکن صحافیوں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سچائی عوام تک پہنچانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو اوپر سے فون آتے ہیں اور خبریں طے کرائی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی جذبہ ہوتا ہے اور اس قومی جذبے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہندستان کے لوگوں کو کسی طاقت کے دباؤ میں اپنی آواز نہیں دبانی چاہیے۔ کسی شخص کو اپنے مذہب، ثقافت یا خیالات کی بات کے اظہار سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ آپ سکھ ہیں تو گرو نانک کی بات کر سکتے ہیں، مسلمان ہیں تو اللہ کی بات کر سکتے ہیں، جین ہیں تو مہاویر کی اور ہندو ہیں تو شیو کی بات کر سکتے ہیں۔ جس کو جو بات کرنی ہے، اسے بولنا چاہیے۔
خارجہ پالیسی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو گھیرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہندستان کو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے ایران، امریکہ اور روس کے تناظر میں کہا کہ ہندستان کے سامنے عالمی سطح پر اپنا کردار مضبوط کرنے کا موقع تھا، کیونکہ ایران، روس اور امریکہ ہندستان کے دوست ممالک تھے لیکن ہندستان کی حکومت اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ترجیح ملک کے سیاسی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور اپنے حمایتی کاروباری گروہوں سے معاشی تعاون لینے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا، “مسٹر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کے خلاف کانگریس کی لڑائی جاری رہے گی۔ یہ لڑائی نفرت اور تشدد کے راستے پر نہیں، بلکہ ملک کی ثقافت، بھائی چارے، محبت اور عدم تشدد کے راستے پر لڑی جائے گی۔ جس دن تک نریندر مودی اپنا استعفیٰ نہیں دیں گے اور امت شاہ نہیں ہٹیں گے، اس دن تک ہم انہیں سونے نہیں دیں گے۔ ہم انہیں جگائے رکھیں گے—لیکن بغیر نفرت اور بغیر تشدد کے۔”
کانگریس رہنما نے رچناتمک کانگریس کے مقصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی طاقت اس کے تنوع اور لوگوں کے اظہارِ رائے میں ہے اور کانگریس کا کام ہر آواز کو جگہ دینا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان3 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
