جموں و کشمیر
جموں وکشمیر 2024: پہلے 10 مہینوں کے دوران قریب 4990 سڑک حادثات، 703 افراد کی موت واقع، 6820 زخمی
سری نگر، جموں وکشمیر میں سال 2024 کے دوران بھی سڑک حادثوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں کئی گھروں کے چراغ بجھ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ظلمت کدے بن گئے۔
تاہم سری نگر کے ٹینگہ پورہ علاقے میں ماہ نومبر میں پیش آنے والے سڑک حادثے، جس کے نتیجے میں 2 طالب علم جاں بحق ہوئے تھے، کے بعد ٹریفک حکام نے وادی کے قرب وجوار میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف وسیع پپیمانے پر مہم تیز کر دی جس کے حوصلہ افزا نتائج بر آمد رہے ہیں اور عوامی سطح پر اس کو پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
جموں وکشمیر میں سال رواں کے پہلے 10 مہینوں کے دوران قریب 5 ہزار سڑک حادثات میں زائد از 7 سو افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جبکہ 6 ہزار 8 سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں وکشمیر میں رواں سال کے ماہ جنوری سے ماہ اکتوبر تک کل 4 ہزار 9 سو 90 سڑک حادثات رونما ہوئے ہیں جن میں 7 سو 3 افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جبکہ 6 ہزار 8 سو 20 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
جموں میں سب سے زیادہ 910 سڑک حادثات میں 105 اموات جبکہ ضلع شوپیاں میں سب سے کم 56 سڑک حادثوں میں 5 اموات واقع ہوئی ہیں۔
ادھر ٹریفک حکام نے سڑک حادثات کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے مہم کو تیز کرتے ہوئے جموں وکشمیر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف 12 لاکھ 11 ہزار 85 چالان کر دئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سری نگر میں سال رواں کے ماہ جنوری سے ماہ اکتوبر تک کل 3 سو 94 سڑک حادثات ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں 43 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ 4 سو 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل میں 1 سو 37 سڑک حادثات میں 30 اموات واقع ہوئی ہیں اور 1 سو 87 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ضلع بڈگام میں 1 سو 90 سڑک حادثات میں 12 افراد کی موت جبکہ 2 سو 92 زخمی ہوئے ہیں۔
جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں اس دوران کل 2 سو 83 سڑک حادثات ہوئے ہیں جن میں 37 افراد کی موت واقع ہوئی ہے اور 3 سو 80 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ضلع کولگام میں 1 سو 38 سڑک حادثوں میں 42 افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں اور 1 سو 64 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
جنوبی کشمیر کے ہی ضلع پلوامہ میں کل 88 سڑک حادثات ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور 1 سو 31 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ضلع شوپیاں میں کل 56 سڑک حادثات میں 5 افراد ہلاک اور 82 زخمی ہوئے ہیں اور اونتی پورہ میں 1 سو 6 سڑک حادثات میں 15 افراد کی موت جبکہ 1 سو 21 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں سال رواں کے پہلے 10 مہینوں کے دوران 1 سو 70 سڑک حادثات ہوئے ہیں جن میں 35 افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جبکہ 2 سو 55 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں کل 1 سو 1 سڑک حادثوں میں 15 افراد ہلاک اور 1 سو 31 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ضلع کپوارہ میں کل 1 سو 1 سڑک حادثات میں 5 افراد ہلاک جبکہ 1 سو 51 زخمی ہوئے ہیں نیز قصبہ ہندوارہ میں کل 72 سڑک حادثات میں 20 افراد کی موت جبکہ 1سو 3 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
شمالی کشمیر کے ہی قصبہ سوپور میں اس دوران کل 95 سڑک حادثات میں 10 افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جبکہ 1سو 16 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
صوبہ جموں کے ضلع جموں میں سال رواں کے پہلے دس مہینوں کے دوران سب سے زیادہ 9 سو 10 سڑک حادثات میں 1 سو 5 افراد از جان جبکہ 1 ہزار 2 سو 18 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ضلع سانبہ میں کل 2 سو 14 سڑک حادثات ہوئے ہیں جن میں 29 افراد کی موت واقع ہوئی ہے اور 1 سو 16 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ضلع کٹھوعہ میں کل 3 سو 72 سڑک حادثات میں 34 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 5 سو 51 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
صوبہ جموں کے ضلع اودھم پور میں اس دوران کل 3 سو 41 سڑک حادثات میں 63 افراد کی موت واقع ہوئی ہے اور 4 سو 91 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ضلع ریاسی میں کل 2 سو 52 سڑک حادثوں میں 41 افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جبکہ 3 سو 52 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ضلع ڈوڈہ میں کل 1 سو 91 سڑک حادثات میں 21 افراد ہلاک اور 2 سو 60 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ضلع کشتواڑ میں کل 1 سو 2 سڑک حادثوں میں 34 افراد از جان جبکہ 1 سو 47 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
صوبہ جموں کے ہی ضلع رام بن میں کل 2 سو 40 سڑک حادثات ہوئے ہیں جن میں 46 افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ 3 سو 13 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ضلع پونچھ میں کل 1 سو 46 سڑک حادثات میں کل 23 افراد کی موت اور 2 سو 45 افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ضلع راجوری میں کل 2 سو 87 سڑک حادثات میں 32 افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جبکہ 4 سو 54 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ڈاٹا کے مطابق ریلوے کٹرہ میں اس دوران 4 سڑک حادثے ہوئے ہیں جن میں 1 شخص کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ 4 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ سڑک حادثات کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف چالان کرنا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
یو این آئی ایم افضل-ارشید بٹ
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں یومِ آزادی سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیا
سرینگر، جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلن پربھات نے جمعرات کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں یومِ آزادی کی تقاریب سے پہلے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کو مضبوط کرنے کی ہدایت دی۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر پولیس، بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف)، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کے سینیئر حکام شامل ہوئے۔ ان میں اسپیشل ڈی جی پی (ہم آہنگی)، اے ڈی جی پی (سی آئی ڈی)، کشمیر اور جموں زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی)، رینج ڈی آئی جی، اضلاع کے ایس ایس پی اور دیگر حکام شامل تھے۔
مسٹر پربھات نے میٹنگ میں 15 اگست کی تقاریب کے لیے سیکورٹی انتظامات اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ الرٹ رہیں تاکہ یہ قومی تقریب بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں سیکورٹی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے فورسیز کی موثر تعیناتی، علاقے میں بہتر نگرانی اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔
پولیس ڈائریکٹر جنرل نے اہم مقامات، بالخصوص سرینگر کے بخشے اسٹیڈیم میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے تقریب کے مقام کے اندر اور آس پاس ٹریفک کنٹرول اور پارکنگ مینجمنٹ کو موثر طریقے سے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو بہتر رکھیں تاکہ تقریب میں شرکت کرنے والے لوگوں کو کم سے کم پریشانی ہو اور انہیں تمام ضروری سہولیات آسانی سے مل سکیں۔ سیکورٹی تیاریوں، جوانوں کی تعیناتی، انٹیلی جنس معلومات، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل پورے کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت
سری نگر، یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پورے کشمیر میں سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام نے 15 اگست کی تقریبات کو پرامن اور بلارکاوٹ یقینی بنانے کے لیے وادی کے مختلف علاقوں میں فل ڈریس ریہرسل بھی کی۔
جمعرات کو یہاں بخشی اسٹیڈیم میں فل ڈریس ریہرسل کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ودھی کمار بردی نے کہا کہ قومی تقریب کی تیاریوں کے سلسلے میں وادی کے تمام اضلاع میں سکیورٹی ریہرسل کی گئی ہے۔
بردی نے کہاکہ ’’وادی کے تمام اضلاع میں فل ڈریس ریہرسل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سکیورٹی انتظامات کی بھی مکمل ریہرسل کی گئی ہے، تاکہ 15 اگست کو ہم مرکزی تقریب کو بلارکاوٹ منعقد کر سکیں۔‘‘
گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں ہونے والے دو دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ وادی بھر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان معاملات میں تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ اضلاع کی جانب سے تمام مضبوط سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے۔‘‘
بردی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں اور 15 اگست کو ایک قومی تقریب قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے ساتھ ساتھ انتظامی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے دارالحکومت میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ انہوں نے عوام سے ان تقریبات کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
دہلی کے لال قلعہ میں 25 نومبر کو ہونے والے دھماکے، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، کو مبینہ طور پر القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) کی ایک ذیلی تنظیم سے باضابطہ طور پر جوڑے جانے سے متعلق رپورٹس کے بارے میں پوچھے جانے پر آئی جی پی نے کہا کہ پولیس کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو تفصیلات الگ سے شیئر کی جائیں گی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’ابھی ہماری معلومات میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کشمیری پنڈتوں کو مبینہ دھمکیوں کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اپنے بیان کو یومِ آزادی اور اس سے متعلق سکیورٹی انتظامات تک محدود رکھیں گے۔
حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک دھمکی آمیز خط میں چھ کشمیری پنڈتوں کے نام درج ہونے کے بعد سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کو زبانی طور پر مشورہ دیا ہے کہ وہ 20 اگست تک اپنے دفاتر میں حاضر نہ ہوں۔
وادی میں تقریباً 6,000 مہاجر ملازمین کام کر رہے ہیں۔ کشمیری پنڈتوں اور اقلیتی ملازمین کی رہائش والے کیمپوں اور دیگر مقامات پر بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان3 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
