ہندوستان
دہلی میں قرآن مجید کے نئے انگریزی ترجمہ کا اجرا
نئی دہلی، قرآن مجید کے تازہ ترین انگریزی ترجمے کا باضابطہ اجرا یہاں انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں کیا گیا اس تقریب میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے اسکالر ، مذہبی رہنما، طلبہ اور عام افراد نے شرکت کی، جس سے واضح ہوا کہ موجودہ دور میں اسلام کے پیغام کی کتنی اہمیت ہے اس موقع پر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے، جو اس ترجمے اور تشریح کے مصنف ہیں، تفصیل سے اپنے کام کے بارے میں گفتگو کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ آج کے دور میں سادہ انگریزی زبان میں ایک جدید ترجمے کی ضرورت تھی تاکہ یہ الہامی کتاب ہر فرد کے لیے قابلِ فہم ہو۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی زبان پوری دنیا میں پھیل چکی ہے لیکن جو انگریزی تراجم دستیاب ہیں وہ آج کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے اور ان کی تشریحات بھی موجودہ دور کے سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ ڈاکٹر خان کے مطابق یہ نیا ترجمہ نہ صرف مسلمانوں کو اللہ پاک کے احکامات پر عمل کرنے میں مدد دے گا بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی ایک موقع فراہم کرے گا کہ وہ اسلام کی مقدس کتاب کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔
ڈاکٹر خان ایک معروف اسلامی اسکالر ہیں، جنہوں نے جامعہ ازہر اور قاہرہ یونیورسٹی میں کسب علم کیا اور برطانیہ کی مانچسٹر یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ اب تک پچاس سے زائد کتابیں عربی، انگریزی اور اردو میں تالیف و ترجمہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تفسیری ترجمہ دو ایڈیشنز میں دستیاب ہے: ایک میں عربی متن کے ساتھ متوازی ترجمہ شامل ہے اور دوسرا صرف انگریزی ترجمے پر مشتمل ہے۔ دونوں ایڈیشنز میں حواشی اور ضمیمے شامل ہیں، جو خاص طور پر اس ترجمے کے لیے لکھے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ ترجمہ اب آن لائن بھی https://thegloriousquran.net/ پر دستیاب ہے، اگرچہ ویب ایڈیشن ابھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔
ڈاکٹر خان نے قرآن کے انگریزی ترجمے کے پسِ پردہ اپنی تحریک کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کئی تراجم موجود تھے— پہلے مستشرقین نے کیے، پھر کچھ مسلمانوں نے کیے— لیکن ان میں بہت سی غلطیاں اور کمیاں تھیں۔ خاص طور پر عبداللہ یوسف علی کے ترجمے کو مسلمانوں میں بے حد مقبولیت ملی، لیکن ڈاکٹر خان نے ۱۹۸۰ کی دہائی سے ہی محسوس کیا کہ جب بھی وہ اپنی تقاریر یا تحریروں میں کسی آیت کا ترجمہ پیش کرنا چاہتے ، تو یوسف علی کے ترجمے میں انھیں بہت خامیاں نظر آتی تھیں۔ اس مشاہدے نے انہیں یہ عزم کرنے پر مجبور کیا کہ ایک دن وہ اس ترجمے کو درست کر کے شائع کریں گے۔
ڈاکٹر خان نے جذباتی انداز میں اپنے ترجمے کی ابتدا کے بارے میں بتایا کہ سنہ ۲۰۱۰ میں جب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کے لیے گئے، تو مسجدِ حرام میں انہوں نے عہد کیا کہ وہ اب اس کام میں مزید تاخیر نہیں کریں گے۔ گھر واپسی کے بعد، جنوری ۲۰۱۱ میں انہوں نے اس منصوبے پر کام شروع کردیا۔ ابتدا میں یہ کام سست روی سے آگے بڑھا کیونکہ وہ دیگر ذمہ داریوں میں بھی مصروف تھے، لیکن ۲۰۲۰ سے ۲۰۲۳ تک انہوں نے خود کو مکمل طور پر اس ترجمے کے لیے وقف کر دیا، یہاں تک کہ اس دوران انہوں نے اخبار پڑھنا بھی ترک کر دیا۔
ڈاکٹر خان نے بتایا کہ اس کام کے دوران صرف مستند اور قدیم ترین عربی مآخذ کو استعمال کیا گیا ہے اور ترجمہ اور اسلام کا تعارف انہی اصولوں پر کیا گیا ہےجن پر ابتدائی مسلم علما اور مفسرین نے کام کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کسی بھی قسم کی فلسفیانہ، فقہی یا لسانی بحث سے اجتناب کیا ہےکیونکہ یہ اکثر مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور انتشار کا باعث بنتی ہیں۔ اگرچہ یہ کام عبداللہ یوسف علی کے ترجمے کی اصلاح کے طور پر شروع ہوا تھا، لیکن آہستہ آہستہ یہ ایک بالکل نئے ترجمے کی شکل اختیار کر گیا، جس میں قرآن کا مفصل تعارف، نبی کریم کی سیرت پر ایک مفصل باب اور کئی ضمیمے شامل کیے گئے ہیں، جو اسے ایک جامع اسلامی انسائیکلوپیڈیا بنا دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ عربی زبان کو بخوبی جانتے ہیں بالکل عربوں کی طرح لیکن اس کے باوجود انہوں نے قرآن کے الفاظ، اصطلاحات اور تراکیب کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے گہرائی سے تحقیق اور لغوی ریسرچ کیا۔
تقریب کی صدارت ڈاکٹر سیدہ سیدین حمید، سابق رکن پلاننگ کمیشن آف انڈیا، نے کی۔ دیگر مقررین میں پروفیسر سلیم انجینئر، نائب صدر جماعت اسلامی ہند، مولانا محب اللہ ندوی ، رکن پارلیمنٹ، پروفیسر عبدالماجد قاضی ، شعبہ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ، پروفیسر محمد قطب الدین ،شعبہ عربی جواہر لال نہرو یونیورسٹی، ڈاکٹر وارث مظہری ،شعبہ اسلامیات جامعہ ہمدرد اور عبد الودود ساجد،مدیر انقلاب،دہلی ، شامل تھے۔
تقریب کے آغاز میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر اور دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا، جو دہلی سے باہر ہونے کی وجہ سے تقریب میں شریک نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بچپن سے لے کر آج تک قرآن کے کئی انگریزی تراجم پڑھے ہیں، لیکن ڈاکٹر خان کے ترجمے کو “بہترین میں بہترین” قرار دینے میں انہیں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ’’آسان زبان میں یہ ترجمہ ہم کو نہ صرف اول درجے کا ترجمہ فراہم کرتا ہے بلکہ ایسی تشریحات بھی فراہم کرتا ہے جس میں ان سب چیزوں کا جواب ہے جن کے بارے میں ہم برسوں سے سوال کرتے تھے‘‘۔عبدالودود ساجد نے ڈاکٹر خان کے ترجمے کو “شاندار کارنامہ” قرار دیا اور قرآن پاک میں موجود سماجی انصاف کے احکام پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جماعت کے امیر سید سعادت اللہ حسینی اس بابرکت محفل میں شرکت کرنے والے تھے لیکن انہیں اچانک ایک خاندانی ایمرجنسی کے باعث حیدرآباد جانا پڑا۔ پروفیسر انجینئر نے کہا کہ ڈاکٹر خان کا انگریزی ترجمہ نہایت آسان زبان میں ہے اور اسے پڑھنے کے لیے لغت کی ضرورت نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس ترجمے کا مقدمہ، حواشی اور ضمیمے بہت مفصل ہیں جن سےان بہت سے سوالات کا جواب ملتا ہےجو انگریزی داں لوگ قرآن پاک کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔
مولانا محب اللہ ندوی (رکن پارلیمنٹ) نے ڈاکٹر خان کے کام کو انتہائی محنت طلب اور مستند قرار دیا اور کہا کہ اس سے لاکھوں لوگ مستفید ہوں گے۔ انھوں نے کہا یہ ایک بہت خوبصورت کوشش ہے۔
پروفیسر عبدالماجد قاضی نے اس ترجمے کی تاریخی حیثیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ انہوں نے اس ترجمے کو مکمل طور پر پڑھا ہے اور اسے نہایت خوبصورت اور بہترین پایا ہے۔ انہوں نے قرآن کے مختلف زبانوں میں ترجمے کی تاریخ پر روشنی ڈالی، جو ابتدائی طور پر لاتینی اور دیگر یورپی زبانوں میں کیے گئے تھے۔ یہ تراجم زیادہ تر مستشرقین اور عیسائی علماء نے کیے، تاکہ اسلامی مقدس کتاب کی ایک غلط تشریح پیش کر سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی تراجم کا مقصد عیسائیت کو اسلام پر برتر ثابت کرنا تھا۔
انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ قرآن پاک کے سو سے زیادہ انگریزی تراجم ہو چکے ہیں، جو زیادہ تر مستشرقین اور قادیانیوں نے کیے ہیں۔ تاہم بعد میں مسلمانوں نے بھی قرآن کا ترجمہ کرنا شروع کیا۔ مسلمانوں کے کیے گئے تراجم میں سب سے نمایاں مارماڈوک پکتھال کا ترجمہ ہے، اس کے بعد عبداللہ یوسف علی اور محمد اسد کا ترجمہ آتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان ابتدائی تراجم میں نمایاں کمزوریاں تھیں، جبکہ ڈاکٹر خان کے ترجمے نے بڑی حد تک ان خامیوں کو دور کر دیا ہے، جس کی وجہ سے یہ ایک نہایت خوبصورت اور قابل قبول ترجمہ بن گیا ہے۔ پروفیسر عبدالماجد نے اس بات کو زور دے کر کہا کہ ڈاکٹر خان کا ترجمہ سادہ زبان میں ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس قدر سادہ اور بامحاورہ ترجمہ تخلیق کرنا ایک نہایت مشکل کام ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کے لیے انہوں نے ایک اطالوی کہاوت بیان کی جس کے معنی ہے ’’ترجمہ خیانت ہے‘‘، جس کا مطلب ہے کہ کسی کتاب کے اصل مفہوم کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے مترجم کو دونوں زبانوں پر مکمل عبور حاصل ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے کام کے ساتھ انصاف کر سکے۔
پروفیسر محمد قطب الدین نے ڈاکٹر خان کے ترجمے کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ڈاکٹر خان صرف ایک مترجم ہی نہیں بلکہ ایک گہرے عالم دین بھی ہیں جو جہاں ضرورت ہو اجتہاد کرتے ہیں، مخصوص اصطلاحات اور عبارات کو واضح کرتے ہیں، جن میں خواتین کے حجاب، ذمیوں کے حقوق، جدید ہجرت کے مسائل اور اقلیت کے طور پر رہنے والے مسلمانوں کے مسائل شامل ہیں۔
ڈاکٹر وارث مظہری نے کہا کہ قرآن کا یہ ترجمہ نہایت آسان اور سادہ ہونے کے ساتھ جامع بھی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مترجم کا دونوں زبانوں پر مہارت رکھنا ضروری ہے، اسے عبارت کی فصاحت کو گہرائی سے سمجھنا چاہیے، اور جس چیز کا ترجمہ کر رہا ہو، اس پر ایمان بھی رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام خوبیاں ڈاکٹر خان میں موجود ہیں، جو عربی اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں سے متعلق موجودہ مسائل کی گہری سمجھ بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس ترجمہ کو سراہا کہ اس میں عصری مسائل جیسے خواتین کا مقام، سیاست، دفاعی جہاد، اور جدید تصورات جیسے ذمیوں کی حیثیت، سنگساری، ارتداد اور جدید زندگی میں خواتین کے مقام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر خان نے ان تمام موضوعات کو اپنے ترجمے میں نہایت خوبصورت انداز میں سمو دیا ہے۔آخر میں تقریب کی صدر ڈاکٹر سیدہ سیدین حامد نے ڈاکٹر ظفر الاسلام کو اس عظیم کامیابی پر مبارکباد دی اور اس تقریب میں شرکت پر خوشی ظاہر کی۔
اس تقریب کی نظامت معروف اردو صحافی اور مصنف معصوم مرادآبادی نے کی، جنہوں نے ڈاکٹر ظفرالاسلام کی علمی، صحافتی اور سماجی خدمات کا تعارف کرایا اور بتایا کہ وہ پچھلے پچاس برسوں سے بطور اسلامی اسکالر، صحافی اور ہندوستانی مسلم سماج کے ایک لیڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن مجید اور اس کے ترجمے سے ہوا، جس نے پوری مجلس پر ایک روحانی کیفیت طاری کر دی۔ اس کے بعد ماہرالقادری کی ایک نظم پڑھی گئی، جس میں قرآن مسلمانوں سے شکوہ کرتا ہے کہ انہوں نے اسے ترک کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ف ا- م ا
ہندوستان
ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
نئی دہلی، 13 اگست (یو این آئی) صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعرات کے روز یہاں ملک کے معزز فنکاروں کو سال 2024 اور 2025 کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی فیلوشپ اور سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈز تفویض کیے اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین یہ فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں محترمہ مرمو نے کہا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکار مل کر ملک کا ایک ایسا ثقافتی نقشہ پیش کرتے ہیں جس میں اس ملک کی مٹی کی کہانیاں اور گیت جڑے ہیں، ایک ایسا نقشہ جس میں تنوع سے بھری اس زمین کے رقص اور تہوار سمائے ہیں اور صدیوں سے پروان چڑھنے والی اس کی زبانوں اور بولیوں کی یادیں بسیں ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ’’ ہندستان کی ثقافت جڑوں سے جڑی ہوئی ہے۔ مختلف قسم کے کھانے پینے، ملبوسات ، رقص اور موسیقی، فطرت سے متاثر ہیں۔ چہچہاتے ہوئے پرندوں، کل کل بہتے آبشاروں، درختوں، پتوں، بادلوں اور ندیوں سے ترغیب لے کر فنکار اپنے رقص اور موسیقی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تنوع اور وحدت کا یہ سنگم ہماری فنونِ لطیفہ کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔‘‘
محترمہ مرمو نے کہا کہ تمام مختلف فنون کے اسالیب میں گرو-شِشیہ (استاد و شاگرد) کی روایت کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے فنونِ لطیفہ کی سب سے اہم کتاب استاد ہی ہوتے ہیں۔ آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں ہمارے بہت سے لوک فنون پر معدوم ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ایسی فنکارانہ اقسام کا نہ صرف ثبوت اور ریکارڈ رکھنا ضروری ہے بلکہ انہیں زندہ رکھنے کے لیے خصوصی کوششیں بھی ضروری ہو جاتی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ سنگیت ناٹک اکادمی اسی مقصد سے ‘کلا-دیکشا’ پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے۔ انہوں نے سینئر فنکاروں سے کہا کہ وہ اگلی نسل کو تیار کرنے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے کوششیں کریں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ فن کی تربیت اور سمجھ سے زندگی کو مالا مال کرنے کے لیے فطرت کو سب سے قدرتی تربیتی ادارہ مانا جاتا ہے۔ لوک اور قبائلی فنون میں زندگی کی فطری خوشی اور قدرت کے ساتھ گہرا مکالمہ نظر آتا ہے۔ ان فنکارانہ شکلوں میں برادری کی یادداشت اور اجتماعی شعور کا اظہار باآسانی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوک فنون ہندستان کی ثقافتی شناخت کی انتہائی اہم بنیاد ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکاروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ ہندستانی روایت کے امین ہمارے فنکار ملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سنگیت ناٹک اکادمی کو ہندستان کی ‘سوفٹ پاور’ کا ایک اہم مرکز مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ اکادمی آنے والے وقت میں بھی ہندستان کی ثقافتی توانائی سے پوری دنیا کو مستفید کرتی رہے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مودی-شاہ کو چین سے سونے نہیں دیں گے، بغیر نفرت کے لڑتے رہیں گے: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ تبدیلی کے لیے سیاسی طاقت کے ساتھ ہندستان کے تنوع اور ہر فرد کی اظہارِ رائے کی آزادی کی حفاظت ضروری ہے، اس لیے کانگریس بغیر نفرت اور تشدد کے اپنی اس لڑائی کو جاری رکھے گی مسٹر گاندھی نے ‘رچناتمک کانگریس’ کے قومی اجلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کے روز یہاں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور وزیر اعظم نریندر مودی لوگوں کی آزادی چھیننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کو کسی ایک طے شدہ نظام میں ڈھالنے کے بجائے ملک کے لوگوں کو اپنی بات کہنے اور اپنی شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے کی آزادی ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی پرانی طاقت چھوٹے تاجر اور چھوٹے کاروباری تھے لیکن نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے انہی طبقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ ملک کے چھوٹے تاجروں اور روایتی پیشوں کو نوٹ بندی اوراشیا اورخدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے موجودہ نظام سے نقصان ہوا ہے۔ چھوٹے تاجروں کو ایک طرف کر دیا گیا اور تنظیم نیز بی جے پی کی سیاست میں بڑے سرمایہ دارانہ گروہوں کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھتا گیا۔
مسٹر گاندھی نے میڈیا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میڈیا کے ایک بڑے حصے پر بھی قبضہ ہو چکا ہے، لیکن صحافیوں کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سچائی عوام تک پہنچانی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو اوپر سے فون آتے ہیں اور خبریں طے کرائی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی جذبہ ہوتا ہے اور اس قومی جذبے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہندستان کے لوگوں کو کسی طاقت کے دباؤ میں اپنی آواز نہیں دبانی چاہیے۔ کسی شخص کو اپنے مذہب، ثقافت یا خیالات کی بات کے اظہار سے نہیں روکا جانا چاہیے۔ آپ سکھ ہیں تو گرو نانک کی بات کر سکتے ہیں، مسلمان ہیں تو اللہ کی بات کر سکتے ہیں، جین ہیں تو مہاویر کی اور ہندو ہیں تو شیو کی بات کر سکتے ہیں۔ جس کو جو بات کرنی ہے، اسے بولنا چاہیے۔
خارجہ پالیسی پر وزیر اعظم نریندر مودی کو گھیرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہندستان کو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے ایران، امریکہ اور روس کے تناظر میں کہا کہ ہندستان کے سامنے عالمی سطح پر اپنا کردار مضبوط کرنے کا موقع تھا، کیونکہ ایران، روس اور امریکہ ہندستان کے دوست ممالک تھے لیکن ہندستان کی حکومت اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی ترجیح ملک کے سیاسی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور اپنے حمایتی کاروباری گروہوں سے معاشی تعاون لینے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا، “مسٹر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کے خلاف کانگریس کی لڑائی جاری رہے گی۔ یہ لڑائی نفرت اور تشدد کے راستے پر نہیں، بلکہ ملک کی ثقافت، بھائی چارے، محبت اور عدم تشدد کے راستے پر لڑی جائے گی۔ جس دن تک نریندر مودی اپنا استعفیٰ نہیں دیں گے اور امت شاہ نہیں ہٹیں گے، اس دن تک ہم انہیں سونے نہیں دیں گے۔ ہم انہیں جگائے رکھیں گے—لیکن بغیر نفرت اور بغیر تشدد کے۔”
کانگریس رہنما نے رچناتمک کانگریس کے مقصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی طاقت اس کے تنوع اور لوگوں کے اظہارِ رائے میں ہے اور کانگریس کا کام ہر آواز کو جگہ دینا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
