تازہ ترین
10مہینوں میں 164نوجوان جنگجوؤں کی صف میں شامل:رپورٹ
خبراردو:
ریاست جموں وکشمیر میں تعینات سیکورٹی ایجنسیوں نے آنے والے موسم سرما کے دوران جنگجوؤں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سیکورٹی ایجنسیوں نے وادی میں نوجوانوں کی عسکریت پسندوں کی صفوں میں شمولیت سے متعلق اعداد و شمار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10مہینوں کے دوران وادی کے سبھی اضلاع سے تعلق رکھنے والے 164نوجوانوں نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں کہی زیادہ ہے اور موسم سرما کے دوران اس میں مزید اضافہ ہونے کا قوی امکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرحدی علاقوں میں برف باری کی وجہ سے راستوں پر برف کی تہہ جمع ہونے کے نتیجے میں جنگجوؤں کو اس پار داخل ہونے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لہٰذا سیکورٹی ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ برف باری سے قبل ہی جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد سرحد عبور کرنے کی تاک میں ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سال رواں میں نوجوانوں کی عسکری صفوں میں شمولیت کے نتیجے میں یہ قوی امکان ہے کہ موجودہ تعداد 350سے 400تک پہنچے کا اندیشہ ہے۔سیکورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ سال 2015میں 66نوجوانوں نے عسکریت پسندوں کی صفوں میں شمولیت کا باضابطہ آغازکردیا جس کے بعد سال 2016میں یہ تعداد 88تک پہنچ گئی۔
ایجنسیوں نے رپورٹ میں واضح کردیا ہے کہ سال 2017میں 120نوجوانوں نے جنگجوئیت کی راہ اختیار کی۔انہوں نے بتایا کہ سال رواں کے فروری اور مارچ مہینوں میں نوجوانوں کی جنگجوئیت کے تئیں کمی دیکھنے کو ملی تاہم سال رواں کے جون، جولائی اور اگست میں اس میں ہوشربا اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ اگست 2018میں 25نوجوانوں نے حزب المجاہدین، لشکر طیبہ اور جیش محمد نامی عسکری گروپوں میں شمولیت کی جبکہ جون اور جولائی مہینوں میں بالترتیب 24اور 25نوجوانوں نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی۔سیکورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے سب سے بڑی تعداد جیش محمد نامی عسکری گروپ میں شامل ہیں جس کے مطابق سال رواں کے جنوری مہینے سے اب تک 60نوجوان اس تنظیم میں شامل ہوئے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوجوانوں کی مجموعی تعداد جنوبی کشمیر کے کولگام، اننت ناگ، شوپیان اور پلوامہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ انہوں نے بتایاکہ سال رواں کے دوران جن نوجوانوں نے ہتھیار اُٹھائے اُن میں 164جنگجوؤں میں سے 50کا تعلق ضلع پلوامہ سے ہیں جبکہ اسی طرح ضلع شوپیان میں بھی سال رواں کے دوران 30نوجوانوں کا بندوق تھامے۔
سیکورٹی کے ایک اعلیٰ حکام نے بتایا کہ وادی میں نوجوانوں کی جنگجوؤں کے صفوں میں بھرتی انتہائی تشویش کن معاملہ ہے جس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن فراہم کرنے والی دفعہ 35A، سابق مخلوط حکومت پی ڈی پی اور بی جے پی کا رشتہ منقطع ہونا اور اس کے نتیجے میں وادی بھر میں امن و قانون کی صورتحال درپیش رہنا جیسی کئی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے وادی میں نوجوانوں کی عسکری صفوں میں شمولیت میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔سیکورٹی ایجنسیوں نے جنگجومخالف آپریشنوں کے دوران سال رواں کے جنوری سے 26اکتوبر تک 180جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا جبکہ سال گزشتہ میں فورسز اہلکاروں نے 210جنگجوؤں کو مختلف آپریشنوں کے دوران مارگرایا۔اس حوالے سے سابق ڈی جی پی سکمز جنہوں نے انٹلی جینس بیورو میں کشمیر ڈیسک کو کئی برس تک سنبھالا ہے نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر پاکستانی کی طرف سے مسلسل دراندازی اور گولہ باری سے یہ بات پایہ تکمیل کو پہنچ جاتی ہے کہ پاکستان ریاست جموں وکشمیر میں صرف خون خراب کو روکنے میں مخلص نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سرحدوں پر تناؤ اور تشویش کن صورتحال کو رفع کرنے کی خاطر مفاہمت کا طریق کار اپنانے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی سرکار نے ریاست میں امن وامان کو بحال کرنے اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے ماہ رمضان کے دوران جنگجو مخالف آپریشنوں پر روک لگادی مگر بدقسمتی سے جنگجوؤں نے نئی دہلی کی پیش رفت کو مؤثر طریقے پر جواب نہیں دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرکزی سرکار ریاست میں زمینی سطح پر امن کی راہ کو ہموار کرنے کی جدوجہد کررہی ہے جس کے نتیجے میں حال ہی میں مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے بھی وادی کا دورہ کرکے یہاں حالات کا جائزہ لیا۔
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
