دنیا
امریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
واشنگٹن/تہران، امریکہ اور ایران جنگ کے سفارتی حل کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے طریقہ کار اور کسی ممکنہ معاہدے کے مقاصد پر گہرے اختلافات کے باعث معاہدے تک پہنچنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
گزشتہ 18 ماہ میں مذاکرات کے دو دور ناکام ہونے کے بعد دو جنگیں ہوچکی ہیں۔ جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت بھی چند دنوں میں ناکام ہوگئی اور دوبارہ لڑائی شروع ہوگئی۔ موجودہ سفارتی کوشش ناکام ہونے کی صورت میں آنے والے ہفتوں میں ایک اور تنازع کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے مذاکراتی انداز میں نمایاں فرق بھی بڑی رکاوٹ ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ فوری معاہدے کے خواہاں ہیں، جبکہ ایران طویل اور مرحلہ وار مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے تاکہ وقت کو مذاکراتی برتری حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔
دونوں ممالک معاہدے کی نوعیت پر بھی مختلف موقف رکھتے ہیں۔ ٹرمپ ایسا جامع معاہدہ چاہتے ہیں جو امریکہ-ایران تعلقات اور پورے مغربی ایشیا پر اثرانداز ہو، جبکہ ایرانی حکام محدود دائرہ کار والے، بالواسطہ اور کم تشہیر کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، جسے تہران مستقل امن کے بجائے جنگ بندی کے قریب سمجھتا ہے۔
مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ باہمی عدم اعتماد ہے۔ ایرانی حکام کا الزام ہے کہ ٹرمپ نے مذاکرات کے دوران حملے کرکے وعدہ خلافی کی، جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ جون کی مفاہمت کی خلاف ورزی ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملہ کرکے کی۔
امریکی حکام کو یہ خدشہ بھی ہے کہ ایران کی طاقتور پاسداران انقلاب اور دیگر سخت گیر عناصر حکومت کے نسبتاً معتدل حلقوں کی جانب سے کیے گئے کسی معاہدے کی پابندی نہیں کریں گے۔
دونوں ممالک کی داخلی سیاست بھی مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ایران میں سفارت کاری کے حامی حلقوں کو سخت گیر عناصر کی تنقید کا سامنا ہے، جبکہ ٹرمپ کو امریکہ میں معاہدے کی مخالفت کرنے والے قدامت پسند حلقوں اور ایسے معاہدے پر بائیں بازو کی تنقید کا سامنا ہے جو جنگ سے پہلے کی صورت حال بحال کرے یا 2015 کے جوہری معاہدے جیسا دکھائی دے۔
ٹرمپ نے جمعرات کو شائع ہونے والے ٹائم میگزین کے انٹرویو میں ایران کی موجودہ تجویز کو ’’کافی نہیں‘‘ قرار دیا اور کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ ایران کے ساتھ کبھی امن قائم ہوسکتا ہے۔ انہوں نے وسط مدتی انتخابات کے بعد بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان کو بھی برقرار رکھا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعرات کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کبھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا اور نہ ہٹے گا، تاہم امریکہ کو یہ خیال ترک کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کے ذریعے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔
ایرانی پاسداران۔ انقلاب کے بعض عہدیدار اب بھی مذاکرات کے مخالف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جنگ کا خاتمہ میدان جنگ میں دباؤ بڑھا کر ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق ایران کا بنیادی مطالبہ خطے سے تمام امریکی فوجی دستوں کا انخلا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ طویل عرصے تک جنگی حالت برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر حملے کیے تو حوثیوں کا ‘فوری اور سخت’ جوابی کارروائی کا انتباہ
صنعاء، یمن کی حوثی تحریک نے منگل کو دھمکی دی کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ مل کر فوجی حملوں میں حصہ لیا تو امریکہ اور خطے میں اس کے مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے ‘فوری اور سخت’ جواب دیا جائے گا۔
حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ انتباہ دیا۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان پر غور کرنے کی بات کہی تھی۔
البخیتی نے کہا، ”اگر امریکہ یمن کے خلاف جارحیت میں شامل ہوتا ہے تو ہم جوابی کارروائی کے فیصلے پر غور کرنے میں وقت ضائع نہیں کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس کا ہدف خطے میں امریکی مفادات ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر کام کرنے والے تمام ملازمین اور کارکنوں کو ان مقامات سے دور رہنا چاہیے، کیونکہ اب یہ ”جائز اہداف” بن چکے ہیں۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز ہوائی اڈے پر حملے کے بعد حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے امکان پر غور کرنے کی بات کہی تھی۔
دریں اثنا، امریکی صدر نے کہا کہ یمن کے حوثی ”بہت بری حرکتیں کر رہے ہیں” اور انہوں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس سے اوہائیو روانہ ہوتے وقت صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا، ”حوثی بہت بری حرکتیں کر رہے ہیں۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔”
ان کا یہ بیان سعودی عرب پر حوثیوں کے مسلسل حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان میں ہفتے کے آخر میں ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے بھی شامل ہیں، جن میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
سعودی حکام نے ریاض کے ہوائی اڈے پر آپریشن کی معطلی میں ہفتے تک توسیع کر دی ہے۔
ادھر سعودی عرب کے وزیر توانائی نے مملکت کے ہوائی اڈوں اور تیل و گیس کی تنصیبات پر یمن کی ایران حمایت یافتہ حوثی تحریک کے مہلک حملوں کا ‘سنجیدہ’ جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ریاض میں منعقدہ ڈبلیو پی سی انرجی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”حالیہ ہفتوں کے واقعات سنگین ہیں۔ ہمارا جواب بھی اتنا ہی سنجیدہ ہونا چاہیے۔”
یہ کشیدگی سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے سلسلے کے بعد بڑھی ہے۔ ان میں ہفتے کے روز ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ بھی شامل ہے، جس میں سعودی حکام کے مطابق 13 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔
گزشتہ چند روز کے دوران حوثیوں نے سعودی بنیادی ڈھانچے پر حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ سعودی قیادت والا اتحاد یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
منگل کو اتحاد نے ریاض کے شمال میں تین ڈرونز کو روک کر تباہ کرنے کی اطلاع دی اور حوثیوں کے زیرِ کنٹرول دارالحکومت صنعاء میں فوجی کارروائی کا اعلان کیا۔ اتحاد نے کارروائی سے قبل شہریوں سے ایک مرکزی ایندھن اسٹیشن خالی کرنے کی اپیل بھی کی۔
دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی سے وسیع تر علاقائی جنگ کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جبکہ امریکہ کی براہِ راست شمولیت کے امکان نے سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا دورۂ ایشیا کے دوران شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کا امکان
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اپنے آئندہ دورۂ ایشیا کے دوران شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان سے واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا وہ اپنے دورے کے دوران کم جونگ اُن سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں، تو انہوں نے کہا، ”ممکن ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، ”یہ دلچسپ ہوگا، ہے نا؟ لیکن میرے ان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔”
ٹرمپ 18 اور 19 نومبر کو چین کے شہر شینزن میں ہونے والی ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (اے پیک) سربراہی کانفرنس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز اوہائیو میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ کم جونگ اُن کے ساتھ ان کے ”بہت اچھے تعلقات” ہیں۔ انہوں نے جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ خوش گوار تعلقات برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ٹرمپ شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کو کوئی ”رعایت” نہیں سمجھتے اور اگر اس سے امریکی قومی مفادات کو فائدہ پہنچتا ہے تو وہ پیانگ یانگ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان جنوبی کوریا کی فوج کی جانب سے شمالی کوریا کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی طرف متعدد بیلسٹک میزائل داغے جانے کی اطلاع کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (جے سی ایس) کے مطابق، پیر کو پیانگ یانگ کے علاقے سے داغا گیا ایک میزائل 900 کلومیٹر (559 میل) سے زیادہ فاصلے تک گیا۔ فوج نے میزائلوں کی مجموعی تعداد نہیں بتائی۔
جاپان کے نائب وزیر دفاع تاکاشی کویاری نے بتایا کہ کم از کم دو میزائل 17 منٹ کے وقفے سے داغے گئے اور جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر جا گرے۔
ان کے مطابق، پہلے میزائل نے تقریباً 220 کلومیٹر (137 میل) جبکہ دوسرے نے 910 کلومیٹر (565 میل) سے زیادہ فاصلہ طے کیا۔ کویاری نے دوسرے میزائل کے غیر معمولی پروازی راستے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس سے شبہ ہوتا ہے کہ وہ ہائپرسونک ہتھیار ہو سکتا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے میزائل تجربات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور پیانگ یانگ سے انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
ٹرمپ نے اگست کے اوائل میں بھی کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ وہ رواں سال کے اواخر میں کم جونگ اُن سے ملاقات کریں گے۔ اس بیان سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی تھی کہ وہ ذاتی سفارت کاری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر سکتے ہیں، جس کے تحت ان کی پہلی مدتِ صدارت میں دونوں رہنماؤں کے درمیان تین براہِ راست ملاقاتیں ہوئی تھیں۔
۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کی برطانوی الزامات کی تردید، آر اے ایف فیئر فورڈ واقعے پر ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ
لندن، ایران نے منگل کو برطانیہ کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ امریکی فوج کے زیر استعمال برطانوی فضائی اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ میں پیش آنے والے سکیورٹی واقعے کے پیچھے تہران کا ہاتھ تھا۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے اس واقعے کے ایران میں منظم کیے جانے کا ”بہت زیادہ امکان” ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی ہدایت تقریباً یقینی طور پر ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دی تھی۔
ایران کی وزارت خارجہ نے برطانیہ کے الزامات کو ”بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”بہت زیادہ امکان” اور ”تقریباً یقینی” جیسی اصطلاحات مبہم ہیں اور ان کے حق میں ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، تہران نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے الزامات کے حق میں ثبوت پیش کرے۔
برنہم نے پیر کو ایوانِ نمائندگان میں کہا تھا کہ برطانیہ کے پاس 27 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کے ”مضبوط اشارے” موجود ہیں۔ اس واقعے کے بعد جنوب مغربی انگلینڈ میں واقع فضائی اڈے پر سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا تھا اور امریکی بی ون بمبار طیاروں کو وہاں سے ہٹا لیا گیا تھا۔
برنہم نے کہا، ”ہماری جانچ کے مطابق اس واقعے کو ایران میں منظم کیے جانے کا بہت زیادہ امکان ہے اور تقریباً یقینی طور پر اس کی ہدایت ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے دی تھی۔ ہم اپنی سرزمین پر ایسے خطرات برداشت نہیں کریں گے۔”
برطانوی حکومت نے اس واقعے پر ایران کے سفیر علی موسوی کو طلب کیا، جبکہ وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے دو ایرانی شہریوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا۔ ان پر تہران کی جانب سے مخالفانہ سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
ملی بینڈ کے مطابق، پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا، سفری پابندی اور کمپنی کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہونے سے نااہل قرار دینا شامل ہے۔
برطانیہ نے جن دو افراد کے نام ظاہر کیے ہیں، ان میں روح اللہ بازغندی شامل ہیں، جنہیں برطانوی حکام نے آئی آر جی سی میں انسدادِ جاسوسی کارروائیوں کا سربراہ بتایا ہے۔ دوسرے شخص شہرام علی رضا تمرزادہ زکی ہیں، جن پر زندشتی جرائم پیشہ نیٹ ورک کو سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
برنہم نے کہا کہ برطانیہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق، حکومت جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور ان کی مالی معاونت کے ذرائع کو نشانہ بنانے کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرے گی۔
27 ستمبر کو آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب پانچ برطانوی شہریوں کو دہشت گردی اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں انہیں سخت شرائط کے تحت ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جبکہ چند روز بعد ایک اور گرفتاری عمل میں آئی۔
پولیس نے بتایا تھا کہ وہ کسی غیر ملکی ریاست کے ملوث ہونے کے امکان کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ اس سے قبل ایک مقامی کسان نے فضائی اڈے کے قریب چند افراد اور کئی سفید وینوں کی مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع دی تھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، تفتیش کاروں کو گاڑیوں میں پیٹرول سمیت آتش گیر مادے ملے تھے، تاہم دھماکہ خیز مواد سے متعلق مبینہ منصوبے کی حقیقت اور اس کی عملی حیثیت ابھی واضح نہیں تھی۔
اس واقعے کے بعد امریکی بی ون بمبار طیاروں کو آر اے ایف فیئر فورڈ سے ہٹا لیا گیا، جبکہ بی 52 بمبار طیارے فضائی اڈے پر موجود رہے۔
دریں اثنا، 29 ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے ایران پر ان کے اور ان کے شراکت داروں کے خلاف پُرتشدد حملوں، مبینہ مہلک سازشوں، آتش زنی، تخریب کاری اور سائبر حملوں سمیت دیگر مخالفانہ سرگرمیوں کی مذمت کی۔ بیان پر دستخط کرنے والے ممالک میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اسپین اور آئرلینڈ شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
ہندوستان6 days agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
دنیا7 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: بارہمولہ میں پولیس نے موبائل، سم اور جراثیم کش دوا کی دکانوں پر جانچ مہم چلائی
