دنیا
فرانس میں طلبہ کے احتجاج میں شدت، تقریباً 400 اسکول بند، پولیس سے جھڑپیں
پیرس، فرانس میں عملے کی کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ اور اسکولوں کی خراب حالت کے خلاف ہائی اسکول طلبہ کا ملک گیر احتجاج جمعہ کو مزید شدت اختیار کر گیا۔ اس دوران تقریباً 400 اسکول بند رہے اور کئی شہروں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق احتجاج شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 3,000 لائسِی طلبہ کو پولیس حراست میں لیا جا چکا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق صرف جمعرات کو 1,949 طلبہ کو حراست میں لیا گیا۔
گزشتہ ہفتے پیرس کے علاقے سے شروع ہونے والا یہ احتجاج اب ملک بھر میں پھیل گیا ہے اور اس میں تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ فرانس 24 کے مطابق وزیر تعلیم ایڈوارڈ گفری نے کہا کہ فرانس کے 3,700 ہائی اسکولوں میں سے تقریباً 400 جمعہ کو بند رہنے کی توقع ہے، جبکہ تقریباً 100 اسکولوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پیرس میں دو ہائی اسکولوں کے داخلی راستوں کو آگ لگنے سے نقصان پہنچا، جبکہ بریسٹ میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
اسٹراسبرگ، مارسی، نانٹ اور دیگر شہروں میں بھی پولیس اور طلبہ کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔
وزیر انصاف ژیرالڈ دارماناں نے پراسیکیوٹرز پر زور دیا ہے کہ مبینہ طور پر طلبہ کی جانب سے کیے گئے نقصانات کے سلسلے میں ان کے والدین کے خلاف دیوانی ذمہ داری کے دعوے دائر کیے جائیں۔
وزیر تعلیم گفری نے بتایا کہ کم از کم 65 ملازمین، جن میں 40 ہائی اسکولوں کے پرنسپل بھی شامل ہیں، زخمی ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً 170 طلبہ بھی زخمی ہوئے۔ انہوں نے تشدد کو ’’انتہائی پرتشدد عناصر‘‘ کی جانب سے طلبہ تحریک پر قبضہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔
طلبہ نے اسکولوں میں طویل اوقاتِ کار، گنجائش سے زیادہ کلاسیں، اساتذہ کی کمی، عملے کی غیر حاضری اور ناکافی سہولیات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان میں ہیٹ ویو کے دوران کلاس رومز کا حد سے زیادہ گرم ہو جانا بھی شامل ہے۔
طلبہ نے اسکولوں کی بندش کو اپنی کامیابی قرار دیا ہے اور پولیس پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
فرانس کے 2027 کے صدارتی انتخابات سے قبل احتجاج نے سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا ہے۔ حکومت نے بائیں بازو کی جماعت ’’فرانس اَن بووڈ‘‘ (ایل ایف آئی) پر طلبہ تحریک کی حوصلہ افزائی کا الزام عائد کیا ہے۔ ایل ایف آئی کے رہنما مینوئل بومپار نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ’’سازشی نظریات کی طرف جا رہی ہے‘‘۔
وزیر تعلیم گفری جمعہ کو تعلیمی شعبے کی یونینوں اور ہائی اسکول طلبہ کی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے تاکہ بات چیت کا آغاز کیا جا سکے اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جائے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر حملے کیے تو حوثیوں کا ‘فوری اور سخت’ جوابی کارروائی کا انتباہ
صنعاء، یمن کی حوثی تحریک نے منگل کو دھمکی دی کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ مل کر فوجی حملوں میں حصہ لیا تو امریکہ اور خطے میں اس کے مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے ‘فوری اور سخت’ جواب دیا جائے گا۔
حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ انتباہ دیا۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان پر غور کرنے کی بات کہی تھی۔
البخیتی نے کہا، ”اگر امریکہ یمن کے خلاف جارحیت میں شامل ہوتا ہے تو ہم جوابی کارروائی کے فیصلے پر غور کرنے میں وقت ضائع نہیں کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس کا ہدف خطے میں امریکی مفادات ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر کام کرنے والے تمام ملازمین اور کارکنوں کو ان مقامات سے دور رہنا چاہیے، کیونکہ اب یہ ”جائز اہداف” بن چکے ہیں۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز ہوائی اڈے پر حملے کے بعد حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے امکان پر غور کرنے کی بات کہی تھی۔
دریں اثنا، امریکی صدر نے کہا کہ یمن کے حوثی ”بہت بری حرکتیں کر رہے ہیں” اور انہوں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس سے اوہائیو روانہ ہوتے وقت صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا، ”حوثی بہت بری حرکتیں کر رہے ہیں۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔”
ان کا یہ بیان سعودی عرب پر حوثیوں کے مسلسل حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان میں ہفتے کے آخر میں ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے بھی شامل ہیں، جن میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
سعودی حکام نے ریاض کے ہوائی اڈے پر آپریشن کی معطلی میں ہفتے تک توسیع کر دی ہے۔
ادھر سعودی عرب کے وزیر توانائی نے مملکت کے ہوائی اڈوں اور تیل و گیس کی تنصیبات پر یمن کی ایران حمایت یافتہ حوثی تحریک کے مہلک حملوں کا ‘سنجیدہ’ جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ریاض میں منعقدہ ڈبلیو پی سی انرجی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”حالیہ ہفتوں کے واقعات سنگین ہیں۔ ہمارا جواب بھی اتنا ہی سنجیدہ ہونا چاہیے۔”
یہ کشیدگی سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے سلسلے کے بعد بڑھی ہے۔ ان میں ہفتے کے روز ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ بھی شامل ہے، جس میں سعودی حکام کے مطابق 13 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔
گزشتہ چند روز کے دوران حوثیوں نے سعودی بنیادی ڈھانچے پر حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ سعودی قیادت والا اتحاد یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
منگل کو اتحاد نے ریاض کے شمال میں تین ڈرونز کو روک کر تباہ کرنے کی اطلاع دی اور حوثیوں کے زیرِ کنٹرول دارالحکومت صنعاء میں فوجی کارروائی کا اعلان کیا۔ اتحاد نے کارروائی سے قبل شہریوں سے ایک مرکزی ایندھن اسٹیشن خالی کرنے کی اپیل بھی کی۔
دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی سے وسیع تر علاقائی جنگ کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جبکہ امریکہ کی براہِ راست شمولیت کے امکان نے سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا دورۂ ایشیا کے دوران شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کا امکان
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اپنے آئندہ دورۂ ایشیا کے دوران شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان سے واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا وہ اپنے دورے کے دوران کم جونگ اُن سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں، تو انہوں نے کہا، ”ممکن ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، ”یہ دلچسپ ہوگا، ہے نا؟ لیکن میرے ان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔”
ٹرمپ 18 اور 19 نومبر کو چین کے شہر شینزن میں ہونے والی ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (اے پیک) سربراہی کانفرنس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز اوہائیو میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ کم جونگ اُن کے ساتھ ان کے ”بہت اچھے تعلقات” ہیں۔ انہوں نے جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ خوش گوار تعلقات برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ٹرمپ شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کو کوئی ”رعایت” نہیں سمجھتے اور اگر اس سے امریکی قومی مفادات کو فائدہ پہنچتا ہے تو وہ پیانگ یانگ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان جنوبی کوریا کی فوج کی جانب سے شمالی کوریا کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی طرف متعدد بیلسٹک میزائل داغے جانے کی اطلاع کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (جے سی ایس) کے مطابق، پیر کو پیانگ یانگ کے علاقے سے داغا گیا ایک میزائل 900 کلومیٹر (559 میل) سے زیادہ فاصلے تک گیا۔ فوج نے میزائلوں کی مجموعی تعداد نہیں بتائی۔
جاپان کے نائب وزیر دفاع تاکاشی کویاری نے بتایا کہ کم از کم دو میزائل 17 منٹ کے وقفے سے داغے گئے اور جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر جا گرے۔
ان کے مطابق، پہلے میزائل نے تقریباً 220 کلومیٹر (137 میل) جبکہ دوسرے نے 910 کلومیٹر (565 میل) سے زیادہ فاصلہ طے کیا۔ کویاری نے دوسرے میزائل کے غیر معمولی پروازی راستے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس سے شبہ ہوتا ہے کہ وہ ہائپرسونک ہتھیار ہو سکتا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے میزائل تجربات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور پیانگ یانگ سے انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
ٹرمپ نے اگست کے اوائل میں بھی کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ وہ رواں سال کے اواخر میں کم جونگ اُن سے ملاقات کریں گے۔ اس بیان سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی تھی کہ وہ ذاتی سفارت کاری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر سکتے ہیں، جس کے تحت ان کی پہلی مدتِ صدارت میں دونوں رہنماؤں کے درمیان تین براہِ راست ملاقاتیں ہوئی تھیں۔
۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کی برطانوی الزامات کی تردید، آر اے ایف فیئر فورڈ واقعے پر ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ
لندن، ایران نے منگل کو برطانیہ کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ امریکی فوج کے زیر استعمال برطانوی فضائی اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ میں پیش آنے والے سکیورٹی واقعے کے پیچھے تہران کا ہاتھ تھا۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے اس واقعے کے ایران میں منظم کیے جانے کا ”بہت زیادہ امکان” ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی ہدایت تقریباً یقینی طور پر ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دی تھی۔
ایران کی وزارت خارجہ نے برطانیہ کے الزامات کو ”بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”بہت زیادہ امکان” اور ”تقریباً یقینی” جیسی اصطلاحات مبہم ہیں اور ان کے حق میں ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، تہران نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے الزامات کے حق میں ثبوت پیش کرے۔
برنہم نے پیر کو ایوانِ نمائندگان میں کہا تھا کہ برطانیہ کے پاس 27 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کے ”مضبوط اشارے” موجود ہیں۔ اس واقعے کے بعد جنوب مغربی انگلینڈ میں واقع فضائی اڈے پر سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا تھا اور امریکی بی ون بمبار طیاروں کو وہاں سے ہٹا لیا گیا تھا۔
برنہم نے کہا، ”ہماری جانچ کے مطابق اس واقعے کو ایران میں منظم کیے جانے کا بہت زیادہ امکان ہے اور تقریباً یقینی طور پر اس کی ہدایت ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے دی تھی۔ ہم اپنی سرزمین پر ایسے خطرات برداشت نہیں کریں گے۔”
برطانوی حکومت نے اس واقعے پر ایران کے سفیر علی موسوی کو طلب کیا، جبکہ وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے دو ایرانی شہریوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا۔ ان پر تہران کی جانب سے مخالفانہ سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
ملی بینڈ کے مطابق، پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا، سفری پابندی اور کمپنی کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہونے سے نااہل قرار دینا شامل ہے۔
برطانیہ نے جن دو افراد کے نام ظاہر کیے ہیں، ان میں روح اللہ بازغندی شامل ہیں، جنہیں برطانوی حکام نے آئی آر جی سی میں انسدادِ جاسوسی کارروائیوں کا سربراہ بتایا ہے۔ دوسرے شخص شہرام علی رضا تمرزادہ زکی ہیں، جن پر زندشتی جرائم پیشہ نیٹ ورک کو سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
برنہم نے کہا کہ برطانیہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق، حکومت جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور ان کی مالی معاونت کے ذرائع کو نشانہ بنانے کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرے گی۔
27 ستمبر کو آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب پانچ برطانوی شہریوں کو دہشت گردی اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں انہیں سخت شرائط کے تحت ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جبکہ چند روز بعد ایک اور گرفتاری عمل میں آئی۔
پولیس نے بتایا تھا کہ وہ کسی غیر ملکی ریاست کے ملوث ہونے کے امکان کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ اس سے قبل ایک مقامی کسان نے فضائی اڈے کے قریب چند افراد اور کئی سفید وینوں کی مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع دی تھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، تفتیش کاروں کو گاڑیوں میں پیٹرول سمیت آتش گیر مادے ملے تھے، تاہم دھماکہ خیز مواد سے متعلق مبینہ منصوبے کی حقیقت اور اس کی عملی حیثیت ابھی واضح نہیں تھی۔
اس واقعے کے بعد امریکی بی ون بمبار طیاروں کو آر اے ایف فیئر فورڈ سے ہٹا لیا گیا، جبکہ بی 52 بمبار طیارے فضائی اڈے پر موجود رہے۔
دریں اثنا، 29 ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے ایران پر ان کے اور ان کے شراکت داروں کے خلاف پُرتشدد حملوں، مبینہ مہلک سازشوں، آتش زنی، تخریب کاری اور سائبر حملوں سمیت دیگر مخالفانہ سرگرمیوں کی مذمت کی۔ بیان پر دستخط کرنے والے ممالک میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اسپین اور آئرلینڈ شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
ہندوستان1 week agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان6 days agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
دنیا7 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: بارہمولہ میں پولیس نے موبائل، سم اور جراثیم کش دوا کی دکانوں پر جانچ مہم چلائی
