تازہ ترین
آج کا سنگ باز کل کا جنگجو، کشمیری مائیں بال بچوں کی فکر کریں : لفٹنٹ جنرل ایس ایس ڈھلون
خبراردو: فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کی مشترکہ پریس کانفرنس میں 15ویں کور کے کمانڈر لفٹنٹ جنرل سربجیت سنگھ ڈھلون نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ کشمیر میں حالات کو بگاڑنے کیلئے امر ناتھ یاترا کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔
فوج، سی آر پی ایف اور پولیس نے جمعرات کو 15ویں کارپس کمانڈ کے ہیڈکوارٹر پر بلائی گئی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا دعویٰ کیا کہ حد متارکہ پر حالات پرامن ہے۔ 15ویں کور کے کمانڈر لفٹنٹ جنرل سربجیت سنگھ ڈھلون نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ کشمیر میں حالات کو بگاڑنے کیلئے اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیرمیں غیر یقینی اور کشیدہ صورتحال کو جاری رکھنے کیلئے کشمیر میں حالات کو خراب کرنا چاہتا ہے۔ فوجی آفیسر کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر میں امن کی فضا کو مکدر بنانے کیلئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوا ہے تاہم انہوں نے گزشتہ دنوں سے حد متارکہ پار جاری آر پار کی گولہ باری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر صورتحال پرامن ہے۔انہوں نے بتایا کہ وادی میں جنگجوؤں کی طرف سے خطرات ہنوز برقرار ہے۔
جگہ جگہ بارودی سرنگوں کا خطرہ عیاں ہے تاہم سیکورٹی فورسز اس طرح کی کارروائیوں کو ڈیل کرنے کی خاطر مسلسل تلاشی کارروائیاں عمل میں لارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فورسز کی جانب سے جنوبی کشمیر کے شوپیان علاقے میں تلاشی کارروائیاں جاری ہیں جہاں پر جنگجو نے فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔لفٹنٹ جنرل ایس ایس ڈھلون کا کہنا تھا کہ تلاشی کارروائی کے دوران یہاں سے ایک سرنگ برآمد کی گئی جس پر پاکستانی فیکٹری کا نام ثبت تھا۔انہوں نے بتایاکہ امرناتھ یاترا کے روایتی راستے پر فورسز نے تلاشی کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں دیگر نوعیت کا اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کیاجن میں امریکی ساخت M-24انساس رائفل اور پاکستان کی جانب سے بنائی گئی بارودی سرنگ بھی شامل ہیں۔اس دوران فوجی آفیسر نے بتایا کہ 83فیصد جنگجو سنگ باری میں ملوث رہے ہیں۔ فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان امرناتھ یاترا کو نشانہ بنانے کی غرض سے کشمیر میں حالات کو خراب کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے تلاشی کارروائی کے دوران شوپیان علاقے سے امریکی سخت سنائپر اور پاکستان کی تیار کردہ بارودی سرنگ کو برآمد کیا۔
لفٹنٹ جنرل ایس ایس ڈھلون نے کہا کہ کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کو بگاڑنے کی پاکستان کو قطعی طور پر اجازت نہیں دی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ امن کی صورتحال کو بگاڑنے کیلئے پاکستان کا ہر قدم ناقابل برداشت ہے جس کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ حد متارکہ پر اگر چہ کئی دنوں سے آرپار کی گولہ باری جاری ہے تاہم مجموعی طور پر یہاں صورتحال قابو میں ہے کیوں کہ پاکستان کی طرف سے دراندازی کی کوششوں کا فورسز بھر پور طریقے سے جواب دے رہے ہیں۔ پاکستان اس تاک میں بیٹھا ہے کہ وہ دراندازوں کو اس پار دھکیلنے میں لگا ہوا ہے تاہم سرحدوں پر تعینات فوج الرٹ ہے اور پاکستان کی طرف سے کی جارہی کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں۔فوجی آفیسر نے بتایا کہ شوپیان علاقے سے جو بارودی مواد برآمد کیا گیا اُسے تحقیقات کیلئے ماہرین کے سپرد کیا گیا ہے۔پاکستان کشمیر میں امن کی فضا کو درہم برہم کرنا چاہتا ہے۔ ہم عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ امن کی فضا کو بگاڑنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائیگی۔انہوں نے کہا کہ تلاشی کارروائی کے دوران فورسز نے پاکستان ساخت بارودی سرنگوں کو بھی برآمد کیا جس یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ کشمیر میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کیلئے پاکستانی فوج جنگجوؤں کوہر ممکن تعاون فراہم کررہی ہے تاہم انہوں نے جگہ کے نام کا خلاصہ نہیں کیا۔
ادھر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ جموں وکشمیر میں مجموعی طور پر سرگرم جنگجوؤں کی تعداد میں کمی آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کیساتھ ساتھ جموں صوبے میں بھی اب سرگرم جنگجوؤں کی تعداد کم ہوتی نظر آرہی ہے۔فورسز کی اضافی تعیناتی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دلباغ سنگھ کا کہنا تھا کہ ہمیں خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ جنگجو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں عمل میں لاسکتے ہیں۔اسی لیے ہم نے کشمیر کے اندر فورسز کی اضافی نفری کو طلب کرلیا۔اس کے علاوہ ہمیں کہا گیا ہے کہ ڈیوٹی پر پہلے سے تعینات فورسز اہلکاروں کو کچھ وقت آرام کیلئے بھی مہیا کیا جانا چاہیے، اور یہ سلسلہ معمول چلتا رہتا ہے۔اضافی فورسز کی تعیناتی سے متعلق اعداد و شمار فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دلباغ سنگھ نے بتایا کہ پہلے سے موجود فورسز اہلکاروں کو کچھ وقت آرام کیلئے درکار ہے، جن کی جگہ دوسری نفری کو تعینات کیا جارہا ہے تاکہ سیکورٹی گرڈ میں کسی طرح کی کمی واقع نہ ہو۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس سوائم پرکاش پانی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ فورسز نے پلوامہ اور شوپیان علاقوں میں جنگجوؤں نے 10مرتبہ آئی ای ڈی دھماکے کئے۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ اور شوپیان علاقوں میں جنگجوؤں نے سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنائے جانے کی غرض سے 10مرتبہ زیر زمین دھماکے کئے۔
پریس کانفرنس کے دوران فورسز کے اعلیٰ حکام نے ماؤں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آج کا سنگ باز نوجوان کل کا جنگجو ہوسکتا ہے لہٰذ ااپنے بال بچوں کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ فورسز کمانڈروں کا کہنا تھا کہ ”ہم نے کشمیر میں جاری دہشت گردی کا گہرائی سے جائزہ لیا، 83فیصدی مقامی نوجوان جنہوں نے بندوق اور تشدد کا راستہ اختیار کیا، ان کا ماضی سنگ بازی میں ملوث رہا ہے، لہٰذا ہم کشمیری ماؤں سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو خصوصی خیال رکھیں، انہیں سنگ بازی جیسی کارروائی سے باز رکھیں، کیوں کہ آج کا سنگ باز نوجوان کل کا دہشت گرد ہوگا“۔انہوں نے کہا کہ نوجوان 500روپے کے عوض سنگ باری کرتا ہے اور کل یہی نوجوان دہشت گرد بن جاتا ہے۔پریس کانفرنس سے آئی جی سی آر پی ایف ذوالفقار حسن کا کہنا تھا کہ امسال امرناتھ یاترا میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا تاہم سخت خطرات کے باوجود ہم نے یاترا کو پرامن طریقے پر منعقد کرنے کیلئے کئی اقدامات اُٹھائے۔ جنگجوؤں کی جانب سے یاترا میں خلل ڈالنے کیلئے کئی کوششیں کی گئیں لیکن فورسزکی مشترکہ کارروائیوں، ٹیکنالوجی کے استعمال اور عوام کے تعاون کے نتیجے میں اس طرح کی کارروائیاں ناکام ہوئیں
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے اپنی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کا معاملہ راجیہ سبھا میں اٹھایا، نڈا نے افسوس کا اظہار کیا
نئی دہلی، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے جمعرات کو ہلدوانی میں ان کی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کیے جانے کا معاملہ ایوان میں اٹھایا اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ایوان کے لیڈر جگت پرکاش نڈا نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی مسٹر کھڑگے نے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں ریلی کرنے گئے تھے۔ ریلی میں لاکھوں لوگ موجود تھے اور انہوں نے لوگوں کے مسائل پر بات کی، لیکن یہ جان کر انہیں بہت افسوس ہوا کہ بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگوں نے ہون کرکے اس اسٹیج کی ’تطہیر‘ کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں، لیکن ایک آئینی عہدے پر فائز رہتے ہوئے اس ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں۔
اس پر مسٹر نڈا نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک معاملہ ہے اور یہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا گیا ہے کہ اس میں بی جے پی کے لوگ شامل تھے۔ بی جے پی اس طرح کی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی اور اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ’’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بی جے پی اس کی مذمت کرتی ہے اور ہمارے قومی صدر بھی یہاں موجود ہیں، وہ بھی اس معاملے کو دیکھیں گے۔ آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، اس پر ہمیں افسوس ہے۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ اس معاملے کو سیاسی مسئلہ نہیں بناناچاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں لیکن کبھی کسی کے سامنے گڑگڑائے نہیں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی توہین کی گئی ہے۔
اس پر ایوان کے لیڈر نے کہا کہ وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ بی جے پی اس کی حمایت نہیں کرتی۔ یہ ملک کے لیے افسوس کا موضوع ہے اور اس معاملے کو سنسنی خیز نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ’’مجھے بھی اتنا ہی دکھ ہے۔ ہم اس کی تحقیقات کریں گے۔ قصوروار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ہم ان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ کام کرنے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔
اس پر چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی چھوا چھوت کی حمایت نہیں کرتا۔ سب اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ اس معاملے کی تحقیقات کرکے قصورواروں کو سزا دی جائے۔
یواین آئی۔ظ ا
دنیا
پینٹاگن کی امریکی حملوں کے جائزے میں 153 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق
واشنگٹن، امریکی وزارت دفاع (پینٹاگن) کے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ یمن میں گزشتہ سال ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف تین امریکی فضائی حملوں میں 153 عام شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔
یہ نتائج بدھ کو امریکی کانگریس کو بھیجی گئی شہری ہلاکتوں کی سالانہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ جائزہ اپریل 2025 میں کیے گئے تین فضائی حملوں پر مرکوز تھا۔
حملوں میں یمنی دارالحکومت صنعا اور حوثیوں کے زیر کنٹرول راس عیسیٰ کی بندرگاہ اور اس کے اطراف کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت امریکی افواج حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن کر رہی تھیں جو بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور اسرائیل پر حملہ کر رہے تھے۔
پینٹاگن کے جائزے کے مطابق تینوں حملوں میں مجموعی طور پر 153 شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔ راس عیسیٰ بندرگاہ پر ہونے والا حملہ سب سے مہلک تھا، جس میں 80 افراد ہلاک اور 171 زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد، جگہ پر زبردست آگ بھڑک اٹھی، جس سے کئی ٹینکر ٹرک تباہ ہوگئے۔ حوثی حامی المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے حملے کے بعد کی فوٹیج نشر کی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس وقت کہا تھا کہ ان حملوں کا مقصد یمنی عوام کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ کمانڈ کے مطابق، امریکی افواج نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے لیے ایندھن کے ایک ذرائع کو تباہ کرنے اور ان کی آمدنی کے ناجائز ذرائع کو متاثر کرنے کے لیے کارروائی کی۔ جائزے میں ان حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کے لیے معاوضے یا بھتہ کی سفارش نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
پینٹاگن کے مطابق ایسا معاوضہ امریکی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون کے تحت لازمی نہیں ہے اور غلط کام کا اعتراف نہیں کرتا۔
امریکی فوج پہلے بھی ایسے معاملات میں معاوضے کی پیشکش کر چکی ہے۔ 2021 میں افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں سات بچوں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد، پینٹاگون نے متاثرین کے خاندانوں کو اس طرح کے معاوضے کا وعدہ کیا.
پینٹاگن کا یہ جائزہ ٹرمپ انتظامیہ کی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں امریکی کانگریس میں بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے۔ اس سال کے شروع میں ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایک پرائمری اسکول کو نشانہ بنانے والے امریکی میزائل حملے میں مبینہ طور پر 168 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
امریکی فوج نے پہلی بار 2023 میں حوثی باغیوں کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کیا، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، جو نہر سویز کے ذریعے بحیرہ روم سے جڑتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر22 hours agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
