دنیا
ایران کا کویت میں امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملے کا دعویٰ
تہران، ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے کویت میں واقع احمد الجابر امریکی فضائی اڈے پر ڈرون حملہ کرکے اہم امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جسے حالیہ امریکی کارروائیوں کا جواب قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملوں میں لڑاکا طیاروں کے ہینگرز، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور فوجی سازوسامان کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جزیرہ قشم میں ایک رہائشی مکان پر ہونے والے امریکی حملے کے ردعمل میں کی گئی۔
ایرانی فوج کے مطابق کویت میں واقع احمد الجابر فضائی اڈہ خطے میں امریکی فضائی نگرانی اور عسکری کارروائیوں کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے حملے کا یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ تاہم اس دعوے پر امریکہ یا کویت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
تہران، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تہران امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور سفارت کاری کے لیے تیار ہے، لیکن دباؤ، دھمکی یا طاقت کی زبان قبول نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پابندیوں، دباؤ اور دھمکی میں اضافے کے سامنے ایرانی عوام کی مزاحمت مزید مضبوط ہوگی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے پزشکیان نے کہا، ’’ایران کو ٹرمپ کو سمجھنا ہوگا۔ ہم طاقت کی زبان قبول کیے بغیر بات چیت، سفارت کاری اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔‘‘
آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایرانی صدر نے کہا کہ ایران یہ قبول نہیں کرسکتا کہ کچھ ممالک کو اس آبی گزرگاہ تک آزادانہ رسائی حاصل ہو اور وہ اپنے مفادات حاصل کریں، جبکہ اسی راستے کو ایران کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کیا جائے اور اسے اپنے ہی آبی راستوں تک رسائی سے محروم کرنے کی کوشش کی جائے۔
انہوں نے امریکہ پر ایرانی جہاز رانی کو محدود کرنے اور آبنائے ہرمز کے راستے اپنے اتحادیوں تک میزائل پہنچانے کا الزام عائد کیا۔ ایران نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس اہم آبی گزرگاہ میں آمدورفت روکنے کی کوشش کی ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے۔
غزہ کے معاملے پر پیزشکیان نے کہا کہ ’’قبضے، جارحیت اور ناانصافی‘‘ کے خلاف مزاحمت جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسے ایک شکل میں کمزور کیا گیا تو وہ دوسری شکلوں میں، ممکنہ طور پر مزید طاقت کے ساتھ، دوبارہ سامنے آئے گی۔
ایران طویل عرصے سے حماس کی حمایت کرتا رہا ہے، جس کے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر کیے گئے حملے کے بعد غزہ میں جاری جنگ شروع ہوئی تھی۔
ایرانی صدر نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) پر جوہری معائنے کے معاملے میں دوہرے معیار اپنانے کا بھی الزام عائد کیا۔ انہوں نے اسرائیل کے غیر اعلانیہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’ایٹمی اور جوہری بم اسرائیلی حکومت کے ہاتھوں میں ہیں، لیکن معائنہ کاروں سے ایران آنے کے لیے کہا جاتا ہے۔‘‘
یو این آئی۔ م س
دنیا
بین الاقوامی نظام ناکام ہوچکا ہے، ہندوستان-پاکستان کشیدگی سے نمٹنے میں بھی ناکام‘: روبیو
نیویارک، امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عالمی نظام کے بارے میں دوٹوک الفاظ میں اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بین الاقوامی نظام ناکام ہوچکا ہے‘‘ اور اس میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ممکنہ تنازع سمیت بڑے تنازعات سے نمٹنے یا انہیں ٹالنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممالک تیزی سے اپنے قومی مفادات کے مطابق اقدامات کریں گے۔
روبیو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے رہنماؤں میں اس بات پر وسیع اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ موجودہ بین الاقوامی نظام بڑے بحرانوں سے نمٹنے میں ناکام ہورہا ہے۔
مسٹر روبیو نے کہا، ’’میرے خیال میں بین الاقوامی نظام اس وقت اچھی حالت میں نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی اصولوں کی حتمی حد ’’آپ کا قومی مفاد‘‘ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں ’’بے پناہ صلاحیت‘‘ موجود ہے، لیکن وہ اس صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام ’’اپنے اختیار سے آگے بڑھ گیا ہے‘‘ اور اب ان معاملات میں بھی شامل ہے جو اس کے مقررہ کردار سے باہر ہیں۔
روبیو نے کہا، ’’یہ دنیا کے تقریباً کسی بھی بڑے تنازع کو حل کرنے میں ناکام ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں اس بات پر ’’رضامندی اور اتفاق رائے‘‘ پایا جاتا ہے کہ بین الاقوامی نظام ناکام ہورہا ہے۔
روبیو نے خاص طور پر کئی تنازعات اور کشیدگی والے معاملات کا ذکر کیا اور کہا کہ ان سے موجودہ بین الاقوامی نظام کی حدود واضح ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’یہ بہت اچھا ہوتا اگر ہمارے پاس ایک مؤثر بین الاقوامی نظام ہوتا، جو مثال کے طور پر تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان ہونے والی جنگ، یا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ممکنہ تنازع، یا جمہوریہ کانگو اور روانڈا میں جاری حالات، یا سوڈان میں جاری بحران، یا آبنائے میں ایران سے متعلق صورتحال سے نمٹ سکتا۔‘‘
روبیو نے مزید کہا، ’’اس وقت ایسا لگتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی مؤثر بین الاقوامی نظام نہیں ہے جو ان مسائل سے نمٹ سکے۔‘‘
ان کا یہ بیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں کے درمیان سامنے آیا ہے، جہاں رہنما کثیر ملکی اداروں کی کارکردگی اور تنازعات کو روکنے یا حل کرنے میں عالمی برادری کی صلاحیت پر بحث کر رہے ہیں۔
یو این آئی، ایم جے
دنیا
امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کا ایس ایم آر برآمدات کے لیے عملی منصوبے کا اعلان، یورپ میں 150 ارب ڈالر کے جوہری معاہدے
نیویارک، امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا نے دنیا بھر میں چھوٹے ماڈیولر جوہری ری ایکٹرز (ایس ایم آر) کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ طور پر ایک ’’عملی منصوبے‘‘ کا اعلان کیا ہے۔ یہ منصوبہ اس سال کے اوائل میں انقرہ میں طے پانے والے سہ فریقی معاہدے کو آگے بڑھاتا ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی عالمی سطح پر جوہری توانائی کی صلاحیت میں توسیع کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔
یہ اعلان نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر تینوں ممالک کے وزارتی سطح کے اجلاس کے بعد کیا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ نیا منصوبہ ’’دیگر ممالک میں چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (ایس ایم آر) کی تنصیب سے متعلق تعاون کی یادداشت‘‘ کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے، جس پر تینوں ممالک نے 7 جولائی کو دستخط کیے تھے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ ’’دنیا بھر میں توانائی کی بڑھتی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایس ایم آر ری ایکٹرز کے بیڑے کی تنصیب کے ایک پرعزم ایجنڈے‘‘ کے ذریعے تینوں ممالک کے مشترکہ سلامتی مفادات کے تحفظ میں مدد دے گا۔
الگ سے، نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے صنعت سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی، جس کے تحت امریکہ کی جی ای ویرنووا، جاپان کی ہٹاچی، جنوبی کوریا کی سام سنگ سی اینڈ ٹی اور پولینڈ کی ایس جی ای نے یورپ بھر میں بی ڈبلیو آر ایکس-300 چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کی مشترکہ تنصیب پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ چار ملکی صنعتی اتحاد کا مقصد ’’یورپ بھر میں لاکھوں افراد کو قابل اعتماد بنیادی جوہری بجلی فراہم کرنا‘‘ ہے اور آنے والے برسوں میں ری ایکٹرز میں 150 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
واشنگٹن نے اس صنعتی شراکت داری کو اس امر کی مثال قرار دیا کہ اتحادی ممالک اپنی ’’ایک دوسرے کی تکمیلی صنعتی صلاحیتوں‘‘ سے فائدہ اٹھا کر ایسے ری ایکٹرز کی تنصیب تیز کر سکتے ہیں جو جوہری تحفظ، سلامتی اور عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ ترین معیارات پر پورا اترتے ہوں۔
یہ اعلانات اس سہ فریقی مفاہمتی یادداشت کے بعد سامنے آئے ہیں جس پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور ان کے جاپانی و جنوبی کوریائی ہم منصبوں نے دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ عالمی جوہری ری ایکٹرز کی برآمدات میں روس اور چین کے غلبے کا مقابلہ کرنے کی وسیع تر امریکی کوششوں کا حصہ ہے، جس کے تحت امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کی کمپنیوں کو جوہری توانائی میں توسیع کے خواہاں ممالک کے لیے متبادل سپلائرز کے طور پر سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
ہندوستان7 days agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر5 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoپینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
-
دنیا6 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر5 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
دنیا1 week agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
دنیا6 days agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
ہندوستان1 week agoصرف انعام کا اعلان نہیں، مسعود اظہر کو گرفتار کرے پاکستان: ہندوستان
-
ہندوستان1 week agoیوپی آئی چارجز پر کانگریس نے خطرے کی گھنٹی بجائی، جے رام رمیش نے مودی حکومت پر فیس کا راستہ کھولنے کا الزام لگایا
-
جموں و کشمیر6 days agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
