تازہ ترین
آرٹیکل 35A: مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی کال پر ریاست کے تینوں خطوں میں ہوئے مظاہرے اور ہڑتال کی مکمل تفصیل
خبر اردو :
آرٹیکل 35Aکے تحفظ اور دفاع کی خاطر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پرریاست جموں وکشمیر میں مثالی سیول کرفیونافذ رہا جس دوران ریاست کے تینوں خطوں میں رہ رہے عوام نے بلالحاظ مذہب ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے نئی دہلی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کرنے سے تباہ کن صورتحال برآمد ہوگی۔ ادھر خطہ چناب کے کشتوار، بھدرواہ، ڈوڈہ ، بانہال، رام بن سمیت پیر پنچال رینج کے عوام نے بھی مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر لبیک کہتے ہوئے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کے حق میں مکمل ہڑتال کی جس دوران یہاں تجارتی، عوامی، کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج رہیں۔انتظامیہ نے سنیچر شام سے ہی مشترکہ مزاحمتی قیادت کے لیڈران سمیت حریت کانفرنس کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ تیز کردیا جس دوران حریت (گ) چیرمین سید علی گیلانی اور حریت (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق کو خانہ نظر بند کردیا گیا تاہم فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک پولیس حراست سے بچنے کے لیے روپوش ہوگئے ہیں۔ اس دوران انتظامیہ نے عوامی مظاہروں کے پیش نظر وادی میں کڑے حفاظتی بندوبست کئے تھے جس دوران شمال و جنوب میں واقع حساس مقامات پر کسی بھی شخص کو پر مارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ امکانی گڑ بڑ اور عوامی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نے بانہال سے بارہمولہ چلنے والی ریل سروس کو بھی احتیاطی طور پر 2روز کے لے لیے بند کردیا جبکہ اس دوران انتظامیہ نے جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے کسی بھی یاتری کو سرینگر کا سفر کرنے کی اجازت نہ دیتے ہوئے 2روز تک یاترا کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔
مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے ریاست کی آئین ہند میں خصوصی پوزیشن کے تحفظ اور دفاع کی خاطر 5اور 6اگست کو عوام سے مکمل ہڑتال اور سیول کرفیو نافذ کرنے کی اپیل کی گئی تھی جس دوران ہڑتال کے پہلے روز ریاست جموں و کشمیر کے تینوں خطوں میں رہ رہے عوام نے بلالحاظ مذہب و خطہ ریاست کی آئینی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے مثالی ہڑتال کی۔ادھر سرینگر میں کشمیر ٹریڈرس اینڈ منوفیکچرز ایسوسی ایشن سمیت متعدد تجارتی انجمنوں نے مشترکہ طور پر گھنٹہ گھر کے سامنے پرامن احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے نئی دہلی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست کی منفرد حیثیت کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ریاست کے جملہ عوام سڑکوں پر نکل کر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے آئیں گے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر دفعہ 35Aاور کے حوالے سے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اس موقعہ پر فرقہ پرستوں کی جانب سے بھنی جارہی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر زور دیا اور بتایا۔ اس دوران شہر سرینگر کے بمنہ، ٹینگہ پورہ، نٹی پورہ، حیدرپورہ، نوہٹہ، صفاکدل، عیدگاہ، صورہ، مہاراج گنج وغیرہ میں نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران انہوں نے موقعہ پر موجود فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی تاہم فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے ہلکا لاٹھی چارج کرتے ہوئے حالات کو قابو میں کیا۔ ادھر بڈگام اور گاندربل میں بھی مکمل ہڑتال رہی جس دوران یہاں تجارتی، کاروباری اور عوامی سرگرمیاں ماند پڑگئیں۔
انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑبڑ سے نمٹنے کی خاطر سیکورٹی فورسز کو متحرک کردیا تھا جبکہ حساس مقامات پر فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کولگام، انت ناگ، پلوامہ اور شوپیان ، بڈگام، سرینگر، گاندربل، کپوارہ، بانڈی پورہ اور بارہمولہ میں عوام نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر یکسوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہڑتال کی جس دوران وادی کے جملہ اضلاع میں تجارتی، تعلیمی، عوامی، کاروباری، سرکاری و غیرسرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ ہڑتال کی وجہ سے شمال و جنوب تک راستے ریگستان کا منظر پیش کررہے تھے جس دوران دور دور تک کوئی بھی فرد بشر دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ جنوبی کشمیر سے نمائندے نے اطلاع فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان میں کئی مقامات پر لوگوں نے سڑکوں پر آکر زور دار احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے فرقہ پرستوں کی جانب سے ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو زک پہنچانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر 6اگست کو دفعہ 35Aکے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ریاست جموں وکشمیر کے جملہ عوام سڑکوں پر نکل کر اس مذموم منصوبے کے خلاف بھر پور احتجاج کریں گے جس کی تمام ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ اس دوران قصبہ ترال میں اتوار کی صبح ہی لوگوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں کا رخ کرتے ہوئے آرٹیکل 35Aکے دفاع کے حق میں زور دار احتجاج کیا۔ مظاہرین نے حکومت کو انتباہ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر ریاست کی ڈیموگرافی کو کسی بھی طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ مظاہرین نے اس موقعہ پر ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھارکھے تھے جن پر دفعہ 35Aاور دفعہ 370کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ ادھرشوپیان کے مضافات میں بھی لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کے حق میں زور دار احتجاج کیا۔
انہوں نے بتایا کہ فرقہ پرستوں کی طرف سے متعدد بار ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی شناخت کو زک پہنچانے کی سعی کی جاچکی ہے اور آج بھی اسی طرح کی حرکت کا ارتکاب کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ریاست جموں وکشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو مسخ کرنے کے لیے کوئی بھی حربہ بروئے کار لایا گیا تو جموں وکشمیر کے عوام اپنا خون کا آخری قطرہ تک بہادیں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا وہ یہاں کے امن و داؤ پر نہ لگاتے ہوئے فرقہ پرستوں کی جانب سے دائر عرضیوں فی الفور کالعدم قرار دیں۔کے این ایس نمائندے نے اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ضلع پلوامہ میں اتوار کو سخت بندشیں عائد رہیں جس دوران اتنظامیہ نے ضلع بھر میں سیکورٹی کے کڑے انتظامات کئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے ضلع میں سیکورٹی کے اضافی دستوں کو تعینات کرکے لوگوں کی نقل و حمل پر سخت پابندی عائد کی۔ نمائندے کے مطابق اس دوران ضلع بھر میں کرفیو جیسی بندشیں عائد رہیں جس دوران کسی کو بھی گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ادھر سیکورٹی فورسز نے مختلف عارضوں میں مبتلا مریضوں کو بھی ضلعی ہسپتال پلوامہ تک پہنچنے نہیں دیا جس دوران بیماروں اور اُن کے تیمارداروں کو بھی کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پہاڑی ضلع شوپیان کو اتوار کے روز فورسز نے کڑے حصار میں لیتے ہوئے عوام کی نقل و حمل مسدود کردی جس دوران ضلع بھرمیں ہوکا عالم رہا۔ نمائندے کے مطابق ضلع میں تمام قسم کے معمولات مکمل طور پر ٹھپ رہے جس دوران لوگوں کو گھروں کی چار دیواری کے اندر ہی محدود کردیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران یہاں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر ایس پی وید نے ضلع میں سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کی خاطر ڈسٹرکٹ پولیس لائنز شوپیان میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد کی جس میں پولیس کے اعلیٰ افسران شامل رہے۔ اس دوران شمالی کشمیر کے بارہمولہ، کپوارہ، سوپور، لنگیٹ، ہندوارہ، رفیع آباد، پٹن، بانڈی پورہ اور حاجن میں بھی عوام نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ ریاست کی خصوصی شناخت کو مسخ کرنے کی کوششوں سے گریز کریں۔بارہمولہ سے کے این ایس نمائندے تاثیر افضل نے بتایا کہ یہاں اتوار کو ٹریڈرس، ٹیچرز فورم، بیوپار منڈل بارہمولہ ، بار ایسو سی ایشن بارہمولہ، سیول سوسائٹی، ٹرانسپورٹ یونین، ٹیچرز فورم، ورکنگ جرنلسٹ ایسو سی ایشن اور ملازمین یونین نے مشترکہ طو رپرجوائنٹ کارڈینیشن کمیٹی کے بینر تلے ایک احتجاجی جلوس نکالا جس دوران جلوس میں شامل افراد نے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے سے نئی دہلی کو باز رہنے کا مشورہ دیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران جلوس میں شامل لوگوں نے دفعہ 35Aاور 370کے دفاع کے حق میں زور دار نعرے بلند کئے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع کے دیگر مقامات سے بھی لوگوں نے پرامن جلوس نکالے جس دوران انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کی خاطر اپنا رول ادا کریں۔ ادھر کپوارہ، لنگیٹ، ہندوارہ، ترہگام، وترگام، سوپور، رفیع آباد، حاجن اور بانڈی پورہ میں بھی عوام نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر لبیک کہتے ہوئے سخت ہڑتال کی جس دوران کئی مقامات پر پرامن احتجاجی جلوس برآمد ہوئے۔آرٹیکل 35اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر مزاحمتی لیڈران اور دیگر انجمنوں کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال پرضلع کپوارہ میں ہمہ گیر ہڑتال رہی جس دوران تمام کاروباری سرکار وغیرسرکاری ادراے مکمل طور بند رہے جبکہ سڑکیں ویران اور بازار وں میں سناٹا چھایا رہا اور مختلف مقامات پر نماز ظہر کے بعد 35اے کی دفاع کے لئے پر امن طور احتجاجی جلوس نکالے گئے۔جلوس میں شامل شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڑس اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ یہ ملک ہمارا ہے اس کا فیصلہ ہم کرینگے ۔ادھر ضلع کپوارہ اور قصبہ ہندوارہ لنگیٹ کرالہ گنڈ میں مکمل ہڑتال رہی تمام سرکاری وغیر سرکار ادارے بند رہے سڑکوں پر ٹرنسپورٹ بھی غائب رہا اور سڑکیں ویران، بازار سنسان نظر آئے جس سے معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی۔ ادھر خطہ چناب کے کشتوار، بھدرواہ، ڈوڈہ، بانہال، رام بن سمیت پیر پنچال رینج کے عوام نے بھی ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی شناخت کے دفاع کی خاطر ہڑتال اور پرامن احتجاج کیا۔ نمائندے کے مطابق ضلع رام بن کے گول علاقے میں اتوار کی صبح ہی لوگوں کی بڑی تعداد نے پرامن احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران انہوں نے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کو فی الفور منسوخ کریں۔ انہوں نے نئی دہلی کو خبر دار کرتے ہوئے بتایا کہ اگر ریاست کی وحدت اور خصوصی پوزیشن کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ریاست کے عوام سڑکوں پر نکل کر اپنے غم و غصے کا اظہار کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔اس دوران بھدرواہ میں بھی دفعہ 35Aکے دفاع کی خاطر مکمل ہڑتال رہی۔
یہاں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال کی مکمل حمایت کرتے ہوئے انجمن اسلامیہ بھدرواہ اور مجلس شوریٰ کشتوار نے مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں یہاں تجارتی ، عوامی اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج رہیں جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی مکمل طور پر ماند پڑگئی۔ کشتوار میں بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کے حوالے سے مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران یہاں دوکانات اور کاروباری ادارے بند رہے۔ انتظامیہ نے یہاں کسی بھی امکانی بڑگڑ سے نمٹنے کیخاطر فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کیا تھا۔ اس دوران عوامی احتجاج کے پیش نظر مشترکہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ لیڈران اور کارکنان کو پولیس نے احتیاطی طور پر خانہ و تھانہ نظر بند کردیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے سنیچر شام کو لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک کوحراست میں لینے کی غرض سے ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ ڈالا تاہم وہ یہاں پر موجود نہ تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ فرنٹ چیرمین احتجاجی کال کے پیش نظر اور پولیس حراست سے بچنے کی خاطر قبل از وقت ہی روپوش ہوگئے ہیں جس دوران پولیس نے ان کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے۔
اس دوران حریت (گ) چیرمین سید علی گیلانی اور حریت (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق کو پولیس نے سنیچر شام کو ہی خانہ نظربند کردیا۔ ادھر تحریک حریت چیرمین محمد اشرف صحرائی، پیپلز پولیٹیکل پارٹی چیرمین انجینئر ہلال احمد وار سمیت دیگر حریت لیڈان کو پولیس نے خانہ نظر بند کرتے ہوئے ان کی نقل و حرکت کو محدود کردیا۔ انتظامیہ نے اس دوران بانہال سے بارہمولہ تک چلنے والی ریل سروس کو بھی اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ محکمہ ریلوے نے جنوبی کشمیر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظربانہال سے بارہمولہ تک چلنے والی ریل سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔ ادھر شری امرناتھ شرائن بورڈ کے اعلیٰ حکام نے بھی 5اور 6اگست کو ہڑتالی کال کے پیش نظر یاترا کو 2دن کے لیے معطل رکھا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ شری امرناتھ شرائن بورڈ کے اعلیٰ حکام نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے ہڑتالی کال اور ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر یاترا کو 2دنوں تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بورڈ نے جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے اتوار کی صبح کو کسی بھی یاتری کو سرینگر کی جانب روانہ ہونے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے بتایا کہ بورڈ اور انتظامیہ نے مشترکہ طور پر ادھم پور اور رام بن میں چیک پوائنٹس قائم کئے ہیں تاکہ شاہراہ پر یاتریوں کی نقل و حمل پر کڑی نگاہ رہے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
