تازہ ترین
آرٹیکل 35A: مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی کال پر ریاست کے تینوں خطوں میں ہوئے مظاہرے اور ہڑتال کی مکمل تفصیل
خبر اردو :
آرٹیکل 35Aکے تحفظ اور دفاع کی خاطر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پرریاست جموں وکشمیر میں مثالی سیول کرفیونافذ رہا جس دوران ریاست کے تینوں خطوں میں رہ رہے عوام نے بلالحاظ مذہب ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے نئی دہلی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کرنے سے تباہ کن صورتحال برآمد ہوگی۔ ادھر خطہ چناب کے کشتوار، بھدرواہ، ڈوڈہ ، بانہال، رام بن سمیت پیر پنچال رینج کے عوام نے بھی مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر لبیک کہتے ہوئے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کے حق میں مکمل ہڑتال کی جس دوران یہاں تجارتی، عوامی، کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج رہیں۔انتظامیہ نے سنیچر شام سے ہی مشترکہ مزاحمتی قیادت کے لیڈران سمیت حریت کانفرنس کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ تیز کردیا جس دوران حریت (گ) چیرمین سید علی گیلانی اور حریت (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق کو خانہ نظر بند کردیا گیا تاہم فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک پولیس حراست سے بچنے کے لیے روپوش ہوگئے ہیں۔ اس دوران انتظامیہ نے عوامی مظاہروں کے پیش نظر وادی میں کڑے حفاظتی بندوبست کئے تھے جس دوران شمال و جنوب میں واقع حساس مقامات پر کسی بھی شخص کو پر مارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ امکانی گڑ بڑ اور عوامی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نے بانہال سے بارہمولہ چلنے والی ریل سروس کو بھی احتیاطی طور پر 2روز کے لے لیے بند کردیا جبکہ اس دوران انتظامیہ نے جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے کسی بھی یاتری کو سرینگر کا سفر کرنے کی اجازت نہ دیتے ہوئے 2روز تک یاترا کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔
مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے ریاست کی آئین ہند میں خصوصی پوزیشن کے تحفظ اور دفاع کی خاطر 5اور 6اگست کو عوام سے مکمل ہڑتال اور سیول کرفیو نافذ کرنے کی اپیل کی گئی تھی جس دوران ہڑتال کے پہلے روز ریاست جموں و کشمیر کے تینوں خطوں میں رہ رہے عوام نے بلالحاظ مذہب و خطہ ریاست کی آئینی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے مثالی ہڑتال کی۔ادھر سرینگر میں کشمیر ٹریڈرس اینڈ منوفیکچرز ایسوسی ایشن سمیت متعدد تجارتی انجمنوں نے مشترکہ طور پر گھنٹہ گھر کے سامنے پرامن احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے نئی دہلی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست کی منفرد حیثیت کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ریاست کے جملہ عوام سڑکوں پر نکل کر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے آئیں گے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر دفعہ 35Aاور کے حوالے سے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اس موقعہ پر فرقہ پرستوں کی جانب سے بھنی جارہی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر زور دیا اور بتایا۔ اس دوران شہر سرینگر کے بمنہ، ٹینگہ پورہ، نٹی پورہ، حیدرپورہ، نوہٹہ، صفاکدل، عیدگاہ، صورہ، مہاراج گنج وغیرہ میں نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران انہوں نے موقعہ پر موجود فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی تاہم فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے ہلکا لاٹھی چارج کرتے ہوئے حالات کو قابو میں کیا۔ ادھر بڈگام اور گاندربل میں بھی مکمل ہڑتال رہی جس دوران یہاں تجارتی، کاروباری اور عوامی سرگرمیاں ماند پڑگئیں۔
انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑبڑ سے نمٹنے کی خاطر سیکورٹی فورسز کو متحرک کردیا تھا جبکہ حساس مقامات پر فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کولگام، انت ناگ، پلوامہ اور شوپیان ، بڈگام، سرینگر، گاندربل، کپوارہ، بانڈی پورہ اور بارہمولہ میں عوام نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر یکسوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہڑتال کی جس دوران وادی کے جملہ اضلاع میں تجارتی، تعلیمی، عوامی، کاروباری، سرکاری و غیرسرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ ہڑتال کی وجہ سے شمال و جنوب تک راستے ریگستان کا منظر پیش کررہے تھے جس دوران دور دور تک کوئی بھی فرد بشر دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ جنوبی کشمیر سے نمائندے نے اطلاع فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان میں کئی مقامات پر لوگوں نے سڑکوں پر آکر زور دار احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے فرقہ پرستوں کی جانب سے ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو زک پہنچانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر 6اگست کو دفعہ 35Aکے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ریاست جموں وکشمیر کے جملہ عوام سڑکوں پر نکل کر اس مذموم منصوبے کے خلاف بھر پور احتجاج کریں گے جس کی تمام ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ اس دوران قصبہ ترال میں اتوار کی صبح ہی لوگوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں کا رخ کرتے ہوئے آرٹیکل 35Aکے دفاع کے حق میں زور دار احتجاج کیا۔ مظاہرین نے حکومت کو انتباہ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر ریاست کی ڈیموگرافی کو کسی بھی طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ مظاہرین نے اس موقعہ پر ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھارکھے تھے جن پر دفعہ 35Aاور دفعہ 370کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ ادھرشوپیان کے مضافات میں بھی لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کے حق میں زور دار احتجاج کیا۔
انہوں نے بتایا کہ فرقہ پرستوں کی طرف سے متعدد بار ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی شناخت کو زک پہنچانے کی سعی کی جاچکی ہے اور آج بھی اسی طرح کی حرکت کا ارتکاب کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ریاست جموں وکشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو مسخ کرنے کے لیے کوئی بھی حربہ بروئے کار لایا گیا تو جموں وکشمیر کے عوام اپنا خون کا آخری قطرہ تک بہادیں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا وہ یہاں کے امن و داؤ پر نہ لگاتے ہوئے فرقہ پرستوں کی جانب سے دائر عرضیوں فی الفور کالعدم قرار دیں۔کے این ایس نمائندے نے اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ضلع پلوامہ میں اتوار کو سخت بندشیں عائد رہیں جس دوران اتنظامیہ نے ضلع بھر میں سیکورٹی کے کڑے انتظامات کئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے ضلع میں سیکورٹی کے اضافی دستوں کو تعینات کرکے لوگوں کی نقل و حمل پر سخت پابندی عائد کی۔ نمائندے کے مطابق اس دوران ضلع بھر میں کرفیو جیسی بندشیں عائد رہیں جس دوران کسی کو بھی گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ادھر سیکورٹی فورسز نے مختلف عارضوں میں مبتلا مریضوں کو بھی ضلعی ہسپتال پلوامہ تک پہنچنے نہیں دیا جس دوران بیماروں اور اُن کے تیمارداروں کو بھی کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پہاڑی ضلع شوپیان کو اتوار کے روز فورسز نے کڑے حصار میں لیتے ہوئے عوام کی نقل و حمل مسدود کردی جس دوران ضلع بھرمیں ہوکا عالم رہا۔ نمائندے کے مطابق ضلع میں تمام قسم کے معمولات مکمل طور پر ٹھپ رہے جس دوران لوگوں کو گھروں کی چار دیواری کے اندر ہی محدود کردیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران یہاں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر ایس پی وید نے ضلع میں سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کی خاطر ڈسٹرکٹ پولیس لائنز شوپیان میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد کی جس میں پولیس کے اعلیٰ افسران شامل رہے۔ اس دوران شمالی کشمیر کے بارہمولہ، کپوارہ، سوپور، لنگیٹ، ہندوارہ، رفیع آباد، پٹن، بانڈی پورہ اور حاجن میں بھی عوام نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ ریاست کی خصوصی شناخت کو مسخ کرنے کی کوششوں سے گریز کریں۔بارہمولہ سے کے این ایس نمائندے تاثیر افضل نے بتایا کہ یہاں اتوار کو ٹریڈرس، ٹیچرز فورم، بیوپار منڈل بارہمولہ ، بار ایسو سی ایشن بارہمولہ، سیول سوسائٹی، ٹرانسپورٹ یونین، ٹیچرز فورم، ورکنگ جرنلسٹ ایسو سی ایشن اور ملازمین یونین نے مشترکہ طو رپرجوائنٹ کارڈینیشن کمیٹی کے بینر تلے ایک احتجاجی جلوس نکالا جس دوران جلوس میں شامل افراد نے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے سے نئی دہلی کو باز رہنے کا مشورہ دیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران جلوس میں شامل لوگوں نے دفعہ 35Aاور 370کے دفاع کے حق میں زور دار نعرے بلند کئے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع کے دیگر مقامات سے بھی لوگوں نے پرامن جلوس نکالے جس دوران انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کی خاطر اپنا رول ادا کریں۔ ادھر کپوارہ، لنگیٹ، ہندوارہ، ترہگام، وترگام، سوپور، رفیع آباد، حاجن اور بانڈی پورہ میں بھی عوام نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر لبیک کہتے ہوئے سخت ہڑتال کی جس دوران کئی مقامات پر پرامن احتجاجی جلوس برآمد ہوئے۔آرٹیکل 35اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر مزاحمتی لیڈران اور دیگر انجمنوں کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال پرضلع کپوارہ میں ہمہ گیر ہڑتال رہی جس دوران تمام کاروباری سرکار وغیرسرکاری ادراے مکمل طور بند رہے جبکہ سڑکیں ویران اور بازار وں میں سناٹا چھایا رہا اور مختلف مقامات پر نماز ظہر کے بعد 35اے کی دفاع کے لئے پر امن طور احتجاجی جلوس نکالے گئے۔جلوس میں شامل شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڑس اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ یہ ملک ہمارا ہے اس کا فیصلہ ہم کرینگے ۔ادھر ضلع کپوارہ اور قصبہ ہندوارہ لنگیٹ کرالہ گنڈ میں مکمل ہڑتال رہی تمام سرکاری وغیر سرکار ادارے بند رہے سڑکوں پر ٹرنسپورٹ بھی غائب رہا اور سڑکیں ویران، بازار سنسان نظر آئے جس سے معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی۔ ادھر خطہ چناب کے کشتوار، بھدرواہ، ڈوڈہ، بانہال، رام بن سمیت پیر پنچال رینج کے عوام نے بھی ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی شناخت کے دفاع کی خاطر ہڑتال اور پرامن احتجاج کیا۔ نمائندے کے مطابق ضلع رام بن کے گول علاقے میں اتوار کی صبح ہی لوگوں کی بڑی تعداد نے پرامن احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران انہوں نے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کو فی الفور منسوخ کریں۔ انہوں نے نئی دہلی کو خبر دار کرتے ہوئے بتایا کہ اگر ریاست کی وحدت اور خصوصی پوزیشن کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ریاست کے عوام سڑکوں پر نکل کر اپنے غم و غصے کا اظہار کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔اس دوران بھدرواہ میں بھی دفعہ 35Aکے دفاع کی خاطر مکمل ہڑتال رہی۔
یہاں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال کی مکمل حمایت کرتے ہوئے انجمن اسلامیہ بھدرواہ اور مجلس شوریٰ کشتوار نے مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں یہاں تجارتی ، عوامی اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج رہیں جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی مکمل طور پر ماند پڑگئی۔ کشتوار میں بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کے حوالے سے مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران یہاں دوکانات اور کاروباری ادارے بند رہے۔ انتظامیہ نے یہاں کسی بھی امکانی بڑگڑ سے نمٹنے کیخاطر فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کیا تھا۔ اس دوران عوامی احتجاج کے پیش نظر مشترکہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ لیڈران اور کارکنان کو پولیس نے احتیاطی طور پر خانہ و تھانہ نظر بند کردیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے سنیچر شام کو لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک کوحراست میں لینے کی غرض سے ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ ڈالا تاہم وہ یہاں پر موجود نہ تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ فرنٹ چیرمین احتجاجی کال کے پیش نظر اور پولیس حراست سے بچنے کی خاطر قبل از وقت ہی روپوش ہوگئے ہیں جس دوران پولیس نے ان کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے۔
اس دوران حریت (گ) چیرمین سید علی گیلانی اور حریت (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق کو پولیس نے سنیچر شام کو ہی خانہ نظربند کردیا۔ ادھر تحریک حریت چیرمین محمد اشرف صحرائی، پیپلز پولیٹیکل پارٹی چیرمین انجینئر ہلال احمد وار سمیت دیگر حریت لیڈان کو پولیس نے خانہ نظر بند کرتے ہوئے ان کی نقل و حرکت کو محدود کردیا۔ انتظامیہ نے اس دوران بانہال سے بارہمولہ تک چلنے والی ریل سروس کو بھی اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ محکمہ ریلوے نے جنوبی کشمیر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظربانہال سے بارہمولہ تک چلنے والی ریل سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔ ادھر شری امرناتھ شرائن بورڈ کے اعلیٰ حکام نے بھی 5اور 6اگست کو ہڑتالی کال کے پیش نظر یاترا کو 2دن کے لیے معطل رکھا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ شری امرناتھ شرائن بورڈ کے اعلیٰ حکام نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے ہڑتالی کال اور ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر یاترا کو 2دنوں تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بورڈ نے جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے اتوار کی صبح کو کسی بھی یاتری کو سرینگر کی جانب روانہ ہونے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے بتایا کہ بورڈ اور انتظامیہ نے مشترکہ طور پر ادھم پور اور رام بن میں چیک پوائنٹس قائم کئے ہیں تاکہ شاہراہ پر یاتریوں کی نقل و حمل پر کڑی نگاہ رہے۔
دنیا
ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے کے امریکی الزامات مسترد کر دیے، واشنگٹن پر مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام
تہران، ایران نے یمن کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے صنعاء کے لیے حالیہ پروازیں مکمل طور پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تھیں اور ان کا کوئی فوجی مقصد نہیں تھا۔
ایرانی ریاستی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں کہا کہ ’’ان پروازوں کا مقصد ان یمنی شہریوں کی مدد کرنا تھا جو صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طویل بندش اور عائد پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
درزی کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واشنگٹن پر سلامتی کونسل کو گمراہ کرنے اور یمن میں اپنی کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جانب سے یمن پر عائد پابندیوں کے باعث لاکھوں افراد ضروری سفر، طبی علاج، تعلیم اور انسانی امداد سے محروم ہیں۔
تہران نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک جامع، پُرامن اور یمن کی قیادت میں سیاسی عمل شروع کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ محض فوجی کشیدگی یا دباؤ کے ذریعے پائیدار امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی طویل عرصے سے سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت، جو عدن میں قائم ہے، کے ساتھ خانہ جنگی میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف حملے شروع کیے ہیں، جن کا مقصد سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب آبنائے سے گزرنے کا راستہ روکنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعہ کو کہا کہ دراصل واشنگٹن ہی مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’امریکیوں کو بلا کسی شک و شبہ کے خطے سے نکل جانا چاہیے اور اپنے انخلا اور فرار میں تیزی لانی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تسلیمِ شکست، تقسیم اور حکومت کی تبدیلی‘‘ پر مشتمل تین نکاتی حکمت عملی کو ’’عوامی مزاحمت، ثابت قدمی، مزاحمت اور جرات‘‘ اور مسلح افواج کی غیر معمولی طاقت پر مبنی حکمت عملی نے شکست دے دی ہے۔
عزیزی نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’خطے میں امریکیوں کی موجودگی شر اور عدم تحفظ کے سوا کچھ نہیں لاتی۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی پر تنازعہ وطن واپسی کے بعد بھی پینٹاگن کے لیے چیلنجز کا باعث بنا
واشنگٹن، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن آٹھ ماہ سے زیادہ سمندر میں گزارنے کے بعد اب وطن واپس آ رہا ہے، لیکن اس کی طویل تعیناتی، جہاز پر مبینہ خراب حالات اور ملاحوں کی ذہنی صحت پر اٹھنے والے سوالات کا پینٹاگن پر دیرپا اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ابراہم لنکن کو 265 دنوں سے زائد عرصے تک تعینات کیا گیا تھا۔ نومبر میں بندرگاہ سے نکلنے کے بعد، اسے جنوری میں مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیا گیا جب کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
پینٹاگن اور امریکی بحریہ نے جہاز پر سوار حالات کی کچھ رپورٹوں کو مبالغہ آمیز یا گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سپلائی کی قلت، میل میں رکاوٹ، پلمبنگ کے مسائل، بندرگاہوں کے محدود رکنے، اور ملاحوں کے درمیان بڑھتے ہوئے نفسیاتی تناؤ کی اطلاعات نے قانون سازوں اور سروس ممبران کے خاندان کے افراد میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
اب بحریہ ابراہم لنکن کے بجائے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مغربی ایشیا بھیج رہی ہے۔ اس تبدیلی سے طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی کے بارے میں سوالات کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بحریہ کی سابق قائم مقام فورس ریسیلینسی ڈائریکٹر آندریا گولڈسٹین نے اسے “بے مثال” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ تعیناتی معمول سے زیادہ طویل تھی، بلکہ یہ بھی کہ اس میں بار بار توسیع کی گئی تھی، جس سے ملاحوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کب گھر واپس آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال ذہنی نقصان اٹھاتی ہے۔ تعیناتی کے دوران دو ملاحوں کے سمندر میں گرنے کی خبروں کے بعد بھی اس معاملے نے توجہ حاصل کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے 3 اگست کو ان میں سے ایک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملاح کو “جلد اور محفوظ طریقے سے” بچا لیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز جہاز میں سوار ملاحوں کے اہل خانہ کے خدشات کو مسترد کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کنبہ کے افراد بورڈ کے حالات سے پریشان ہیں تو انہوں نے کہا، “نہیں”۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا تعیناتی بہت طویل تھی، مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوا تھا اور یہ “تقریباً زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا۔”
قائم مقام بحریہ کے سیکرٹری ہنگ کاؤ نے کہا کہ ابراہم لنکن کی واپسی ایک منصوبہ بند گردش کا حصہ تھی اور انہوں نے اس کی تعیناتی میں توسیع کے فیصلے کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورتحال کا سب سے مشکل پہلو یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی اور مواصلات کے باوجود فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ حالات غیر مستحکم اور غیر یقینی رہتے ہیں۔
مسٹر کاؤ نے تسلیم کیا کہ ملاحوں اور میرینز کو ان کی حدود میں دھکیل دیا گیا، لیکن کہا کہ وہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں کو اپنی حدوں تک دھکیل دیا گیا، لیکن وہ کبھی نہیں ٹوٹے،” ۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز پر سوار حالات کے بارے میں رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “مکمل طور پر غلط بیانی کی گئی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ کچھ تعیناتیاں دوسروں کے مقابلے لمبی ہوتی ہیں اور جہاز میں سوار ملاحوں کے لیے احترام اور شکریہ ادا کیا۔ پینٹاگون کی ان یقین دہانیوں نے کچھ سروس ممبران کے اہل خانہ اور قانون سازوں کو مطمئن نہیں کیا۔ گزشتہ ہفتے سان ڈیاگو میں بحریہ کے حکام کے ساتھ ایک میٹنگ میں، تقریباً 200 سروس ممبران کے خاندانوں نے براہ راست مسٹر کاؤ اور دیگر حکام کے ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ایک سروس ممبر کی اہلیہ نے فوجی قیادت اور خاندانوں کے درمیان “ٹوٹے ہوئے اعتماد” کی شکایت کی۔ ایک اور خاتون نے حکام کو بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے ٹیکسٹ کیا تھا کہ اسے امید ہے کہ وہ اگلی صبح نہیں اٹھے گا۔
تعیناتی نے میرینز کے لیے معمول کے پورٹ اسٹاپ کو بھی نمایاں طور پر کم کر دیا۔ سمندر میں طویل گھنٹوں کے بعد آرام اور ذہنی سکون کے لیے اس طرح کے اسٹاپ کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، طیارہ بردار بحری جہاز کا حملہ گروپ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں میں مسلسل سرگرم رہا۔
یہ معاملہ اب امریکی کانگریس تک پہنچ گیا ہے جہاں قانون سازوں نے ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی اور میرینز پر اس کے اثرات کے حوالے سے پینٹاگون سے جواب طلب کیا ہے۔
جو کورٹنی، ہاؤس آرمڈ سروسز سی پاور اور پروجیکشن فورسز کی ذیلی کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ، نے طویل اور ضرورت سے زیادہ مطالبہ کرنے والے تعیناتی کے نظام الاوقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ بردار بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کی صلاحیتوں کو دباتے ہیں اور بحریہ پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔
ہاؤس اپروپریشنز ڈیفنس ذیلی کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ بیٹی میک کولم نے کہا کہ وہ ابراہم لنکن پر خوراک کی قلت، صفائی کے مسائل اور بندرگاہ کے ناکافی اسٹاپ کے بارے میں جوابات مانگ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کی کہانی نہیں ہے یہ قیادت کی ناکامی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
نیویارک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے فیصلے کا سخت دفاع کیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی شہریوں پر معاشی بوجھ کے باوجود اس جنگ کے لیے “کبھی معافی نہیں مانگیں گے”۔
یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دلیل دی کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا کسی بھی اقتصادی قیمت سے زیادہ اہم اور جائز ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عام شہریوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں کو پٹرول کے لیے تھوڑی زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک بدمعاش ملک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچنے والی قیمتیں قابل قبول ہیں اور انہوں نے درست قدم اٹھایا ہے۔ غیر منافع بخش امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں ریگولر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 4.07 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک ماہ پہلے 3.85 ڈالر اور ایک سال پہلے 3.16 ڈالر تھا۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً چھ ماہ سے جاری ایران تنازعہ کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر شدید دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا6 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
