دنیا
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے تعلقات میں کشیدگی،کھلم کھلا اعلان سے گریز
واشنگٹن، اسرائیل کی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں کچھ تناؤ پیدا ہوا ہے۔
جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں ٹرمپ کے بعض قریبی معاونین کو توقع تھی کہ وہ نیتن یاہو کی حمایت کریں گے۔ ٹرمپ نے عوامی طور پر نیتن یاہو کو معافی دینے کے لیے بھی دباؤ ڈالا تھا، جس سے ان کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ ختم ہوسکتا تھا۔تاہم جنگ طویل ہونے کے ساتھ دونوں رہنماؤں کے خارجہ پالیسی کے مقاصد اور داخلی سیاسی مفادات میں اختلافات بڑھتے گئے۔ ایران کے علاوہ غزہ اور لبنان کے تنازعات پر بھی دونوں کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔
دو سینئر امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ ٹرمپ اب بھی ذاتی طور پر نیتن یاہو کو پسند کرتے ہیں، تاہم وہ ان کے فیصلوں اور پالیسیوں سے مایوس ہوچکے ہیں۔
ایکسیوس کے مطابق، حال ہی میں نیتن یاہو کے بارے میں ٹرمپ سے بات کرنے والے دو افراد نے بتایا کہ صدر نے کہا، ’’بی بی خود اپنا سب سے بڑا دشمن ہے۔‘‘
تازہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب نیتن یاہو نے حماس کو غیر مسلح کرنے سے متعلق ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ منصوبے کو عوامی طور پر مسترد کردیا۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ وائٹ ہاؤس نے نیتن یاہو کے بیان کو زیادہ تر انتخابی سیاست کا حصہ سمجھا ہے، نہ کہ لازماً کسی حتمی پالیسی مؤقف کے طور پر۔
عہدیدار نے کہا، ’’ہم بی بی کی سیاسی ضروریات کو سمجھتے ہیں۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، جب تک وہ وہی کرتا رہے جو ہم اس سے چاہتے ہیں، خاص طور پر غزہ میں حملوں کو محدود کرنے کے حوالے سے۔‘‘
نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر سے بھی بات کی تھی اور اپنے تحفظات کے باوجود بورڈ آف پیس کے منصوبے کو موقع دینے کا وعدہ کیا تھا۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق انہوں نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کو محدود کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا تاکہ مجوزہ غیر فوجی عمل شروع ہوسکے۔اس کے بعد یروشلم نے غزہ میں اپنے حملوں میں نمایاں کمی کی ہے اور اسرائیلی فوج یلو لائن تک پیچھے ہٹ گئی ہے، جہاں معاہدے کے تحت اسے موجود ہونا تھا۔
معاملے سے واقف چار افراد کے مطابق کشنر آئندہ ہفتے اسرائیل کا دورہ کرکے نیتن یاہو اور دیگر عہدیداروں سے غزہ منصوبے پر بات کریں گے۔
دریں اثنا نیتن یاہو کے سیاسی مخالفین بھی اب اس امکان پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں کہ ٹرمپ اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کرسکتے ہیں۔
سابق آئی ڈی ایف چیف آف اسٹاف گادی آئزن کوٹ، سابق وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لاپید کے معاونین کے مطابق تینوں رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹرمپ بالآخر نیتن یاہو کی حمایت کرسکتے ہیں۔
معاملے سے واقف دو افراد نے بتایا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے باہمی دوستوں، عطیہ دہندگان اور دیگر سیاسی اتحادیوں کے ذریعے ٹرمپ اور ان کی ٹیم تک پیغام پہنچایا ہے کہ امریکی صدر غیر جانب دار رہیں۔
صورتحال سے باخبر ایک سابق امریکی عہدیدار نے کہا کہ رائے عامہ کے جائزوں میں نیتن یاہو کی کمزور پوزیشن نے بھی ٹرمپ کو براہِ راست مداخلت سے روکنے میں کردار ادا کیا ہے۔
ٹرمپ اب بھی اسرائیل میں خاصے مقبول ہیں، تاہم گزشتہ تین ماہ کے دوران ان کی مقبولیت میں کچھ کمی آئی ہے۔ اس کی ایک وجہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ اور معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد جنگ سے پیچھے ہٹنے کا ان کا فیصلہ بتایا جاتا ہے۔
بہت سے اسرائیلی ایران، غزہ، شام اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر ٹرمپ کی جانب سے عائد پابندیوں کے بھی مخالف ہیں۔ اسرائیلی سیاسی، سماجی اور عسکری حلقوں میں ان تمام محاذوں پر کارروائیاں مزید بڑھانے کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ سے چار مرتبہ پوچھا جاچکا ہے کہ آیا وہ نیتن یاہو کی حمایت کرتے ہیں، تاہم ہر مرتبہ انہوں نے واضح حمایت کا اعلان کرنے سے گریز کیا۔
جولائی میں ریڈیو میزبان ہیو ہیوٹ نے ٹرمپ سے پوچھا تھا کہ کیا اسرائیل میں کوئی اور شخص نیتن یاہو کے مقابلے میں اس عہدے کے لیے زیادہ موزوں ہے؟ صدر نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا، ’’میں ان میں سے زیادہ تر کو نہیں جانتا۔ ظاہر ہے کچھ کو جانتا ہوں، لیکن زیادہ تر کو نہیں جانتا۔‘‘
حالیہ کئی انٹرویوز میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ’’جنگ کے زمانے کا عظیم وزیراعظم‘‘ قرار دیا ہے، تاہم ایسا کرتے ہوئے وہ بارہا ماضی کا صیغہ استعمال کرچکے ہیں۔
اسرائیلی عہدیداروں نے یہ بھی کہا ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات میں نجی طور پر معافی کے معاملے کو اٹھایا تھا، تاہم صدر نے کئی ماہ سے اس بارے میں عوامی سطح پر کوئی بات نہیں کی۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ وائٹ ہاؤس ان غلطیوں کو دوبارہ دہرانا نہیں چاہتا اور نہ ہی اسرائیل کی داخلی سیاست کو اپنے علاقائی ایجنڈے میں رکاوٹ بننے دے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز میں اےڈی این او سی کے دو بحری جہازوں پر ڈرون حملے، متحدہ عرب امارات کا ایران پر الزام
ابوظہبی، متحدہ عرب امارات کی سرکاری ملکیتی توانائی کمپنی ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (اےڈی این او سی) نے کہا ہے کہ اس کے زیرِ انتظام دو بحری جہازوں پر جمعرات کی شام آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ڈرون حملے کیے گئے۔
اےڈی این او سی کے مطابق حملے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا اور صورتحال قابو میں ہے۔ کمپنی نے حملوں کو ’’بحری قزاقی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں آزادانہ جہازرانی اور عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے خطرہ ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق جاری بیان میںاےڈی این او سی نے آبنائے ہرمز میں بحری عملے کے تحفظ، آزادانہ جہازرانی اور بحری سلامتی یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
کمپنی نے حملے کی نوعیت یا اس کے ذمہ داروں کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
برطانوی فوج کے یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) مرکز نے بھی بتایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو بحری جہازوں نے ڈرون حملوں کے نتیجے میں معمولی نقصان کی اطلاع دی ہے۔ مرکز نے جہازوں کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم دستیاب تفصیلات اےڈی این او سی کے بحری جہازوں پر حملے سے مطابقت رکھتی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے حملوں کا براہِ راست الزام ایران پر عائد کرتے ہوئے انہیں آزادیٔ جہازرانی سے متعلق اقوام متحدہ کے اصولوں کی ’’کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا اور آبنائے ہرمز کو اقتصادی دباؤ یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنا ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے بحری قزاقی کے مترادف ہے اور خطے کے استحکام، عوام اور عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحر ہند سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی اور علاقائی توانائی کی منڈیوں کو متاثر کرسکتی ہے۔
یہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کے تحفظ سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان پیش آیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا طیارہ بردار بحری جہازوں میں برقی کیٹپلٹ ختم کرکے بھاپ سے چلنے والا نظام بحال کرنے کا حکم
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحریہ کو اپنے طیارہ بردار بحری جہازوں میں برقی مقناطیسی طیارہ لانچ سسٹم ختم کرکے پرانے بھاپ سے چلنے والے کیٹپلٹ نظام پر واپس جانے کی ہدایت کی ہے۔ دفاعی حکام اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے اخراجات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ سکتے ہیں۔
یہ حکم مستقبل میں تیار کیے جانے والے فورڈ کلاس طیارہ بردار بحری جہازوں پر لاگو ہوگا، جن میں زیرِ تعمیر ڈورس ملر بھی شامل ہے۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ان بحری جہازوں میں بحریہ کے جدید الیکٹرو میگنیٹک ایئرکرافٹ لانچ سسٹم (ای ایم اے ایل ایس) اور جدید ہتھیاروں کی لفٹوں کے بجائے بھاپ سے چلنے والے کیٹپلٹ اور ہائیڈرولک نظام نصب کیے جائیں۔
فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے جاری کردہ ایک یادداشت میں ٹرمپ نے کہا کہ محکمہ جنگ کو بحری بیڑے کے حجم میں اضافے کے ساتھ ’’بحری صنعتی بنیاد میں پیداواری صلاحیت اور مسابقت دونوں بحال کرنے‘‘ کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طریقہ کار میں آزمودہ اور قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی پر انحصار کیا جائے گا، جبکہ قلیل مدت میں غیر ملکی جہاز ساز کمپنیوں سے خریداری کا راستہ بھی کھولا جائے گا۔ ساتھ ہی ملکی جہاز سازی کی صنعت میں سرمایہ کاری بڑھانے پر توجہ دی جائے گی، جیسا کہ انتظامیہ نے آئس بریکرز سمیت دیگر بڑے دفاعی منصوبوں میں کیا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے ای ایم اے ایل ایس پر تنقید نئی نہیں۔ وہ اپنی پہلی مدتِ صدارت سے ہی امریکی بحریہ کے سب سے بڑے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ پر استعمال ہونے والے اس نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور اسے ضرورت سے زیادہ پیچیدہ اور مہنگا قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ماہ پنسلوانیا میں ایک دفاعی اجلاس کے دوران بھی اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار کیا تھا۔
تاہم ہر کوئی اس تبدیلی سے متفق نہیں ہے۔ کیلیفورنیا کی کمپنی جنرل ایٹومکس، جس کے پاس ڈورس ملر کے لیے ای ایم اے ایل ایس اور ایڈوانسڈ اریسٹنگ گیئر تیار کرنے کا 1.2 ارب ڈالر کا معاہدہ ہے، نے جمعرات کو جاری بیان میں فیصلے کی مخالفت کی۔
کمپنی نے کہا کہ جہاز کی تعمیر تقریباً نصف مکمل ہوچکی ہے اور اس مرحلے پر سمت تبدیل کرنے سے اخراجات، تعمیراتی شیڈول اور مختلف نظاموں کو باہم مربوط کرنے میں سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ہِل کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے خبردار کیا کہ اس تبدیلی سے طیارہ بردار جہازوں کی تیاری اور امریکہ کی تکنیکی برتری بھی متاثر ہوسکتی ہے، جس سے مخالف ممالک کو برتری حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں نے بھی اس اقدام کو غیر مؤثر اور رقم کا ضیاع قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای ایم اے ایل ایس طیاروں کو زیادہ ہموار انداز میں لانچ کرکے ان پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ برقی مقناطیسی نظام نسبتاً ہلکا، توانائی اور پانی کے استعمال میں زیادہ مؤثر اور بھاپ سے چلنے والے متبادل کے مقابلے میں کم دیکھ بھال اور افرادی قوت کا تقاضا کرتا ہے۔
13 ارب ڈالر سے زائد کی لاگت سے تیار ہونے والا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اس وقت 11 ماہ کی تعیناتی کے بعد مرمت کے لیے ورجینیا کے ہیمپٹن روڈز میں موجود ہے۔ اس تعیناتی میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کی کارروائی اور ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق آپریشنز بھی شامل تھے۔
اس فیصلے کو سینیٹ کے ڈیموکریٹس کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ ایریزونا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مارک کیلی، جو سابق نیوی ٹیسٹ پائلٹ اور سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن ہیں، نے ایکس پر کہا کہ ان کے اپنے تجربے، طیارہ بردار جہازوں سے سیکڑوں بار طیارے لانچ کرنے اور ایروناٹیکل انجینئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری کے باوجود وہ بحریہ کو یہ بتانے کا دعویٰ نہیں کریں گے کہ اپنے بحری جہازوں کی انجینئرنگ کیسے کی جائے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
نیپال کے رولپا میں لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتوں کی تعداد 10 ہوگئی، 3 افراد تاحال لاپتہ
کھٹمنڈو، 14 اگست (یو این آئی) نیپال کے ضلع رولپا میں موسلادھار بارش کے نتیجے میں مٹی کے تودے گرنے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 10 ہو گئی ہے، جب کہ تین لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں، یہ بات نیپال پولیس نے جمعرات کی شام کو بتائی۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع کے تھابنگ دیہی میونسپلٹی-5 کے کوٹلاباڑہ علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ سے کئی مکانات اور مویشیوں کے شیڈ ملبے تلے دب گئے۔ پانچ افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جب کہ اسی بستی سے پانچ دیگر افراد کی لاشیں پڑوسی ضلع پیوتھن سے برآمد ہوئیں۔ ان واقعات میں ہلاک ہونے والوں میں 18 سال کی عمر کے نوجوان سے لے کر 80 کی دہائی کے بوڑھے تک شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں اور مقامی رہائشیوں کی مدد سے بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بدھ کی رات بستی میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعے کے بعد ابتدائی طور پر تین افراد کے ہلاک اور نو افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات تھیں جس کے بعد اب مرنے والوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا4 days agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
