دنیا
ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیں گے: ٹرمپ
واشنگٹن] صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی آبنائے ہرمز کو ’امریکی علاقہ‘ قرار دے سکتے ہیں۔
مسٹر ٹرمپ نے نیو یارک کی ناساؤ کاؤنٹی میں ایک تقریب میں کہا کہ “میں نے ایران کو اچھی طرح سے شکست دینے کے بعد، میں جلد ہی آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دوں گا۔”
صدر نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے فوج کو “میرے خیال سے کچھ زیادہ” استعمال کیا ہے لیکن دلیل دی کہ ایرانی حکومت کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے تہران پر دباؤ ڈالنا ضروری ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو “امریکی علاقہ” قرار دینے کے بعد ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی اور بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے تاکید کی کہ تہران اہم آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی جاری رکھے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا، “آبنائے ہرمز کو ٹویٹس، طیارہ بردار جہازوں، فرمانوں یا انتخابی تقریروں سے نہیں پکڑا جا سکتا۔ ایران دھمکیوں یا طاقت کے مظاہروں سے خوفزدہ نہیں ہے۔” مسٹر غریب آبادی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کو “اسٹریٹجک اور اہم شکست” ہوئی ہے اور اصرار کیا کہ “آبنائے ہرمز ایران کا ہے، ایران کا ہے اور ایران کا ہی رہے گا۔”
انہوں نے کہا کہ “یہ آبنائے صرف ایران کے حکم پر بند اور کھلے گا،” انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس وقت تک ناکہ بندی برقرار رکھے گا جب تک امریکہ اسے “شکست کی حقیقت” کے طور پر تسلیم نہیں کرتا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنوبی ہسپانیہ زلزلے سے لرز اٹھا، عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان
میڈرڈ، جمعہ کی دیر شب جنوبی ہسپانوی شہر غرناطہ میں 5 کی شدت کا زلزلہ آیا، اور علاقائی حکومت نے بتایا کہ گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا مگر کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ زلزلہ الہندین کے میٹروپولیٹن علاقے میں آیا ۔
ہسپانوی ٹیلی ویژن چینل ٹی وی ای نے سڑکوں پر ملبہ بکھرنے اور اس مقبول سیاحتی شہر میں کچھ گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کے مناظر نشر کیے۔
اندلس کے ہنگامی خدمات ادارے نے نقصان زدہ عمارتوں سے متعدد افراد کو نکالا۔
اندلسی صوبائی حکومت کے نائب صدر انتونیو سانز کابییلو نے ہفتے کو ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ حکام نے ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ”اگر آپ غرناطہ میں ہیں، آپ نے زلزلہ محسوس کیا ہے، آپ خیریت سے ہیں اور آپ کے گھر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تو پرسکون رہیں اور غیر ضروری طور پر عمارتوں میں داخل یا باہر نہ ہوں۔”
کہا گیا ہے کہ سڑک پر عمارتوں کے سامنے والے حصوں، سجاوٹی کناروں، بالکونیوں، دیواروں اور دیگر ایسے حصوں سے دور رہیں جن کے گرنے کا امکان ہو سکتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیلی حملے میں جنوبی لبنان میں سات افراد جاں بحق، حملوں میں شدت
بیروت، جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں سات افراد جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل نے رات بھر کئی قصبوں اور دیہات پر حملوں میں شدت پیدا کردی۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کے مطابق ہفتے کی علی الصبح نبطیہ ضلع کے قصبے انصار کے مضافات میں ایک مکان کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
اسلامک میسج اسکاؤٹ ایسوسی ایشن، اسلامک ہیلتھ اتھارٹی اور لبنان کی سول ڈیفنس کی ہنگامی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور جاں بحق و زخمی افراد کو نبطیہ کے اسپتالوں میں منتقل کرنے میں مصروف رہیں۔
یہ جون میں ہونے والے معاہدوں کے بعد لبنان میں اسرائیل کا سب سے ہلاکت خیز رپورٹ شدہ حملہ ہے۔ ان معاہدوں کے نتیجے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں نمایاں کمی آئی تھی۔
این این اے کے مطابق ہفتے کی علی الصبح اسرائیلی حملوں میں شدت آگئی اور نبطیہ الفوقا کے قریب علی الطاہر پہاڑی سلسلے پر متعدد فضائی حملے کیے گئے۔
دو دیگر حملوں میں نبطیہ الفوقا میں اساتذہ کے تربیتی مرکز اور حسینی کلب کے قریب کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ انصار اور زَراریہ کے درمیان واقع وادی پر بھی حملہ کیا گیا۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ دو ماہ قبل جنگ بندی کے بعد جنوبی لبنان میں اس قدر اندر تک کیا جانے والا پہلا حملہ تھا۔
این این اے نے بتایا کہ سرحد کے قریب بنت جبیل میں اسرائیلی فوج نے کئی مکانات تباہ کردیے اور کونین-صف الہوا سڑک کے ساتھ واقع گھروں کی جانب بھاری مشین گنوں سے فائرنگ کی۔
اسرائیلی فضائی حملے میں نصف شب سے کچھ دیر قبل المنصوری کے علاقے المشاعہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت اور اس کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی سرپرستی میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے بعد تشدد میں کمی آئی ہے، تاہم جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے اور مکانات کی مسماری کا سلسلہ جاری ہے۔
اس فریم ورک کے تحت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا اور جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جمعہ کے روز حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے فریم ورک پر عمل درآمد کے حوالے سے لبنانی حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ جب اسرائیلی حملے جاری ہیں، اس کے باوجود حکام لبنانی فوج پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، “آپ لبنانی فوج کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے اسے مسلسل ذلت کا شکار کیسے ہونے دے سکتے ہیں اور اسے اسرائیلی بمباری اور دباؤ کے سامنے کیسے لا سکتے ہیں”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے تعلقات میں کشیدگی،کھلم کھلا اعلان سے گریز
واشنگٹن، اسرائیل کی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں کچھ تناؤ پیدا ہوا ہے۔
جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں ٹرمپ کے بعض قریبی معاونین کو توقع تھی کہ وہ نیتن یاہو کی حمایت کریں گے۔ ٹرمپ نے عوامی طور پر نیتن یاہو کو معافی دینے کے لیے بھی دباؤ ڈالا تھا، جس سے ان کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ ختم ہوسکتا تھا۔تاہم جنگ طویل ہونے کے ساتھ دونوں رہنماؤں کے خارجہ پالیسی کے مقاصد اور داخلی سیاسی مفادات میں اختلافات بڑھتے گئے۔ ایران کے علاوہ غزہ اور لبنان کے تنازعات پر بھی دونوں کے درمیان اختلافات سامنے آئے۔
دو سینئر امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ ٹرمپ اب بھی ذاتی طور پر نیتن یاہو کو پسند کرتے ہیں، تاہم وہ ان کے فیصلوں اور پالیسیوں سے مایوس ہوچکے ہیں۔
ایکسیوس کے مطابق، حال ہی میں نیتن یاہو کے بارے میں ٹرمپ سے بات کرنے والے دو افراد نے بتایا کہ صدر نے کہا، ’’بی بی خود اپنا سب سے بڑا دشمن ہے۔‘‘
تازہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب نیتن یاہو نے حماس کو غیر مسلح کرنے سے متعلق ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ منصوبے کو عوامی طور پر مسترد کردیا۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ وائٹ ہاؤس نے نیتن یاہو کے بیان کو زیادہ تر انتخابی سیاست کا حصہ سمجھا ہے، نہ کہ لازماً کسی حتمی پالیسی مؤقف کے طور پر۔
عہدیدار نے کہا، ’’ہم بی بی کی سیاسی ضروریات کو سمجھتے ہیں۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، جب تک وہ وہی کرتا رہے جو ہم اس سے چاہتے ہیں، خاص طور پر غزہ میں حملوں کو محدود کرنے کے حوالے سے۔‘‘
نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر سے بھی بات کی تھی اور اپنے تحفظات کے باوجود بورڈ آف پیس کے منصوبے کو موقع دینے کا وعدہ کیا تھا۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق انہوں نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کو محدود کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا تاکہ مجوزہ غیر فوجی عمل شروع ہوسکے۔اس کے بعد یروشلم نے غزہ میں اپنے حملوں میں نمایاں کمی کی ہے اور اسرائیلی فوج یلو لائن تک پیچھے ہٹ گئی ہے، جہاں معاہدے کے تحت اسے موجود ہونا تھا۔
معاملے سے واقف چار افراد کے مطابق کشنر آئندہ ہفتے اسرائیل کا دورہ کرکے نیتن یاہو اور دیگر عہدیداروں سے غزہ منصوبے پر بات کریں گے۔
دریں اثنا نیتن یاہو کے سیاسی مخالفین بھی اب اس امکان پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں کہ ٹرمپ اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کرسکتے ہیں۔
سابق آئی ڈی ایف چیف آف اسٹاف گادی آئزن کوٹ، سابق وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لاپید کے معاونین کے مطابق تینوں رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹرمپ بالآخر نیتن یاہو کی حمایت کرسکتے ہیں۔
معاملے سے واقف دو افراد نے بتایا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے باہمی دوستوں، عطیہ دہندگان اور دیگر سیاسی اتحادیوں کے ذریعے ٹرمپ اور ان کی ٹیم تک پیغام پہنچایا ہے کہ امریکی صدر غیر جانب دار رہیں۔
صورتحال سے باخبر ایک سابق امریکی عہدیدار نے کہا کہ رائے عامہ کے جائزوں میں نیتن یاہو کی کمزور پوزیشن نے بھی ٹرمپ کو براہِ راست مداخلت سے روکنے میں کردار ادا کیا ہے۔
ٹرمپ اب بھی اسرائیل میں خاصے مقبول ہیں، تاہم گزشتہ تین ماہ کے دوران ان کی مقبولیت میں کچھ کمی آئی ہے۔ اس کی ایک وجہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ اور معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد جنگ سے پیچھے ہٹنے کا ان کا فیصلہ بتایا جاتا ہے۔
بہت سے اسرائیلی ایران، غزہ، شام اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر ٹرمپ کی جانب سے عائد پابندیوں کے بھی مخالف ہیں۔ اسرائیلی سیاسی، سماجی اور عسکری حلقوں میں ان تمام محاذوں پر کارروائیاں مزید بڑھانے کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ سے چار مرتبہ پوچھا جاچکا ہے کہ آیا وہ نیتن یاہو کی حمایت کرتے ہیں، تاہم ہر مرتبہ انہوں نے واضح حمایت کا اعلان کرنے سے گریز کیا۔
جولائی میں ریڈیو میزبان ہیو ہیوٹ نے ٹرمپ سے پوچھا تھا کہ کیا اسرائیل میں کوئی اور شخص نیتن یاہو کے مقابلے میں اس عہدے کے لیے زیادہ موزوں ہے؟ صدر نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا، ’’میں ان میں سے زیادہ تر کو نہیں جانتا۔ ظاہر ہے کچھ کو جانتا ہوں، لیکن زیادہ تر کو نہیں جانتا۔‘‘
حالیہ کئی انٹرویوز میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ’’جنگ کے زمانے کا عظیم وزیراعظم‘‘ قرار دیا ہے، تاہم ایسا کرتے ہوئے وہ بارہا ماضی کا صیغہ استعمال کرچکے ہیں۔
اسرائیلی عہدیداروں نے یہ بھی کہا ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات میں نجی طور پر معافی کے معاملے کو اٹھایا تھا، تاہم صدر نے کئی ماہ سے اس بارے میں عوامی سطح پر کوئی بات نہیں کی۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ وائٹ ہاؤس ان غلطیوں کو دوبارہ دہرانا نہیں چاہتا اور نہ ہی اسرائیل کی داخلی سیاست کو اپنے علاقائی ایجنڈے میں رکاوٹ بننے دے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر3 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
ہندوستان5 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر4 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا5 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا4 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا4 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا5 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا4 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
