تازہ ترین
آر ایس پورہ کے باسمتی چاول عرب اور یورپ ممالک کے کچنوں کی ضیافت کیسے بنی؟
عاصم محی الدین
[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=_j3_I3a2gzY[/embedyt]
جموں ضلع کے آر ایس پورہ قصبے میں، ایک نوجوان پنکج مہاجن اپنی رائس مل کے دفتر کے باہر دھوپ ساک رہا ہے۔ اس کے چہرے پر اضطراب اور تناؤ غالب نظر آتا ہے۔
“کچھ سال پہلے تک، ہمارا بہت اچھا کاروبار تھا۔ یہاں تک کہ ہماری ملیں چوبیس گھنٹے کام کر رہی تھیں لیکن اب ہمارے لئے شاید ہی کوئی کاروبار باقی ہے۔
اگر آنے والے وقت میں صورتحال بہتر نہیں ہوئی تو، پنکج کی جاوادرگا رائس اور جنرل ملوں کے ساتھ ساتھ، آر ایس پورہ ریجن میں چلنے والی پچاس سے زاید ملوں کے شٹر بند ہونے کا امکان ہے۔ مل مالکان کا دعوی ہے کہ چاول کی خریداری میں خاطر خواہ کمی کے باعث ان کے اخراجات پورے کرنا مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔
آر ایس پورہ میں کاشت کی جانے والی چاول جو سیالکوٹ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد پر واقع ہے اس کے معیار اور خوشبو کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ لیکن اس کی اقتصادی صلاحیت کو استعمال کرنے کی ناقص مارکیٹ حکمت عملی کے پیش نظر اسے کبھی برآمد نہیں کیا گیا۔
چار سال پہلے، متعدد MNC نے آر اس پورہ اراضی میں داخلہ لیا تھا اور کاشتکاروں سے براہ راست پیداوار اٹھانا شروع کی گئی تھی۔ اس سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، تاہم اس نے یہاں کے باسمتی چاول کو عالمی سطح پر فوقیت بخشی ہے، جسے تکنیکی طور پر 370 یا رنبیر پورہ چاول کہا جاتا ہے۔
“کئی دہائیوں سے ہم پرمقامی مل مالکان استحصال کرتے رہے ہیں۔ ان کی یونین ہے اور وہ کسانوں سے مشورہ کیے بغیر نرخیں طے کررتے ہیں، “آر ایس پورہ کے ایک نوجوان کسان، دھیرج شرما کہتے ہیں۔ “انتہائی کم شرحیں طے کرنے کے باوجود ان فصلوں کی ادائیگی وقت پر نہیں کی جاتی تھی۔”
دھیرج، پیشہ سے ایک کاشتکار ہے جو اطمینان بخش اپنی پیداوار ابرو انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کو فراہم کررہا ہے۔ تاہم، وہ ایک ایسا تاجر بھی بن گیا ہے جو اپنے گاؤں کے کسانوں سے حاصل ہونے والی پیداوار کو خرید لیتا ہے اور بعد میں کمیشن کی بنیاد پر اسی کمپنی کو سپلائی کرتا ہے۔
“ہمیں اعلی کمپنیوں سے معاہدہ کرنے کے بعد ادائیگی وقت پر ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ فصل کے ہر بیگ پر مراعات اور بونس بھی ملتا ہیں۔
اس علاقے میں چلنے والی ملز باسمتی چاول کی بدلتی ہوئی مارکیٹنگ کی حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ تقریبا تمام ملیں ایک ہی شفٹ میں کام کر رہی ہیں اور ہفتوں تک کبھی کبھی بند رہتی ہیں۔
“پنکج جو ‘فیڈریشن آف رائس شیلنگ انڈسٹریز’ کا ممبر بھی ہے کا کہنا ہے “پچھلے چار سالوں میں ہمارے کاروبار میں پچاس فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ زیادہ تر لوگ اپنی فصلوں کو بیرونی کمپنیوں کو فروخت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس سے ہم سب متاثر ہوئے ہے۔
آربو انڈیا پرائیوٹ لمیٹڈ جیسی بڑی کاروباری گھروں اور کمپنیوں کے لئے آر ایس پیورا میں چاول کی منڈی کھلنے کے ساتھ، ایل ٹی فوڈز، سن سٹار اور سیز، نرنجن ایکسپوٹس، کے آر بی ایل اور بہت ساری کمپنیا براہ راست کسانوں کے ساتھ روابط استوار کر رہے ہیں، وہیں فیڈریشن کو اس بات کا کوئی پتہ نہیں ہے کہ اوپن مارکیٹ کے مقابلے میں کیسے زندہ رہنا ہے۔
پنکج نے اپنے کاروبار کا کمزور رخ بتایا۔”ہم بس انتظار کر رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ معاملات کس طرح بدلتے ہیں۔ ایک چھوٹا کاروباری یونٹ کس طرح بڑی صنعتوں کا مقابلہ کر سکتا ہے جو کاشتکاروں کو اچھے منافع کا وعدہ کرتے ہوئے چاول کے کھیتوں میں داخل ہوگئے ہے، ”
جموں وکشمیر میں، آر ایس پورہ ہر سال 10 لاکھ کوئنٹل سے زیادہ باسمتی چاول کی پیداوار کرتا ہے۔ لیکن یہ عالمی سطح پر کچھ سال پہلے تک قبولیت حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا کیونکہ یہ سب کچھ مقامی طور پر کیا جاتا تھا۔
سوچیٹ گر گاؤں کے ایک کسان سوورن لال کہتے ہیں ”مقامی ملیوں کی ناقص مارکیٹنگ اس چاول کو جموں صوبے میں ہی فراوق کررہی تھی۔ اس کے نتیجہ میں یہاں کے چاول کو کم قیمت ملتی تھی، “۔
“ہماری پیداوار 370 باسمتی چاول کی اب عالمی منڈی ہے اور اس کی خوشبو مشرق وسطی اور یورپی ممالک کے صارفین کو راغب کررہی ہے۔ اب 370 ہماری شناخت بن گیا ہے۔
سوورن لال کا کہنا ہے کہ 85 فیصد اراضی آر ایس پورہ میں دھان کی کاشت کے تحت ہے اور ہر ایک ہیکٹر رقبے میں 32 کنوٹل بسمتی چاول تیار ہوتا ہے۔ اس کی کاشت ہر سال جون سے نومبر کے درمیان کی جاتی ہے۔
کئی دہائیاں قبل جب ہمارے گھر پر چاول تیار ہوتے تھے تو پڑوسیوں کو اس کی خوشبو کی وجہ سے پتہ چل جاتا تھا کہ چاول پک رہے ہیں۔ لیکن ہندوستان میں سبز انقلاب شروع ہونے کے بعد اور زیادہ سے زیادہ فصل کی پیداوارکے لئے کاشتکاروں کو مفت کھاد فراہم کی گئی، اس سے اصل ذائقہ کھونے لگا۔
چونکہ اس فصل کو اب عالمی سطح پر فروخت کیا جارہا ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، لہذا لال نے ایک چھوٹی سی کمپنی آرگنائک ڈریمز قائم کی ہے تاکہ سوچیٹ گاؤں میں ارگینک کاشتکاری کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔
اگر آپ مارکیٹ میں براہ راست فصل بیچ رہے ہیں تو، ایک کوئنٹل آپ سے تقریبا 5000 روپے میں لے جاتا ہے۔ اگر آپ ارگینک طریقے سے فصل تیار کرتے ہیں تو، قیمتیوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ لہذا میں اپنے گاؤں میں کاشتکاری کے ارگنک طریقوں کو زندہ کرنے کے لئے کام کر رہا ہوں تاکہ اس بات کو یقین کیا جاسکے کہ اس کا اصل ذائقہ پھر سے واپش اگیا ہے۔
سورن لال، تاہم، اپنے گاؤں والوں سے ایک قدم آگے لگتے ہے۔ وہ پوری طرح سے کمپنیوں پر انحصار نہیں کر رہا ہے کہ وہ گاؤں کا دورہ کر کے پیداوار اٹھیے۔ اس نے اپنا کسٹمر سپ سوشل میڈیا پر بنایا ہواہے جہاں سے وہ دنیا میں کہیں سے بھی آرڈر لیتا ہے۔
پورے ہندوستان سے کمپنیوں نے اس علاقے سے پیداوار وصول کرتے ہوئے دیہاتوں میں اپنے دفاتر قائم کیے ہیں۔ کسانوں کے لئے ان کے نمائندے صرف ایک کال کی دوری پر ہیں۔
“ہم یہاں تعینات ہیں،جب بھی ضرورت ہو کسانوں کی مدد کرتے ہیں، ہم کسانوں کو ماہرین کے مفت مشورے پیش کرتے ہیں، انہیں کاشتکاری کے جدید طریقے سکھاتے ہیں اور پریشانی کے وقت انہیں امید دیتے ہیں۔
ہر ایک کوئنٹل اناج پر، یہ بڑی کمپنیاں ایک کسان کو 100 روپے کا بونس بھی دیتی ہیں۔ اگر وہ ’پروجیکٹ‘ میں شامل ہونا چاہے تو وہ آزادانہ تجارت کے فوائد کا حقدار ہے جو کسان کے کل اناج کی لاگت کا 10 فیصد بنتا ہے۔
پروجیکٹ کسانوں کے لئے ایک اسکیم ہے جس میں کمپنی کے ذریعہ چھوٹے گروپ بنائے جاتے ہیں۔ بیرونی ممالک کے صارفین اس کی خریداری کا 10 فیصد اضافی بطور عطیہ کاشت کار کو دیتے ہیں۔ شیوم کا دعویٰ ہے کہ، “جتنی زیادہ فصل پیدا ہوتی ہیں، اتنا ہی زیادہ کاشتکار وصول کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں منڈی کا نظام موجود نہیں تھا۔ سسٹم کی عدم فراہمی کی وجہ سے، کسانوں کے لئے براہ راست MNC کے ساتھ معاہدہ کرنا آسان ہوگیا ہے۔
فصلوں کے سیزن کے آغاز سے یہ کمپنی کسانوں کو معیار اور مقدار میں سمجھوتہ ناکرنے کو یقینی بنانے میں مدد فراہم کررہی ہے۔
“تقریبا تمام کسان مویشی پالتے ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کاشت کار سائنسی طریقوں سے مویشیوں کے گوبر اور پیشاب کو کھاد کے طور پر استعمال کریں۔ یہ لاگت کو کم کرتا ہے اور معیاری فصل کو یقینی بناتا ہے۔
ہندوستان
گیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کی کارروائی کے تحت ہٹائے گئے 13.3 کروڑ ووٹروں کے نام اور انہیں ووٹ دینے سے محروم کرنے کی وجہ عام کی جانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے بدھ کے روز یہاں اپوزیشن پارٹیوں کے انڈیا اتحاد کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حقیقی ہندوستانی شہری کو غیر شفاف، من مانی یا نا کافی نگرانی والی کارروائی کے ذریعے ووٹنگ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر نام ہٹائے گئے ہیں، تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ کس کا نام ہٹایا گیا اور کیوں۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 324 کی روح کے مطابق آزاد اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے بغیر قابلِ اعتماد انتخابات ممکن نہیں ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کے دو ساتھی الیکشن کمشنروں نے 10 مہینے میں 14 بار اس کارروائی پر اعتراضات درج کیے ہیں لیکن ان کے اعتراضات پر توجہ نہیں دی گئی، اس لیے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے یا انہیں خود استعفیٰ دینا چاہیے۔
کانگریس صدر نے الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی سلیکشن کمیٹی سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ہٹا کر مرکزی وزیر کو شامل کیا گیا۔ انہوں نے الیکشن کمشنروں کو ان کے سرکاری کاموں کے سلسلے میں دی گئی قانونی تحفظ کا بھی معاملہ اٹھایا اور سپریم کورٹ کے اس تبصرے کا ذکر بھی کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا آزاد ہونا ہی نہیں، بلکہ اس کا آزاد دکھائی دینا بھی ضروری ہے۔
مسٹر کھرگے نے پہلی بار ووٹنگ کرنے والے نوجوانوں کے لیے فارم-6 میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ نوجوانوں کے لیے ووٹر رجسٹریشن کی کارروائی آسان اور قابلِ رسائی ہونی چاہیے نیز تمام غیر ضروری رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے۔ ای وی ایم کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ووٹنگ بیلٹ پیپر سے کرائی جانی چاہیے، تاکہ انتخابی نظام میں لوگوں کا اعتماد اور بھروسہ بحال ہو سکے۔
انہوں نے پری-ایس آئی آر ووٹر لسٹ کو مستقبل کے انتخابات میں استعمال کرنے، ووٹر لسٹ میں اسمبلی اور بوتھ کی سطح پر نام جوڑنے، ہٹانے اور سدھار کی پوری جانکاری دینے نیز کسی جائز ووٹر کا نام ہٹانے سے پہلے نوٹس، وجہ اور مؤثر اپیل کا موقع دینے کا مطالبہ کیا۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ انتظامی خامیوں، نا کافی دستاویزات یا بیداری کی کمی کی وجہ سے اہل ووٹروں کو ووٹنگ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی ادارہ جاتی جواب دہی یقینی بنانے اور تمام سیاسی پارٹیوں کا اعتماد قائم کرنے والے نظام کو ضروری بتایا اور کہا کہ انتخابات میں شفافیت سے ہی جمہوریت مضبوط ہوگی۔
یواین آئی ایف اے
دنیا
ہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ جنرلوں اور ایڈمرلوں کے لیے مختص فوجی عہدوں کی تعداد میں 20 فیصد کمی کرنے کا اعلان کریں گے۔ پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس فیصلے سے امریکی بری، بحری اور فضائی افواج کی اعلیٰ قیادت متاثر ہوگی۔
عہدیدار کے مطابق ہیگستھ بدھ کو ورجینیا میں میرین کور بیس کوانٹیکو کے دورے کے دوران اپنے ’’اسٹیٹ آف دی فورس‘‘ خطاب میں اس فیصلے کا اعلان کریں گے۔ وہ یہ خطاب جونیئر افسران اور فوجی اہلکاروں کے سامنے کریں گے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے پینٹاگون کے عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ ہیگستھ تمام فوجی شعبوں کو تقریباً 800 جنرل اور فلیگ افسران کے عہدوں میں گزشتہ سال کی گئی 10 فیصد کمی کو دوگنا کرنے کی ہدایت دیں گے۔ اس طرح مجموعی کمی 20 فیصد ہوجائے گی اور اسے یکم جنوری 2027 تک مکمل کیا جانا ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق نئی کٹوتیوں میں ایک اسٹار جنرل یا اس سے اوپر کے عہدے کے افسران، یا بحریہ میں مساوی رینک رکھنے والے افسران شامل ہو سکتے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ ان کٹوتیوں سے موجودہ اور ترقی کے منتظر ’’سینکڑوں فوجی رہنماؤں‘‘ کے کیریئر متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا ہیگستھ نے جنوری 2025 میں حکومت سنبھالنے کے بعد دو درجن سے زائد اعلیٰ فوجی رہنماؤں کو برطرف کیا یا ریٹائرمنٹ پر مجبور کیا ہے۔
ان میں فوج کے اعلیٰ وردی پوش افسر جنرل رینڈی جارج بھی شامل ہیں، جنہیں اپریل میں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ انتظامیہ نے چار اسٹار رینک رکھنے والی دونوں خواتین افسران کو بھی برطرف کیا، جبکہ متعدد دیگر اعلیٰ عہدے دار ریٹائرمنٹ یا استعفوں کے ذریعے عہدے چھوڑ چکے ہیں۔ فوج کے سیکریٹری ڈین ڈرِسکول نے بھی ہیگستھ کے ساتھ بار بار اختلافات کے بعد رواں ماہ استعفیٰ دیا۔
ہیگستھ نے گزشتہ سال اعلیٰ فوجی عہدوں میں کمی کی کوشش کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ’’قیادت کو بہتر اور منظم بنانے کے لیے غیر ضروری فوجی ڈھانچے‘‘ کو ختم کرنا ہے۔ مئی 2025 میں جاری ایک یادداشت میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ فوج کو ’’غیر ضروری افسر شاہی کی تہوں‘‘ سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔
گزشتہ سال اسی عرصے میں ہیگستھ نے ’’ووک‘‘ ثقافت کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے فوجیوں کے لیے نئی ہدایات بھی جاری کی تھیں، جن میں جسمانی فٹنس کے لیے ’’صنفی غیر جانب دار‘‘ یا ’’مردانہ معیار‘‘ مقرر کرنا شامل تھا۔
سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رینکنگ رکن اور رہوڈ آئی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جیک ریڈ نے اس تازہ اقدام پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ قیادت کے عہدوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کانگریس سے مشاورت کے بعد ہونا چاہیے اور متوقع کٹوتیوں کو ’’ہر امریکی کے لیے باعث تشویش‘‘ قرار دیا۔
ریڈ نے کہا، ’’کانگریس وزیر دفاع پر واضح کر چکی ہے کہ انہیں اس ادارے سے مشاورت کرنی ہوگی اور اعلیٰ افسران کو ہٹانے اور ترقیوں کو روکنے کی وجوہات بتانی ہوں گی۔ اب تک ہمیں تسلی بخش جوابات نہیں ملے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہماری فوج دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کر رہی ہے اور افواج پہلے ہی دباؤ میں ہیں۔‘‘
امریکی قانون کے تحت جنرل افسران کے عہدوں کی تعداد مقرر کی جاتی ہے، تاہم اگر انتظامیہ کانگریس کو نامزدگیاں پیش نہ کرے تو یہ عہدے خالی رکھے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی سپریم کورٹ نے تارکین وطن کو تیسرے ممالک بھیجنے کی اجازت دے دی
واشنگٹن، امریکی سپریم کورٹ نے منگل کو نچلی عدالت کے اس حکم کو عارضی طور پر روک دیا جس نے امریکی حکام کو تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک کے علاوہ تیسرے ممالک میں ڈی پورٹ کرنے سے روک دیا تھا، جس سے انتظامیہ کو ملک بدری کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے 25 فروری 2026 کے حکم اور میساچوسٹس کی وفاقی عدالت کے فیصلے پر روک لگا دی، جس نے پہلے امریکہ سے تارکین وطن کی دوسرے ممالک میں ملک بدری پر عارضی پابندی عائد کی تھی۔
امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ محکمہ انصاف میساچوسٹس کی عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرے گا۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ تیسرے ممالک میں تارکین وطن کو تیزی سے ملک بدر کرنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کی قانونی حیثیت پر دسمبر میں سماعت کرے گی۔ سونیا سوٹومائیر، ایلینا کاگن اور کیتنجی براؤن جیکسن نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔ یو ایس ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) کے جنرل کونسلر جیمز پرسیول نے اس فیصلے کو محکمے کی ایک اور “فتح” قرار دیا اور تارکین وطن سے رضاکارانہ طور پر امریکہ چھوڑنے کی اپیل کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ تیسرے ممالک کو ڈی پورٹ کرنے کی پالیسی دوبارہ نافذ ہو گئی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 47ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے دن ہی غیر قانونی امیگریشن کو روکنے اور بڑے پیمانے پر ملک بدری شروع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے امریکی سرحد پر بحران سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں ہنگامی حالت کا اعلان بھی کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان7 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
