تازہ ترین
آر ایس پورہ کے باسمتی چاول عرب اور یورپ ممالک کے کچنوں کی ضیافت کیسے بنی؟
عاصم محی الدین
[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=_j3_I3a2gzY[/embedyt]
جموں ضلع کے آر ایس پورہ قصبے میں، ایک نوجوان پنکج مہاجن اپنی رائس مل کے دفتر کے باہر دھوپ ساک رہا ہے۔ اس کے چہرے پر اضطراب اور تناؤ غالب نظر آتا ہے۔
“کچھ سال پہلے تک، ہمارا بہت اچھا کاروبار تھا۔ یہاں تک کہ ہماری ملیں چوبیس گھنٹے کام کر رہی تھیں لیکن اب ہمارے لئے شاید ہی کوئی کاروبار باقی ہے۔
اگر آنے والے وقت میں صورتحال بہتر نہیں ہوئی تو، پنکج کی جاوادرگا رائس اور جنرل ملوں کے ساتھ ساتھ، آر ایس پورہ ریجن میں چلنے والی پچاس سے زاید ملوں کے شٹر بند ہونے کا امکان ہے۔ مل مالکان کا دعوی ہے کہ چاول کی خریداری میں خاطر خواہ کمی کے باعث ان کے اخراجات پورے کرنا مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔
آر ایس پورہ میں کاشت کی جانے والی چاول جو سیالکوٹ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد پر واقع ہے اس کے معیار اور خوشبو کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ لیکن اس کی اقتصادی صلاحیت کو استعمال کرنے کی ناقص مارکیٹ حکمت عملی کے پیش نظر اسے کبھی برآمد نہیں کیا گیا۔
چار سال پہلے، متعدد MNC نے آر اس پورہ اراضی میں داخلہ لیا تھا اور کاشتکاروں سے براہ راست پیداوار اٹھانا شروع کی گئی تھی۔ اس سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، تاہم اس نے یہاں کے باسمتی چاول کو عالمی سطح پر فوقیت بخشی ہے، جسے تکنیکی طور پر 370 یا رنبیر پورہ چاول کہا جاتا ہے۔
“کئی دہائیوں سے ہم پرمقامی مل مالکان استحصال کرتے رہے ہیں۔ ان کی یونین ہے اور وہ کسانوں سے مشورہ کیے بغیر نرخیں طے کررتے ہیں، “آر ایس پورہ کے ایک نوجوان کسان، دھیرج شرما کہتے ہیں۔ “انتہائی کم شرحیں طے کرنے کے باوجود ان فصلوں کی ادائیگی وقت پر نہیں کی جاتی تھی۔”
دھیرج، پیشہ سے ایک کاشتکار ہے جو اطمینان بخش اپنی پیداوار ابرو انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کو فراہم کررہا ہے۔ تاہم، وہ ایک ایسا تاجر بھی بن گیا ہے جو اپنے گاؤں کے کسانوں سے حاصل ہونے والی پیداوار کو خرید لیتا ہے اور بعد میں کمیشن کی بنیاد پر اسی کمپنی کو سپلائی کرتا ہے۔
“ہمیں اعلی کمپنیوں سے معاہدہ کرنے کے بعد ادائیگی وقت پر ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ فصل کے ہر بیگ پر مراعات اور بونس بھی ملتا ہیں۔
اس علاقے میں چلنے والی ملز باسمتی چاول کی بدلتی ہوئی مارکیٹنگ کی حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ تقریبا تمام ملیں ایک ہی شفٹ میں کام کر رہی ہیں اور ہفتوں تک کبھی کبھی بند رہتی ہیں۔
“پنکج جو ‘فیڈریشن آف رائس شیلنگ انڈسٹریز’ کا ممبر بھی ہے کا کہنا ہے “پچھلے چار سالوں میں ہمارے کاروبار میں پچاس فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ زیادہ تر لوگ اپنی فصلوں کو بیرونی کمپنیوں کو فروخت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس سے ہم سب متاثر ہوئے ہے۔
آربو انڈیا پرائیوٹ لمیٹڈ جیسی بڑی کاروباری گھروں اور کمپنیوں کے لئے آر ایس پیورا میں چاول کی منڈی کھلنے کے ساتھ، ایل ٹی فوڈز، سن سٹار اور سیز، نرنجن ایکسپوٹس، کے آر بی ایل اور بہت ساری کمپنیا براہ راست کسانوں کے ساتھ روابط استوار کر رہے ہیں، وہیں فیڈریشن کو اس بات کا کوئی پتہ نہیں ہے کہ اوپن مارکیٹ کے مقابلے میں کیسے زندہ رہنا ہے۔
پنکج نے اپنے کاروبار کا کمزور رخ بتایا۔”ہم بس انتظار کر رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ معاملات کس طرح بدلتے ہیں۔ ایک چھوٹا کاروباری یونٹ کس طرح بڑی صنعتوں کا مقابلہ کر سکتا ہے جو کاشتکاروں کو اچھے منافع کا وعدہ کرتے ہوئے چاول کے کھیتوں میں داخل ہوگئے ہے، ”
جموں وکشمیر میں، آر ایس پورہ ہر سال 10 لاکھ کوئنٹل سے زیادہ باسمتی چاول کی پیداوار کرتا ہے۔ لیکن یہ عالمی سطح پر کچھ سال پہلے تک قبولیت حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا کیونکہ یہ سب کچھ مقامی طور پر کیا جاتا تھا۔
سوچیٹ گر گاؤں کے ایک کسان سوورن لال کہتے ہیں ”مقامی ملیوں کی ناقص مارکیٹنگ اس چاول کو جموں صوبے میں ہی فراوق کررہی تھی۔ اس کے نتیجہ میں یہاں کے چاول کو کم قیمت ملتی تھی، “۔
“ہماری پیداوار 370 باسمتی چاول کی اب عالمی منڈی ہے اور اس کی خوشبو مشرق وسطی اور یورپی ممالک کے صارفین کو راغب کررہی ہے۔ اب 370 ہماری شناخت بن گیا ہے۔
سوورن لال کا کہنا ہے کہ 85 فیصد اراضی آر ایس پورہ میں دھان کی کاشت کے تحت ہے اور ہر ایک ہیکٹر رقبے میں 32 کنوٹل بسمتی چاول تیار ہوتا ہے۔ اس کی کاشت ہر سال جون سے نومبر کے درمیان کی جاتی ہے۔
کئی دہائیاں قبل جب ہمارے گھر پر چاول تیار ہوتے تھے تو پڑوسیوں کو اس کی خوشبو کی وجہ سے پتہ چل جاتا تھا کہ چاول پک رہے ہیں۔ لیکن ہندوستان میں سبز انقلاب شروع ہونے کے بعد اور زیادہ سے زیادہ فصل کی پیداوارکے لئے کاشتکاروں کو مفت کھاد فراہم کی گئی، اس سے اصل ذائقہ کھونے لگا۔
چونکہ اس فصل کو اب عالمی سطح پر فروخت کیا جارہا ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، لہذا لال نے ایک چھوٹی سی کمپنی آرگنائک ڈریمز قائم کی ہے تاکہ سوچیٹ گاؤں میں ارگینک کاشتکاری کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔
اگر آپ مارکیٹ میں براہ راست فصل بیچ رہے ہیں تو، ایک کوئنٹل آپ سے تقریبا 5000 روپے میں لے جاتا ہے۔ اگر آپ ارگینک طریقے سے فصل تیار کرتے ہیں تو، قیمتیوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ لہذا میں اپنے گاؤں میں کاشتکاری کے ارگنک طریقوں کو زندہ کرنے کے لئے کام کر رہا ہوں تاکہ اس بات کو یقین کیا جاسکے کہ اس کا اصل ذائقہ پھر سے واپش اگیا ہے۔
سورن لال، تاہم، اپنے گاؤں والوں سے ایک قدم آگے لگتے ہے۔ وہ پوری طرح سے کمپنیوں پر انحصار نہیں کر رہا ہے کہ وہ گاؤں کا دورہ کر کے پیداوار اٹھیے۔ اس نے اپنا کسٹمر سپ سوشل میڈیا پر بنایا ہواہے جہاں سے وہ دنیا میں کہیں سے بھی آرڈر لیتا ہے۔
پورے ہندوستان سے کمپنیوں نے اس علاقے سے پیداوار وصول کرتے ہوئے دیہاتوں میں اپنے دفاتر قائم کیے ہیں۔ کسانوں کے لئے ان کے نمائندے صرف ایک کال کی دوری پر ہیں۔
“ہم یہاں تعینات ہیں،جب بھی ضرورت ہو کسانوں کی مدد کرتے ہیں، ہم کسانوں کو ماہرین کے مفت مشورے پیش کرتے ہیں، انہیں کاشتکاری کے جدید طریقے سکھاتے ہیں اور پریشانی کے وقت انہیں امید دیتے ہیں۔
ہر ایک کوئنٹل اناج پر، یہ بڑی کمپنیاں ایک کسان کو 100 روپے کا بونس بھی دیتی ہیں۔ اگر وہ ’پروجیکٹ‘ میں شامل ہونا چاہے تو وہ آزادانہ تجارت کے فوائد کا حقدار ہے جو کسان کے کل اناج کی لاگت کا 10 فیصد بنتا ہے۔
پروجیکٹ کسانوں کے لئے ایک اسکیم ہے جس میں کمپنی کے ذریعہ چھوٹے گروپ بنائے جاتے ہیں۔ بیرونی ممالک کے صارفین اس کی خریداری کا 10 فیصد اضافی بطور عطیہ کاشت کار کو دیتے ہیں۔ شیوم کا دعویٰ ہے کہ، “جتنی زیادہ فصل پیدا ہوتی ہیں، اتنا ہی زیادہ کاشتکار وصول کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں منڈی کا نظام موجود نہیں تھا۔ سسٹم کی عدم فراہمی کی وجہ سے، کسانوں کے لئے براہ راست MNC کے ساتھ معاہدہ کرنا آسان ہوگیا ہے۔
فصلوں کے سیزن کے آغاز سے یہ کمپنی کسانوں کو معیار اور مقدار میں سمجھوتہ ناکرنے کو یقینی بنانے میں مدد فراہم کررہی ہے۔
“تقریبا تمام کسان مویشی پالتے ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کاشت کار سائنسی طریقوں سے مویشیوں کے گوبر اور پیشاب کو کھاد کے طور پر استعمال کریں۔ یہ لاگت کو کم کرتا ہے اور معیاری فصل کو یقینی بناتا ہے۔
ہندوستان
راہل گاندھی کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس: بی جے پی
نئی دہلی بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن ایک رہنما کی انا، بے ضابطگی اور بدتمیزی کی نذر ہو گیا بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی کو غیر ذمہ دار، غیر سنجیدہ، بد نظم اور انا پرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سیاسی شائستگی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی بغیر کسی اجازت کے اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے گیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں۔ ان کے والد وزیر اعظم تھے، ان کی دادی اور پرنانا بھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں معلوم ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لیے سکیورٹی کے کتنے سخت انتظامات ہوتے ہیں۔ جب ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیرِ مملکت جتیندر سنگھ جی وہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت اور بحث کے لیے تیار ہیں۔
مسٹر پرساد نے کہا، ‘جب انہوں نے (مسٹر سنگھ) کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، تو مسٹر گاندھی نے کہا کہ انہیں وزیر کا استعفیٰ چاہیے۔ مسٹر گاندھی! ملک اور پارلیمنٹ کی سیاست آپ کی انا، مراعات یافتہ ہونے کے احساس اور اس سوچ کے دباؤ میں نہیں چلے گی کہ آپ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔’ بی جے پی رہنما نے کہا کہ جمہوریت اس طرح کام نہیں کرتی اور شاید یہی آپ کی پارٹی کی موجودہ حالت کی وجہ بھی ہے۔ مسٹر گاندھی اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہلی میں ہوئی پولیس کارروائی پر وزیرِ داخلہ جواب دیں۔ اس مطالبے پر انہوں نے ایوان کو چلنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کل وزیرِ داخلہ امت شاہ نے میڈیا کے سامنے کہا کہ میں 24 گھنٹے تک پوری بحث سننے اور ان کے تمام دلائل کا نقطہ بہ نقطہ جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کیرن رجیجو نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) اور ایوان میں یہ معاملہ اٹھایا اور کہا، ‘ہم بحث کے لیے تیار ہیں۔ سب کچھ ایسے ہی چل رہا تھا کہ تبھی انہوں نے (مسٹر گاندھی) نے اپنا مطالبہ بدل دیا اور کہا کہ ہمیں دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہیے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور اسی کو مسئلہ بنایا گیا۔’
بی جے پی رہنما نے کہا کہ اس کے بعد مسٹر پردھان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا استعفیٰ دے دیا۔ جب بحث کی بات آئی، تو مسٹر مودی کی قیادت میں حکومت نے دو بڑے قدم اٹھائے۔ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پر ایک بہت سخت قانون لایا گیا، فاسٹ ٹریک کورٹ کا نظام قائم کیا گیا اور سزا نیز پیپر لیک گینگ سے نمٹنے کے لیے بھی کارروائی کی گئی۔
اس کے بعد، امتحان اور نیٹ میں اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی گئی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صاف کر دیا ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔ اگر انہوں نے پارلیمنٹ میں مسٹر شاہ کی بات سنی ہوتی، تو انہیں اپنے سوالات کے جوابات مل جاتے، لیکن، انہوں نے ایوان کو چلنے ہی نہیں دیا۔ تب ان کی (مسٹر گاندھی) دو بے وقوفانہ باتیں سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے (وزیرِ داخلہ نے) گولی چلانے کا حکم دیا ہے، تو وہ استعفیٰ دیں اور اگر نہیں دیا ہے، تو وہ نااہل وزیر ہیں، تب استعفیٰ دیں۔” انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی کو حکومت چلانے کی بنیادی سمجھ بھی نہیں ہے۔
مسٹر پرساد نے کہا کہ مسٹر شاہ 24 گھنٹے ایوان میں بیٹھنے کو تیار تھے، پھر بھی مسٹر گاندھی نے کہا کہ نہیں ہمیں ان کا استعفیٰ چاہیے، ان کی بحث سن کر کیا فائدہ۔ مسٹر گاندھی کی سرکشی سے ملک کی سیاست نہیں چلے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے اپنی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کا معاملہ راجیہ سبھا میں اٹھایا، نڈا نے افسوس کا اظہار کیا
نئی دہلی، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھڑگے نے جمعرات کو ہلدوانی میں ان کی ریلی کے بعد اسٹیج کی ’تطہیر‘ کیے جانے کا معاملہ ایوان میں اٹھایا اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ایوان کے لیڈر جگت پرکاش نڈا نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی مسٹر کھڑگے نے ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں ریلی کرنے گئے تھے۔ ریلی میں لاکھوں لوگ موجود تھے اور انہوں نے لوگوں کے مسائل پر بات کی، لیکن یہ جان کر انہیں بہت افسوس ہوا کہ بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لوگوں نے ہون کرکے اس اسٹیج کی ’تطہیر‘ کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں، لیکن ایک آئینی عہدے پر فائز رہتے ہوئے اس ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر ہیں۔
اس پر مسٹر نڈا نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک معاملہ ہے اور یہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہا گیا ہے کہ اس میں بی جے پی کے لوگ شامل تھے۔ بی جے پی اس طرح کی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی اور اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ’’میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بی جے پی اس کی مذمت کرتی ہے اور ہمارے قومی صدر بھی یہاں موجود ہیں، وہ بھی اس معاملے کو دیکھیں گے۔ آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، اس پر ہمیں افسوس ہے۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ اس معاملے کو سیاسی مسئلہ نہیں بناناچاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دلت ہیں لیکن کبھی کسی کے سامنے گڑگڑائے نہیں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی توہین کی گئی ہے۔
اس پر ایوان کے لیڈر نے کہا کہ وہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ بی جے پی اس کی حمایت نہیں کرتی۔ یہ ملک کے لیے افسوس کا موضوع ہے اور اس معاملے کو سنسنی خیز نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ’’مجھے بھی اتنا ہی دکھ ہے۔ ہم اس کی تحقیقات کریں گے۔ قصوروار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ہم ان کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔‘‘
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ کام کرنے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔
اس پر چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی چھوا چھوت کی حمایت نہیں کرتا۔ سب اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ اس معاملے کی تحقیقات کرکے قصورواروں کو سزا دی جائے۔
یواین آئی۔ظ ا
دنیا
پینٹاگن کی امریکی حملوں کے جائزے میں 153 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق
واشنگٹن، امریکی وزارت دفاع (پینٹاگن) کے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ یمن میں گزشتہ سال ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف تین امریکی فضائی حملوں میں 153 عام شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔
یہ نتائج بدھ کو امریکی کانگریس کو بھیجی گئی شہری ہلاکتوں کی سالانہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ جائزہ اپریل 2025 میں کیے گئے تین فضائی حملوں پر مرکوز تھا۔
حملوں میں یمنی دارالحکومت صنعا اور حوثیوں کے زیر کنٹرول راس عیسیٰ کی بندرگاہ اور اس کے اطراف کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت امریکی افواج حوثی باغیوں کے خلاف آپریشن کر رہی تھیں جو بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور اسرائیل پر حملہ کر رہے تھے۔
پینٹاگن کے جائزے کے مطابق تینوں حملوں میں مجموعی طور پر 153 شہری ہلاک اور 243 زخمی ہوئے۔ راس عیسیٰ بندرگاہ پر ہونے والا حملہ سب سے مہلک تھا، جس میں 80 افراد ہلاک اور 171 زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد، جگہ پر زبردست آگ بھڑک اٹھی، جس سے کئی ٹینکر ٹرک تباہ ہوگئے۔ حوثی حامی المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے حملے کے بعد کی فوٹیج نشر کی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس وقت کہا تھا کہ ان حملوں کا مقصد یمنی عوام کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ کمانڈ کے مطابق، امریکی افواج نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے لیے ایندھن کے ایک ذرائع کو تباہ کرنے اور ان کی آمدنی کے ناجائز ذرائع کو متاثر کرنے کے لیے کارروائی کی۔ جائزے میں ان حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کے لیے معاوضے یا بھتہ کی سفارش نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
پینٹاگن کے مطابق ایسا معاوضہ امریکی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون کے تحت لازمی نہیں ہے اور غلط کام کا اعتراف نہیں کرتا۔
امریکی فوج پہلے بھی ایسے معاملات میں معاوضے کی پیشکش کر چکی ہے۔ 2021 میں افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں سات بچوں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد، پینٹاگون نے متاثرین کے خاندانوں کو اس طرح کے معاوضے کا وعدہ کیا.
پینٹاگن کا یہ جائزہ ٹرمپ انتظامیہ کی فوجی کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں امریکی کانگریس میں بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے۔ اس سال کے شروع میں ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایک پرائمری اسکول کو نشانہ بنانے والے امریکی میزائل حملے میں مبینہ طور پر 168 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
امریکی فوج نے پہلی بار 2023 میں حوثی باغیوں کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنانا شروع کیا، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، جو نہر سویز کے ذریعے بحیرہ روم سے جڑتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر21 hours agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
