پاکستان
پارسی: صدیوں کے سفر میں فراموش کر دی گئی مذہبی برادری
ماضی میں پارسی برادری کراچی کی رونق ہوا کرتی تھی۔ پھر مذہبی عدم برداشت نے کراچی سے اس کی یہ رونق چھین لی۔ پارسی آبادی کی خدمات و کارنامے کراچی کے ماضی اور حال کی زینت میں ہمیشہ اضافے کا باعث بنے۔
پچھلی کچھ دہائیوں سے پاکستان میں آباد پارسیوں کی تعداد میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس کے محرکات میں بنیادی طور پر ملک میں امن و امان کی صورتحال کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیمی اداروں اور نوکری کے بہتر مواقع کا فقدان بھی شامل ہے۔ پارسی برادری میں شرح تعلیم سو فیصد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارسیوں کی کارکردگی پاکستان کی دوسری اقلیتوں کے مقابلے میں ہر شعبے میں نمایاں ہے۔
پارسیوں کا زرتشتی عقیدہ عالمی تاریخ کے قدیم ترین مذاہب میں سے ایک ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مذہب بدھ مت، یہودیت، مسیحیت اور اسلام سے کہیں زیادہ پرانا ہے۔ کراچی شہر میں واقع بہت سی تعمیرات اب بھی پارسیوں کی خدمات کا پتا دیتی ہیں۔ اس شہر میں زرتشتیوں کی عبادت گاہ دارمیر 1848ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ اس عمارت کا فن تعمیر آج بھی اس کے تابناک ماضی کی یاد دلاتا ہے۔ اس میں اب پارسیوں کا ہجوم دیکھنے میں نہیں آتا۔ اس لیے کہ مقامی زرتشتیوں کی ایک بڑی تعداد بیرون ملک منتقل ہو چکی ہے۔ تاہم یہ برادری آج بھی پہلے کی طرح متحد ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ معاشرے میں پارسیوں سے متعلق غلط فہمیوں نے انہیں سماجی طور پر تنہا کر دیا ہے۔ معاشرے نے پارسی برادری کی خدمات کو تو فراموش کر دیا لیکن پارسیوں کے قائم کردہ فلاحی اور تعلیمی ادارے آج بھی بلا تفریق سب کو یکساں امداد اور تعلیم دے رہے ہیں۔
تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے وقت کراچی میں غیر مسلم آبادی کا تناسب بھی بہت زیادہ تھا۔ اس میں پارسی برادری بھی ایک بڑا نام تھا۔ تعلیم، کاروبار، سیاست یا سماجی خدمت، پارسی برادری کسی سے پیچھے نہیں تھی۔ اگرچہ قدیم زرتشتی ایران سے تعلق رکھتے تھے تاہم وہ برصغیر کی ثقافت میں اس طرح گھل مل گئے کہ پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔
اب لیکن پورے پاکستان میں ان کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ روشن خورشید برہوچہ نیشنل کمیشن فار مائنوریٹی رائٹس کی رکن ہونے کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر بھی رہ چکی ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”کراچی میں پارسیوں کی تعداد تقریباً 1100 ہے۔ کوئٹہ، راولپنڈی اور ملتان میں نو خاندان اور لاہور میں دس خاندان آباد ہیں۔‘‘
پارسی برادری کی خدمات
تعداد میں کم لیکن تعلیم اور کاروبار میں کامیاب اس برادری نے پاکستان کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ بیرام دنشا آواری پاکستان کی ایک مایہ ناز کاروباری شخصیت ہیں۔ وہ آواری بیچ لگژری ہوٹل اور آواری ہوٹل کے مالک ہیں۔ آواری گروپ پاکستان کی تاریخ کا پہلا گروپ تھا جس نے بیرون ملک بھی ہوٹل بزنس کامیابی سے چلایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیرام دنشا آواری نے صرف کاروباری دنیا میں ہی کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ وہ دو بار سن 1978 اور سن 1982 کے ایشین گیمز میں کشتی رانی کے مقابلوں میں سونے کا تمغہ بھی جیت چکے ہیں۔ ان کی اہلیہ گوشپی آواری نے 1982ء میں بیرام دنشا آواری کے ہمراہ سونے کا تمغہ جیتا تھا۔ وہ پاکستان کی پہلی خاتون کھلاڑی ہیں، جنہوں نے کسی بین الاقوامی مقابلے میں سونے کا تمغہ اپنے نام کیا تھا۔
بانی کراچی
کراچی کی تاریخ جمشید نسروانجی مہتا کے ذکر کے بغیر ہمیشہ نامکمل ہی ہو گی۔ جمشید نسروانجی مہتا کو بانی کراچی بھی کہا جاتا ہے۔ انہیں کراچی کا پہلا میئر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ جمشید مہتا کی محنت ہی تھی کہ جس نے چھوٹے سے شہر کراچی میں سڑکیں، ہسپتال، تعلیمی اور فلاحی ادارے اور پارک تعمیر کروائے، یہاں تک کہ شجرکاری بھی کروائی اور جانوروں کے لیے پینے کے پانی کا ایک باقاعدہ نظام قائم کیا اور ان کے لیے ایک ہسپتال بھی تعمیر کروایا۔ جس شہر میں آج جابجا کچرے کے ڈھیر نظر آتے ہیں، مہتا کے دور میں اس شہر کی سڑکیں دن میں دو بار دھلوائی جاتی تھیں۔ اسی وجہ سے اس وقت کراچی کو مشرق کا سب سے صاف شہر تصور کیا جاتا تھا۔ کراچی میں واقع جمشید کوارٹرز آج بھی جمشید مہتا کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
سفارت کار
جمشید مارکرجو تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک سفارتکار رہے تھے، پارسی برادری کا ایک جگمگاتا نام ہیں۔ جمشید مارکر کو ہلالِ امتیاز سے بھی نوازا گیا اور تقریباﹰ ایک درجن سے زیادہ ممالک میں سفارت کار رہنے پر ان کا نام گینس ورلڈ ریکارڈز میں بھی شامل ہے۔
پارسی قانون دان
پارسی برادری سے تعلق رکھنے والے جسٹس دراب پٹیل چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ بھی رہے۔ وہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے بانی بھی تھے۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے لیے پھانسی کی سزا کی مخالفت کی تھی اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے بھی انکار کیا تھا۔ اس کے علاوہ رستم سہراب جی سدھوا، اردشیر کاوسجی اور جمی انجینئر بھی پارسی برادری ہی سے تعلق رکھنے والے بڑے نام ہیں۔ ماما پارسی اسکول، ڈی جے سائنس کالج اور انکل سریا ہسپتال بھی پارسی برادری کی طرف سے بنائے گئے تھے۔ پاکستان کی مایہ ناز انجینئرنگ یونیورسٹی این ای ڈی بھی ایک پارسی نادر شاہ ادلجی دنشاہ کے نام پر ہے۔
پارسیوں کی پاکستان میں کم ہوتی ہوئی تعداد
پاکستان میں فرقہ وارانہ خونریزی اقلیتی مذاہب کے باشندوں میں شدید تشویش کا باعث بنی۔ سیاسی عدم استحکام، طالبان کی طرف سے بڑھتے ہوئے خطرات اور جبری تبدیلی مذہب کے واقعات نے صاحب حیثیت اقلیتی باشندوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ ملک چھوڑنے والوں میں نوجوان طبقے کی تعداد زیادہ ہے۔ ایک پاکستانی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 1941ء میں پارسیوں کی تعداد ایک لاکھ 14 ہزار تھی۔ پاکستانی زرتشتی بانو مَندآل کے مطابق 1995ء میں یہ تعداد 2,831 رہ گئی۔ پھر 2012 میں یہی تعداد مزید کم ہو کر 1,675 رہ گئی تھی۔
بیرام دنشا آواری نے اس تناظر میں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”نوجوانوں کے بیرون ملک جانے کی بڑی وجہ تعلیم کا حصول تو یقیناﹰ ہے مگر پچھلے کچھ سالوں میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال بھی ہے۔ اس کی دوسری بڑی وجہ ہمارے معاشرے میں قانون کی پاسداری کا فقدان بھی ہے۔ قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا، جس کے باعث اقلیتی برادری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کے مقابلے میں اب کینیڈا اور امریکا میں پارسیوں کی تعداد زیادہ ہے۔‘‘
روشن خورشید برہوچہ کے بقول پارسی دوسرے ملک ہجرت نہیں کر رہے بلکہ نئی نسل تعلیم کے حصول کے لیے باہر جا رہی ہے۔ ہوا بازی کی صنعت سے تعلق رکھنے والی نتاشا ماولوالا کا کہنا ہے، ”اگرچہ پاکستان میں بھی معیاری تعلیمی ادارے موجود ہیں لیکن اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ملک سے باہر جانا بھی ناگزیر ہے۔‘‘ کم ہوتی ہوئی تعداد کی ایک اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ پارسی لڑکیاں اپنی برادری سے باہر شادی نہیں کر سکتیں۔ اسی طرح کوئی دوسرا بھی اپنا مذہب تبدیل کر کے زرتشتی نہیں بن سکتا۔ پارسی برادری میں شرح پیدائش کا کم ہونا بھی اس آبادی میں کمی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ ان تمام وجوہات نے پاکستان میں مقیم پارسی برادری کو بہت حد تک تنہا کر دیا ہے۔ نتاشا ماولوالا کہتی ہیں، ”میں بچپن میں اپنے مذہبی تہواروں پر جوش و خروش سے تیاریاں کیا کرتی تھی اور پوری برادری میں خوب گہما گہمی ہوتی تھی۔ اب لیکن یہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔‘‘
کراچی کے رہائشی ارشیش ایرانی جو پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں۔ انہوں نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ہم اکیلاپن تو محسوس کرتے ہیں لیکن اس بات کا اطمینان بھی ہے کہ ہماری اولاد بیرون ملک اپنی زندگی سے مطمئن، خوش اور کامیاب ہے۔‘‘ وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ ہرسال اپنے بچوں سے ملنے بیرون ملک جاتے ہیں۔ پاکستان میں پارسیوں کے مستقبل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بیرام آواری پُرامید نظر آئے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،”نوجوان پارسی ملک واپس آ کر اپنے معاشرے کے لیے کچھ مثبت کرنا چاہتے ہیں۔ چونکہ پارسی فلاحی کاموں میں ہمیشہ آگے رہے ہیں، اسی طرح پارسی نوجوان بھی اپنے ملک واپس آکر اسی روایت کو زندہ رکھیں گے۔ پارسی بھی پاکستان کے اتنے ہی وفادار ہیں جتنا کوئی اور پاکستانی، اسی لیے عمر رسیدہ پارسی پاکستان کو ہی اپنا گھر تصور کرتے ہیں اور یہاں سے جانا نہیں چاہتے۔‘‘
زرتشتی عقائد
زرتشتی مذہب کی مقدس کتاب کا نام اوستہ ہے۔ زرتشتی عقائد کے مطابق ہر چیز کا خالق ایک خدا آہورا مذدا ہے اور زرتشتی دن میں پانچ بار اس کی عبادت کرتے ہیں۔ روشن خورشید برہوچہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”اس کی بنیاد تین اصولوں پر ہے، نیک اعمال، اچھی سوچ اور خوش گفتاری۔ نو سے بارہ سال تک کے بچوں کو زرتشتی مذہب میں باقاعدہ طور پر شامل کیا جاتا ہے، جسے نوجوت کہتے ہیں۔ عنایت گزدار کی کتاب’زرتشتیوں کے لیے اے بی سی‘ کے مطابق خدا نے انسان کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اچھائی اور برائی کے راستے میں تمیز کر سکے۔
زرتشتی عقیدے میں موت کے بعد صدقے کے آخری عمل کے طور پر جسم کو پرندوں کی خوراک بننے دیا جاتا ہے تاکہ مردہ انسانی جسم پانی ہوا اور زمین کو ناپاک نا کرے۔ تاہم اس عقیدے کے مطابق سب انسان برابر ہیں اور موت کے بعد ان کے اعمال ہی ان کے کام آئیں گے۔ اس لیے پارسی برادری میں فلاحی کاموں کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ یہ برادری معاشی طور پر کمزور پارسی خاندانوں کی بھی ہر ممکن مدد کرتی ہے۔(قومی آواز)
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر مظاہرے سے قبل اسلام آباد کی سڑکیں سیل
اسلام آباد، پاکستان میں انتظامیہ نے جیل میں بند سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر مجوزہ مظاہرے سے قبل دارالحکومت اسلام آباد میں داخل ہونے والی اہم سڑکوں کو بند کرنا شروع کر دیا ہے۔
اسلام آباد پولیس نے بدھ کو بتایا کہ اسلام آباد-پشاور موٹروے، اسلام آباد-ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے اور گرینڈ ٹرنک روڈ کو بدھ کی شام سے متعدد مقامات پر بند کیا جائے گا۔ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسی کے مطابق اپنے سفر کا منصوبہ بنائیں۔
پاکستانی مقامی میڈیا کے مطابق، سڑکوں کی بندش غیر معینہ مدت کے لیے ہے اور اس کا مقصد عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں کو 27 ستمبر کو دارالحکومت کی جانب مارچ کرنے سے روکنا ہے۔
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں متعدد مقدمات میں قصوروار قرار دیا گیا تھا، تاہم ان کی پارٹی نے ان مقدمات کو سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مقدمات میں بعد میں اپیل کے دوران سزائیں معطل یا فیصلے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔
عمران خان کی صحت، بالخصوص ان کی دائیں آنکھ کی حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی آنکھ کے علاج کے لیے کئی ماہ سے ماہر طبی نگہداشت کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی نے ان کی رہائی کے لیے اپنی مہم تیز کر دی ہے۔
مجوزہ مارچ میں شرکا کی پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے تقریباً 1,150 کلومیٹر اور لاہور سے تقریباً 270 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے اسلام آباد پہنچنے کی منصوبہ بندی تھی۔
مقامی میڈیا کے مطابق، حکام نے دارالحکومت اور شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا سے آنے والے اہم راستے اٹک پل پر تقریباً 2,000 مال بردار کنٹینر تعینات کیے ہیں۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان ایک اور اہم راستے ہارون پل پر بھی کنٹینر اور ریت کی بوریاں رکھی گئی ہیں۔ ضلع اٹک میں تقریباً 30,000 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے پیر کو پی ٹی آئی کو مظاہرے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسے اقدامات سے کوئی مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا اور پارٹی کو مظاہرے سے قبل اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
دریں اثنا، ایک اور اپوزیشن جماعت جماعت اسلامی نے ایندھن کی بلند قیمتوں کے خلاف اتوار کو کراچی سے اسلام آباد کے لیے اپنا مارچ شروع کیا تھا۔ پارٹی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمن نے روانگی سے قبل کہا تھا کہ اگر حکومت پٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 100 پاکستانی روپے سے زائد کا لیوی واپس نہیں لیتی تو یہ تحریک حکومت ہٹانے کی مہم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پنجاب کے شہر ملتان پہنچنے کے بعد نعیم الرحمن نے منگل کو کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر مارچ ملتوی کیا جائے گا۔ اس معاملے پر دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات بھی مجوزہ ہے۔
اسی دوران پولیس نے اتوار کو عمران خان کی بہن علیمہ خان کو لاہور میں واقع ان کی رہائش گاہ سے امن عامہ سے متعلق قانون کے تحت گرفتار کر لیا۔ ان کی دو دیگر بہنوں، عظمیٰ خان اور نورین نیازی سمیت کئی دیگر رشتہ داروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
سنگین ایندھن قلت کی صورت میں پاکستان میں پٹرول کی قیمت 1000 پاکستانی روپے فی لیٹر تک پہنچنے کا اندیشہ
اسلام آباد، پاکستان میں پٹرول کی قیمت سنگین ایندھن قلت کی صورت میں 1000 پاکستانی روپے (3.61 امریکی ڈالر) فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ پٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک نے اتوار کو یہ بات کہی۔ عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ملکی مارکیٹ پر دباؤ برقرار ہے۔
ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قیمت حالیہ درمیانی مارکیٹ شرح تقریباً 277.2 پاکستانی روپے فی ایک ڈالر کی بنیاد پر یہ حساب کیا گیا ہے۔
وزیر کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں اس وقت پٹرول تقریباً 389.14 پاکستانی روپے (1.40 ڈالر) فی لیٹر جبکہ ڈیزل تقریباً 424 پاکستانی روپے (1.53 ڈالر) فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔
ملک نے کہا کہ پٹرول کی قیمت پہلے ہی تقریباً 50 فیصد بڑھ چکی ہے اور خبردار کیا کہ اگر سپلائی مزید محدود ہوئی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ اضافہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے درمیان ہوا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
28 فروری کو تنازع شروع ہونے کے وقت پاکستان میں پٹرول کی قیمت تقریباً 258.17 پاکستانی روپے (0.93 ڈالر) فی لیٹر تھی۔ اس کے بعد قیمت میں تقریباً 131 پاکستانی روپے، یعنی تقریباً 51 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر حکومت نے موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کے انجن والی کاریں استعمال کرنے والوں کے لیے سبسڈی اسکیم شروع کی ہے۔
اس پروگرام کے تحت اہل صارفین کو فی لیٹر 100 پاکستانی روپے (0.36 ڈالر) تک کی سبسڈی دی جا سکتی ہے۔ ہر رجسٹرڈ مستحق کو ماہانہ چار ٹوکن دیے جانے ہیں اور ہر ٹوکن کے ساتھ 500 پاکستانی روپے (1.80 ڈالر) کی سبسڈی منسلک ہے۔
حکومت کے مطابق، اس اسکیم کے لیے 17.5 لاکھ سے زیادہ افراد رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔
تقریباً 15 لاکھ ٹوکن جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 6.80 لاکھ سے زیادہ استعمال بھی کیے جا چکے ہیں۔
حکومت مقامی سطح پر تیل کی پیداوار بڑھانے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ ملک نے کہا کہ تیل کے کنوؤں پر کام شروع ہو چکا ہے اور مقامی طور پر پیدا ہونے والا خام تیل ممکنہ طور پر اکتوبر تک دستیاب ہو سکتا ہے۔
تنازع شروع ہونے کے فوراً بعد پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہو گیا تھا۔ یکم مارچ کو پٹرول کی قیمت 266.17 پاکستانی روپے (0.96 ڈالر) فی لیٹر تھی، جو 7 مارچ تک بڑھ کر 321.17 پاکستانی روپے (1.16 ڈالر) ہو گئی۔
سب سے بڑا اضافہ اپریل کے اوائل میں ہوا۔ حکومت کی جانب سے قیمت میں 4 فیصد سے زیادہ اضافہ کیے جانے کے بعد 3 اپریل کو پٹرول کی قیمت 458.41 پاکستانی روپے (1.65 ڈالر) فی لیٹر تک پہنچ گئی۔بعد میں عالمی خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث پٹرول کی قیمت بھی کم ہوئی اور 20 جون کو یہ 299.50 پاکستانی روپے (1.08 ڈالر) فی لیٹر تک آ گئی۔ 19 ستمبر تک پٹرول کی موجودہ قیمت 389.14 پاکستانی روپے (1.40 ڈالر) فی لیٹر ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے کہا کہ قیمتوں میں تازہ ترین ردوبدل عالمی مارکیٹ کی قیمتوں، پریمیم اور قیمتوں کے تعین کے دیگر عوامل کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
پاکستان عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے خاص طور پر متاثر ہوتا ہے کیونکہ وہ درآمد شدہ ریفائنڈ ایندھن پر انحصار کرتا ہے۔
مالی سال 2025-26 میں، جو جولائی 2025 سے جون 2026 تک جاری رہا، پاکستان نے موٹر اسپرٹ یعنی پٹرول کی 53.5 لاکھ ٹن مقدار درآمد کی۔
اسی مدت کے دوران ملکی ریفائنریوں نے تقریباً 26.3 لاکھ ٹن پٹرول فراہم کیا، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے تقریباً 76.8 لاکھ ٹن پٹرول فروخت کیا۔
درآمدات آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی پٹرول فروخت کا تقریباً 69.7 فیصد تھیں۔ تاہم، یہ اعداد و شمار سپلائی چین کے مختلف مراحل پر ناپے گئے ہیں اور انہیں مجموعی سپلائی کی 100 فیصد تقسیم تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
