جموں و کشمیر
اب جموں وکشمیرمیں ہندوستانی ریاست کی اتھارٹی قائم:لیفٹیننٹ گورنر
نیا کشمیر متحرک، پرامن اور مواقع سے بھرپور
پہلاقدم حد بندی،دوسرا انتخابات، اور اب ریاست کی بحالی:منوج سنہا
سرینگر :جے کے این ایس : اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ جموں و کشمیر کی ریاست کا درجہ ایک مناسب وقت پر بحال کیا جائے گا اور سب کو اس کا انتظار کرنے کی ضرورت ہے، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ اپنے5سالہ دور میں وہ خطے میں ہندوستانی ریاست کی اتھارٹی قائم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے ایک نیوز چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، اپنے5سالہ دور حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں خطے میں جو اہم تبدیلی آئی ہے اس کی عکاسی کی۔انہوںنے کہاکہ جب اگست2019 میں آرٹیکل370 کو منسوخ کیا گیا تھا، مرکزی وزیر داخلہ نے 3 مراحل پر مشتمل عمل کا خاکہ پیش کیا: حد بندی، انتخابات، اور پھر ایک مناسب وقت پر ریاست کی بحالی۔ حد بندی مکمل ہو چکی ہے، اسمبلی انتخابات پرامن طریقے سے زیادہ ووٹروں کے ٹرن آو ¿ٹ کے ساتھ منعقد ہوئے ہیں، اور اب ایک منتخب حکومت قائم ہے۔ آخری قدم ریاست کا ہونا درست ہے،لیفٹنٹ گورنرنے کہالیکن صحیح وقت پر ریاست کا درجہ بحال ہو گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جموں اور کشمیر اب پہلے سے کہیں زیادہ ہندوستان کے باقی حصوں کے ساتھ زیادہ قریب سے مربوط ہے، لیکن تسلیم کیا کہ مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ جموں و کشمیر کا ایک سرحدی علاقہ کے طور پر ذکر کرتے ہوئے، منوج سنہانے امن و امان پر مراکز کے کنٹرول کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، خاص طور پر سرحد پار سے مسلسل خطرات کی روشنی میں۔انہوںنے کہاکہ دہشت گردی پاکستان کے لیے ایک ریاستی پالیسی ہے، جو غیر ملکی دہشت گردوں کو ہماری سرزمین میں دھکیلتی رہتی ہے۔ تاہم، ہماری سیکیورٹی فورسز ایسے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے چوکس اور پوری طرح تیار رہتی ہیں۔لیفٹنٹ گورنر نے کہاکہسب سے بڑی کامیابی، دہشت گرد تنظیموں میں مقامی بھرتیوں میں تیزی سے کمی ہے – جہاں پہلے سالانہ 100 سے150 مقامی نوجوان شامل ہوتے تھے، اس سال صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔انہوںنے کہاکہ پچھلے سال بھی یہ تعداد کم ہو کر صرف چھ یا سات رہ گئی تھی۔ یہ امن اور حکمرانی میں عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ مرکز امن، ترقی اور ترقی کے لیے پرعزم ہے۔انہوںنے اپنے دور اقتدار پر غور کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ پانچ سالوں میں جموں و کشمیر میں حاصل امن، اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع پر اطمینان کا اظہار کیا۔منوج سنہاکاکہناتھاکہ جب میں 2020 میں پہنچا تو جموں سے سری نگر کے سفر میں 8سے9 گھنٹے لگے۔ آج، بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر اپ گریڈ کی بدولت اس سفر میں صرف 4سے5 گھنٹے لگتے ہیں۔انہوں نے نوٹ کیاکہ صرف سرنگ کی تعمیر پر 1.5 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے جا رہے ہیں۔لاک ڈاو ¿ن سے استحکام :منوج سنہا نے حالیہ برسوں میں لاک ڈاو ¿ن یا ہڑتالوں کے بغیر سیکیورٹی میں بہتری کو اجاگر کیا۔ پتھراو ¿ رک گیا ہے، رات گئے کی زندگی لوٹ آئی ہے، اور دہشت گرد تنظیموں میں مقامی بھرتیوں میں کمی آئی ہے-یہ عوامی اعتماد میں اضافہ اور پولیس، فوج اور مرکزی فورسز کے درمیان مضبوط رابطہ کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیر داخلہ کی قیادت میں ہمارا پیغام واضح ہے: ہم امن نہیں خریدیں گے، ہم اسے قائم کریں گے۔لیفٹنٹ گورنر نے دہشت گردوں کو سرحد پار دھکیلنے کی پاکستان کی مسلسل کوششوں کی طرف بھی اشارہ کیا، لیکن یقین دہانی کرائی کہ سیکورٹی فورسز چوکس اور تیار رہیں۔آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کی ہر کارروائی کو اب جنگ کی کارروائی سمجھا جاتا ہے، ہم نے دنیا کو اپنی طاقت دکھائی ہے اور اپنے دشمن پڑوسی کو واضح پیغام دیا ہے۔دہشت گردی کے متاثرین کی طرف انسانی ہمدردی کا نقطہ نظر:بارہمولہ کے دورے کے دوران ایل جی منوج سنہا نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ تین دہائیوں میں دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں سے بات چیت کی۔ طریقہ کار میں تاخیر کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو مالی امداد یا روزگار نہیں ملا تھا۔انہوںنے مزیدکہاکہ گزشتہ روز دہشت گردی سے متاثرہ 40 افراد نے سرکاری ملازمتیں حاصل کیں۔ اب ہم زیر التواءمالی امداد کے مقدمات پر کارروائی کر رہے ہیں، لوگوں کو ایف آئی آر درج کرنے میں مدد کر رہے ہیں، اور انٹرپرینیورشپ کے ذریعے خود روزگار کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ مکمل حکومتی اور انسانی ہمدردی کا طریقہ اختیار کر رہی ہے۔سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے اس الزام پر کہ ایک مخصوص کمیونٹی کے سرکاری ملازمین کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، منوج سنہا نے سختی سے جواب دیاکہ آرٹیکل 311 ریاست کے لیے آئینی تحفظ ہے۔ اس کے تحت کی جانے والی کوئی بھی کارروائی مکمل تفتیش اور مصدقہ شواہد پر مبنی ہوتی ہے۔ کسی بے گناہ کو نقصان نہیں پہنچا۔ تاہم، قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والوں کو سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔نیا کشمیرمنوج سنہا نے ایک نئے کشمیر کے ظہور کو بیان کیا، جہاں امن، معاشی ترقی، اور شمولیت عوامی زندگی کو تشکیل دے رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ خواہشات جو کبھی دور دکھائی دیتی تھیں، اب جموں و کشمیر کے ہر کونے میں نظر آ رہی ہیں۔ یہ نیا کشمیر ہے: متحرک، پرامن، اور مواقع سے بھرپورہے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
مشتبہ افراد اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں: جموں و کشمیر پولیس کی عوام سے اپیل
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے پونچھ ضلع کے بفلیاز میں پولیس-عوام شراکت داری گروپ (پی سی پی جی) کے اجلاس کے دوران شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص یا دہشت گردانہ سرگرمی کے بارے میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔
یہ اجلاس ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں عوامی نمائندوں، سماجی کارکنوں، سابق فوجیوں، مذہبی نمائندوں اور مقامی باشندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد پولیس اور عوام کے درمیان تال میل کو مضبوط بنانا اور منشیات، دہشت گردی کے خلاف کارروائی، خواتین و بچوں کی حفاظت، سائبر جرائم اور عوامی مسائل سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما نے عوام کی فعال شرکت کو سراہا اور کہا کہ امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے شہریوں کی جانب سے بروقت اور قابل اعتماد معلومات فراہم کرنا انتہائی اہم ہے۔
منشیات کی لعنت کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ اس کاروبار میں ملوث اصل سپلائرز اور منشیات فروخت کرنے والوں کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی نشے کی لت سے چھٹکارا دلانے، بحالی اور کونسلنگ کے اقدامات کو بھی فروغ دیا جائے، تاکہ اصلاح کے خواہش مند افراد کو مدد فراہم کی جاسکے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے موضوع پر ایڈیشنل ایس پی نے خبردار کیا کہ ملک دشمن عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے منشیات، ہتھیاروں، دہشت گردی، مذہب اور دیگر جذباتی معاملات کا استحصال کرسکتے ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص، نقل و حرکت، آمد و رفت یا دہشت گردانہ سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ، حمایت یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم نہ کی جائے۔
انہوں نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، بشمول آپریشن سرپ وناش، میں مقامی باشندوں کے اہم کردار کو بھی تسلیم کیا۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں درپیش سلامتی کے چیلنجوں کے پیش نظر نگرانی مزید سخت کرنے، مؤثر معلومات جمع کرنے اور انہیں بروقت متعلقہ حکام تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے عوام سے غیر قانونی کان کنی، درختوں کی غیر مجاز کٹائی، تجاوزات اور جنگلاتی یا پہاڑی زمین کو غیر قانونی طور پر صاف کرنے کے واقعات کی اطلاع دینے کی اپیل کی۔
مویشیوں کی اسمگلنگ پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔
مقامی تنازعات کے حوالے سے انہوں نے باشندوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایف آئی آر اور جوابی ایف آئی آر درج کرانے کے ذریعے معمولی معاملات کو بلاوجہ طول دینے سے گریز کریں اور جہاں ممکن ہو، چھوٹے تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کریں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں سی جی ڈی پالیسی نافذ، تمام 20 اضلاع میں گیس کنکٹیویٹی اور سنگل ونڈو منظوری
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) پالیسی 2026 کو نافذ کردیا ہے، جس کے تحت تمام 20 اضلاع میں مرحلہ وار سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع، مقررہ مدت میں سنگل ونڈو منظوری اور بڑے صنعتی علاقوں کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو پالیسی کے نوٹیفکیشن کو جموں و کشمیر میں صاف ایندھن تک رسائی بڑھانے، صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ وزرا کی کونسل کی منظوری کے بعد جاری کی گئی اس پالیسی میں گھریلو صارفین، تجارتی اداروں، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ شعبے میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے واضح، سرمایہ کار دوست اور مقررہ مدت پر مبنی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع میں سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو مرحلہ وار توسیع دی جائے گی، جس سے صارفین تک زیادہ صاف اور قابل اعتماد قدرتی گیس پہنچے گی اور روایتی ایندھن سے منتقلی میں مدد ملے گی۔
پالیسی کا ایک اہم مقصد سنگل ونڈو اور مقررہ مدت میں منظوری کے نظام کے ذریعے منصوبوں کے نفاذ کو آسان اور تیز بنانا، سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کے طریقہ کار کو ہموار کرنا اور رائٹ آف وے کے معیارات کو یکساں بنانا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے صنعتی علاقوں، جن میں کٹھوعہ، سانبہ اور پلوامہ کے صنعتی علاقے شامل ہیں، کو ترجیحی بنیاد پر گیس کنکٹیویٹی فراہم کی جائے گی، تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ ملے اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی بہتر ہو۔
پی این جی اور سی این جی کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے محفوظ، صاف اور زیادہ سستی توانائی کے متبادل دستیاب ہونے، ایندھن کی لاگت کم کرنے، صنعتی کارکردگی اور مسابقت بہتر بنانے اور ابھرتے ہوئے صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔
پالیسی میں مقامی روزگار، اپرنٹس شپ اور ہنرمندی کی ترقی کو بھی فروغ دینے کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے گیس ڈسٹری بیوشن کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ خدمات کی تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر برائے خوراک، شہری رسد و امور صارفین ستیش شرما اور متعلقہ محکمہ کو پالیسی کے نوٹیفکیشن پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے جموں و کشمیر میں صاف ستھری ترقی، پائیدار ترقی اور جدید توانائی کے نظام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ”سٹی گیس ڈسٹری بیوشن پالیسی سے صاف اور قابل اعتماد توانائی تک رسائی کو وسعت دینے میں مدد ملے گی، جبکہ صنعت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بھی پیدا ہوگا۔ یہ جموں و کشمیر کے لیے زیادہ صاف، مؤثر اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم ہے۔”
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
