تازہ ترین
پھر ایک بار مودی سرکار
مشتاق شمیم 
23 ۔مئی 2019ءکو ہندوستان کی تاریخ میں ایک ایسا نیا باب رقم ہوگیا جو اپنے آپ میں کسی تاریخی واقع سے کم ترنہیں ہے۔جی ہاں دوستو ۔سترہ ویں لوک سبھا منتخب کرانے کی غرض سے ہندوستان کی 29 ۔ریاستوں اور سات مرکزی زیر قیادت والے علاقوں میں جو لوک سبھا انتخابات لگ بھگ دو ماہ تک جاری رہنے کے بعد مکمل ہوگئے اُن کے نتائج 23 ۔مئی کو سامنے آگئے۔ا ن پارلیمانی انتخابات میںامید کے برعکس این ڈی اے خاص طور سے بی جے پی نے 2014ءمیں منعقدہوئے عام چناﺅ کی طرح دھوم مچادی۔ کانگریس کو بھاجپا نے اب کی بار ایک بار پھر ایسا سبق سکھلادیاکہ اس پارٹی کا دوبارہ سنبھلنا اب مشکل ہی نہیں ناممکن بھی نظر آرہا ہے۔کل 542۔ نشستوں میں سے ایک اکیلی بی جے پی نے اس بار 303۔ حلقوں پر اپنی کامیابی کے جھنڈے گارڈ دئے۔ساٹھ سال تک ہندوستان پر راج تاج کرنے والی کانگریس پارٹی ساٹھ کا نشانہ بھی پار نہ کرسکی ۔یہ پارٹی بڑی مشکل سے52 ۔نشستیں ہی اپنے کھاتے میں جمع کرنے میں کامیاب ہوسکی ۔نہ صرف کانگریس بلکہ ملک کی دوسری بڑی بڑی قومی و علاقائی سیاسی جماعتوں جن میں ایس پی ،بی ایس پی،ترنمول کانگریس ،راشٹریہ جنتا دل،ڈی ایم کے،انا ڈی ایم کے ، نیشلسٹ کانگریس ،عام آدمی پارٹی اور بائیں بازو کی دونوں کمیونسٹ پارٹیاں شامل ہیں کو بھی بھاجپا نے اب کی بار دھول چٹانے پر مجبور کردیا۔کانگریس سمیت بعض دوسری پارٹیوں سے وابسطہ کئی قد آور سیاسی رہنماءاپنے سیاسی کیرئیرمیں ایک لمبی سیاسی باری کھیلنے کے باوجود مودی منتر کے سامنے اُسی طرح سے ٹک نہیں پائے جس طرح سے شبنم کے قطرے سورج کی کرنوںکے سامنے ٹک نہیں پاتے ہیں ۔ اس جمہوری جنگ میں کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی بھی اپنی وراثتی نشست( امیٹھی )ایک خاتون امیدوار سمرتی ایرانی کے مقابلے میں ہار بیٹھے۔حالانکہ کانگریس نے الیکشن ھٰذا میںبھاجپاکو مودی سرکارکی ناکامیوں اور کمزوریوں کا مزہ چکھانے کیلئے آنجہانی اندراگاندھی کی پوتی اور ہمشکل پرینکا واڈرا کو بھی میدان کارزار میںبڑی امید کے ساتھ اُتار دیا تھالیکن مودی نامی سونامی کو آگے بڑھنے سے روکنے میں پرینکا ہی نہیںبلکہ مہا گٹھ بندھن میں شامل بڑے بڑے سیاسی چہرے بھی ناکام رہے۔آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ 2014ءکے عام انتخابات میں بی جے پی نے 282۔ سیٹیں جبکہ کانگریس نے کل ۴۴ ۔نشستیں حاصل کی تھیں۔ اب کی بارمختلف ریاستوں سے ۷۲۔ مسلمان امیدوار بھی اپنی جیت کو ممکن بنانے میں کامیاب ہوگئے جن میں اسد الدین اویسی کا نام قابل ذکر ہے۔ ۰۳ مئی کونریندر بھائی مودی کی سربراہی میں نئی این ڈے اے سرکار حلف لینے والی ہے۔بھاجپا صدر امت شاہ جنہوں نے بی جے پی کی شاندار کامیابی کو یقینی بنانے میں سب سے اہم رول ادا کیا مودی کے نئے منتری منڈل میں وزیر داخلہ کا قلم دان سنبھال رہے ہیں۔
بہر حال یہاں پر یہ دیکھنے کی خواہش سب دیش واسی محسوس کر رہے ہوں گے کہ آیا آخر کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ ہندوستان کی غالب آبادی نے دوسری مرتبہ بھی کانگریس کے بجائے بھاجپا اور راہل کے بجائے مودی پر اپنا اعتماد اوربھروسہ ظاہر کرنے میں اپنی دلچسپی کااظہار کیا۔حالانکہ جب سابقہ مودی سرکارکا باریک بینی سے جائزہ لینے کی کوشش کی جائے تو راقم کو یہ بتانے میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ ظاہری صورت میں یہ سرکار عوام کی امیدوں پر کھرا اُترنے میں بالکل ناکام ہوکے رہ گئی تھی۔یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سابقہ مودی سرکارکے دوران اشیاءضروریہ خاص طور سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھوگئیں۔نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے اطلاق نے یہاں عام و خاص کی کمر توڑ کے رکھ دی ۔بے روزگاری اور بےکاری کے گراف میں سرکار ھٰذا کے دوران ملک میںلگ بھگ تیس فیصد اضافہ ریکارڈ درج کیا گیا۔اس دوران یہاں پربُلیٹ ٹرین چلی نہ ہی یہاں پر میک ان انڈیا اور جن دھن جیسی بڑی بڑی اسکیمیں غریب عوام کو خط افلاس سے اوپر لا سکیں۔ کسانوں اور مزدورپیشہ افراد کا کوئی بھلا ہوپایا نہ پبلک و پرائیویٹ سیکٹر اداروں میںکام کرنے والے ملازم حضرات کو کوئی فائدہ ملا۔ایودھیا میں رام مندر تعمیر ہوا نہ ہی ریاست جموں کشمیر کودفعات 370 اور 35 ۔اے کے تحت حاصل شدہ خصوصی اختیارات کا خاتمہ کیا جاسکا۔جھگی جھونپڑیوں میں بسیرا کرنے والوں کو چھت ملا نہ ہی بھوکے پیاسے ہندوستانیوں کیلئے روٹی روزی کا انتظام ہوسکا۔ زمینداروں کا قرضہ معاف ہوسکا نہ ہی قرضے کی وجہ سے خود کشی کرنے کے واقعات میں کوئی کمی آئی۔ غیر ملکی بینکوں میں چھپایا گیا کالا دھن واپس لایاجاسکا نہ ہی ملک کے بینکوں کو اربوں کھربوں روپیوںکا چونا لگانے والوں کو قانون کے شکنجے میں لایا جاسکا۔رشوت خوری کا دھندہ بند ہوسکا نہ چھوٹے بڑے گٹا لوں پر قدگن لگائی جاسکی۔ ملک کی اقتصادی حالت میں سدھار ہوا نہ ہی تعمیر وترقی کے میدان میں کوئی قابل دید انقلاب آیا۔ دو کروڑ بے روزگاروں کو روزگار دیا گیا نہ غریب عوام کے بینک کھاتوں میںدو دو لاکھ روپئے جمع کئے گئے۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس زمینی سطح پر کہیں نظر آیا نہ ہی اچھے د ن لانے کا خواب مودی پانچ سال میںپورا کرسکا۔ ا لٹا مودی سرکار کے دوران ملک کے کونے کونے میں فرقہ ورانہ فسادات رونما ءہوتے رہے ۔مذہبی سطور پر ملک کوتقسیم کرنے کی کوششیں بام عروج پر پہنچ گئیں۔اقلیتی فرقہ جات سے وابسطہ مسلمانوں سکھوں عیسائیوں اور دلتوں کو ناکردہ گناہوں کی پاداش میں قتل کیا جاتا رہا۔مذہبی عبادت گاہوں کو مسمار کیا گیا۔ اسلامی ناموں سے منسوب بعض تاریخی شہروں شاہراﺅں بازاروں ریلوے اسٹیشنوں ہوائی اڈوں یہاں تک کہ عالمی شہرت یافتہ عمارات کے نام بدل دینے کی کامیاب مہم چھیڑدی گئی۔ کشمیر تنازعے کا کوئی حل نکالا گیا نہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کئے گئے۔ اس دوران ہندوستان کے امبانی جیسے امیر لوگ امیر ترین بنتے گئے اور غریب لوگ افلاس کے دلدل میں اور زیادہ نیچے دستے رہے۔
جہاں تک میری سوچ کا تعلق ہے مجھے لگ رہا ہے کہ عوام نے اب کی بار مودی کی کارکردگی کو نہیں بلکہ اُن کی مہان شخصیت کو ووٹ دیا ہے۔اندرونی سطح پر بھلے ہی مودی جی اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں عوام کی بھلائی اور بہتری کیلئے کچھ خاص کر پائے لیکن خارجی سطح پر عالمی طاقتوں کے سامنے آپ ہمیشہ ہندوستان کو ایک مہا ن دیش کی صورت میں پیش کرنے میں ضرور کامیاب رہے۔آپ نے بھارت کو اقوام متحدہ میں چھٹے ویٹو پاور کی صورت میں کھڑا کرنے کی داویداری کی کوششوں میں بڑی حد تک کامیابی حاصل کی۔آپ اپنے دور میں امریکہ روس برطانیہ فرانس اور چین جیسے سپر پا ور ملکوںکے سربراہوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ہمت دکھاتے رہے۔ آپ پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان کو بڑے بڑے عالمی فورموں اور گروپوںمیںایک اعلیٰ مقام دلانے میں کامیاب رہے۔ آپ نے مولانامسعود اظہرمحمد حافظ سعید اور سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دلانے میں کامیابی حاصل کی۔ مودی کے دور میں ہندوستان زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل کو گرانے کی شکتی رکھنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا ۔ عوام کا یہ بھی ماننا ہے کہ نریندر مودی پاکستان کی طرف سے پھینکی گئی ایک ایک اینٹ کا جواب ہر بار پتھر سے دیتے رہے ۔مودی کے دور میں ہی بھارت کی فوج نے پاکستان کے خلاف سرجیکل اور ائیر اسٹرائیک کرنے کا حوصلہ دکھادیا۔اگر ہم بھی اسی تناظر میں مودی جی کو پرکھنے کی کوشش کرتے چلیں تو اس بات میں بالکل بھی کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ مودی جیسا ہمت والااور جرائت مند سیاسی لیڈر فی الوقت ہندوستان کی کسی بھی دوسری سیاسی جماعت میں دُور دُور تک نظر نہیں آرہا ہے۔میری نظر میںراہول گاندھی مودی کے سامنے ایک ایسا ناتجربہ کار اور نا اہل سیاسی لیڈر ہے جس کو ابھی اپنی پارٹی سنبھالنے میں بھی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔آج کے الیکشن میں عوام نے شاید دوسری لائن پر کھڑے امیدواروں کے بجائے نریندر مودی اور راہول گاندھی کی ذات پر اپنا پورا فوکس کر رکھا ہوا تھا۔بھاجپا امیدواروں کوجتانے کا مطلب مودی کے مضبوط ہاتھوں میں ملک کا مستقبل محفوظ بنا دینا اور کانگریسی امیدواروں کو کامیاب بنانے کا مطلب راہول گاندھی کے کمزور ہاتھوں میں ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دینا۔ میرے خیال میں بھی بی جے پی ہندوستان کی فی الوقت واحد سیاسی پارٹی ہے جس میں نہ صرف قابل تجربہ کار اور باصلاحیت رہنماءموجود ہیں بلکہ اس پارٹی میں ربط و ضبط تنظیم سازی اور اتحادو اتفاق کی طاقت بدرجہ اُتم پائی جاتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستانی عوام نے مذہبی علاقائی اور سیاسی وابسطہ گیوںسے اوپر اُٹھ کر ایک بار پھر اپنے ملک کی باگ ڈورایک مضبوط قیادت کے ہاتھوں میں تھمانے کا ارادہ کرلیا تھا جو انہوں نے بلآخر پورا کر ہی دیا۔ صرف چند ماہ قبل راجستھان اور مدھیہ پردیش کے لوگوں نے ریاستی سطح کی حکومتیںقائم کرنے کیلئے کانگریس کو ووٹ دیا اور جب وزیر اعظم منتخب کرانے کی باری آئی تو بی جے پی کے حق میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے میں فخر محسوس کیا۔اس طرح کا طرز عمل اس بات کاغمازی ہے کہ ہندوستان کا عوام اب سیاسی اعتبار سے کافی زیادہ سنجیدہ ہوچکا ہے۔ کب کس کے حق میں ووٹ کرنا بہتر رہے گالوگ بہت اچھی طرح سے جانتے بھی ہیںاور سمجھتے بھی ۔ہاں مگر اس طرز عمل کے بیچ میں ایک منفی رجحان بھی پروان چڑھنے لگ چکا ہے جو ہندوستان کے اسکیولرکردار کیلئے زرر رساں ثابت ہوسکتا ہے وہ یہ کہ مودی کے چکر میں سادھوی پرگیا ٹھاکر جیسی مذہبی دہشت گرد کے علاوہ بعض دوسرے جرائم پیشہ افراد کو قانون ساز ایوانوں اور فیصلہ ساز اداروں میں اپنے ناپاک قدم جمانے کا بھر پور موقع مل رہا ہے جبکہ سماج سدھار ماہرین تعلیم یہاں تک کہ اعلیٰ قانونی ماہر امیدواروں کو شکست پاش ہونا پڑرہا ہے ۔
علاوہ ازیں اس امر میں بھی شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے کہ نریندر مودی کو ایک مضبوط وزیراعظم کی صورت میں کھڑاکرانے کے پیچھے جہاں اندرونی سطح پر آر ایس ایس جیسے طاقت ور سنگٹھن کا آشراودکار فرما رہاہے وہیں خارجی سطح پر امریکہ اسرائیل روس پاکستان اور بعض یورپی ریاستوں کا عمل دخل بھی اس میں بہ نفس نفیس شامل حال رہا۔ بتایا جارہا ہے کہ تنازعہ کشمیر کے حل کے تناظر میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان در پردہ طریقے سے گزشتہ ایک سال کے دوران بہت حد تک پیش رفتہ ہوچکی ہے اسلئے مودی کا دوبارہ اقتدار میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ لوٹ آنالازم بن چکا تھا تاکہ مذاکراتی عمل کو کسی منطقی انجام تک لیجانا ممکن بن سکے۔نیز چین کے ساتھ برسوں سے چلے آ رہے سرحدی تنازعے کو بھی بغیرکسی جنگ و جدل کے نپٹایا جاسکے۔
اب جو بھی وجہ رہی ہوگی نریندر مودی کی بھاری اکثریت سے جیت درج کرنے کے پیچھے لیکن یہ بات طے ہے کہ آپ ایک طاقت ور شکتی شالی وزیر اعظم کی صورت میں ابھر گئے ہیں۔اب انھیں اس شاندار کامیابی اور بھر پور طاقت سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرلینی چاہئے۔مودی جی کو اس بھاری عوامی منڈیٹ کوکسی بھی صورت میں بے کار میں جانے نہیں دینا چاہئے نہ ہی انھیں اپنی شکتی کو ملک کے اندر صدیوں سے آباد اقلیتوں کے خلاف استعمال میں لانا چاہئے اُسی میں ہندوستان کی بھلائی اور بہتری کا راز مضمر ہے ۔
رابطہ: mushtaqshameem47@gmail.com
9797966365
دنیا
روس، امریکہ مذاکرات میں لوکوئل کے اربوں ڈالر کے تیل معاہدے پر بھی بات چیت
واشنگٹن، روس اور امریکہ کے درمیان یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں روسی توانائی کمپنی لوکوئل سے متعلق اربوں ڈالر کے ممکنہ تیل معاہدے پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جس سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دو سینئر مذاکرات کاروں سے وابستہ کاروباری شخصیات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ تجویز 5 ستمبر کو روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان ملاقات میں پیش کی گئی۔ مجوزہ معاہدے کے تحت لوکوئل روس سے باہر تیل کے شعبے کے اثاثے، جن میں تیل کے کنویں، ریفائنریاں اور پٹرول پمپس شامل ہیں، خرید سکتی ہے۔ ان میں نیو جرسی کے پٹرول پمپس بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ سودے میں مشرق وسطیٰ کے دو کاروباری گروپ اور امریکی سرمایہ کار و ٹرمپ کے عطیہ دہندہ ٹوڈ بوہلی بھی شامل ہیں۔ ان گروپوں کے ماضی میں وٹکوف اور کشنر کے ساتھ کاروباری روابط رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ وٹکوف یا کشنر کو ذاتی طور پر اس سودے سے مالی فائدہ ہوگا، تاہم مذاکرات میں شامل فریقوں سے ان کے کاروباری روابط نے مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔
وٹکوف امریکی خصوصی ایلچی ہیں، جبکہ کشنر ٹرمپ کے داماد اور سابق سینئر وائٹ ہاؤس مشیر ہیں۔ دونوں نے روس اور یوکرین کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مجوزہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات بحال ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان جنگ جاری ہے اور دونوں جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں توانائی کے اس بڑے سودے کو شامل کرنا مستقبل میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے وسیع اقتصادی اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
جموں، بی جے پی کے قومی دفتر انچارج، راجیہ سبھا رکن اور گجرات کے انچارج ترون چگ نے ہفتہ کو عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس (این سی) حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ریاستی حیثیت کے مسئلے کو اپنے خودمختاری کے ایجنڈے کے پردے کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور بنیادی حکمرانی میں اپنی ناکامی سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
چگ، جو اس سے قبل جموں و کشمیر بی جے پی کے انچارج بھی رہ چکے ہیں، نے یہاں کہا کہ ریاستی حیثیت سے متعلق مجوزہ قرارداد ایک سیاسی چال ہے، کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی پارلیمنٹ کے ایوان میں پہلے ہی جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ این سی حکومت اپنی ناکام حکمرانی اور انتخابات کے دوران کیے گئے نامکمل وعدوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اس مسئلے کا استعمال کر رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’عمر عبداللہ کو غیر متعلقہ مسائل پر بات کرنا بند کرکے اپنی حکومت کا رپورٹ کارڈ پیش کرنا چاہیے۔ عوام روزگار، ترقی اور ان سے کیے گئے وعدوں کے بارے میں جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر میں قوم پرستی کے تحفظ اور ترقی کو تیز کرنے کے لیے مسلسل خود کو مضبوط کر رہی ہے اور نئے لوگ مسلسل پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس کے برعکس، انہوں نے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے ایک یک طرفہ ایجنڈا اختیار کر لیا ہے اور ترقی و عوام کے تئیں اپنی بنیادی ذمہ داری سے دور ہو گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سڑکوں، ریلوے اور بنیادی ڈھانچے میں نظر آنے والی پیش رفت وزیر اعظم مودی کے وژن اور مودی حکومت کے اقدامات کا نتیجہ ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
مودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت ’غیر قانونی‘ انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے، اس لیے اسے برطرف کرکے ملک میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔
مسٹر کھڑگے نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ بی جے پی حکومت نے جمہوریت کو برباد کر دیا ہے۔ ملک میں انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور تمام انتخابات غیر قانونی ہیں، لہٰذا ایسے انتخابات کے ذریعے قائم ہونے والی حکومتیں اور ان کے وزرا بھی غیر قانونی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’ملک میں ’غیر قانونی انتخابات‘ ہو رہے ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی ’غیر قانونی وزیر اعظم‘ اور امیت شاہ ’غیر قانونی وزیر داخلہ‘ ہیں۔ حکومتوں کو برطرف کیا جانا چاہیے اور انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جانے چاہئیں۔‘‘
کانگریس صدر نے کہا کہ ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی وجہ سے پورا انتخابی عمل برباد ہو گیا ہے۔ جمہوریت میں جاری اس غیر قانونی عمل کے پیش نظر ہی انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کی میٹنگ بلائی گئی تھی، جس میں 20 جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ قانونی ماہر کپل سبل کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اجلاس میں سبھی نے تسلیم کیا کہ ایس آئی آر غلط طریقے سے کیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے غریب، پسماندہ اور خاص طور پر اقلیتی طبقے کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ ووٹ کاٹنے کا کام بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ کر رہے ہیں۔ ووٹر فہرست سے نام حذف کیے جانے کو غلط قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایک ایک بوتھ سے 500-500 افراد کے نام بھی حذف کر دیے جائیں تو اس سے بہت بڑا فرق پڑتا ہے۔ اب ان ناموں کو دوبارہ شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ اپنے لوگوں کے نام ووٹر فہرست میں برقرار رکھ رہے ہیں، جبکہ غریبوں کو اپنے نام شامل کرانے کے لیے وقت اور پیسہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت غیر قانونی انتخابات کرانے پر یقین رکھتی ہے، اسی لیے انتخابی عمل پر قبضہ کرنے کے لیے وزیر اعظم ایسا قانون لائے ہیں جو ملک کی جمہوریت کو برباد کرنے والا ہے۔ اس قانون کو لانے سے پہلے الیکشن کمیشن کی تقرری کرنے والی کمیٹی کی تشکیل کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی۔ اس عمل میں وزیر اعظم، اپوزیشن کے رہنما اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شامل ہوتے تھے اور وہ الیکشن کمیشن کی تشکیل کے عمل میں شریک رہتے تھے۔ مودی حکومت نے اس طریقہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے کمیٹی سے چیف جسٹس کو ہٹا کر ایک وزیر کو شامل کر دیا ہے۔ مودی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کے لیے نیا طریقہ کار وضع کیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر غلط کام بھی کرتے ہیں تو انہیں قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے اور جب تک وہ زندہ ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس انتظام کی وجہ سے من مانی ہو رہی ہے اور دو دیگر الیکشن کمشنروں کی جانب سے اعتراض درج کرائے جانے کے باوجود ان کی بات نہیں سنی جا رہی ہے۔ ایک اخبار میں خبر شائع ہونے کے بعد کانگریس نے اس معاملے کو اٹھایا، جس کے بعد ماحول بنا اور اب پورے ملک میں احتجاجی تحریکیں چل رہی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا6 days agoایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی کے اشوک کول نے جنرل سکریٹری (آرگنائزیشن) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
-
ہندوستان1 week agoڈاکٹر منموہن سنگھ کے یوم پیدائش پر کھرگے اور پرینکا کا خراج عقیدت
-
دنیا5 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
-
جموں و کشمیر1 week agoریاستی درجہ کوئی خیرات نہیں: سجاد لون نے جموں و کشمیر کی قرارداد کا دفاع کیا، 1947 کے وعدوں کا حوالہ دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خودمختاری قرارداد کے حوالے پر سوال اٹھایا
-
جموں و کشمیر1 week agoمقامی بی جے پی قیادت ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف، عمر کا الزام؛ کہا قرارداد ملک مخالف نہیں
-
ہندوستان1 week agoسونیا-راہل نے منموہن سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoمحبوبہ مفتی کی 29 ستمبر کو دہلی میں احتجاج میں شرکت کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoمودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
-
دنیا1 week agoعراقچی نے ایرانیوں کے خلاف مجرمانہ کارروائیوں کو چھپانے پر امریکہ اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا
-
دنیا6 days agoٹرمپ نے ایران تنازع ختم ہونے کے اشارے دیے، تاہم نئے حملوں کا امکان مسترد نہیں کیا
