تازہ ترین
ورلڈ کپ میں 500 کا ٹوٹل کون بنائے گا؟
خبراردو: دیگر کھیلوں کی طرح کرکٹ کا کھیل بھی آہستہ آہستہ پیسے کے گرد گھومنے والی صنعت میں بدل چکا ہے۔ ٹی20 فارمیٹ نے عالمی سطح پر کھیل کے طویل ورژن کے وجود کو ایک عرصے سے خطرے سے دوچار کیا ہوا ہے۔ تاہم جیسے ہی ورلڈ کپ کا ذکر ہوتا ہے تو یہ سارے خطرات کہیں کھو جاتے ہیں۔
30 مئی سے آئی سی سی ورلڈ کپ کا آغاز ہونے جا رہا ہے اور اگلے 6 ہفتوں تک انگلینڈ اور ویلز کے میدانوں میں 38 میچز کھیلے جائیں گے جس میں جیتنے والی ٹیم کے لیے سب سے بڑی انعامی رقم کا اعلان کیا گیا ہے اور جب تک ٹورنامنٹ جاری رہے گا ہمیں جوش و خروش اور ولولہ خیزی کا رنگ ہر سوں بکھرا ملے گا۔
14 جولائی کو لارڈز کے میدان میں کھیلے جانے والے فائنل میں فاتح ٹیم کو ایک کروڑ کی مجموعی انعامی رقم میں سے 40 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم بطور انعام دی جائے گی۔ اس کے علاوہ تقریباً ڈیڑھ ارب کرکٹ مداح اپنی پسندیدہ ٹیموں اور اسٹارز کو دور جدید کے گیجٹس کے علاوہ ٹی وی پر دیکھ سکیں گے۔
جنوری 1971ء میں میلبورن کرکٹ گراؤنڈ پر جب ایشز ٹیسٹ میں جان باقی نہ رہی تھی اور ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کا حادثاتی جنم ہوا، جس کے دو سال بعد آئی سی سی نے ورلڈ کپ کا تصور دنیا کے سامنے پیش کیا۔ 1970ء کی دہائی کی ابتدا میں عالمی سطح پر مینز کرکٹ میں محدود اوورز کا کہیں کوئی مقابلہ نہیں ہوا تھا، درحقیقت 1973ء میں خواتین نے انگلینڈ میں منعقدہ اپنے افتتاحی ورلڈ کپ کے موقعے پر اس رجحان کو متعارف کروایا۔ بعدازاں کھیل کی گورننگ باڈی نے 1975 کی گرمیوں میں دن کے اوقات میں روایتی سفید کٹ اور سرخ گیند کے ساتھ 60 ( فی اوور 6 گیند) اوورز پر مشتمل 15 میچوں کے ساتھ ایٹ (8) ٹیم ٹورنامنٹ کا منصوبہ بنایا۔
ماضی میں جانکھیں تو یہ تصور کرنا آسان ہے کہ کرکٹ میں ٹی 10 سمیت نئے فارمیٹس کی صورت میں آگے بڑھنے کی اس رفتار کے باوجود کس طرح مقبولیت سمیٹ سکی ہے۔ مگر 21ویں صدی کے ایسے بلے باز کا تصور بھی اب محال ہوچکا ہے جو میدان پر 60 اوور کی اننگز پر قابض رہے اور 174 گیندوں پر صرف 36 رنز جوڑے! ٹھیک یہی کارنامہ ٹیسٹ کرکٹ کے ممتاز اوپنگ بلے باز سنیل گواسکر نے افتتاحی ورلڈ کپ کے موقعے پر کیا، جبکہ اس سے پہلے انگلینڈ کی ٹیم لارڈز میں اپنی دھواں دار بیٹنگ دکھا کر شائقین کرکٹ سے خوب داد وصول کرچکی تھی۔ 335 کے تعاقب میں انڈیا نے سلیپ موڈ کا انتخاب کیا اور 3 وکٹوں کے نقصان پر 132 رنز جوڑ سکی، یوں اپنی مخالف ٹیم کو 202 رنز کے فرق کے ساتھ جتوا دیا۔
خیر یہاں لیجنڈ گواسکر کو ایسی آفت برپا کرنے پر بخشا جاسکتا ہے کیونکہ اس وقت محدود اوورز کی کرکٹ کو متعارف ہوئے تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا اور اس ٹورنامنٹ سے قبل صرف 18 ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے گئے تھے، اس ورلڈ کپ کا منظر نامہ 2019ء کے ورلڈ کپ کے منظرنامے سے یکسر مختلف تھا کیونکہ جب یہ ورلڈ کپ شروع ہوگا تب تک 4 ہزار ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے جاچکے ہوں گے۔
ماضی کے اُس ورلڈ کپ کی تاریخ کو تھوڑا اور کُریدتے ہوئے آپ کو بتاتے چلیں کہ 21 جون یعنی سال کے سب سے بڑے دن کو رات 8 بج کر 42 منٹ پر اختتام پذیر ہونے والے سنسنی خیز فائنل میں فاتح ٹیم ویسٹ انڈیز نے کلائیو لائڈ کی متاثرکن قیادت میں آسٹریلیا کو 17 رنز کے تھوڑے فرق کے ساتھ دھول چٹائی تھی۔ ویسٹ انڈیز کے کپتان نے زبردست قائدانہ کردار نبھاتے ہوئے 102 رنز جوڑے تھے۔
سر ویو رچرڈز ان عظیم ترین بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں 60 اوور کے اس کھیل نے پیدا کیا، رچرڈز نے اس ٹورنامنٹ میں اپنے بلے سے زیادہ کمال فیلڈنگ کے شعبے میں دکھایا جس کی بدولت آسٹریلیا کے کپتان ایئن چیپل، ان کے بھائی گریگ چیپل اور ٹورنامنٹ میچوں میں ایلن ٹرنر کو رنگ رن آؤٹ ہوئے تھے۔ وہ 1979ء کے فائنل میں سب کی نظروں کا محور بنے رہے، جبکہ ورلڈ کپ کے میزبان انگلینڈ کی ٹیم ایک لاچار پنچنگ بیگ کی مانند مار کھاتی رہی۔ اس عظیم کھلاڑی نے مائیک ہینڈرک کی گیند پر اسکوئر لیگ پر چھکا مار کر اپنے بلے سے 138 رنز جوڑے اور ویسٹ انڈیز کی اننگز مکمل ہونے تک ناٹ آؤٹ رہے۔
پھر ہوا یہ کہ لائڈ کی زیر قیادت ٹیم نے 92 رنز سے عالمی اعزاز اپنے پاس ہی رکھا۔
ابتدائی 2 ورلڈ کپ ایڈیشنز کی طرح تیسرے ورلڈ کپ کا انعقاد بھی اسی طریقہ کار یعنی 60 اوور اور سفید کٹ کے ساتھ انگلینڈ میں ہوا، لیکن جب عالمی مقابلہ 1978ء میں پاکستان اور انڈیا کی زیرمیزبانی برصغیر میں منعقد ہوا تب اسے 50 اوور فارمولے کے ساتھ بدل دیا گیا اور میدان پر 30 گز کے دائرے کو لازمی قرار دیا۔ رنگین کٹ کی ابتدا 1992ء کے ورلڈ کپ سے ہوئی جس کی میزبانی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے مل کر کی تھی۔
چلیے اب آج کی بات کرتے ہیں، کچھ دنوں میں شروع ہونے والے ورلڈ کپ ان تمام اجزا سے بھرپور ہے جو اس عالمی مقابلے کو ایک ریکارڈ توڑ ٹورنامنٹ بنانے کے لیے کافی ہیں۔ عنقریب 300 سے 320 کے آس پاس مجموعی اسکور ایک عام روایت سی بن جائے گی، جبکہ ان دنوں رنز کے اتنے مجموعے کا تعاقب زیادہ مشکل بھی نظر نہیں آتا بشرطیکہ پچ دوسری باری میں اچانک سے اپنا رنگ ڈھنگ نہ بدلنے لگے۔ اور اگر پچ کے حالات ویسے ہی رہتے ہیں، جو ایک حد تک انگلینڈ پاکستان کی سیریز میں ہمیں دیکھنے کو ملے، تو پھر باؤلرز کو سپاٹ پچوں اور انتہائی فاسٹ آؤٹ فیلڈز پر مشکلات کا سامنا ہوگا۔
جو کھیل ٹیموں پر مشتمل ہوتے ہیں ان میں سے چیمپئنز کا چناؤ کرنا خاصا رسک بھرا کام ہوتا ہے۔ اگر بات روایتی ٹیسٹ میچوں سے ہٹ کر دوسرے فارمیٹس کی ہو رہی ہو تو کرکٹ میں یہ کام اور بھی مشکل ثابت ہوتا ہے۔
اب تک سب سے زیادہ بار عالمی اعزاز اپنے نام کرنے والی ٹیم آسٹرلیا ہے۔ آسٹریلوی ٹیم کُل 5 مرتبہ،1987، 1999، 2003، 2007 اور 2015 کے عالمی مقابلوں میں کامیابی حاصل کرچکی ہے جبکہ اسٹیو اسمتھ اور ڈیوڈ وارنر کی واپسی کے ساتھ اس بار بھی اعزاز ان کے پاس رہنے کی امیدیں کافی حد تک روشن ہوئی ہیں۔ دوسرے نمبر پر ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ کامیابیاں ویسٹ انڈیز (1975 اور 1979) اور بھارت (1983 اور 2011) نے حاصل کیں، جبکہ پاکستان (1992) اور سری لنکا (1996) کی ٹیمیں بھی ماضی میں عالمی اعزاز اپنے نام کرچکی ہیں۔
مگر ورلڈ کپ 2019 میں سب پر غالب ٹیم کون سی ہوگی؟ ٹاپ رینکنگ میں شمار ہونے والی ٹیموں میں سے انگلینڈ (1979، 1987 اور 1992) اور نیوزی لینڈ (2015) ماضی میں ورلڈ کپ فائنل تک رسائی حاصل کرچکی ہیں، دوسری طرف جنوبی افریقہ کے لیے ورلڈ کپ کا خواب ادھورا ہی رہا ہے کیونکہ یہ ٹیم اب تک ایک بار بھی فائنل تک نہیں پہنچ پائی ہے، البتہ یہ ٹیم 1992، 1999، 2007 اور 2015 میں سیمی فائنل تک ضرور پہنچی ہے۔
ایک روزہ کرکٹ فارمیٹ کی بات کی جائے تو 2015 کے ورلڈ کپ کے بعد انگلینڈ کی ٹیم سب سے خطرناک ٹیم بن کر ابھری ہے، ان کے کھیل کو دیکھ کر واضح اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بطور میزبان ملک 4 بدترین مہمات کے بعد اس ٹیم نے کھیل کو نہایت سنجیدگی سے لینا شروع کردیا ہے۔ ان کے لیے 350 رنز جوڑنا اب روٹین کی بات بن چکی ہے اور مائیکل کلارک کی جانب سے میلبورن کرکٹ گراؤنڈ پر 29 مارچ کی رات کو فاتحانہ انداز میں ورلڈ کپ ٹرافی تھامے جانے کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 50 بار 350 رنز تک کے مجموعے جوڑے گئے ہیں، اس میں سے 15 بار یہ مجموعہ انگلینڈ کی ٹیم نے جوڑا۔
گزشتہ ٹورنامنٹس میں انگلینڈ کو دوڑ میں شامل ایک عام سی ٹیم کی حیثیت دی جاتی رہی ہے۔ مگر اب انگلینڈ آئی سی سی کی ٹاپ رینکنگ میں شامل ٹیموں جیسا کھیل پیش کر رہی ہے۔ انفرادی حیثیت سے دیکھیں تو ان کی ٹیم کا کوئی کھلاڑی ٹیم انڈیا کے ویرات کوہلی اور جسپریت بھمرا کی طرح بلے باز یا گیند باز کی اولین نمبر پر بھلے نہ ہوں مگر مجموعی طور پر بطور ایک ٹیم دیکھا جائے تو ٹیم انگلینڈ سب کو پیچھے چھوڑتی نظر آتی ہے۔
ٹیم میں بلے بازی کا پاور ہاؤس جیسن رائے، جونی بیرسٹو، جو روٹ کپتان ایئون مورگن، بین اسٹروکس اور جوش وخروش سے بھرپور پرخطر لائن اپ میں پیچھے گھات لگائے بیٹھے جوس بٹلر جیسے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے، ایسے میں اگر انگلینڈ ورلڈ کپ کے دوران 500 کا پہاڑ کھڑا کردیتی ہے تو یہ زیادہ حیرانی کی بات نہیں ہوگی۔
گزشتہ ورلڈ کپ کے بعد بین الاقوامی ایک روزہ میچز میں 20 بار 400 یا اس سے زائد کا مجموعی اسکور بنایا جاچکا ہے، انگلینڈ نے اتنا بڑا مجموعہ 4 موقعوں پر بنایا جبکہ جنوبی افریقہ اور انڈیا نے 5، 5 بار یہ سنگ میل عبور کیا۔
بین الاقوامی ایک روزہ میچ میں 2 ٹاپ ٹوٹل اسکور بھی اسی اثنا میں دیکھنے کو ملے اور دونوں بار یہ ٹوٹل ایک ہی ٹیم نے ایک ہی جگہ پر بنائے۔ انگلینڈ نے 2016 کے اگست میں پاکستان کے خلاف 3 وکٹوں کے نقصان پر 444 رنز کی لوٹ مار مچائی اور پھر جب 2018 کے جون میں آسٹریلیا ناٹنگھم آئی تو مجموعے میں 37 رنز کا مزید اضافہ کیا اور یوں تباہ کن بلے بازوں نے 6 وکٹوں کے نقصان پر 481 ٹوٹل کا پہاڑ کھڑا کیا۔
ان دنوں سرفراز احمد کی زیرقیادت ٹیم پاکستان کے حوالے سے چند واضح وجوہات کی بنا پر ویسا تذکرہ سننے کو نہیں مل رہا جیسا انگلینڈ، انڈیا، آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ کی ٹیموں کے لیے سننے کو ملتا ہے۔
مگر 2017 کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی فاتح پاکستان ٹیم میں کسی خاص موقعے پر کسی کو بھی حیرت زدہ کرنے کی بلاشبہ خوب صلاحیت موجود ہے۔ فٹنس مسائل (شاداب خان اور محمد عامر) اور ذاتی صدمے (آصف علی)، کے علاوہ گزشتہ 15 ایک روزہ میچز میں 12 میچز میں شکست خوردگی کا بوجھ اٹھائے یہ ٹیم ورلڈ کپ کی دوڑ میں شامل ہونے جا رہی ہے۔
بدترین فیلڈنگ اور باؤلنگ کی اس قدر پست حالت نظر آتی ہے کہ معقول ورلڈ کپ ٹریک ریکارڈ (12 میچوں میں 24 وکٹیں) کی بنا پر وہاب ریاض کو 15 کھلاڑیوں کے اسکواڈ میں شامل کردیا گیا، مگر اس سب کے باوجود پاکستان کو ہمت ہارنے کی ضرورت نہیں ہے۔
ورلڈ کپ میں ہر ٹیم کا مقابلہ دیگر 9 ٹیموں کے ساتھ ہوگا، اس قسم کے فارمیٹ میں اہم موقعوں پر حالات میں غیرمتوقع تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ 1992 کا ورلڈ کپ بھی کچھ اسی طریقہ کار کے تحت کھیلا گیا تھا کہ جس میں عمران خان نے 25 مارچ کے دن میلبورن کرکٹ گراؤنڈ پر واٹرفورڈ کرسٹل ٹرافی کو لہرایا تھا۔
بشکریہ ڈان
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا10 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر6 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا10 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا9 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان8 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا6 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا6 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
