دنیا
اسماعیل ھانیہ کے بیٹوں کو نشانہ بنانے کے لئے نیتن یاہوکو اعتماد میں لیا گیا تھا :اسرائیلی میڈیا
تل ابیب، اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی گروپ کے سربراہ اسماعیل ھانیہ کے تین بیٹوں اور پوتوں کو بمباری سے نشانہ بنانے کے لیے وزیراعظم نیتن یاہو یا سینیئر فوجی قیادت سے مشورہ نہیں کیا گیا تھا بلکہ مقامی فوجی کمان نے اپنے طور پر یہ فیصلہ کیا سینیئر اسرائیلی حکام کے حوالے سے اسرائیلی خبر رساں ادارے ‘والا نیوز ایجنسی’ نے رپورٹ کیا ہے کہ اس واقعہ سے پہلے وزیراعظم نیتن یاہو کو اعتماد میں لیا گیا تھا نہ وزیر دفاع یواو گیلنٹ سے پیشگی مشورے و رہنمائی کے لیے رابطہ کیا تھا۔
خیال رہے یہ حملہ اسرائیلی فوج کے حساس ادارے ‘شین بیٹ انٹیلیجنس سروسز’ کی وجہ سے ممکن ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسماعیل ھانیہ کے بیٹوں عامر ، محمد اور حازم کو جنگجوؤں کے طور پر ٹارگٹ کیا گیا نہ کہ ایک سیاسی رہنما کے بیٹوں کے طور پر۔
اسرائیلی فوج نے اس بارے میں بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے کہ اس نے اسماعیل ھنیہ کے چار پوتوں کو بھی ہلاک کر دیا ہے۔ وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے ‘والا نیوز ایجنسی’ کی اس رپورٹ کے بارے میں فوری طور پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔
حتیٰ کہ فوج نے بھی اس بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
واضح رہے اسماعیل ھنیہ کے انتہائی قریبی رشتہ داروں کی اس ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں مذاکراتی عمل اور جنگ بندی کی کوششوں کے لیے خطرہ اور پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ جن کوششوں کے نتیجے میں امکانی طور پر اسرائیل کے 133 یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو سکتی ہے۔
دریں اثناء اسماعیل ھنیہ نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں جنگ بندی سے متعلق کہا ہے کہ حماس بہت واضح ہے کہ کسی جنگی وقفے کے لیے اس کے مطالبات کیا ہیں۔
حماس رہنما اسماعیل ھنیہ نے کہا ‘اگر ہمارا دشمن یہ سمجھتا ہے کہ میرے بیٹوں کو نشانہ بنا کر حماس کو اپنی پوزیشن تبدیل کرنے پر مجبور کر دے گا تو دشمن خود فریبی کا شکار ہے۔’
‘میں یہ صرف امید ہی کر سکتا ہوں کہ یہ واقعہ اسرائیل کے ساتھ جنگی بندی مذاکرات پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ میں یہ امید کرتا ہوں کہ حماس اس واقعہ کے بعد زیادہ سخت شرائط ڈیل کے لیے سامنے نہیں لائے گی۔’ یہ بات آفری لیوی بی باس نے کہی ہے جس کے بھائی، بیگم اور بچوں کو حماس نے 7 اکتوبر کو یرغمالی بنایا تھا۔
اسرائیل کے ایک دائیں بازو کے اخبار ‘ہیوم’ کی رپورٹ کے مطابق فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے لیے ضابطہ کار کی پیروی کی گئی۔ مگر ایک سوال بڑا اہم رہا کہ اس قدر حساس ٹارگٹ کو اڑانے کے لیے سینیئر حکام سے پیشگی مشورے اور اجازت کے بغیر کارروائی کی جانی چاہیے یا نہیں۔
اسرائیل کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اخبار ‘ہارٹز’ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اور اس کی حکومت نے ایک ہفتہ پہلے دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ کیا اور سنیئر کمانڈرز کو بھی ہلاک کیا۔ یہ واقعہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کسی جنگ بندی کی کوششوں کو روکنے کے لیے کافی تھا۔ یہ ایک اشتعال انگیز اور جارحانہ واقعہ تھا۔ اس سے پہلے ایک اور واقعہ پیش آیا تھا جس میں ‘ورلڈ سینٹرل کچن’ کی 7 رکنی ٹیم کو غلط اندازے کی وجہ سے ہلاک کر دیا گیا تھا۔
دوسری جانب عالمی سطح پر جنگ بندی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے خصوصاً ایسے حالات میں جب غزہ میں اسرائیلی جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔
حماس غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلاء اور غزہ سے بےگھر ہو کر نقل مکانی کرنے والے فلسطینیوں کی ان کے گھروں اور علاقوں میں واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
جبکہ اسرائیل یرغمالیوں کی گھروں کو واپسی چاہتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی وہ کہتا ہے کہ اس وقت تک جنگ ختم نہیں کی جائے گی جب تک حماس کو ختم نہیں کیا جاتا۔ نیز اسرائیل نے رفح پر زمینی جنگ مسلط کرنے کی بھی تیاری کر رکھی ہے۔ جہاں 15 لاکھ کے قریب فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عالمی سطح پر تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں: ای آئی اے
ویانا، بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں، اس لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔امریکی حکام نے بھی پیش گوئی کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کم رہنے کی صورت میں تیل اور گیس کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
ایران اور عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز سعودی عرب، عراق اور کویت سمیت بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے خام تیل کی برآمدات کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کے مطابق، معمول کے حالات میں روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل، یعنی دنیا کی روزانہ مجموعی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ، اس آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔ ادارہ اسے “تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ” قرار دیتا ہے۔
ای آئی اے کے مطابق اگر آبنائے ہرمز بند ہوجائے تو “اس راستے سے تیل باہر منتقل کرنے کے متبادل راستے بہت محدود ہیں۔”
یہ آبی گزرگاہ عالمی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تجارت کا بھی تقریباً پانچواں حصہ منتقل کرتی ہے۔
توانائی کے تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت قابل اعتماد نہیں ہوجاتی، تیل اور گیس کی قیمتیں بلند رہیں گی۔ تاہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنے خام تیل کی برآمدات کے لیے متبادل راستوں کو وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایران نے خلیج فارس اور اس کے اطراف کے پانیوں میں آلودگی پر معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہرمز سے تجارتی آمدورفت سے فائدہ اٹھانے والے ممالک پر ماحولیاتی نقصان سے نمٹنے کی “قانونی اور اخلاقی دونوں ذمہ داری” عائد ہوتی ہے۔
ایران کے قشم جزیرے کے قریب ایک ساحل پر تیل کی تہہ دیکھی گئی ہے، جبکہ عمان نے کہا ہے کہ پابندیوں کا شکار ٹینکر کیرولین بیزینگی سے خارج ہونے والا تیل راس مدرکہ کے ساحلوں تک پہنچ گیا ہے۔ اس ٹینکر میں ایک اندازے کے مطابق 8 لاکھ بیرل روسی خام تیل موجود تھا۔
عمان کے مطابق ساحلی پٹی کا 40 کلومیٹر تک کا علاقہ متاثر ہوا ہے اور خدشہ ہے کہ تیل کا اخراج مصیرہ جزیرے تک پہنچ سکتا ہے، جہاں حساس ساحلی ماحولیاتی نظام اور سمندری کچھوؤں کے انڈے دینے کے مقامات موجود ہیں۔
دریں اثنا، نیم فوجی بسیج آرگنائزیشن کے کمانڈر اور پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) سے وابستہ حسین طائب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز “ایران کے کنٹرول اور انتظام میں ہے۔”
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق طائب نے کہا، “آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز اسلامی جمہوریہ کے انتظام اور کنٹرول میں ہے اور ہمارا ملک مکمل تحفظ کے ساتھ اپنے راستے پر آگے بڑھ رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “امریکیوں نے اسلامی انقلاب کی طاقت دیکھ لی ہے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر1 day agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا2 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
