اہم خبریں
افغانستان۔ جشن منائیں یا ماتم کریں؟
سلیم صافی
امریکی صدر ٹرمپ سے جب عمران خان صاحب کی ملاقات ہوئی تو وہ اُس ملاقات پر اِس قدر پُرجوش ہو گئے کہ امریکہ میں جلسے سے خطاب کے دوران پاکستان کے اپوزیشن لیڈروں کی ایسی تیسی کرنے کا اعلان کر ڈالا۔ واپس آئے تو وزیروں اور مشیروں سے ایسا استقبال کروایا کہ جیسے وہ کشمیر فتح کرکے لوٹ رہے ہیں۔ خود بھی یہی فرمایا کہ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے میں آج ورلڈ کپ جیت کر لوٹا ہوں لیکن کچھ عرصہ بعد پتہ چلا کہ ٹرمپ کی اصل میچ فکسنگ نریندر مودی سے ہوئی تھی جس کے نتیجے میں اس نے کشمیر ہڑپ کر لیا۔ یوں جس بات کا دو سال قبل ہم جشن منا رہے تھے، آج مظلوم کشمیریوں کے ساتھ مل کر ماتم کررہے ہیں۔
دوسرا معاملہ قطر معاہدہ کا تھا۔ امریکہ اور طالبان کے مابین قطر ڈیل ہوئی تو ہم جیسے طالب علم اسے امن معاہدے کی بجائے دو کرداروں کی ڈیل سے تعبیر کررہے تھے۔ جب امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات جاری تھے تو چیخ رہے تھے کہ امریکہ اور طالبان کی ڈیل سے پہلے بین الافغان مفاہمت ضروری ہے لیکن بین الافغان مفاہمت کے بغیر ہی عمران خان اور شاہ محمود قریشی شادیانے بجانے لگے کہ ہمارے تعاون سے یہ ڈیل ممکن ہوئی۔
لیکن پھر جب جون جولائی میں امریکی افواج کے انخلا کی تکمیل کا مرحلہ آیا اور بین الافغان مفاہمت کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے تو یہ خدشات پیدا ہوئے کہ اب افغانستان میں خونریزی ہوگی جس کے نتیجے میں ایک طرف مزید مہاجرین پاکستان آئیں گے بلکہ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی سارا ملبہ پاکستان کے اوپر گرانے کی کوشش کریں گے تو پاکستان میں ایک بار پھر ماتم برپا ہوا۔
عمران خان اور ان کے ترجمان کہنے لگے کہ بےیقینی کی یہ ساری صورت حال امریکی افواج کے بےوقت اور غیرذمہ دارانہ انخلا کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ گویا ایک سال قبل ہم امریکیوں کے انخلا پر آمادگی کا جشن منارہے تھے اور ایک سال بعد اس کا ماتم کررہے تھے تو دوسری طرف افغانستان سے متصل قبائلی اضلاع میں متوقع مہاجرین کے لئے کیمپ تعمیر کررہے تھے اور پاکستان کے اندر تحریک طالبان پاکستان کے دوبارہ متحرک ہونے کا خوف بھی لاحق تھا چنانچہ طالبان اور اشرف غنی کی حکومت کی مفاہمت کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے تھے۔
لیکن اشرف غنی اور اُن کے حمداللہ محب جیسے مشیر مفاہمت کی ہر کوشش کو سبوتاژ کرتے رہے اور طالبان کا رویہ بھی بےلچک تھا۔ اِس دوران افغان فوج ایک کے بعد ایک ضلع چھوڑ کر طالبان کے حوالے کررہی تھی، اِس دوران پاکستان میں یہ سوچ فروغ پانے لگی کہ امریکہ اور طالبان کی در پردہ کوئی انڈر اسٹینڈنگ ہوئی ہے جس سے پاکستان میں تشویش مزید بڑھ گئی۔ دوسری طرف طالبان تیزی سے کابل کے گرد گھیرا تنگ کرنے لگے۔ اشرف غنی نہ صرف مطمئن دکھائی دے رہے تھے بلکہ اپنی فوج کے ذریعے طالبان کو بھرپور مزاحمت کی دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔
وہ یہ بڑھکیں اِس اعتماد کے ساتھ مار رہے تھے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے ایمل ولی خان جیسے رہنما ہم جیسے لوگوں کو پاگل قرار دینے لگے جو انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کررہے تھے کہ جنگ ہارنے والے متنازعہ ترین صدر اشرف غنی کی حمایت ان کے لئے سود مند نہیں۔ اشرف غنی اور امریکیوں کے اعتماد کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ طالبان نے امریکیوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ چھ ماہ تک کابل پر قبضہ نہیں کریں گے لیکن اس دوران یکدم حالات نے پلٹا کھایا اور کابل کے ارد گرد کے صوبے طالبان کے قبضے میں آنے لگے۔ کابل کے دروازے پر کھڑے ہوکر طالبان نے (شاید امریکہ کے ساتھ اِس انڈر اسٹینڈنگ کی وجہ سے) اعلان کیا کہ وہ کابل میں داخل نہیں ہوں گے لیکن اگلے روز ایک تو وہ کابل میں داخل ہو گئے۔
دوسری طرف کابل پر قبضے کے بعد طالبان نے ماضی کے بالکل برعکس اپنے مخالفین کو قتل کرنے کی بجائے اشرف غنی سمیت سب شہریوں کے لئے عام معافی کا اعلان کردیا۔ اسی طرح انہوں نے خواتین سے متعلق بھی ماضی کے برعکس رویہ اپنایا۔ تیسری طرف جب امریکی اپنے سفارتخانے کے عملے اور افغان ترجمانوں کو جہازوں کے ذریعے نکال رہے تھے تو اِس دوران وہاں جمع ہونے والے ہزاروں نوجوانوں کی فوٹیجز اور پھر جہاز سے گرنے والے تین جوانوں کی ہلاکت نے فضا کو یکسر بدل دیا۔ افغانستان کے اندر امریکہ اور اشرف غنی نفرت کا نشانہ بننے لگے اور گزشتہ 20سال میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ افغانوں کے غصے کا نشانہ امریکہ اور اشرف غنی بن گئے۔
دوسری طرف امریکہ میں میڈیا، سول سوسائٹی اور سیاستدانوں نے جوبائیڈن کو آڑے ہاتھوں لیا اور شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں افغانستان میں طالبان کی واپسی کا ذمہ دار قرار دیا۔ چنانچہ جوبائیڈن کو قوم سے خطاب کرنا پڑا جس میں انہوں نے پاکستان کا تو ذکر تک نہیں کیا لیکن اشرف غنی اور ان کے ساتھی افغان سیاستدانوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اب ایک طرف تو افغانستان میں وہ طالبان جن کی مدد کا پاکستان پر الزام لگتا رہا، بدلے ہوئے نظر آئے۔ دوسری طرف پہلی مرتبہ پاکستان کی بجائے اشرف غنی اور امریکہ نفرت کا نشانہ بننے لگے اور تیسری طرف امریکہ نے پاکستان کی بجائے اشرف غنی کو افغانستان میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس لئے پاکستان میں ایک بار پھر وزیراعظم، وزرا صاحبان، مذہبی جماعتیں، ٹی وی اینکرز اور دانشور جشن منانے لگے۔
اب ہم جیسے طالب علم التجائیں کر رہے ہیں کہ جشن منانے کی ضرورت ہے اور نہ ماتم کرنے کا کوئی جواز لیکن پختون قوم پرست سوگ میں ہیں جبکہ باقی لوگ جشن منانے سے باز نہیں آرہے حالانکہ ابھی صورت حال واضح نہیں۔ بہتری کے بھی امکانات ہیں اور تباہی کا بھی خطرہ ہے۔ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہم ماتم کررہے ہوں گے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ سردست تو طالبان نے مخالف سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر مشترکہ نظام بنانے کی بات کی ہے لیکن جب انہوں نے اپنی امارات اسلامی بحال کی تو اب اس میں شمالی افغانستان کے رہنماؤں کی شمولیت کا امکان بہت کم نظر آتا ہے جب وہ دیگر افغان دھڑوں کو جمہوری طریقے سے ساتھ لے کر چلنے پر آمادہ نہیں ہوں گے تو اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ مغربی ممالک ان کی حکومت کو تسلیم کر لیں۔
اب اگر مغربی ممالک کے بغیر پاکستان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے گا تو ایک بار پھر پاکستان مغربی ممالک کے غصے کا نشانہ بنے گا۔ اب ایسے عالم میں جبکہ عمران خان کی حکومت نے اپنی معیشت آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے منسلک کر دی ہے اور دوسری طرف ایف اے ٹی ایف کی تلوار لٹک رہی ہے تو جب امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان پر غصہ اتاریں گے تو اندازہ لگا لیجئے کہ پاکستان کی کیا حالت ہوگی۔ اللّٰہ کرے میرا اندازہ غلط ثابت ہو لیکن مجھے تو لگتا ہے کہ کسی بھی وقت طالبان کی کامیابی پاکستان کے لئے وبالِ جان بھی بن سکتی ہے۔(جیو نیوز)
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا2 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان2 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان17 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا15 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا15 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر15 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا20 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا19 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا19 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
