ہندوستان
ہندوستان اور بحرالکاہل کے جزائری ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور، قابل تجدید توانائی اور موسمیاتی مسائل پر بات چیت
نئی دہلی، ہندوستان-بحرالکاہل جزائر تعاون فورم کی میٹنگ میں دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
وزارت خارجہ نے جمعرات کو یہاں بتایا کہ دونوں فریقوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان بدھ کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر بات چیت ہوئی۔ میٹنگ میں قابل تجدید توانائی، موسمیاتی اقدامات، قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور صلاحیت سازی جیسے شعبوں میں مزید تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ کی صدارت وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کی۔ یہ اس تنظیم کے وزرائے خارجہ کی دوسری میٹنگ تھی۔
میٹنگ میں بحرالکاہل کے جزائری ممالک کی اعلیٰ سطحی شرکت رہی۔ اس میں سموا کے نائب وزیر اعظم و وزیر خزانہ، فجی، مارشل آئی لینڈز، پلاؤ، پاپوا نیو گنی، سولومن آئی لینڈز اور تووالو کے وزرائے خارجہ شامل ہوئے۔ اس کے علاوہ ٹونگا کے وزیر خزانہ، مائکرونیشیا کی وفاقی ریاستوں کے محکمہ انصاف کے سکریٹری و اٹارنی جنرل، وانواتو کے وزیر صحت، ناؤرو کے نائب وزیر خارجہ اور پیسیفک آئی لینڈز فورم کے سکریٹری جنرل نے بھی میٹنگ میں حصہ لیا۔ میٹنگ میں سربراہ اجلاسوں کے نتائج کا جائزہ لیا گیا اور 2023 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے اعلان کردہ 12 نکاتی ایکشن پلان کے تحت ہندوستان-بحرالکاہل جزائری ممالک کے تعاون میں ہونے والی پیشرفت کا خیرمقدم کیا گیا۔
میٹنگ میں شراکت داری کو مضبوط بنانے اور علاقائی و کثیر جہتی پلیٹ فارمز پر تعاون بڑھانے کے عزم کو دہرایا گیا۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
یمنا ایکسپریس وے : بس میں آگ لگنے سے 9 افراد زندہ جلے
گریٹر نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا میں ایک دل دہلا دینے والے حادثے میں بدھ کی دیر رات یمنا ایکسپریس وے پر جیور ہوائی اڈے کے قریب چلتی ہوئی نجی بس میں اچانک آگ لگنے سے 9 افراد زندہ جل گئے۔
حادثے میں کئی دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق حادثہ نصف شب کے قریب پیش آیا۔ بس نوئیڈا سے تقریباً 34 کلومیٹر کا سفر طے کرچکی تھی کہ اس میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس سے مسافروں میں افراتفری مچ گئی۔ آگ لگنے کا پتہ چلتے ہی کچھ مسافر اپنی جان بچانے کے لیے چلتی بس سے کود گئے۔ تھوڑی ہی دیر میں آگ نے پوری بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کئی مسافر اندر پھنس گئے۔
حادثے کا شکار بس میں 35 مسافر سوار تھے۔ کئی مسافروں نے کھڑکیاں توڑ کر اور بس سے کود کر اپنی جان بچائی۔
بس نوئیڈا سے مہوبا جارہی تھی۔ یہ راج کلپنا ٹریولس کی بس تھی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی 5 گاڑیاں موقع پر پہنچیں۔ تقریباً 45 منٹ میں آگ پر قابو پالیا گیا، لیکن اس وقت تک بس پوری طرح جل چکی تھی۔
حادثے کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں بس کو آگ کے شعلوں میں گھرا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔ اطلاع ملنے پر جیور کوتوالی پولیس کے اہلکار موقع پر پہنچے اور واقعے کی تحقیقات شروع کردی۔
دریں اثنا، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے گریٹر نوئیڈا میں پیش آئے سڑک حادثے کا نوٹس لیا۔
وزیر اعلیٰ نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے افسران کو زخمیوں کے مناسب علاج کا انتظام کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے بات کی اور افسران کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
یو این آئی ۔ ایم جے
ہندوستان
انتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
نئی دہلی، ووٹر رجسٹریشن، ووٹر فہرست سے نام حذف کرنے اور بحال کرنے، فارم-6 میں تبدیلی اور ووٹر ڈیٹا کے انتظام سے متعلق دو انتخابی کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی مبینہ اعتراضات کی میڈیا رپورٹ کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور انتخابی کمیشن پر حملہ تیز کردیا ہے۔ بعض اپوزیشن جماعتوں نے مسٹر کمار کو عہدے سے ہٹانے اور کمیشن کے کام کاج کی مزید گہری جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں انتخابی کمشنروں نے 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ ایسے فیصلوں اور احکامات پر اعتراض کیا، جن کے بارے میں مبینہ طور پر انہیں اطلاع یا منظوری حاصل نہیں تھی۔ ان میں ووٹرز کے نام شامل کرنے اور حذف کرنے، ناموں کی بحالی، نئے ووٹرز کے لیے فارم-6 میں تبدیلی، ووٹر فہرست کے ڈیٹا بیس کو مرکزی سطح پر رکھنے اور خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے مختلف پہلو شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں کمشنروں نے انتخابی فہرستوں سے متعلق نظام تک ریاستی سطح کے قانونی افسران کی رسائی اور ووٹر ڈیٹا کے تکنیکی بنیادی ڈھانچے میں تبدیلیوں پر بھی تشویش ظاہر کی تھی۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، جے رام رمیش، ابھیشیک منو سنگھوی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے ان مبینہ اعتراضات کا حوالہ دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے یا انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ راہل گاندھی نے ووٹر فہرست سے متعلق تنازع کو ’’ووٹ چوری‘‘ قرار دیتے ہوئے بی جے پی، آر ایس ایس اور انتخابی کمیشن پر اس میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ ترنمول کانگریس، سماج وادی پارٹی اور سی پی آئی (ایم) نے بھی معاملے کی تحقیقات اور سپریم کورٹ کی مداخلت کا مطالبہ کیا۔
انتخابی کمیشن نے ان الزامات اور اختلافات کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ کثیر رکنی آئینی ادارے میں تحریری تبصرے، اعتراضات اور تکنیکی تجاویز معمول کی اندرونی غور و فکر کا حصہ ہیں۔ کمیشن کے مطابق ایس آئی آر اور دیگر انتخابی معاملات سے متعلق حتمی فیصلوں کو تینوں انتخابی کمشنروں نے متفقہ طور پر منظور اور دستخط کیا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ اندرونی غور و فکر میں اختلاف یا مختلف رائے کو ادارے میں انتشار کا ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا اور تین رکنی کمیشن مسلسل اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
ابھیشیک بنرجی نے چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے اور کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے بدھ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے فوری طور پر ہٹانے اور الیکشن کمیشن کے طرز عمل کی عدالت کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک خاص سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے لاکھوں ووٹروں کے حقوق چھینے جا رہے ہیں۔
مسٹر بنرجی نے اپنے واٹس ایپ چینل پر ایک پوسٹ میں کہا، “چیف الیکشن کمشنر کو فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے اور عدالت کی نگرانی میں تحقیقات کے احکامات دیے جانے چاہئیں۔” انہوں نے الزام لگایا کہ کسی ایک سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے لاکھوں ووٹروں کے نام کاٹنا ہماری جمہوریت کی بنیاد پر حملہ ہے اور اس کے لیے ذمہ دار لوگوں کی جوابدہی طے ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا، “سپریم کورٹ اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔ کیا ہندوستان کے چیف جسٹس کی قیادت والی بینچ اس پر کارروائی کرے گی؟” مسٹر بنرجی کا یہ تبصرہ ان میڈیا رپورٹوں کے بعد آیا ہے، جن میں انکشاف ہوا ہے کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور ڈاکٹر وویک جوشی نے ووٹر فہرست کی نظر ثانی سے جڑے فیصلوں پر گزشتہ 10 مہینوں میں کم از کم 14 بار باضابطہ طور پر اعتراضات درج کرائے تھے۔ ان کمشنروں نے مبینہ طور پر کہا کہ کئی فیصلے ان کی معلومات کے بغیر کیئے گئے تھے۔
کمیشن کے اندر اندرونی اختلافات کی رپورٹوں نے ووٹر فہرست کی خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کےتعلق سے اپوزیشن کے حملوں کو اور تیز کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل سے اہل ووٹروں کے نام ہٹائے جا رہے ہیں۔ تاہم، الیکشن کمیشن کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایس آئی آر سے جڑے تمام فیصلے اتفاق رائے سے کیئے گئے تھے۔
یہ تنازع اب سپریم کورٹ بھی پہنچ چکا ہے، جہاں ایس آئی آر کے عمل سے جڑی عرضیوں پر سماعت ہو رہی ہے۔ منگل کے روز عدالت نے “منطقی عدم مطابقت” کی بنیاد پر دہلی میں ووٹروں کو جاری کیے گئے نوٹسوں پر الیکشن کمیشن سے سوال پوچھے تھے اور پوچھا تھا کہ کیا یہ نوٹس بغیر سوچے سمجھے میکانکی انداز میں جاری کیے جا رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے عمل کے تعلق سے الگ سے قانونی اور سیاسی رسہ کشی چل رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ اس عمل کے دوران ریاست کی ووٹر فہرست سے 27.16 لاکھ ووٹروں کے نام ہٹائے گئے تھے، جن میں سے 22 لاکھ سے زائد لوگوں نے بعد میں نام دوبارہ شامل کرنے کے لیے اپیل دائر کی ہے۔ کمیشن نے غیر حاضر، منتقل شدہ، متوفی اور ڈپلیکیٹ اندراجات کے زمروں کا حوالہ دیتے ہوئے ان ناموں کو ہٹانے کا دفاع کیا ہے۔ مسٹر بنرجی نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ظاہر کی گئی تشویشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ‘انڈیا’ اتحاد کے اراکین نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر ججوں کو خط لکھا تھا، لیکن ان تشویشات کی نہ تو تحقیقات کی گئی اور نہ ہی انہیں مناسب سنجیدگی سے لیا گیا۔ پارٹی کے راجیہ سبھا رہنما ڈیرک او برائن نے بھی گیانیش کمار کے خلاف کارروائی کے مطالبے کو دہراتے ہوئے یاد دلایا کہ 60 سے زائد اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ نے پہلے ہی انہیں ہٹانے کے لیے ایک تجویز پیش کی تھی۔
دوسری طرف، الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے فیصلوں میں کسی بھی قسم کی تقسیم سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ پورا عمل تینوں الیکشن کمشنروں کی دیکھ بھال میں منعقد کیا گیا ہے۔ تاہم، سامنے آنے والے اندرونی اعتراضات نے انتخابی ادارے کے طرز عمل، شفافیت اور آئینی خودمختاری پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر5 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا6 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر5 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
دنیا1 week agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
ہندوستان1 week agoصرف انعام کا اعلان نہیں، مسعود اظہر کو گرفتار کرے پاکستان: ہندوستان
-
دنیا6 days agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا5 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا6 days agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا6 days agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
