جموں و کشمیر
کشمیر کے خواب دیکھنا بند کریں، پاکستان کو اپنے مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہئے: جموں و کشمیر بی جے پی
جموں، جموں و کشمیر بی جے پی کے ترجمان اور بین الاقوامی امور کے کنوینر گورو گپتا نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہندوستان کی جانب سے پاکستان کو دیے گئے سخت جواب کے بعد پاکستان پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو دوسرے ممالک کے علاقوں پر نظریں رکھنے اور ’’دہشت گردی برآمد کرنے‘‘ کی بجائے اپنے قرضے چکانے، اپنی معیشت کو ترقی دینے اور اپنے عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
گپتا نے اقوام متحدہ میں ہندوستان کے سخت جواب کا خیرمقدم کیا، جہاں ہندوستانی سفارت کار کشتیج تیاگی نے پاکستان سے کہا کہ وہ علاقائی عزائم اور دہشت گردی کے بجائے ترقی پر توجہ دے۔
انہوں نے یہاں ایک بیان میں کہا، ’’ہندوستان نے جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان کے حوالوں پر بھی تنقید کی اور پاکستان کے زیر انتظام علاقوں سے متعلق خدشات کو اجاگر کیا۔‘‘
گپتا نے کہا، ’’ہندوستان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کو وہ پیغام دیا ہے جو اسے سننے کی ضرورت تھی—ہندوستان کی طرف دیکھنا بند کرو اور اپنے ملک کی طرف توجہ دو۔ اپنے قرضے چکاؤ، اپنی معیشت کو دوبارہ مضبوط کرو اور اپنے عوام کو مستقبل فراہم کرو، بجائے اس کے کہ ہندوستانی علاقے کے خواب دیکھو۔‘‘
اسلام آباد پر سخت تنقید کرتے ہوئے گپتا نے کہا کہ پاکستان عالمی فورموں پر کشمیر کا مسئلہ اٹھاتے رہتے ہوئے بین الاقوامی ہمدردی کی توقع نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا، ’’دہشت گردی پاکستان کے قرضے ادا نہیں کرے گی۔ ہندوستان مخالف پروپیگنڈا روزگار پیدا نہیں کرے گا۔ اقوام متحدہ میں ڈرامائی بیان بازی سے اس کے عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا۔ اور بار بار کشمیر کا ذکر کرنے سے یہ زمینی حقیقت تبدیل نہیں ہوگی کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔‘‘
گپتا نے کہا کہ جموں و کشمیر پر پاکستان کی مسلسل توجہ اس کے اپنے اقتصادی اور انتظامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا، ’’دنیا کئی دہائیوں سے پاکستان کی بیان بازی سن رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس بیان بازی سے پاکستانی عوام کو کیا حاصل ہوا؟ ترقی، روزگار اور خوشحالی کے بجائے اسلام آباد اپنی سیاسی توانائی علاقائی عزائم اور ہندوستان مخالف پروپیگنڈے پر خرچ کرتا جا رہا ہے۔‘‘
پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے گپتا نے کہا کہ اسلام آباد کو پہلے اپنے زیر انتظام علاقوں کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔
مسٹرگپتا نے کہا، ’’کشمیر پر ہندوستان کو نصیحت دینے سے پہلے پاکستان کو اپنے زیر انتظام علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے حالات سے متعلق سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ آپ کشمیر کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتے جبکہ اپنے انتظام والے علاقوں کے لوگوں کی شکایات کو نظر انداز کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ہندوستان کا پیغام سادہ ہے: دہشت گردی برآمد کرنا بند کرو، ہندوستانی علاقے پر نظریں رکھنا بند کرو اور اپنے عوام کے لیے کام کرنا شروع کرو۔ جموں و کشمیر ہندوستان کا حصہ ہے۔ پاکستان کی تقریریں تاریخ، جغرافیہ یا حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں میں 3 روزہ ہڑتال سے قبل بینک ملازمین کا مظاہرہ
جموں، 28 ستمبر سے اعلان کردہ 3 روزہ ہڑتال سے قبل یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز (یو ایف بی یو) کے بینر تلے بینک ملازمین اور افسران نے جمعرات کی شام یہاں مظاہرہ کیا، جس میں بڑی تعداد میں بینک افسران اور ملازمین نے شرکت کی۔
یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز میں بینک ملازمین اور افسران کی 7 یونینیں شامل ہیں، جن میں آل انڈیا بینک ایمپلائز ایسوسی ایشن (اے آئی بی ای اے)، آل انڈیا بینک آفیسرز کنفیڈریشن (اے آئی بی او سی)، نیشنل کنفیڈریشن آف بینک ایمپلائز (این سی بی ای)، آل انڈیا بینک آفیسرز ایسوسی ایشن (اے آئی بی او اے)، بینک ایمپلائز فیڈریشن آف انڈیا (بی ای ایف آئی)، انڈین نیشنل بینک ایمپلائز فیڈریشن (آئی این بی ای ایف) اور انڈین نیشنل بینک آفیسرز کانگریس (آئی این بی او سی) شامل ہیں۔ یہ فورم 28، 29 اور 30 ستمبر کو ملک گیر 3 روزہ بینک ہڑتال کرے گا، جس میں سرکاری شعبے کے بینکوں، نجی شعبے کے بینکوں، غیر ملکی بینکوں، علاقائی دیہی بینکوں اور کوآپریٹو بینکوں میں کام کرنے والے 8 لاکھ بینک ملازمین اور افسران شرکت کریں گے۔
اس موقع پر آل انڈیا بینک آفیسرز کنفیڈریشن (اے آئی بی او سی) جموں و کشمیر اور لداخ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے سکریٹری راجیش مہتا نے کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت بینکنگ صنعت میں ہفتے میں 5 دن کام کرنے کے نظام کو نافذ کرنے اور باقی ہفتہ کے دنوں کو تعطیل قرار دینے کی منظوری دے۔ فی الحال بینکوں میں دوسرے اور چوتھے ہفتہ کو پہلے ہی تعطیل ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈین بینکس ایسوسی ایشن کی جانب سے 7 دسمبر 2023 کو آئی بی اے اور یو ایف بی یو کے درمیان طے شدہ مفاہمت نامے اور 8 مارچ 2024 کو کیے گئے تصفیے اور مشترکہ نوٹ میں طے پانے والی باتوں کی بنیاد پر باقی ہفتہ کے دنوں کو بھی تعطیل قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی حکومت کو باقاعدہ سفارش کی جا چکی ہے، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ 2 سال سے حکومت کی منظوری کے لیے زیر التوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہ ملنے کے بعد یو ایف بی یو نے 24 اور 25 مارچ 2025 کو 2 روزہ ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ اس وقت حکومت نے انہیں بتایا تھا کہ معاملہ فعال طور پر زیر غور ہے، جس کے بعد ہڑتال ملتوی کر دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز نے مختلف احتجاجی پروگراموں کے ذریعے حکومت کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرانے کے بعد 28، 29 اور 30 ستمبر کو 3 روزہ ہڑتال کی اپیل کی ہے اور بالآخر 26 اکتوبر 2026 سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ مالیاتی شعبے میں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)، ایل آئی سی اور جی آئی سی میں پہلے ہی ہفتے میں 5 دن کام کرنے کا نظام نافذ ہے۔
مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے تمام دفاتر پیر سے جمعہ تک ہی کام کرتے ہیں۔
اسٹاک ایکسچینج بھی پیر سے جمعہ تک کام کرتے ہیں۔ زرِمبادلہ کی منڈی اور غیر ملکی زرمبادلہ کے لین دین سمیت دیگر مالیاتی منڈیاں ہفتہ اور اتوار کو بند رہتی ہیں۔ بینکوں میں پہلے ہی دوسرے اور چوتھے ہفتہ کو تعطیل ہوتی ہے۔
لہٰذا موجودہ حالات میں جب بینکنگ خدمات تک رسائی کے لیے مختلف متبادل ذرائع دستیاب ہیں، پیر سے جمعہ تک کام کے اوقات میں اضافہ کرتے ہوئے باقی ہفتہ کے دنوں کو تعطیل قرار دینے سے بینک صارفین کو کسی بڑے مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
یو ایف بی یو کے دیگر رہنماؤں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ وہ بینکنگ شعبے میں ہفتے میں 5 دن کام کرنے کا نظام نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں ڈی آئی جی نے ریلوے کی سلامتی کے انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا
جموں، ڈپٹی انسپکٹر جنرل جموں۔کٹھوعہ شری دھر پاٹل نے جمعرات کو جموں و کشمیر کے سانبہ ضلع میں ریلوے کی سلامتی کے انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
افسر نے ریلوے کی سلامتی سے متعلق معیاری طریقہ کار کی سختی سے پابندی، گشت میں اضافہ، حساس مقامات پر سی سی ٹی وی کی نگرانی، ریلوے پٹریوں کے قریب واقع ضیافت گاہوں اور دیگر اداروں کی نقشہ بندی، پلوں اور انڈر پاسوں میں مناسب روشنی کا انتظام اور جی آر پی و دیگر متعلقہ ایجنسیوں کے ساتھ مؤثر تال میل پر زور دیا۔
انہوں نے مختلف ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے باقاعدگی سے ایس ایم اے سی اجلاس منعقد کرنے اور مشترکہ فرضی مشقیں کرنے کی بھی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ مشتبہ سرگرمیوں اور ڈرون دیکھے جانے سے متعلق معلومات بروقت ایک دوسرے کے ساتھ مشترک کرنے پر بھی زور دیا۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
جے اینڈ کے میں اے اے وائی خاندانوں کے لیے سالانہ چھ مفت ایل پی جی سلنڈر فراہم کرنے کی منظوری
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے جمعرات کو بتایا کہ انہیں انتودیا انا یوجنا (اے اے وائی) کے تحت آنے والے خاندانوں کو سالانہ چھ مفت ایل پی جی سلنڈر فراہم کرنے کے لیے مجاز اتھارٹی سے منظوری مل گئی ہے۔
خوراک، شہری اور صارف امور کے وزیر ستیش شرما نے قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد جلد ہی ضروری احکامات جاری کر دیے جائیں گے۔
اس اعلان پر ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی اور بی جے پی ارکان نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔
قائد حزب اختلاف اور بی جے پی لیڈر سنیل شرما نے اس اعلان پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت نے سالانہ 12 مفت ایل پی جی سلنڈر فراہم کرنے کے اپنے انتخابی وعدے کو پورا نہ کر کے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سنیل شرما نے کہا، “عوام آپ کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ آپ نے انتخابات کے وقت 12 سلنڈروں کا وعدہ کیا تھا اور دو سال بعد آپ جموں و کشمیر کے غریب لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی کر رہے ہیں۔”
مسٹرشرما نے مزید کہا کہ حکومت نے انتخابات کے وقت 12 سلنڈروں کا وعدہ کیا تھا اور الزام لگایا کہ اس وعدے کو پورا کیے بغیر دو سال گزر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا، “انہوں نے انتخابات کے وقت 12 سلنڈروں کا وعدہ کیا تھا اور دو سال بعد وہ جموں و کشمیر کے غریب لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ پچھلے دو سالوں کے 24 سلنڈر کون دے گا؟”
ان کے ان تبصروں پر حکومتی بنچوں کی طرف سے احتجاج شروع ہو گیا، جب کہ بی جے پی ارکان نعرے بازی کرتے رہے، جس کے نتیجے میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
ایوان میں کچھ دیر تک ہنگامہ آرائی جاری رہنے کے بعد اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے مداخلت کی اور نظم و ضبط بحال کرایا۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر5 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر5 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا6 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
دنیا1 week agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
دنیا6 days agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا5 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا6 days agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا6 days agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا6 days agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
جموں و کشمیر6 days agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
