ہندوستان
امبیڈکر پر تنازعہ بڑھا، بی جے پی اور انڈیا گروپ نے ایک دوسرے پر تشدد کا الزام لگایا
نئی دہلی، بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر پر تنازع جمعرات کو مزید بڑھ گیا اور پارلیمنٹ کمپلیکس حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اپوزیشن انڈیا گروپ کے درمیان میدان جنگ بن گیا اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر تشدد کا الزام لگایا اور معاملہ پولیس تک پہنچ گیا۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بدھ کو ہی تنازع شروع ہو گیا تھا۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے راجیہ ابھا میں آئین کے 75 سال کے شاندار سفر پر بحث کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر امبیڈکر کی توہین کی۔ مسٹر شاہ اور بی جے پی لیڈر بارہا اس الزام سے انکار کر چکے ہیں۔ اس تنازعہ کی وجہ سے آج بھی لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں کوئی کام نہیں ہوسکا کیونکہ اس معاملے پر دونوں ایوانوں کی کارروائی بار بار ملتوی کی گئی اور پھر دن بھر کے لیے ملتوی کردی گئی۔ کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن مسلسل ان سے معافی اور استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس احاطے میں آج دونوں ایوانوں کی کارروائی شروع ہونے سے قبل اپوزیشن ارکان نے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں امبیڈکر مجسمہ سے نئے پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کیا۔ ان کی پارٹی ابھی مکر دوار تک پہنچی ہی تھی کہ وہاں دھکا مکی کی صورت حال پیدا ہوگئی، جس میں بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ پرتاپ سارنگی اور مکیش راجپوت زخمی ہو گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسٹر گاندھی نے حکمراں جماعت کے ارکان کو دھکا دیا جس سے وہ گرگئے اور زخمی ہوگئے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور مسٹر گاندھی نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ یہ بی جے پی ممبران پارلیمنٹ تھے جنہوں نے انہیں پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم، بی جے پی نے معاملے کو طول دیتے ہوئے اس کے دوممبران پارلیمنٹ، انوراگ سنگھ ٹھاکر اور بانسوری سوراج نے سنسد مارگ پولیس اسٹیشن میں مسٹر گاندھی کے خلاف ‘قتل کی کوشش’ کا مقدمہ درج کرایا۔
اسپتال میں داخل دو زخمی ارکان پارلیمنٹ کا وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی فون کرکے خیریت دریافت کیا۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے الزام لگایا کہ مسٹر گاندھی نے ہمارے ممبران پارلیمنٹ مکیش راجپوت اور پرتاپ سارنگی کے ساتھ مارپیٹ کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا، ’’کس قانون نے راہل گاندھی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت دی ہے ،
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر پیش آیا، جہاں بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ احتجاج کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں اپوزیشن روزانہ احتجاج کرتی ہے۔ ہم نے احتجاج اس لئے کیا کیونکہ کانگریس نے ہمیشہ ڈاکٹر امبیڈکر کی توہین کی ہے۔
دوسری جانب ناگالینڈ سے منتخب بی جے پی رکن ایس۔ فانگن کونیاک نے راجیہ سبھا میں کہا، ’’انہیں انتہائی دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایوان کے باہر پرامن مظاہرے کے دوران میں مکر دوار کے باہر سیڑھیوں کے نیچے کھڑی تھی۔ اس وقت میرے ساتھ ایک انتہائی مایوس کن واقعہ پیش آیا۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف مسٹر گاندھی وہاں میرے پاس آگئے، جس سے میں پریشانی محسوس کرنے لگی اور وہ مجھ پر چیخنے لگے۔ میں نے محسوس کیا کہ ان کا یہ طرز عمل قائد حزب اختلاف سے میل نہیں کھاتا۔
محترمہ کونیاک نے کہا، ’’ایسا نہیں ہے کہ میں اپنا دفاع کرنے سے قاصر ہوں۔ پھر بھی میں نے اپنے دفاع کے لیے کچھ نہیں کیا لیکن آج جو کچھ ہوا وہ واقعی بہت برا واقعہ تھا۔ کسی بھی خاتون رکن کے ساتھ، خواہ وہ شیڈولڈ ٹرائب کی ہی کیوں نہ ہو، ایسا سلوک نہیں کیا ہونا چاہیے، اس لیے میں اس معاملے میں آپ (چیئرمین) سے تحفظ چاہتی ہوں۔
دریں اثنا، انڈیا گروپ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ نے مسٹر گاندھی کے ساتھ دھکا مکی کی اور احتجاج درج کرانے کے لیے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھا۔ بی جے پی اور کانگریس دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف اپنے الزامات کی حمایت کے لیے ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں۔ بی جے پی نے ایک ویڈیو شیئر کیا جس میں مسٹر گاندھی مسٹر سارنگی کے گرنے کے بعد ان کے پاس جاتے ہیں اور پھر وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ بی جے پی نے کہا کہ یہ مناظر ‘گاندھی نسل کے تکبر’ کی عکاسی کرتے ہیں۔ دوسری طرف کانگریس نے ایک کلپ شیئر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی ممبران پارلیمنٹ کانگریس ممبران پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بھی الزام لگایا کہ احتجاج کے دوران بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ نے انہیں دھکا دیا جس کی وجہ سے ان کا توازن بگڑ گیا اور وہ گرگئے۔ انہوں نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں گاندھی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، “لیکن وہ ہمیں دھکا دینے کے لئے قصوروار ٹھہرارہے ہیں۔”
انہوں نے بی جے پی پر خواتین سمیت اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو ’’پرامن‘‘ احتجاج کرنے اور پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل نہ ہونے دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ملک میں جو ماحول بنایا ہے اسے برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کے خلاف پورے ملک میں تحریک چلائی جا رہی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ بی جے پی ‘امریکہ میں اڈانی کے مواخذے’ کے اہم مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لیے ان پر مارپیٹ سمیت کئی الزامات لگا رہی ہے۔
انہوں نے کہا، “ہم نے امت شاہ کو استعفیٰ دینے کو کہا، لیکن ایسا نہیں ہوا اور آج جو کچھ ہوا وہ بی جے پی کے ذریعہ اڈانی معاملے سے ملک کی توجہ ہٹانے کی ایک اور کوشش ہے۔ انہوں نے امبیڈکر جی کی توہین کی ہے۔
کانگریس کے سابق صدر نے کہا، ’’انہیں اس کے لیے معافی مانگنی چاہیے اور وزیر داخلہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ ہم شروع سے
ہی کہتے آرہے ہیں کہ بی جے پی-آر ایس ایس کی سوچ ہمیشہ سے آئین مخالف اور امبیڈکر جی کے خلاف رہی ہے۔ وہ بابا صاحب امبیڈکر جی کے تعاون کو مٹانا چاہتے ہیں، انہوں نے اسے سب کے سامنے پیش کیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
ترکیہ کے صدر کو ہندوستان کی خود مختاری سے جڑے معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، ہندوستان نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کے جموں و کشمیر کے بارے میں دیے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہندوستان کی خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور اس پر کسی بیرونی فریق کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں اس بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان اس ناپسندیدہ تبصرے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، “ترکیہ کے صدر کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران جموں و کشمیر کے بارے میں ناپسندیدہ تبصرے کو ہندستان مسترد کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کی سالمیت نیز خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور کسی بیرونی فریق کو اس پر بولنے کا حق نہیں ہے۔”
رپورٹوں کے مطابق مسٹر اردگان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے کشمیر کے مسئلے سمیت تمام تنازعات کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں رکنیت کے بارے میں تمام اراکین مل کر فیصلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی رکنیت کا موضوع آتا ہے تو اراکین کو اجتماعی طور پر اس بارے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
ان سے میڈیا میں آئی ان رپورٹوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا جن میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان ترکیہ کو ایس سی او کا مکمل رکن بنانے کے حق میں نہیں ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
بحرِ ہند میں سب سے پہلے مدد کا ہاتھ بڑھانے والا ہندوستان پسندیدہ سکیورٹی پارٹنر : راج ناتھ
نئی دہلی، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان بحرِ ہند کے خطے میں آفت یا بحران کے وقت سب سے پہلے مدد کا ہاتھ بڑھانے والے نیز پسندیدہ سکیورٹی پارٹنر کا کردار ادا کر رہا ہے لیکن اسٹریٹجک صورتِ حال کے پیشِ نظر اس کی ذمہ داری بھی بڑھ رہی ہے اور بحریہ کو سمندری شعبے میں بدلتے چیلنجوں کے پیشِ نظر نگرانی اور جوابی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
مسٹر سنگھ نے منگل کے روز یہاں ہندوستانی بحریہ کے اعلیٰ کمانڈروں کی کانفرنس کے دوسرے انعقاد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی بحیرہ چین، بحیرۂ روم اور بحرِ اوقیانوس میں ہندوستانی جنگی جہازوں کی موجودگی ملک کی ‘سمندر’ میں بحری صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحریہ حکمتِ عملی کے اعتبار سے مضبوط علاقائی طاقت کے طور پر اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ سمندری شعبے میں جہازوں کی بڑھتی ہوئی بھیڑ، دھوکہ دہی اور ‘گرے-زون’ سرگرمیوں نے صورتِ حال کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے سمندری نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے اور بڑھتی ہوئی سمندری آمد و رفت کے تجزیے کی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی بحریہ ‘وکست بھارت 2047’ کے تصور میں حکمتِ عملی کی بنیاد ہے۔ بحریہ کا کردار صرف سمندری سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ معاشی سکیورٹی، علاقائی استحکام اور طاقت کے مظاہرے کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ بحریہ کو حکومت کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سمندری طاقت کا مقصد صرف سمندر میں ترنگا لہرانا نہیں، بلکہ جہاں بھی ترنگا نظر آئے وہاں سکیورٹی، بھروسے اور اعتماد کا پیغام دینا ہے۔ انہوں نے کہا، “اگر سمندر محفوظ ہیں، تو ہندوستان محفوظ ہوگا اور اگر ہندوستان محفوظ ہے، تو وکست بھارت کا عزم مزید مضبوط ہوگا”۔
وزیرِ دفاع نے مغربی ایشیا کے بحران کے دوران بحریہ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپریشن اورجا سرکشا’ کے تحت آبنائے ہرمز سے ہندوسانی پرچم والے تجارتی جہازوں، خاص طور پر ایل پی جی ٹینکروں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانا بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنے خام تیل کا تقریباً 85 سے 90 فیصد اور قدرتی گیس کا تقریباً 50 فیصد سمندری راستوں سے درآمد کرتا ہے۔ اس لیے سمندری راستوں کی سکیورٹی ملک کی معیشت، توانائی کی فراہمی اور دفاعی تیاریوں سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔
بحریہ کومقامی بنانے کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ ہندوستان جنگی جہاز سازی کا نظام اب عالمی معیار کو پورا کر رہا ہے۔ حال ہی میں کمیشن کیے گئے جنگی جہازوں میں 75 فیصد سے زیادہ دیسی سامان کا استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ہندوستان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کو جنگی جہازوں کی برآمد بھی کرنی چاہیے۔
مسٹر سنگھ نے موجودہ سال کو بحریہ کے لیے تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سال 18 جنگی جہازوں کو بحریہ کے بیڑے میں شامل کیا جا رہا ہے جو بحریہ کی تاریخ میں ایک سال میں سب سے بڑی تعداد ہے۔
انہوں نے اسے ملک کے گھریلو بحری جہاز سازی کے نظام کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا اشارہ بتایا۔
انہوں نے ‘آل رینکس، آل رولز’ کے تحت خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے بحریہ کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے فرنٹ لائن جنگی جہازوں اور طیاروں پر خواتین افسران کی تعیناتی اور ‘ناوِکا ساگر پریکرما’ میں ان کی شرکت کا بھی ذکر کیا۔
وزیرِ دفاع نے مشترکہ بحری افواج کے تحت ‘کمبائنڈ ٹاسک فورس-154’ کی کمان سنبھالنے پر بحریہ کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کوچی میں ہندوستان کی کمان کے دوران ہوئے ‘آپریشن سدرن ریڈینس’ کا بھی ذکر کیا، جس میں 27 ممالک کے 276 اہلکاروں، 76 ماہرین اور چار بین الاقوامی تنظیموں نے حصہ لیا۔
انہوں نے ‘لوکاین-26’ کے لیے آئی این ایس سدرشنی کی تعیناتی کو بھی ہندوستان کی سمندری سفارت کاری اورہندوستانی تارکینِ وطن کے ساتھ لگاؤ کے لحاظ سے اہم بتایا۔
بحریہ کے کمانڈروں کی تین روزہ کانفرنس یکم اکتوبر تک چلے گی۔ اس میں بحریہ کی اعلیٰ قیادت آپریشنل تیاریوں، سمندری سکیورٹی اور مستقبل کی صلاحیتوں کی ترقی کا جائزہ لے رہی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سیتا رمن نے دوحہ میں نیپال، سعودی عرب کے وزرائے خزانہ کے ساتھ دوطرفہ اہمیت کی حامل میٹنگیں کیں
نئی دہلی/ دوحہ، وزیرِ خزانہ محترمہ نِرملا سیتا رمن نے قطر کے اپنے دورے کے دوران نیپال کے وزیرِ خزانہ سوَرن واگلے کے ساتھ ملاقات کی ہے۔
محترمہ سیتا رمن دوحہ میں ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کی سالانہ میٹنگ کے سلسلے میں وہاں گئی ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ اس میٹنگ کے دوران محترمہ سیتا رمن نے اتوار کے روز نیپال کے وزیرِ خزانہ مسٹر واگلے کے ساتھ ایک الگ میٹنگ کی۔ دونوں وزراء نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہوئی دونوں کے درمیان دوبارہ ہوئی اس ملاقات پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے نئی دہلی میں ہوئی پچھلی میٹنگ کے دوران ہوئی بات چیت کو آگے بڑھانے کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔
میٹنگ کے دوران محترمہ سیتا رمن اور مسٹر واگلے نے نیپال میں حال ہی میں آئے تباہ کن سیلاب کے بعد بحالی اور اصلاحات کے موضوع پر نیپال کے اندازے اور ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا۔ ساتھ ہی، دونوں نے اس مشکل وقت میں ہندوستان جو بھی مدد دے سکتا ہے، اس کی باریکیوں پر کام کرنے کے لیے دونوں ممالک کی ٹیموں کے درمیان مسلسل بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزراء نے نئی دہلی میٹنگ میں شروع کیے گئے پروجیکٹوں کی پیش رفت پر بھی بات چیت کی اور مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یو ٹی آئی-این پی آئی لنکج کو جلد شروع کرنے اور استعمال کرنے پر بھی بات چیت ہوئی، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند پہل ہے۔
محترمہ سیتا رمن نے اے آئی آئی بی کے بورڈ آف گورنرز کی دوحہ کانفرنس کے دوران سعودی عرب کے وزیرِ خزانہ محمد بن عبداللہ الجدعان سے بھی ملاقات کی۔ مسٹر الجدعان نے ہندوستان کی مضبوط معاشی کارکردگی اور بہتر ہوتے سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے سیتا رمن کو مبارکباد دی اور سعودی معیشت پر اپنی رائے رکھی۔
محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ سعودی عرب ہندوستان کا قابلِ اعتماد اور اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔ ساتھ ہی، انہوں نے دفاع، سکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر، تعلیم، ثقافت اور لوگوں کے درمیان باہمی تبادلے جیسے کئی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان جامع شراکت داری کا ذکر کیا۔ دونوں وزراء نے ہند- سعودی عرب دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے (بی آئی ٹی) پر بات چیت کے کامیاب اختتام کا خیر مقدم کیا۔ اس سے دوطرفہ سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد ڈھانچہ ملے گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھے گا۔ مسٹر الجدعان نے کہا کہ سعودی عرب اس کے جلد نافذ ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورۂ سعودی عرب کے دوران ظاہر کیے گئے نقطۂ نظر کو یاد کرتے ہوئے، دونوں وزراء نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے پر تبادلۂ خیال کیا۔ مسٹر الجدعان نے ہندوستان سے سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرنے میں گہری دلچسپی دکھائی۔
محترمہ سیتا رمن نے اسی دوران سوئٹزرلینڈ کے سفیر اور اے آئی آئی بی میں اس کے نمائندے گورنر پریکشتروں لازیری سے بھی الگ سے ملاقات کی۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا7 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
