تازہ ترین
امریکہ اور ایران کے درمیان ڈرون حملے کے واقعے سے مذاکرات کے امکانات غیر واضح
قاہرہ، ایرانی مسلح افواج کے ایک ڈرون نے منگل کے روز بین الاقوامی آبی حدود میں ایک ’’معائنہ مشن‘‘ مکمل کیا، جس کے فوراً بعد امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا ہے جو ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے قریب جارحانہ انداز میں آنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ایران کا اپنے ایک ڈرون سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے، جس کی وجوہات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
فارس خبر رساں ایجنسی نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا کہ اس ڈرون نے ایران سے ملحقہ علاقوں میں فوجی سرگرمیوں کی کامیابی کے ساتھ نگرانی کی اور حقیقی وقت میں زمینی مراکز کو ڈیٹا ارسال کیا۔ رپورٹ میں ایسے مشنز کو خطے کی مجموعی نگرانی کے لیے نہایت اہم قرار دیا گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس سے قبل کہا تھا کہ بحیرۂ عرب میں امریکی ایف-35 سی جنگی طیارے کو ایرانی شاہد-139 ڈرون کو مار گرانا پڑا۔ کمانڈ کے مطابق ایرانی ڈرون نے یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جانب ’’غیر ضروری انداز میں چال بازی‘‘ کی، جب طیارہ بردار بحری جہاز ایرانی ساحل سے تقریباً 800 کلومیٹر دور بین الاقوامی آبی حدود سے گزر رہا تھا۔
امریکی بیان کے مطابق ڈرون کو اپنے دفاع میں کی گئی کارروائی کے دوران مار گرایا گیا۔ امریکی فوج نے کہا کہ اس تصادم میں نہ تو کوئی امریکی فوجی زخمی ہوا اور نہ ہی کسی ساز و سامان کو نقصان پہنچا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے عارضی امکانات پر غور کیا جا رہا تھا۔
اس سے قبل دن میں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ انہوں نے وزارتِ خارجہ کو امریکہ کے ساتھ منصفانہ اور منصف مزاج مذاکرات کرنے کی ہدایت دی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مسعود پزشکیان نے کہا کہ یہ قدم خطے کی حکومتوں کی جانب سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مذاکراتی پیشکش پر ردعمل دینے کی درخواست کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی بات چیت ’’وقار، دانائی اور مستعدی‘‘ کی حدود میں ہونی چاہیے۔
ترکی نے اس معاملے میں ثالثی کی پیشکش کی ہے، تاہم ایران مذاکرات کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی ایکسیوس نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایران مذاکرات کے مقام کے طور پر عمان کو ترجیح دیتا ہے اور عرب و مسلم ممالک پر مشتمل وسیع فارمیٹ کے بجائے امریکہ کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا خواہاں ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ آئندہ دنوں میں ہونے والے مذاکرات کے مقام کے تعین کے لیے مشاورت جاری ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق انہوں نے بتایا کہ ترکی، عمان اور کئی دیگر علاقائی ممالک نے مذاکرات کی میزبانی کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، جسے ایران نہایت اہمیت دیتا ہے۔ تاہم اس سفارتی کوشش کی اسرائیل نے مخالفت کی ہے۔
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف منگل کے روز یروشلم پہنچے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز سے ملاقات کی۔ اس دوران ان کی ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ممکنہ ملاقات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ملاقات کے بعد نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ ایران نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وعدوں کی پاسداری کے معاملے میں اس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔
اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کان کے مطابق، اسرائیلی حکام امریکہ سے ایران کے خلاف کارروائی کی مکمل آزادی کی یقین دہانی چاہتے ہیں اور تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور یورینیم افزودگی کو مکمل طور پر روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
معاملے کو مزید پیچیدہ بناتے ہوئے ایران اس وقت یورپی یونین کے ساتھ بھی ایک سفارتی تنازع کا سامنا کر رہا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتا ہے: پیٹ ہیگسیتھ
واشنگٹن، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جب تک ضرورت ہو، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے۔
مسٹر ہیگسیتھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ”امریکہ کی بحریہ اس طرح کی ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم بحری جہازوں کو اسی طرح تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے علاقے لرنو کے گوڑن علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے۔
متوفین کی شناخت بلال احمد بتانا اور فیضان احمد چاڈ کے طور پر ہوئی ہے، جو دونوں میتھنڈو کے باشندے تھے۔
زخمیوں شریف احمد بتانا اور سجاد احمد بتانا کو پی ایچ سی لرنو منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ چاروں نوجوان لہوان سے گوڑن کی طرف جا رہے تھے جب علاقے میں آسمانی بجلی گری۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
دنیا
زیلنسکی کا امریکہ سے مزید پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا مطالبہ، کہا 10 فیصد سے روسی حملے روکے جاسکتے ہیں
کیف، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکہ سے مزید پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل فروخت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نمایاں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے کیف کے پاس مطلوبہ دفاعی نظام کا صرف ایک معمولی حصہ موجود ہے۔
زیلنسکی نے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت یوکرین کے پاس امریکی ذخیرے میں موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ مقدار بڑھا کر 5 فیصد کردی جائے تو یوکرین موسم سرما گزارنے میں کامیاب ہوسکتا ہے، جبکہ 10 فیصد میزائل ملنے سے روس کی جانب سے یوکرین کو نشانہ بنانے والے تمام بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
زیلنسکی نے کہا، “اس سال ہمارے پاس 2025 کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم انٹرسیپٹرز ہیں،” اور روس اب پہلے کے مقابلے میں ہر ماہ تقریباً دوگنا بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے۔انہوں نے کہا، “اگر وہ ہمیں 5 فیصد فروخت کرسکتے ہیں تو ہم موسم سرما گزار لیں گے اور لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔ اگر وہ ہمیں 10 فیصد دیں تو ہم تمام روسی بیلسٹک میزائل تباہ کردیں گے۔ میرے پاس ایک فیصد ہے۔”
حالیہ ہفتوں میں روسی بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ کیف ان حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو تقریباً ہر رات حملوں کا سامنا ہے اور ہر ماہ کئی بڑے حملے ہورہے ہیں، جس سے شہری شدید تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی 2026 یوکرین کے شہریوں کے لیے اپریل 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ رہا۔
پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت حالیہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث بھی مزید بڑھ گئی ہے، جس کے دوران امریکہ اور خلیجی ممالک نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
زیلنسکی نے کہا کہ اضافی میزائل حاصل کرنا اب روزانہ کی ترجیح بن چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں ہر روز اسی کے لیے جیتا ہوں: ایک فیصد سے پانچ فیصد تک۔ میرے پاس کچھ مہینے ہیں اور لاکھوں فون کالز ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ مختلف اقسام کی امداد کے بدلے میزائل حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بعض معاہدوں کی تفصیلات بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی ہیں لیکن ان پر عوامی طور پر بات نہیں کی جاسکتی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان4 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا4 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا4 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
جموں و کشمیر3 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا3 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
جموں و کشمیر2 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
دنیا4 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا4 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا3 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
