تازہ ترین
امریکہ نے بغدادمیں کیسے کیا حملہ؟ کون تھے جنرل قاسم سلیمانی ؟ پڑھیں یہاں
قاسم سلیمانی نے 2018 میں اس وقت سرخیوں کی زینت بن گئے۔ جب انہوں نے اعلان کیا کہ عراق کی حکومت بنانے میں ان کا براہ راست کردار ہے۔
امریکہ نے ایک فضائی حملے میں ایران کے میجرجنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کیا ہے۔ بغداد ایئرپورٹ پرامریکی فضائی حملے میں عراقی ملیشیا کے کمانڈرابورمہدی المہندیس کی بھی موت ہوگئی ہے۔ جمعہ کی صبح امریکہ نے بغداد ایئر پورٹ پر فضائی حملہ کیا۔عراقی ملیشیا نے ایران کی حمایت کرتے ہوئے میجر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی تصدیق کردی ہے۔ انگلی میں پہنے رنگ کی وجہ سے قاسم سلیمانی کی لاش کی شناخت ہوگئی۔ عراق کی پاپولرموبلائزیشن فورس کے ترجمان احمد الا اسدی نے کہا ہے کہ مہدی المحندس اور قاسم سلیمانی فوت ہوگئے ہیں۔ اس کے پیچھے امریکہ اور اسرائیلی دشمن ذمہ دار ہیں۔
امریکہ نے کیسے کیا حملہ؟

ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کی فائل فوٹو۔(تصویر:اے ایف پی)۔
امریکی حکام نے رائٹرزکوبتایا ہے کہ بغداد میں ہوائی حملے دواہداف کو نشانہ بنا کرکیے گئے۔ یہ اہداف ایران سے متعلق ہیں۔ اس کے علاوہ ، حکام نے اب کچھ بھی انکشاف کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اسی دوران،عراقی مرکری ملٹری گروپ نے کہا ہے کہ جمعہ کے روزتین راکٹوں کے ذریعے بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فضائی حملے ہوئے۔ اس میں عراقی نیم فوجی دستہ کے 5 فوجی اور دو مہمان مارے گئے۔بتایا جارہا ہے کہ امریکی راکٹ ایئر کارگو ٹرمینل کے قریب گرگیا۔ اس کی وجہ سے ، دو ٹرینوں میں آگ لگ گئی۔ اس حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ون تھے جنرل قاسم سلیمانی ؟
جنرل قاسم سلیمانی ایران کے انقلابی محافظوں کی غیرملکی فوج کے سربراہ تھے۔ شام اور عراق کی جنگ میں ان کا اہم کرداررہا۔ وہ شام اورعراق میں بھی ایران کی نمائندگی کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات کرتے تھے اورکئی حملوں کے لیے منصوبہ بھی تیارکرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔خلیجی ممالک میں ایران کے بارے میں موثرنظریہ بنانےاورایران کے ساتھ ان ممالک کودوستانہ تعلقات کے لیے راہموارکرنے میں قاسم سلیمانی کا بڑا کرداررہتاتھا۔ اسی وجہ سے وہ امریکہ ، اسرائیل ، سعودی عرب اور تہران کے مقامی دشمنوں کے نشانے پرتھے۔ امریکہ کی نظرہمیشہ جنرل قاسم سلیمانی پرتھی۔
قاسم سلیمانی نے 2018 میں اس وقت سرخیوں کی زینت بن گئے۔ جب انہوں نے اعلان کیا کہ عراق کی حکومت بنانے میں ان کا براہ راست کردار ہے۔ سلیمانی بیشترموقعوں پربغداد جایاکرتے تھے، وہ گزشتہ ماہ بھی یہاں آئے تھے ، جب پارٹیاں یہاں حکومت بنانے کی سمت میں مصروف تھیں۔
حال ہی میں، قاسم سلیمانی ایران میں ایک مشہور شخصیات کی طرح مقبول ہوئے تھے۔ انسٹاگرام پران کی ایک بہت بڑی فین فالوونگ تھی۔ ان کے مداحوں میں اضافہ ہونے لگاہے جب سے انہوں نے 2013 میں شام کے تنازعہ میں ایران کے کردارکوقبول کیاتھا اورانسٹاگرام پر شام میں جاری تنازعہ کی تصاویر اوردستاویزی فلمیں پوسٹ کرنا شروع کیں۔ قاسم سلیمانی کومیوزک ویڈیو اورمتحرک فلموں میں دکھایاگیاہے۔
ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کی فائل فوٹو۔(تصویر:اے ایف پی)۔ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کی فائل فوٹو۔(تصویر:اے ایف پی)۔
قاسم سلیمانی اپنے دوستوں کے ساتھ ساتھ دشمنوں میں بھی مقبول ہوئے۔ ایران کے آس پاس کے ممالک میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے میں قاسم سلیمانی کا اہم کردار تھا۔ جہادی افواج کے ساتھ جنگ کے ساتھ ساتھ عراق اور شام کے ساتھ بہتر سفارتی تعلقات میں قاسم سلیمانی نے بڑا کردار ادا کیا۔ سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار نے انہیں ایران کا جیمز بانڈ قراردیاتھا۔
سی آئی اے کے مطابق ، قاسم سلیمانی مغربی ممالک میں اسلامی انقلاب لانے کی کوشش کررہےتھے،وہ دہشت گردوں کی حمایت کررہے تھے اور مغربی ممالک کی حکومتوں کوغیرمستحکم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔عام ایرانی باشندوں میں قاسم سلیمانی، بہت مقبول تھے۔عوام کا ایک طبقہ چاہتا تھا کہ سلیمانی ملک کی سیاست میں حصہ لیں۔ تاہم انہوں نے اس کی تردید کی کہ وہ ایران کے صدر بننے کی دوڑ میں ہیں۔
2018 میں، ایران کے مقبول رہنماؤں کے بارے میں ایک سروے کیا گیا تھا۔ اس سروے میں ، لوگوں نے قاسم سلیمانی کو83 فیصد ووٹ دیئے تھے۔ سلیمانی نے صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔گذشتہ دو دہائیوں میں قاسم سلیمانی پر کئی مہلک حملے ہوئے ہیں۔ ان حملوں کے پیچھے امریکہ اور مغربی ممالک کا ہاتھ تھا۔ قاسم سلیمانی امریکہ کے ساتھ ساتھ مغرب اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں کے ریڈارپرتھے۔
ایرانی فوج کی فائل فوٹوایرانی فوج کی فائل فوٹو
قاسم سلیمانی کی ذمہ داری کیا تھی ؟
قاسم سلیمانی ایران کی غیرملکی فوج کے سربراہ تھے۔ ان کی ذمہ داری ایران کی سرحد سے باہر کام کرنے کی تھی۔ وہ ایران کے مفادات کے پیش نظر بیرون ملک کے آپریشنس میں مصروف رہتے تھے۔ سن 2011 کی خانہ جنگی میں شکست کے قریب تھے توقاسم سلیمانی نے شام کے صدر بشارالاسد کی حمایت کی تھی۔ قاسم سلیمانی نے عراق میں باغی گروپوں کی بھی مدد کی۔ قاسم سلیمانی سن 1998 میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ بن گئے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی پوزیشن کو کم پروفائل پربرقراررکھا۔ اپنے دورحکومت میں ، انہوں نے ایرانی فوج کو مضبوط کیا۔ قاسم سلیمانی نے لبنان کے حزب اللہ ، شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت اور عراق میں شیعہ ملیشیا گروپ کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھے تھے۔
قاسم سلیمانی کی موت کے بعد اب کیا ہوگا؟
امریکی فضائی حملے میں قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ، امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی مزید بڑھ جائے گی۔ امریکہ نے بھی اس بارے میں انتباہ جاری کیا ہے۔ امریکہ نے پاکستان جانے والے ہوائی راستے سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے کہ اس راستے پر فضائی راستوں کو دہشت گرد نشانہ بناسکتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قاسم سلیمانی کی موت پر امریکی پرچم کو ٹویٹ کیا ہے۔ اسے امریکہ کے لئے بڑی خبرقراردیاجارہا ہے۔(نیوز 18 اردو)
جموں و کشمیر
لداخ میں زلزلے کے دو مسلسل ہلکے جھٹکے محسوس کیے گئے، کشمیر تک لرزش محسوس ہوئی
سری نگر، مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں جمعرات کی صبح چار گھنٹے کے اندر زلزلے کے دو جھٹکے محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت بالترتیب 5.5 اور 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق زلزلے کا پہلا جھٹکا صبح 6 بج کر 5 منٹ پر محسوس کیا گیا، جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.5 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز لیہہ-لداخ کے علاقے میں 36.881 ڈگری شمالی عرض البلد اور 74.402 ڈگری مشرقی طول البلد پر زمین کی سطح سے 10 کلومیٹر کی گہرائی میں واقع تھا۔
اس کے تقریباً چار گھنٹے بعد، صبح 9 بج کر 54 منٹ پر دوسرا جھٹکا محسوس کیا گیا۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی۔
ان دونوں زلزلوں کے جھٹکے کشمیر اور لداخ کے مختلف علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ فی الحال اس واقعے میں کسی بھی قسم کے جانی یا مالی نقصان یا کسی کے ہلاک و زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
کولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
بگوٹا، کولمبیا نے پیر کے روز آنے والے 7.4 شدت کے تباہ کن زلزلے کے متاثرین کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 265 ہو گئی ہے، جب کہ کم از کم 3,494 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 496 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے اعلان کیا ہے کہ تمام سرکاری عمارتوں اور سفارتی مشنز پر قومی پرچم سرنگوں رہیں گے۔
پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 07:34 بجے چوکو صوبے کے شہر سان ہوزے ڈیل پلمار کے قریب 107 کلومیٹر کی گہرائی میں آنے والا یہ زلزلہ، گزشتہ ایک صدی کے دوران کولمبیا میں آنے والا سب سے مہلک زلزلہ بن گیا ہے۔
ایمرجنسی ٹیموں نے پریرا اور کالی جیسے بڑے شہروں میں بھاری مشینری، کھوجی کتوں اور انسانی زنجیروں کا استعمال کرتے ہوئے دن رات کام کیا۔
ڈی لا ایسپریلا نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں۔”
نیشنل یونٹ فار ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ (یو این جی آر ڈی) کی جانب سے جاری کردہ نقصانات کی تشخیصی رپورٹ کے مطابق، زلزلے میں 9,215 مکانات تباہ اور 45,457 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کی وجہ سے ملک میں قومی سطح پر آفت (ڈیزاسٹر) کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
یو این جی آر ڈی کے ڈائریکٹر ڈیوڈ سانتیاگو تامایو نے سخت آپریشنل معیارات کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت چار شراکت دار ممالک: امریکہ، اسرائیل، ایکواڈور اور ایل سلواڈور سے آنے والی تکنیکی ریسکیو ٹیموں کو ترجیح دے گی۔
زلزلے کے اثرات مرکزِ زلزلہ کے قریب دیہی علاقوں میں انتہائی شدید تھے۔
مقامی ایمرجنسی یونٹس نے ویلے ڈیل کاؤکا کے شہر ال کائرو میں رپورٹ کیا ہے کہ وہاں کے شہری انفراسٹرکچر کا 80 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے اور مقامی عمارتوں کا تقریباً 10 فیصد حصہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
مسقط، عمان کے ماحولیاتی حکام نے کہا ہے کہ تباہ حال آئل ٹینکر کیرولین بیزینگی سے خارج ہونے والا خام تیل ملک کے ساحل تک پہنچ گیا ہے، جس سے مرکزی ساحلی علاقے میں 40 کلومیٹر تک ساحلی پٹی آلودہ ہو گئی ہے۔
عمان کی ماحولیاتی اتھارٹی کے مطابق جون میں عمان کے ساحل کے قریب پھنسنے کے بعد سے خام تیل خارج کرنے والے ٹینکر کا تیل راس مدرکہ کے ساحلوں تک پہنچ گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ تیل کے مسیرہ جزیرے کے جنوبی ساحل تک بھی پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یہ جزیرہ عمان کے ساحل سے تقریباً 15 کلومیٹر دور ہے اور وہاں مزید 10 سے 20 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر ہو سکتی ہے۔
ماحولیاتی اتھارٹی نے کہا کہ خصوصی ٹیمیں آلودگی کی نگرانی، صورتحال کا جائزہ لینے اور تیل کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترجیح ان علاقوں کو دی جا رہی ہے جو ماحولیاتی اعتبار سے زیادہ حساس ہیں۔
عمانی حکام کے مطابق اس ہفتے کے آغاز تک تیل کا پھیلاؤ تقریباً 400 مربع کلومیٹر تک پہنچ چکا تھا، جبکہ تیل کا زیادہ ارتکاز ہالانیات جزائر کے اطراف میں ہے۔ یہ علاقہ سمندری حیات کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے میرین ریزرو کا حصہ ہے، جہاں سمندری کچھوؤں اور دیگر آبی حیات کے مسکن موجود ہیں۔
تاہم ماحولیاتی تنظیم گرین پیس سمیت بعض اداروں کا کہنا ہے کہ تیل کا پھیلاؤ عمانی حکام کے اندازے سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ گرین پیس نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ایک غیر معمولی ماحولیاتی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
کیرولین بیزینگی 8 جون کو عمان کے ال ہالانیات جزائر کے قریب ناکارہ ہو گیا تھا، جب عملے نے ممکنہ دھماکے کی اطلاع دی تھی۔ واقعے کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔
مغربی حکومتوں کے مطابق یہ ٹینکر روس کے اس نام نہاد شیڈو فلیٹ کا حصہ تھا جس کے ذریعے روسی تیل کی نقل و حمل کی جاتی ہے۔ روس کے یوکرین پر 2022 کے حملے کے بعد اس کے تیل پر متعدد پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
2001 میں تعمیر کیا گیا یہ ٹینکر اس وقت یورپی یونین، برطانیہ، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا اور یوکرین کی پابندیوں کی زد میں ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹینکر میں موجود تقریباً 8 لاکھ بیرل خام تیل کا اخراج ایک بڑے پیمانے کی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن سکتا ہے۔ لوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی کے تیل کے اخراج کے ماہر کرسٹوفر ڈیلیا نے اسے ایک خاصا بڑا تیل کا اخراج قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے غیر قانونی یا پابندیوں سے بچنے والے ٹینکروں کے معاملے میں صفائی کے اخراجات کی ذمہ داری طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس سے آلودگی کی صورت میں متاثرہ علاقوں کی صفائی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا3 days agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا3 days agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان3 days agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا2 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا3 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا2 days agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 days agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
ہندوستان2 days agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر2 days agoیومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
-
دنیا3 days agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
