اہم خبریں
امریکہ کو طالبان کی پیش قدمی پر تشویش، القاعدہ و داعش کے ابھرنے کا بھی خدشہ
ویب ڈیسک —
امریکہ نے افغانستان کی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وقت افغان فورسز کے آگے بڑھ کر اپنے ملک کا دفاع کرنے کا ہے۔
امریکہ کے محکمۂ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے اتوار کو ‘فاکس نیوز’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ افغانستان کی صورتِ حال کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ یہ وقت افغان فورسز کی ذمہ داری لینے کا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب طالبان افغانستان کے زیادہ سے زیادہ علاقوں پر کنٹرول حاصل کر رہے ہیں جب کہ دوسری جانب امریکی افواج صدر جو بائیڈن کی انخلا کی پالیسی کے تحت تیزی سے وطن واپس لوٹ رہی ہیں۔
صدر جو بائیڈن کی جانب سے امریکی فوجیوں کے افغانستان سے 31 اگست تک انخلا کے اعلان کے بعد افغانستان کی صورتِ حال تیزی سے غیر یقینی کا شکار ہو رہی ہے۔
طالبان حملہ آوروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کا تقریباً 85 فی صد علاقہ ان کے کنٹرول میں ہے۔ اس دعوے میں مبالغہ آرائی کا امکان ہو سکتا ہے تاہم پینٹاگون کے ترجمان نے اس بات کو مسترد نہیں کیا کہ ایک کروڑ 30 لاکھ افغان شہری طالبان کے کنٹرول میں رہ رہے ہیں۔ ایک کروڑ افغان شہری حکومت کے کنٹرول والے علاقے میں آباد ہیں جب کہ 90 لاکھ ایسے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جن کے کنٹرول کے لیے کشمکش جاری ہے۔
جان کربی نے کہا کہ امریکی افواج کے انخلا کے باوجود امریکی کمانڈرز اس قابل ہوں گے کہ وہ دیگر ممالک میں موجود اپنے اڈوں پر رہتے ہوئے افغان فورسز کو مشاورت فراہم کر سکیں۔ تاہم امریکہ اور نیٹو افواج کا زیادہ تر حصہ پہلے ہی افغانستان سے انخلا مکمل کر چکا ہے اور انخلا کا یہ عمل اگست کے آخر میں مکمل ہو گا۔
صدر بائیڈن نے گزشتہ ہفتے افغانستان سے انخلا کے اپنے فیصلے کا ایسے میں دفاع کیا تھا جب طالبان وہاں پیش قدمی کر رہے ہیں۔
بائیڈں کا کہنا تھا “ہم افغانستان اس لیے نہیں گئے تھے کہ وہاں قوم کی تعمیر کر سکیں۔ یہ افغانستان کے لوگوں کا حق اور فرض ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں کہ وہ اپنا ملک کس طرح چلانا چاہتے ہیں۔”
القاعدہ اور داعش خراساں جیسے گروہوں کے دوبارہ منظم ہونے کا خدشہ
وائس آف امریکہ کے سینئر نمائندے جیف سیلڈن نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکہ اور اتحادی افواج افغانستان سے انخلا مکمل کر رہی ہیں جب کہ مغربی عہدیدار دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یہ خطرات اس امکان کے پیشِ نظر ہیں کہ القاعدہ اور داعش جیسی عسکریت پسند تنظیمیں افغانستان میں دوبارہ منظم ہو سکتی ہیں۔
امریکہ کے عہدیدار کھلے عام اور پس پردہ رہتے ہوئے بتا چکے ہیں کہ مذکورہ دونوں دہشت گرد گروپ اپنا اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ ان کے بقول القاعدہ کے اب بھی سیکڑوں جنگجو افغانستان بھر میں موجود ہیں جب کہ داعش کے افغانستان کے اندر اتحادی گروپ اسلامک اسٹیٹ خراساں کی عددی قوت اس سے تھوڑی زیادہ ہے۔
داعش۔خراساں نے متعدد بڑے حملوں، بالخصوص شہری علاقوں میں بڑی کارروائیوں کی ذمہ داریوں کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن انٹیلی جنس اور انسانی امداد کے اداروں سے وابستہ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس کے کم امکانات ہیں کہ دونوں گروپ کوئی کارروائی کریں اور اپنے آپ کو افغانستان سے باہر سے اڑان بھرنے والے امریکی بمبار طیاروں یا ڈرون حملوں کا آسان ہدف بنوائیں۔
انسداد دہشت گردی کے ایک مغربی عہدیدار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ غالباً مستقبل میں اپنی قسمت طالبان کے ساتھ جوڑ سکتی ہے۔
عہدیدار نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر مزید بتایا کہ القاعدہ طالبان کو دوبارہ یقین دہانی کرانا چاہتی ہے وہ انہیں شرمسار نہیں کرے گی۔ ان کے بقول القاعدہ کے کمانڈرز افغانستان کو ایک ایسی جگہ کے طور پر پاس رکھنا چاہتے ہیں جہاں بیٹھ کر وہ نئے لوگوں کو اپنے گروپ میں بھرتی کر سکیں اور ان کی تربیت کر سکیں۔
اسلامک اسٹیٹ خراساں، جس کے پاس اس وقت افغانستان کے اندر کوئی علاقہ موجود نہیں، جیف سیلڈن کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے اندر اپنی بحالی کے لیے بنیادیں رکھ رہی ہے۔
انسداد دہشت گردی کے عہدیدار نے کہا کہ “داعش خراساں ختم نہیں ہوئی۔ یہ ایک ایسی تنظیم ہے جو حالیہ مشکلات کے باوجود دوبارہ طاقت حاصل کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ آپ کچھ خاص حالات دیکھ رہے ہیں جن میں داعش خراساں زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے، مزید جنگجوؤں کو اپنی جانب راغب کر سکتی ہے اور اپنی کارروائیوں کے لیے زیادہ آزادی حاصل کر سکتی ہے۔”
خطے کے حالات پر نظر رکھنے والوں نے خبردار کیا ہے کہ داعش خراساں نے افغانستان سے باہر بھی دیکھنا شروع کر دیا ہے اور وہ قازقستان، کرغزستان اور تاجکستان کے کچھ حصوں میں پاؤں جمانے کی کوشش کر رہی ہے۔
وسط ایشیا میں ایک عہدیدار نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ داعش خراساں کی توجہ زیادہ خوبیوں کے حامل ارکان کی تعداد پر ہے۔ وہ بھرتیوں، لاجسٹکس، معاشی مدد، معاشی ڈھانچے کے لیے مقامی سطح پر نظام قائم کر رہی ہے۔
امریکہ اور وسط ایشیائی ممالک کے عہدیدار بھی اسی طرح کی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
پینٹاگون نے رواں برس اپریل میں ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں داعش خراساں میں توسیع کو اپنی سب سے بڑی تشویش بتایا تھا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس بھی اس چیز کو دیکھتے ہوئے تشویش ظاہر کرتی ہے کہ داعش خراساں نے تاریخی طور پر وسط ایشیائی ممالک میں بھرتی ہونے والوں کو اپنی جانب راغب کیا ہے۔
ازبکستان کے امریکہ کے لیے سفیر جاولان واخابوف نے ازبک سروس کے ساتھ گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک بارڈر سیکیورٹی پر امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہش مند ہے اور اس کی نظر داعش خراساں کے پھیلاؤ پر ہے۔
دوسری جانب روس جیسے ملک خبردار کر رہے ہیں کہ افغانستان کے اندر داعش کے اراکین اپنی فورسز پر توجہ دے رہے ہیں۔
روس کے وزیرخارجہ سر گئی لاروف نے گزشتہ ہفتے ‘طاس’ نامی خبر رساں ادارے کو بتایا تھا داعش زیادہ تر شمالی افغانستان میں متحرک انداز میں علاقے حاصل کر رہی ہے۔
متعدد ایجنسیز اور تنظیموں کے عہدیدار وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں اس طرح کے دعووں سے قائل نظر نہیں آتے۔ ان کا استدلال ہے کہ یہ ‘بلف’ یعنی دھوکہ دہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان کے اندر دہشت گرد گروہوں القاعدہ اور داعش خراساں کا انحصار طالبان پر ہو گا جن کے کنٹرول والے اضلاع میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 days agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر7 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا11 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان9 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
دنیا7 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا7 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا11 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا11 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
