تازہ ترین
انتظامیہ میں بھاری پیمانے پر تبادلے اور تقرریاں،ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری ڈی سی سرینگر تعینات
خبراردو:
ریاستی حکومت نے منگلوار کو تازہ حکم نامہ جاری کرتے ہوئے انتظامیہ میں کئی اہم تبادلے اور تقرریاں عمل میں لائی ہے۔انتظامی اُمور سے متعلق جنرل ایڈمنسٹریشن محکمہ کی طرف سے جاری آرڈر نمبر 234-GAD-2019کے مطابق 2009آئی اے ایس کیڈر ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری کو تبدیل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سرینگرمقرر کیا ہے۔ آئی اے ایس 2010کے کمار راجیو رنجن جوفی الوقت ڈائریکٹر ایئریا پلاننگ و اسپیشل سیکرٹری برائے حکومت تھے، کو تبدیل کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف ایکزکیوٹیو آفیسر جموں تعینات کیا گیا۔ حکم نامے کے مطابق راجیو رنجن اس کے علاوہ ایم ڈی ، چیف ایکزکیوٹیو آفیسر ، ماس ریپڈ ٹرانزٹ کارپوریشن کا چارج بھی سنبھالیں گے۔
اسی طرح ڈپٹی کمشنر سرینگر سید عابد رشید شاہ کو سرینگر سے تبدیل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر پلوامہ تعینات کردیا گیا۔سال 2012کے آئی اے ایس آفیسر رویندر کمار جو کہ ڈپٹی کمشنر اُدھم پور کے منصب پر تعینات تھے، کو تبدیل کرتے ہوئے منیجنگ ڈائریکٹر جے اینڈ کے آئی ٹی انفراسٹریکچر کمپنی تعینات کردیا گیا۔ موصوف منیجنگ ڈائریکٹر سڈکو کا چارج بھی بدستور سنبھالیں گے۔حکم نامے کے مطابق 2012کے آئی اے ایس آفیسرڈاکٹر پیوش سنگلا کو ڈپٹی کمشنر گاندربل کے عہدے سے تبدیل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کٹھوعہ تعینات کیا گیا۔
سال 2013کے آئی اے ایس آفیسر وکاس کنڈل کو ڈپٹی کمشنر کرگل کے عہدے سے تبدیل کیا گیا اور انہیں ایڈیشنل چیف ایکزکیوٹیو آفیسر میٹروپالیٹن ریگولیٹری اتھارٹی سرینگر تعینات کردیا گیا۔ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ انشل گارگھ کو تبدیل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کپوارہ مقرر کیا گیا۔سال 2014کے آئی اے ایس آفیسر ڈوفوڈ ساگر کو ڈپٹی کمشنر ریاسی سے تبدیل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ تعینات کردیا گیا۔اسی طرح سال 2015کے آئی اے ایس آفیسر بصیر الحق چودھری جو کہ فی الوقت سب ڈیوژنل مجسٹریٹ اوری کے عہدے پر تعینات تھے کوترقی دے کر سینئر ٹائم اسکیل آئی اے ایس کے زمرے میں لاکر ڈپٹی کمشنر کرگل تعینات کیا گیا۔اسی طرح سچن کمار ویشے کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لیہہ، ہشمت علی خان کو ڈپٹی کمشنر گاندربل کے عہدے پر تعینات کردیا گیا۔
حکم نامے کے مطابق ڈائریکٹر اُمور صارفین جموں امت شرما کو تبدیل کرتے ہوئے محکمہ ٹرانسپورٹ میں حکومت کے خصوصی سیکرٹری کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ڈائریکٹر انڈسٹریز اینڈ کامرس کشمیر بلال احمد بٹ کو تبدیل کرتے ہوئے ڈیپوٹیشن پر اسٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر تعینات کردیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر کٹھوعہ روہت کھجوریہ کو تبدیل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اُدھم پور تعینات کیا گیا۔اسی طرح مشن ڈائریکٹر آئی سی ڈی ایس ویر جی ہنگلو کو اپنے منصب سے تبدیل کرتے ہوئے ڈائریکٹر اربن لوکل باڈیز جموں تعینات کردیا گیا۔ جنرل ایڈمنسٹریٹو محکمہ کی طرف سے تازہ حکم نامے کے مطابق ڈی سی بارہمولہ ڈاکٹر نصیر احمد نقاش کو تبدیل کرکے ڈائریکٹر ائریا پلاننگ اور اسپیشل سیکرٹری کے عہدے پر تعینات کردیا گیا ہے۔کے ایے ایس آفیسر شبنم کاملی کو اسپیشل سیکرٹری کے عہدے سے تبدیل کرتے ہوئے مشن ڈائریکٹر آئی سی ڈی ایس کے عہدے پر تعینات کردیا گیا ہے۔
ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کشمیر ڈاکٹر غلام نبی ایتو کو ڈپٹی کمشنر بارہمولہ، کے اے ایس آفیسر لیناپاڑا کو ڈائریکٹر رورل سینیٹیشن ، راجندر سنگھ تارا کو جوائنٹ فائنانشل کمشنر ریونیو ،گلزار احمد ڈار کو ڈائریکٹر محکمہ اطلاعات جموں وکشمیر کے عہدوں پر تعینات کیا گیا۔
ڈائریکٹر کمانڈ ایریا ڈیولپمنٹ جموں جتندر سنگھ کو تبدیل کرکے ڈائریکٹر محکمہ امور صارفین جموں تعینات کیا گیا۔ ڈائریکٹر انفارمیشن طارق احمد زرگر کو تبدیل کرتے ہوئے انہیں ڈائریکٹر تواضع و پروٹوکول تعینات کیا گیا۔نئے حکم نامے کے مطابق ڈپٹی کمشنر پلوامہ غلام محمد ڈار کو تبدیل کرتے ہوئے کمشنر لینڈ ریکارڈ برائے جموں وکشمیر تعینات کیا گیا۔
اسی طرح منیجنگ ڈائریکٹر روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن منموہن سنگھ کو واپس بلاکر ڈائریکٹر کمانڈر ایریا ڈیولپمنٹ جموں کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ریاض احمد وانی جو فی الوقت سیکرٹری برائے آبی ذخائر ریگولیٹری اتھارتی کے عہدے پر تعینات تھے کو اپنے منصب سے تبدیل کرتے ہوئے ڈائریکٹر سیری کلچر کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔
خالد جہانگیر ڈپٹی کمشنر کپوارہ کو تبدیل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اننت ناگ مقرر کیا گیا۔ اسی طرح محمود احمد شاہ کو ڈائریکٹر انڈسٹریز اینڈ کامرس کشمیر، شاہباز مرزا کو ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ، محمد یونس ملک کو ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کشمیر، متھورہ معصوم کو ایڈیشنل ڈائریکٹر سکمز، اندو کنول چب کو ڈپٹی کمشنر ریاسی، عبدالحفیظ شاہ کو ڈائریکٹر فلوری کلچر اور سیرنگ متپ کو سب ڈیوژنل مجسٹریٹ کھالسی تعینات کیا گیا ہے
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
