تازہ ترین
اٹلی میں لاکھوں مزدور کام پر واپس، اسپین میں ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت
گزشتہ نصف سال سے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والی کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے برقرار کے باوجود متعدد ممالک نے لاک ڈاؤن میں مزید نرمیاں کردیں۔
کورونا وائرس کا آغاز دسمبر 2019 میں ہوا تھا اور تب سے لے کر 5 مئی 2020 تک یہ وبا دنیا کے 190 کے قریب ممالک کے 35 لاکھ 80 ہزار سے زائد انسانوں کو متاثر جب کہ ڈھائی لاکھ انسانوں کی زندگی کو ختم کر چکی تھی۔
اگرچہ کورونا وائرس کی شدت میں کمی ضرور ہوئی ہے تاہم دنیا بھر میں اب بھی اس کا پھیلاؤ جاری ہے اور اس کے پھیلاؤ کے باوجود اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک نے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن میں مزید نرمیاں کردیں۔
دنیا کے بیشتر ممالک میں گزشتہ تقریبا 3 ماہ سے زندگی مفلوج ہے، تاہم اپریل کے وسط میں ہی متعدد ممالک نے لاک ڈاؤن میں نرمیاں کرنا شروع کردی تھیں۔
اپریل کے وسط میں لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے والے ممالک میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک اٹلی اور اسپین بھی شامل تھے اور اب مذکورہ دونوں ممالک نے لاک ڈاؤن میں مزید نرمیاں کردیں۔
اٹلی میں 45 لاکھ لوگ کام پر واپس
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اٹلی نے کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں میں مزید کمی ہونے کے بعد 4 مئی کو لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کردی۔
اٹلی کی حکومت نے 4 مئی سے کم از کم 45 لاکھ مزدوروں اور ملازمین کو کام پر واپس جانے کی اجازت دی اور گزشتہ ڈھائی ماہ میں پہلی بار بیک وقت اتنی بڑی تعداد میں ملازمین کام کے لیے نکلے۔
اٹلی میں 5 مئی تک کورونا وائرس سے امریکا کے بعد سب سے زیادہ 29 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوچکی تھیں اور 3 مئی کو بھی وہاں 170 کے قریب ہلاکتیں ہوئیں، تاہم اس باوجود حکومت نے 4 مئی کو لاک ڈاؤن کو نرم کرتے ہوئے جہاں ملازمین و مزدوروں کو کام پر جانے کی اجازت دی، وہیں حکومت نے دیگر سختیوں میں بھی نرمیاں کردیں۔
اٹلی میں 4 مئی سے لوگوں کو ورزش کے لیے بھی جانے کی اجازت دے دی گئی اور دیگر ضروری کام سے بھی لوگوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت دے گئی، ساتھ ہی متعدد غیر ضروری اشیا والے کاروباروں کو بھی کھول دیا گیا۔
محدود پیمانے پر پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی چلانے کی اجازت دے دی گئی، تاہم اب بھی وہاں پر تعلیمی، تفریحی و مذہبی مقامات کو بند رکھا گیا ہے، جب کہ کسی بھی جگہ مجمع لگانے کی اجازت نہیں ہے۔
حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کو نرم کیے جانے کے بعد ہی پولیس کی پیٹرولنگ بڑھا دی گئی اور جگہ جگہ اضافی نفری کو تعینات کیا گیا۔
اٹلی میں 5 مئی کی دوپہر تک کورونا کے مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 12 ہزار کے قریب جب کہ ہلاکتیں 29 ہزار سے زائد ہوچکی تھیں
اسپین میں پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت
کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دوسرے ملک اسپین نے بھی اگرچہ اپریل کے وسط میں کیسز اور اموات میں کمی کے بعد لاک ڈاؤن کو نرم کردیا تھا، تاہم اب وہاں بھی مزید نرمیاں کردی گئیں۔
برطانوی نشریاتی دارے بی بی سی کے مطابق اسپین میں بھی 4 مئی کو لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کرتے ہوئے لوگوں کو ٹہلنے اور ورزش کے لیے باہر نکلنے کی اجازت بھی دے دی گئی اور پہلے ہی دن سڑکوں پر لوگوں کا رش دیکھا گیا۔
اسپین میں فیس ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا جب کہ محدود پیمانے پر سخت حفاظتی اقدامات کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی چلانے کی اجازت دے دی گئی۔
اسپین میں گزشتہ ہفتے ڈیڑھ ماہ بعد پہلی بار بچوں کو کھیلنے اور باہر نکلنے کی اجازت دی گئی اور اس سے قبل ہی اپریل کے وسط میں 40 لاکھ سے زائد مزدوروں اور ملازمین کو کام پر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
لاک ڈاؤن میں 4 مئی کو مزید نرمی کیے جانے کے بعد کئی چھوٹے کاروبار کھول دیے گئے جس کے بعد لاکھوں لوگ ڈھائی ماہ بعد پہلی بار باہر نکلے، لوگوں نے خریداری کی اور کچھ لوگ کام پر واپس آئے۔
اسپین میں 5 مئی کی دوپہر تک کورونا سے متاثر افراد کی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 18 ہزار سے زائد جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 25 ہزار سے زائد ہو چکی تھی۔
امریکا میں بھی لاک ڈاؤن نرم
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اگرچہ امریکا میں کورونا وائرس کے کیسز اب بھی بہت بڑی تعداد میں سامنے آ رہے ہیں اور وہاں ہلاکتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، تاہم گزشتہ ہفتے سے وہاں ہلاکتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور مئی کے پہلے ہفتے میں ایک ماہ بعد وہاں سب سے کم اموات ریکارڈ ہوئیں۔
نئے کیسز میں کمی کے بعد امریکا کی بھی متعدد ریاستوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کردی گئی، ریاست اوہائیو اور نیویارک سمیت دیگر ریاستوں نے نئے ہفتے کے آغاز سے ہی کم کاروباروں کو کھولنے کی اجازت دے دی۔
کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ امریکی ریاست نیویارک کے گورنر نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ آئندہ ہفتے سے لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کرکے صنعتوں اور چھوٹے کاروباروں کو کھولنے کی اجازت دی گئی جائے۔
دوسری جانب متعدد امریکی ماہرین اور اداروں کے نئے اندازوں کے مطابق اگر امریکا میں کورونا سے ہلاکتوں کی رفتار یوں ہی برقرار رہی تو اگست کے پہلے ہفتے تک وہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ 34 ہزار تک جا پہنچے گی۔
امریکا میں 5 مئی کی دوپہر تک کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 11 لاکھ 80 ہزار سے زائد جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 69 ہزار کے قریب جا پہنچی تھی۔
ایک درجن ممالک میں لاک ڈاؤن نرم
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مئی کے شروع ہوتے ہی دنیا کے متعدد ممالک نے کورونا کے کیسز بڑھنے کے باوجود لاک ڈاؤن میں نرمیاں کرنا شروع کردیں اور کئی کاروبار ڈھائی ماہ بعد کھلنے لگے۔
کورونا سے متاثرہ سب سے بڑے ممالک امریکا، اٹلی اور اسپین کی طرح دیگر ممالک نے بھی مئی کے پہلے ہفتے میں لاک ڈاؤن میں نرمیاں کرنا شروع کردیں۔
یورپی ملک بیلجیم، فن لینڈ، پرتگال، نائیجریا، ملائیشیا، انڈیا، اسرائیل، تھائی لینڈ اور لبنان جیسے ممالک نے بھی نئے ہفتے کے آغاز پر لاک ڈاؤن میں مزید نرمیاں کیں۔
اس سے قبل ماہ رمضان کے شروع ہونے پر سعودی عرب، پاکستان، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ترکی اور مصر سمیت دنیا کے بیشر مسلم ممالک نے لاک ڈاؤن میں نرمی کردی تھی۔
دنیا
یوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام پر روسی حملے تیز، کراماتورسک میں مزید ہلاکتیں
کیف، یوکرین کے مشرقی شہر کراماتورسک میں جمعرات کی صبح روسی گلائیڈ بم کے دو مسافر بسوں پر حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ علاقائی حکام نے یہ اطلاع دی۔
یوکرینی حکام نے حملے کو دانستہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، روسی علاقے میں موجود طیاروں سے گرائے جانے والے گلائیڈ بم زمین پر پہلے سے مقررہ مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس حملے میں شہر کی ایک سڑک کو نشانہ بنایا گیا، جو محاذِ جنگ سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ وادیم فیلاشکن نے ٹیلی گرام پر لکھا، ”روسی جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے لیے مسافروں سے بھری بس ایک پُرکشش ہدف ہے، کیونکہ ایک ہی حملے میں زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ روس جنگ کے تمام قابلِ تصور اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے ضابطوں کو نظرانداز کر رہا ہے اور ایسے اہداف منتخب کر رہا ہے جہاں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
فیلاشکن نے روسی حملوں میں شدت کے پیش نظر کراماتورسک اور پڑوسی شہر سلوویانسک میں تمام عوامی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
روس اب یوکرین کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، بشمول ٹرینوں، منی بسوں، پیٹرول پمپوں، پلوں، سمندری بندرگاہوں اور مال بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ملک کا ٹرانسپورٹ نظام مفلوج ہو رہا ہے۔
کیف میں قائم تھنک ٹینک پینٹا کے سربراہ وولودیمیر فیسینکو نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ روس کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ پہلے اس کی توجہ یوکرین کی بجلی کی فراہمی اور حرارتی نظام کو بند کرنے پر تھی، لیکن اب اس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو بھی ناکارہ بنانا اور نقل و حمل کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنوں اور پیٹرول پمپوں پر حملوں سے روسی حکمت عملی کو کسی حد تک کامیابی مل رہی ہے اور وہ اپنی شرائط پر یوکرین کو امن کے لیے مجبور کرنا چاہتا ہے۔ان کے مطابق، ان حملوں کا مقصد عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا اور ان کے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا بھی ہے۔
روس نے جنگ کے دوران مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، تاہم یوکرینی عوام کے لیے یہ دعوے بے معنی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 15,280 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہے۔
2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے بعد یوکرین کی فضائی حدود میں شہری طیاروں کی پروازیں بند ہیں۔ ایسے میں ٹرینیں، بسیں اور ٹرک شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے زندگی کی اہم سہولت بن چکے ہیں۔ ان کے ذریعے فوجی اور انسانی امداد کا سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔
یوکرین کی مال برداری کا تقریباً دو تہائی حصہ ریل گاڑیوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس میں اسٹیل کی سلیبیں، اناج اور نباتاتی تیل کی برآمدات شامل ہیں، جو ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔
سرکاری ریلوے کمپنی یوکرزالیزنیتسیا کے مطابق، 2022 سے اب تک کم از کم 521 انجن ڈرون حملوں اور گولہ باری کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں سے تقریباً تین پانچواں حصہ رواں سال متاثر ہوا۔
بعض انجن چلتی ٹرینوں کے دوران نشانہ بنے، جب کہ ڈرون حملوں سے مسافر ڈبوں میں بھی آگ لگنے، ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔
جنوری میں شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک ایسے ہی حملے میں پانچ مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو ”دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کوئی فوجی جواز نہیں تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان
اے آئی سرچ لوگو
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا، ”اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہماری مفید بات چیت جاری ہے۔ ہم امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔”
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد جمعہ کی صبح تیل کی قیمتوں میں کمی درج کی گئی، کیونکہ حالیہ ہفتوں کے دوران توانائی سے مالا مال خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں کچھ کمی آئی۔
جمعرات کو کاروبار کے دوران ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا بیان تیل کی قیمتوں کو دوبارہ نیچے لانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنے سات روزہ منصوبے پر امریکہ کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے اور آئندہ چند روز میں اپنا ردعمل دے گا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، عراقچی نے مزید کہا کہ ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعہ کو آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ”شدید دھماکوں” کی اطلاع دی۔ خبر رساں ایجنسی فارس نے نامعلوم فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ممکن ہے غیر مجاز راستے استعمال کرنے والے تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ہوں۔
منگل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے تحت ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اپنی صلاحیت میں ”بامعنی” کمی کرنا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق، یہ مطالبہ واشنگٹن کے اس سابقہ اصرار میں نرمی کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ترک کر دے۔
پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو ”بے سود” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ امریکہ مذاکرات کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
دریں اثنا، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو ایرانی صدر سے کہا کہ روس ایران کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جاری جنگ ختم کرانے کے لیے ”ہر ممکن کوشش” کرے گا۔ روسی خبر رساں ایجنسیوں نے یہ اطلاع دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
جے رام رمیش کا مودی حکومت پر ٹرمپ کو خوش کرنے کا الزام، امریکی کارروائی کو پالیسی رعایتوں سے جوڑا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعرات کے روز نریندر مودی حکومت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد کی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا اور دلیل دی کہ ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو نشانہ بنانے والے واشنگٹن کے حالیہ اقدامات نے ہندوستان کے لیے باہمی فوائد حاصل کیے بغیر رعایتیں دینے کے خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا، “دھونس جمانے والوں کی خوشامد کبھی فائدہ نہیں پہنچاتی، یہ بات جمعرات کو ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو براہ راست نشانہ بنانے والے امریکی حکومت کے اقدامات سے ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔”
انہوں نے ہندوستانی پیشہ ور افراد کے خلاف مبینہ کارروائی کو صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کی حکومت کی کوششوں سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا دوطرفہ بات چیت کے حوالے سے نئی دہلی کا طریقہ کار ہندوستانی معاشی اور تکنیکی مفادات کا مناسب تحفظ کر رہا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا، “یہ اقدام مودی حکومت کی جانب سے یو پی آئی ایم ڈی آر چارجز عائد کر کے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس سے واضح طور پر اور براہ راست امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔” تاہم انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی جس کے ذریعے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں تبدیلیوں سے امریکی کمپنیوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
مسٹر رمیش نے یہ بھی دلیل دی کہ واشنگٹن کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے حکومت کے پاس قانونی اور ریگولیٹری آپشنز موجود ہیں، جن میں ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ، 2023 اور اس کے نفاذ کے ضابطے شامل ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی “گیانیش گیٹ” کے گرد گھومنے والے ملکی سیاسی تنازع کی وجہ سے کارروائی کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ “گیانیش گیٹ” الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج اور ووٹر فہرستوں کی جاری خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم ہے۔
کانگریس رہنما کی اس مداخلت نے سیاسی بحث میں دو انتہائی متنازعہ امور کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا ہے: امریکی امیگریشن اور معاشی پالیسیوں کے تحت ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے ساتھ سلوک، اور وہ شرائط جن پر مودی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بڑھا رہی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی سروسز کمپنیاں اور ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد طویل عرصے سے امریکی مارکیٹ تک رسائی پر منحصر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ویزا ضابطہ، کام کی اجازت کی ضروریات اور متعلقہ اخراجات میں تبدیلیاں اس شعبے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
کسی بھی اضافی پابندی یا مالی بوجھ کے اثرات دونوں ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانی کارکنوں، مالکان اور ٹیکنالوجی کے کاروبار پر پڑ سکتے ہیں۔
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس (ایم ڈی آر) کے حوالے سے مسٹر رمیش کا اشارہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی پروسیسنگ سے متعلق چارجز سے ہے۔ یہ سوال کہ ان چارجز کا بوجھ کون اٹھاتا ہے، ادائیگی کی پروسیسنگ کے اخراجات کیسے تقسیم ہوتے ہیں اور کون سے سروس فراہم کنندگان مستفید ہوتے ہیں، تاجروں، صارفین اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے اہم نتائج رکھتا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت کے موقف سے امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا، لیکن ان کی پوسٹ میں اس مخصوص دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
2023 میں نافذ العمل ہونے والا ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ کے لیے ہندوستان کے قانونی ڈھانچے کو قائم کرتا ہے۔ یہ ایسے ڈیٹا کو سنبھالنے والے اداروں کے لیے ذمہ داریاں متعین کرتا ہے اور افراد کے لیے تحفظات فراہم کرتا ہے۔
تاہم، یہ قانون کسی دوسرے ملک کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے عام مقصد کا ذریعہ نہیں ہے۔ اس ایکٹ یا اس کے ضابطہ پر مبنی کسی بھی ردعمل کو حالات پر لاگو ہونے والے مخصوص احکام پر مبنی ہونا پڑے گا اور ہندوستان کی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق رہنا ہوگا۔
“گیانیش گیٹ” کا حوالہ الیکشن کمیشن کے طرز عمل اور ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان وسیع تر تصادم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر کے عمل پر سوال اٹھائے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پول پینل نے اپنے طریقوں کا دفاع کیا ہے۔
اس تنازع کو واشنگٹن کے ساتھ ہندوستان کے روابط سے جوڑ کر مسٹر رمیش نے مودی حکومت پر اپنے سیاسی حملے کو اندرونی انتخابی مسائل سے آگے بڑھا کر خارجہ تعلقات اور معاشی پالیسی سے نمٹنے تک وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔
مسٹر رمیش نے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی ان مخصوص دفعات کی نشاندہی نہیں کی جن کا حکومت سہارا لے سکتی ہے، اور نہ ہی انہوں نے واشنگٹن کے اقدامات کے جواب میں ہندوستان کے لیے جوابی اقدامات کی وضاحت کی۔ اس کے باوجود ان کے تبصروں نے مودی حکومت پر اپنی وسیع تر تنقید کے حصے کے طور پر ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے تحفظ، امریکی مارکیٹ میں ہندوستانی کاروبار کے ساتھ سلوک اور ہندوستان اور امریکہ کے معاشی روابط کی شرائط کو شامل کرنے کے کانگریس کے ارادے کا اشارہ دیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
