تازہ ترین
اٹل بہاری واجپائی اور نریندر مودی کے سیاسی اپروج میں زمین و آسمان کا فرق: میر واعظ
خبراردو:
حریت کانفرنس (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے نئی دہلی کے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کشمیر تصفیہ کے پرامن حل، سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور نریندرمودی کے طریق کار میں غیر یکسانیت اور موجودہ صورتحال میں حریت کے رول پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی کی کشمیر پالیسی میں کافی تبدیلی واقع ہوچکی ہیں ۔بی جے پی کی موجودہ قیادت اپنے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے اپروچ سے مکمل طورپر انحراف کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واجپائی کی قیادت والی حکومت میں کشمیر کو ایک انسانی مسئلہ تصور کیا جاتا تھایہی وجہ ہے واجپائی نے بار بار اس بات کو دہرایا کہ وہ مسئلہ کشمیر کا حل انسانیت کے دائرے میں تلاش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے اپروچ نے حریت کانفرنس کے لیے راہیں کھول دیں تھی تاکہ ہم نئی دہلی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ بھی بات چیت شروع کریں۔میر واعظ کے مطابق اس قسم کا اپروچ تکونی تھا کیوں کہ اس میں ہر کوئی فریق ایک دوسرے کے ساتھ ملوث تھا تاہم موجودہ صورتحال میں اس قسم کا اپروج زمینی سطح پر بالکل غائب ہے۔ اس وقت کشمیر کے چپے چپے میں ظلم اور جبر کا سلسلہ جاری ہے۔
واجپائی کے اپروچ کی جگہ اب ڈوول ڈاکٹرائن نے سنبھال لی ہے۔فی الوقت ریاستی عوام کو آئے روز محاصروں اور تلاشی آپریشنوں کا سامنا رہتا ہے۔میر واعظ نے کہا کہ اٹل بہاری واجپائی امن کی باشا پر یقین رکھتے تھے تاہم نریندر مودی پر جنگی جنون سوار ہے اور جنگ اور تباہی کی باتیں اُن کا تکیہ کلام ہے۔ایک سوال کے جواب میں میر واعظ نے بتایا کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بارہا اس بات کو سامنے لایا کہ اگر ہندوستان ایک قدم آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے تو پاکستان دو قدم آگے بڑھے گا۔عمران خان چاہتے ہیں کہ مسئلہ کے تصفیہ کی خاطر بات چیت کا آغاز کیا جائے تاہم یہ عمل تب تک بے معنی ہے جب تک نہ دونوں فریق بات چیت کو شروع کرنے پر رضا مند ہوجائے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بار بارہندوستان کو مذاکرات کی اپیل کی تاہم ہندوستان نے ہر وقت ان کی باتوں کو ان سنی کردیا۔ اصل میں نئی دہلی موجودہ صورتحال میں نہ پاکستان سے اور نہ ہی کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ممکن ہے کہ ہندوستان میں آنے والے انتخابات تک صورتحال جوں کی توں رہے گی کیوں کہ بی جے پی کا ایجنڈا ہندوتوا پر مبنی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ فی الوقت اپنے ایجنڈا کو آگے لیجانے میں ہی مصروف عمل ہیں۔بات چیت اور تشدد کے ایک ساتھ جاری رہنے پر میر واعظ نے بتایا کہ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر کمزوری پائی جاتی ہے تو اس کو دور کرنے کے لیے وہ کشمیر اور پاکستان کا کارڈ استعمال کرسکتی ہے۔ پاکستان ، دہشت گردی اور کشمیر ایسے معاملات ہیں جنہیں بی جے پی قومی سطح پر اچھال کر بڑے پیمانے پر ووٹ بنک بناسکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کی طرف سے پاکستان پر بار بار دہشت گردی اور تشدد کا الزام عائد کرنا بالکل بے بنیاد ہے کیوں کہ کشمیر میں جاری تحریک کشمیریوں کی اپنی شروع کی ہوئی تحریک ہیں جس میں کشمیر کی اپنی نئی نسل قربان ہورہی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل اور حریت کے رول سے متعلق ایک سوال کے جواب میں میر واعظ نے بتایا کہ آپ بھلا اُس صورت میں کیا کرسکتے ہیں جب دوسرا فریق مسئلہ کو متنازعہ ماننے کو تیار ہی نہیں ! ہندوستان صرف فوجی طاقت کا سہارا لے رہا ہے۔ آپ اس طرح کی صورتحال میں اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں کہ آپ اپنے مؤقف پر چٹان کی طرح ڈٹے رہیں۔حریت اپنے مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہے اور کشمیری عوام پر اس حوالے سے وعدہ بند ہے۔ حریت خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھی ہے بلکہ ہمیں ہر روز کسی نہ کسی معاملے سے سابقہ درپیش رہتا ہے۔ کبھی غیر ریاستی آبادیوں کو یہاں بسانے کے منصوبے ترتیب دئے جاتے ہیں ، کبھی یہاں کے اداروں کی خودمختاری پر ضرب لگائی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن حریت کو اس طرح کے مسائل سے بھی نمٹنا پڑتا ہے۔
کشمیر میں دولت اسلامیہ اور القاعدہ کی موجودگی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں میر واعظ عمر فاروق نے بتایا کہ جہاں تک کشمیریوں کی جدوجہد کا تعلق ہے آپ اس کو دولت اسلامیہ یا القاعدہ کے ساتھ نہیں جو ڑ سکتے۔ کشمیر میں دولت اسلامیہ یا القاعدہ کا کوئی نام و نشان موجود نہیں ہے۔یہاں تک حزب المجاہدین اور دیگر کشمیر نژاد عسکری جماعتوں نے ببانگ دھل یہ بات واضح کی ہے کہ اُن کا نصب العین کیا ہے؟ کشمیر کی تحریک آزادی میں رول ادا کرنے والی عسکری جماعتوں کا دائرہ کار صرف کشمیر تک محدود ہے۔ ممکن ہے کہیں پر کمزور ی موجود ہو، چند نوجوان اس میں ملوث ہوں، جب آپ نوجوانوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑدیں گے تو لازمی بات ہے کہ وہ دوسرے آپشنز کی طرف بھی سوچ سکتے ہیں۔ جہاں تک میرا ذاتی تعلق ہے ہم نے یہ بات کئی بار واضح کی ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے، ہم نے کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہ ہندوستان میں رہ رہے ہندوؤں اور کشمیری مسلمانوں کے درمیان کوئی جنگ ہے۔وادی میں جاری نوجوانوں کے قتل عام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حریت (ع) چیر مین نے بتایا کہ نئی دہلی نے ہمیشہ کشمیر پر اپنا دعویٰ جتاتے ہوئے اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیا ہے۔ ہندوستان نے کبھی بھی کشمیریوں کو اپنا نہیں مانا اور نہ ہی ان کو کبھی کشمیریوں کی فکر لاحق ہوئی۔وہ صرف کشمیر کی بات کررہے ہیں نہ کہ کشمیریوں کی جس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ وہ مسئلہ کے تئیں فوجی قوت کے ساتھ ڈیل کررہے ہیں۔
ناروے کے سابق وزیر اعظم کے ساتھ حال ہی میں ہوئی میٹنگ پر بات کرتے ہوئے حریت (ع) چیرمین نے بتایا کہ اس طرح کا عمل قریبا 6برس بعد واقع ہوا جب کسی غیر ملکی سیاسی لیڈر شپ نے کشمیر کا دورہ کرکے حریت کے ساتھ بات چیت کی۔انہوں نے بتایا کہ وفد میں شامل لوگوں نے نہ صرف حریت کے ساتھ بات چیت کی بلکہ انہوں نے نئی دلی اور پاکستان جاکر وہاں پر بھی لوگوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا کیوں متازعہ خطوں میں اُن کو ایک وسیع تجربہ رہا ہے۔میر واعظ نے بتایا کہ وفد نے یہ بات دہرائی کہ مسائل کے حل کی خاطر کشمیریوں کی شمولیت ناگزیر ہے اور کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وفد نے آمد ایک نیک شگون ہے جو چند قوتوں کی کوششوں کے بعد ہی ممکن ہوپائی۔کشمیر حل میں ناروے وفد کے رول پر میر واعظ نے بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے حوالے سے حالات تبدیل ہورہے ہیں۔ حالیہ یو این رپورٹ کے بعد اس طرح کے امکانات موجود ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ اس طرح کی مشق جاری و ساری رہے تاکہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی راہیں مستقبل قریب میں کھل جائیں۔حالیہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق بائیکاٹ کال پر بولتے ہوئے حریت (ع) چیرمین نے بتایا کہ جہاں تک ہندنواز سیاسی پارٹیوں بشمول این سی، پی ڈی پی ، بی جے پی وغیرہ کا تعلق ہے تو اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کشمیرمیں اگر نئی دہلی کی پالیسیوں کو نافذ کرنے والا ادارہ موجود ہے تو وہ فوج اور فورسز ہے۔ ہمیں نہیں لگتا ہے کہ بی جے پی سے ہمیں کوئی مسئلہ ہوگا کیوں وہ صرف مال اور طاقت کے ذریعے یہاں پر موجود ہیں۔میر واعظ نے بتایا کہ حال ہی میں این سی اور پی ڈی پی کو نئی دہلی نے پاکستانی ایجنٹ قرار دیا جنہوں نے آج تک یہاں پر ہندوستان کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔لہٰذا انہیں اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ اُن کے لیے کیا ٹھیک ہے اور کیا نہیں۔
کے این ایس
دنیا
یوکرین کے ٹرانسپورٹ نظام پر روسی حملے تیز، کراماتورسک میں مزید ہلاکتیں
کیف، یوکرین کے مشرقی شہر کراماتورسک میں جمعرات کی صبح روسی گلائیڈ بم کے دو مسافر بسوں پر حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ علاقائی حکام نے یہ اطلاع دی۔
یوکرینی حکام نے حملے کو دانستہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، روسی علاقے میں موجود طیاروں سے گرائے جانے والے گلائیڈ بم زمین پر پہلے سے مقررہ مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس حملے میں شہر کی ایک سڑک کو نشانہ بنایا گیا، جو محاذِ جنگ سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ وادیم فیلاشکن نے ٹیلی گرام پر لکھا، ”روسی جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے لیے مسافروں سے بھری بس ایک پُرکشش ہدف ہے، کیونکہ ایک ہی حملے میں زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ روس جنگ کے تمام قابلِ تصور اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے ضابطوں کو نظرانداز کر رہا ہے اور ایسے اہداف منتخب کر رہا ہے جہاں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
فیلاشکن نے روسی حملوں میں شدت کے پیش نظر کراماتورسک اور پڑوسی شہر سلوویانسک میں تمام عوامی ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔
روس اب یوکرین کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، بشمول ٹرینوں، منی بسوں، پیٹرول پمپوں، پلوں، سمندری بندرگاہوں اور مال بردار جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے ملک کا ٹرانسپورٹ نظام مفلوج ہو رہا ہے۔
کیف میں قائم تھنک ٹینک پینٹا کے سربراہ وولودیمیر فیسینکو نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ روس کی ایک نئی حکمت عملی ہے۔ پہلے اس کی توجہ یوکرین کی بجلی کی فراہمی اور حرارتی نظام کو بند کرنے پر تھی، لیکن اب اس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کو بھی ناکارہ بنانا اور نقل و حمل کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرنا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنوں اور پیٹرول پمپوں پر حملوں سے روسی حکمت عملی کو کسی حد تک کامیابی مل رہی ہے اور وہ اپنی شرائط پر یوکرین کو امن کے لیے مجبور کرنا چاہتا ہے۔ان کے مطابق، ان حملوں کا مقصد عوام پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا اور ان کے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کرنا بھی ہے۔
روس نے جنگ کے دوران مسلسل اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بناتا ہے، تاہم یوکرینی عوام کے لیے یہ دعوے بے معنی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں 15,280 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہے۔
2022 میں روس کے مکمل پیمانے پر حملے کے بعد یوکرین کی فضائی حدود میں شہری طیاروں کی پروازیں بند ہیں۔ ایسے میں ٹرینیں، بسیں اور ٹرک شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے زندگی کی اہم سہولت بن چکے ہیں۔ ان کے ذریعے فوجی اور انسانی امداد کا سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔
یوکرین کی مال برداری کا تقریباً دو تہائی حصہ ریل گاڑیوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس میں اسٹیل کی سلیبیں، اناج اور نباتاتی تیل کی برآمدات شامل ہیں، جو ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔
سرکاری ریلوے کمپنی یوکرزالیزنیتسیا کے مطابق، 2022 سے اب تک کم از کم 521 انجن ڈرون حملوں اور گولہ باری کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں سے تقریباً تین پانچواں حصہ رواں سال متاثر ہوا۔
بعض انجن چلتی ٹرینوں کے دوران نشانہ بنے، جب کہ ڈرون حملوں سے مسافر ڈبوں میں بھی آگ لگنے، ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔
جنوری میں شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک ایسے ہی حملے میں پانچ مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو ”دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا کوئی فوجی جواز نہیں تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان
اے آئی سرچ لوگو
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا، ”اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہماری مفید بات چیت جاری ہے۔ ہم امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔”
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد جمعہ کی صبح تیل کی قیمتوں میں کمی درج کی گئی، کیونکہ حالیہ ہفتوں کے دوران توانائی سے مالا مال خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں کچھ کمی آئی۔
جمعرات کو کاروبار کے دوران ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا بیان تیل کی قیمتوں کو دوبارہ نیچے لانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنے سات روزہ منصوبے پر امریکہ کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے اور آئندہ چند روز میں اپنا ردعمل دے گا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، عراقچی نے مزید کہا کہ ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعہ کو آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ”شدید دھماکوں” کی اطلاع دی۔ خبر رساں ایجنسی فارس نے نامعلوم فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ممکن ہے غیر مجاز راستے استعمال کرنے والے تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ہوں۔
منگل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے تحت ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اپنی صلاحیت میں ”بامعنی” کمی کرنا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق، یہ مطالبہ واشنگٹن کے اس سابقہ اصرار میں نرمی کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ترک کر دے۔
پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو ”بے سود” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ امریکہ مذاکرات کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
دریں اثنا، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو ایرانی صدر سے کہا کہ روس ایران کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جاری جنگ ختم کرانے کے لیے ”ہر ممکن کوشش” کرے گا۔ روسی خبر رساں ایجنسیوں نے یہ اطلاع دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
جے رام رمیش کا مودی حکومت پر ٹرمپ کو خوش کرنے کا الزام، امریکی کارروائی کو پالیسی رعایتوں سے جوڑا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعرات کے روز نریندر مودی حکومت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد کی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا اور دلیل دی کہ ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو نشانہ بنانے والے واشنگٹن کے حالیہ اقدامات نے ہندوستان کے لیے باہمی فوائد حاصل کیے بغیر رعایتیں دینے کے خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا، “دھونس جمانے والوں کی خوشامد کبھی فائدہ نہیں پہنچاتی، یہ بات جمعرات کو ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو براہ راست نشانہ بنانے والے امریکی حکومت کے اقدامات سے ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔”
انہوں نے ہندوستانی پیشہ ور افراد کے خلاف مبینہ کارروائی کو صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کی حکومت کی کوششوں سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا دوطرفہ بات چیت کے حوالے سے نئی دہلی کا طریقہ کار ہندوستانی معاشی اور تکنیکی مفادات کا مناسب تحفظ کر رہا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا، “یہ اقدام مودی حکومت کی جانب سے یو پی آئی ایم ڈی آر چارجز عائد کر کے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس سے واضح طور پر اور براہ راست امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔” تاہم انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی جس کے ذریعے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں تبدیلیوں سے امریکی کمپنیوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
مسٹر رمیش نے یہ بھی دلیل دی کہ واشنگٹن کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے حکومت کے پاس قانونی اور ریگولیٹری آپشنز موجود ہیں، جن میں ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ، 2023 اور اس کے نفاذ کے ضابطے شامل ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی “گیانیش گیٹ” کے گرد گھومنے والے ملکی سیاسی تنازع کی وجہ سے کارروائی کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ “گیانیش گیٹ” الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج اور ووٹر فہرستوں کی جاری خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم ہے۔
کانگریس رہنما کی اس مداخلت نے سیاسی بحث میں دو انتہائی متنازعہ امور کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا ہے: امریکی امیگریشن اور معاشی پالیسیوں کے تحت ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے ساتھ سلوک، اور وہ شرائط جن پر مودی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بڑھا رہی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی سروسز کمپنیاں اور ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد طویل عرصے سے امریکی مارکیٹ تک رسائی پر منحصر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ویزا ضابطہ، کام کی اجازت کی ضروریات اور متعلقہ اخراجات میں تبدیلیاں اس شعبے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
کسی بھی اضافی پابندی یا مالی بوجھ کے اثرات دونوں ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانی کارکنوں، مالکان اور ٹیکنالوجی کے کاروبار پر پڑ سکتے ہیں۔
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس (ایم ڈی آر) کے حوالے سے مسٹر رمیش کا اشارہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی پروسیسنگ سے متعلق چارجز سے ہے۔ یہ سوال کہ ان چارجز کا بوجھ کون اٹھاتا ہے، ادائیگی کی پروسیسنگ کے اخراجات کیسے تقسیم ہوتے ہیں اور کون سے سروس فراہم کنندگان مستفید ہوتے ہیں، تاجروں، صارفین اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے اہم نتائج رکھتا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت کے موقف سے امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا، لیکن ان کی پوسٹ میں اس مخصوص دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
2023 میں نافذ العمل ہونے والا ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ کے لیے ہندوستان کے قانونی ڈھانچے کو قائم کرتا ہے۔ یہ ایسے ڈیٹا کو سنبھالنے والے اداروں کے لیے ذمہ داریاں متعین کرتا ہے اور افراد کے لیے تحفظات فراہم کرتا ہے۔
تاہم، یہ قانون کسی دوسرے ملک کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے عام مقصد کا ذریعہ نہیں ہے۔ اس ایکٹ یا اس کے ضابطہ پر مبنی کسی بھی ردعمل کو حالات پر لاگو ہونے والے مخصوص احکام پر مبنی ہونا پڑے گا اور ہندوستان کی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق رہنا ہوگا۔
“گیانیش گیٹ” کا حوالہ الیکشن کمیشن کے طرز عمل اور ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان وسیع تر تصادم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر کے عمل پر سوال اٹھائے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پول پینل نے اپنے طریقوں کا دفاع کیا ہے۔
اس تنازع کو واشنگٹن کے ساتھ ہندوستان کے روابط سے جوڑ کر مسٹر رمیش نے مودی حکومت پر اپنے سیاسی حملے کو اندرونی انتخابی مسائل سے آگے بڑھا کر خارجہ تعلقات اور معاشی پالیسی سے نمٹنے تک وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔
مسٹر رمیش نے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی ان مخصوص دفعات کی نشاندہی نہیں کی جن کا حکومت سہارا لے سکتی ہے، اور نہ ہی انہوں نے واشنگٹن کے اقدامات کے جواب میں ہندوستان کے لیے جوابی اقدامات کی وضاحت کی۔ اس کے باوجود ان کے تبصروں نے مودی حکومت پر اپنی وسیع تر تنقید کے حصے کے طور پر ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے تحفظ، امریکی مارکیٹ میں ہندوستانی کاروبار کے ساتھ سلوک اور ہندوستان اور امریکہ کے معاشی روابط کی شرائط کو شامل کرنے کے کانگریس کے ارادے کا اشارہ دیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
